بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 615
صفحہ 2 از 31
حدیث نمبر: 25818 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , حَدَّثَنَا أَيُّوبُ , قَالَ: سَمِعْتُ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ يُحَدِّثُ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْعَثُ بِالْهَدْيِ , فَأَفْتِلُ قَلَائِدَهَا بِيَدَيَّ , ثُمَّ لَا يُمْسِكُ عَنْ شَيْءٍ لَا يُمْسِكُ عَنْهُ الْحَلَالُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھوں سے بٹا کرتی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے روانہ کردیتے اور جو کام پہلے کرتے تھے، ان میں سے کوئی کام نہ چھوڑتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25818]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1321
الحكم: إسناده صحيح، م: 1321
حدیث نمبر: 25819 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، خَالِدٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَال: َأَخْبَرَنَا خَالِدٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , قَال: سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ , وَثِنْتَيْنِ بَعْدَهَا , وَثِنْتَيْنِ قَبْلَ الْعَصْرِ , وَثِنْتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ , وَثِنْتَيْنِ بَعْدَ الْعِشَاءِ , ثُمَّ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعًا" , قُلْتُ: أَقَائِمًا أَوْ قَاعِدًا؟ قَالَتْ:" يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا , وَلَيْلًا طَوِيلًا قَاعِدًا" , قُلْت: ُكَيْفَ يَصْنَعُ إِذَا كَانَ قَائِمًا؟ وَكَيْفَ يَصْنَعُ إِذَا كَانَ قَاعِدًا؟ قَالَت:" إِذَا قَرَأَ قَائِمًا , رَكَعَ قَائِمًا , وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا , رَكَعَ قَاعِدًا , وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْح" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نفل نمازوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر کی نماز سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھتے تھے، پھر باہر جا کر لوگوں کو نماز پڑھاتے اور میرے گھر واپس آکر دو رکعتیں پڑھتے، پھر لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھا کر گھر تشریف لاتے اور دو رکعتیں پڑھتے، پھر عشاء کی نماز پڑھاتے اور میرے گھر تشریف لا کردو رکعتیں پڑھتے، رات کے وقت نو رکعتیں پڑھتے جن میں وتر بھی شامل ہوتے، رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طویل قیام فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے اور بیٹھ کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے اور جب طلوع صبح صادق ہوجاتی تو دو رکعتیں پڑھتے، پھر باہر جا کر لوگوں کو نماز فجر پڑھاتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25819]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 730
الحكم: إسناده صحيح، م: 730
حدیث نمبر: 25820 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، دَاوُدُ ، الشَّعْبِيِّ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ , عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَال: َقَالَتْ عَائِشَةُ لِابْنِ أَبِي السَّائِبِ قَاصِّ أَهْلِ الْمَدِينَة ِ" ثَلَاثًا لَتُبَايِعَنِّي عَلَيْهِنَّ أَوْ لَأُنَاجِزَنَّكَ؟" فَقَالَ مَا هُنَّ؟ بَلْ أَنَا أُباِيعُكِ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , قَالَتْ:" اجْتَنِبْ السَّجْعَ مِنَ الدُّعَاءِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ كَانُوا لَا يَفْعَلُونَ ذَلِك" , وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً , فَقَالَتْ:" إِنِّي عَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ وَهُمْ لَا يَفْعَلُونَ ذَاكَ" , وَقُصَّ عَلَى النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً , فَإِنْ أَبَيْتَ فَثِنْتَيْنِ , فَإِنْ أَبَيْتَ فَثَلَاثًا , فَلَا تَمَلُّ النَّاسُ هَذَا الْكِتَابَ وَلَا أَلْفيَنَّكَ تَأْتِي الْقَوْمَ وَهُمْ فِي حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِهِمْ , فَتَقْطَعُ عَلَيْهِمْ حَدِيثَهُمْ وَلَكِنْ اتْرُكْهُمْ , فَإِذَا جَرَّءُوكَ عَلَيْهِ وَأَمَرُوكَ بِهِ فَحَدِّثْهُمْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
امام شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مدینہ منورہ کے ایک واعظ " جس کا نام ابن ابی السائب تھا " سے فرمایا کہ تین باتیں ہیں جنہیں میرے سامنے ماننے کا اقرار کرو، ورنہ میں تم سے جنگ کروں گی، اس نے پوچھا وہ کیا؟ اے ام المومنین! میں آپ کے سامنے ان کو تسلیم کرنے کا اقرار کرتا ہوں، انہوں نے فرمایا کہ دعا میں الفاظ کی تک بندی سے اجتناب کیا کرو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے صحابہ رضی اللہ عنہ ایسا نہیں کرتے تھے، دوسرے یہ کہ جمعہ میں لوگوں کے سامنے صرف ایک مرتبہ وعظ کہا کرو، اگر نہ مانو تو دو مرتبہ ورنہ تین مرتبہ، تم اس کتاب سے لوگوں کو اکتاہٹ میں مبتلا نہ کرو اور تیسرے یہ کہ میں تمہیں کبھی اس طرح نہ پاؤں کہ تم لوگوں کے پاس پہنچو، وہ اپنی باتوں میں مشغول ہوں اور تم ان کے درمیان قطع کلامی کرنے لگو، بلکہ انہیں چھوڑے رکھو، اگر وہ تمہیں آگے بڑھنے دیں اور گفتگو میں شریک ہونے کا حکم دیں تب ان کی گفتگو میں شریک ہوا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25820]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن الشعبي لم يسمع من عائشة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن الشعبي لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 25821 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، خَالِدٍ ، رَجُلٌ ، أَبِي الْعَالِيَةِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , عَنْ خَالِدٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ , عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَقُولُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ , يَقُولُهُ فِي السَّجْدَةِ مِرَارًا: " سَجَدَ وَجْهِيَ لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدہ تلاوت میں فرمایا کرتے تھے " میرا چہرہ اس ذات کے سامنے سجدہ ریز ہوگیا جس نے اسے پیدا کیا اور اسے قوت شنوائی و گویائی عطاء فرمائی اور یہ سجدہ بھی اس کی توفیق اور مدد سے ہوا ہے "۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25821]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الإبهام الرجل بن خالد و أبى العالية
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف الإبهام الرجل بن خالد و أبى العالية
حدیث نمبر: 25822 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ ، سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَال: َحَدَّثَنَا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ , عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الثَّوْبِ الَّذِي يُجَامِعُ فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کپڑوں میں نماز پڑھ لیتے تھے جن میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ " تخلیہ " فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25822]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن سليمان بن موسى لم يدرك عائشة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن سليمان بن موسى لم يدرك عائشة
حدیث نمبر: 25823 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَال: َحَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ , قَال: َقُلْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ : امْرَأَةُ أَبِي أَرْضَعَتْ جَارِيَةً مِنْ عُرْضِ النَّاسِ بِلَبَنِ أَخَوَيَّ , أَفَتَرَى أَنِّي أَتَزَوَّجُهَا؟ فَقَال: َلَا أَبُوكَ أَبُوهَا , قَال: َثُمَّ حَدَّثَ حَدِيثَ أَبِي الْقُعَيْسِ , فَقَال: َإِنَّ أَبَا الْقُعَيْسِ أَتَى عَائِشَةَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا , فَلَمْ تَأْذَنْ , لَهُ فَلَمَّا جَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَت: ْيَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا قُعَيْسٍ جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ , فَلَمْ آذَنْ لَهُ , فَقَالَ: " هُوَ عَمُّكِ فَلْيَدْخُلْ عَلَيْكِ" فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي الْمَرْأَةُ , وَلَمْ يُرْضِعْنِي الرَّجُلُ , فَقَال: َ" هُوَ عَمُّكَ فَلْيَدْخُلْ عَلَيْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ابوقیس کے بھائی " افلح " نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت مانگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نامحرم سمجھ کر اجازت دینے سے انکار کردیا اور جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آئے تو ان سے ذکر کردیا کہ یار سول اللہ! ابوقیس کے بھائی افلح نے مجھ سے گھر میں آنے کی اجازت مانگی تھی لیکن میں نے اجازت دینے سے انکار کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انہیں اجازت دے دیا کرو، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے تو دودھ نہیں پلایا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ تمہارے چچا ہیں، انہیں اجازت دے دیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25823]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عباد بن منصور، خ: 4796، م: 1445
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عباد بن منصور، خ: 4796، م: 1445
حدیث نمبر: 25824 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَائِشَة
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَال: َأَخْبَرَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , قَال: َقَالَتْ عَائِشَة " كَانَ قِيَامُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ فَاتِحَةَ الْكِتَابَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ فجر سے پہلے کی دو رکعتوں میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا قیام ایسے محسوس ہوتا تھا جیسے صرف سورت فاتحہ پڑھی ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25824]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه لأن محمد بن سيرين لم يسمع من عائشة وقد سلف برقم: 24125، بإسناد صحيح بلفظ: كان النبى لا يخفف الركعتين
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه لأن محمد بن سيرين لم يسمع من عائشة وقد سلف برقم: 24125، بإسناد صحيح بلفظ: كان النبى لا يخفف الركعتين
حدیث نمبر: 25825 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمغِيرَةِ ، حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ ، عَائِشَة
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَال: َحَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ الْمغِيرَةِ , عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ , قَال: َقَالَتْ عَائِشَة " بَعَثَ إِلَيْنَا آلُ أَبِي بَكْرٍ بِقَائِمَةِ شَاةٍ لَيْلًا , فَأَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَطَعْتُ , أَوْ أَمْسَكْتُ وَقَطَعَ , فَقَالَ: الَّذِي تُحَدِّثُه: ُأَعَلَى غَيْرِ مِصْبَاحٍ؟ فَقَالَتْ: لَوْ كَانَ عِنْدَنَا مِصْبَاحٌ لَائْتَدَمْنَا بِهِ , إِنْ كَانَ لَيَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ مَا يَخْتَبِزُونَ خُبْزًا , وَلَا يَطْبُخُونَ قِدْرًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے گھر والوں نے ہمارے یہاں بکری کا ایک پایہ بھیجا، میں نے اسے پکڑا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے توڑا اور یہ کام چراغ کے بغیر ہو، اگر ہمارے پاس چراغ ہوتا تو اسی کے ذریعے سالن حاصل کرلیتے اور بعض اوقات آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایک ایک مہینہ اس طرح گزر جاتا تھا کہ وہ کوئی روٹی پکارتے تھے اور نہ کوئی ہنڈیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25825]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه لأن حميدا لم يسمع من عائشة
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه لأن حميدا لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 25826 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ أَبِي هِشَامٍ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ , عَنْ عَمْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ وَهُوَ قَاعِدٌ , فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ , قَامَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ إِنْسَانٌ أَرْبَعِينَ آيَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا بدن مبارک جب بھاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھ کر ہی " جتنی اللہ کو منظور ہوتی " نماز پڑھ لیتے تھے اور جب اس سورت کی تیس یا چالیس آیات رہ جاتیں تو کھڑے ہوجاتے، پھر ان کی تلاوت کر کے رکوع میں جاتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25826]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1148، م: 731
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1148، م: 731
حدیث نمبر: 25827 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، أَيُّوبُ ، نَافِعٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَال: َأَخْبَرَنَا أَيُّوبُ , عَنْ نَافِعٍ , أَنَّ امْرَأَةً دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ , فَإِذَا رُمْحٌ مَنْصُوبٌ , فَقَالَت: ْمَا هَذَا الرُّمْحُ؟ فَقَالَت: ْنَقْتُلُ بِهِ الْأَوْزَاغَ , ثُمَّ حَدَّثَتْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمَّا أُلْقِيَ فِي النَّارِ جَعَلَتْ الدَّوَابُّ كُلُّهَا تُطْفِئُ عَنْهُ إِلَّا الْوَزَغَ فَإِنَّهُ جَعَلَ يَنْفُخُهَا عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک خاتون کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی تو ان کے گھر میں ایک نیزہ رکھا ہوا دیکھا، میں نے ان سے پوچھا کہ اے ام المومنین! آپ اس نیزے کا کیا کرتی ہیں؟ انہوں نے فرمایا یہ ان چھپکلیوں کے لئے رکھا ہوا ہے اور اس سے مارتی ہوں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہم سے یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈالا گیا تو زمین میں کوئی جانور ایسا نہ تھا جو آگ کو بجھا نہ رہا ہو سوائے اس چھپکلی کے کہ یہ اس میں پھونکیں مار رہی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25827]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25828 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، دَاوُدُ ، الشَّعْبِيِّ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَال: َأَخْبَرَنَا دَاوُدُ , عَنِ الشَّعْبِيِّ , قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ إِذَا بُدِّلَتْ الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ , وَالسَّمَوَاتُ , وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ , أَيْنَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ؟ قَال: " النَّاسُ يَوْمَئِذٍ عَلَى الصِّرَاطِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اس آیت " یوم تبدل الْأَرْضُ غَيْرَ الْأَرْضِ وَالسَّمَوَاتُ وَبَرَزُوا لِلَّهِ الْوَاحِدِ الْقَهَّارِ " کے متعلق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سب سے پہلے سوال پوچھنے والی میں ہی تھی، میں نے عرض کیا تھا یا رسول اللہ! (جب زمین بدل دی جائے گی تو) اس وقت لوگ کہاں ہوں گے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا پل صراط پر۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25828]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع بين الشعبي وعائشة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع بين الشعبي وعائشة
حدیث نمبر: 25829 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، وَيَزِيدُ ، الْجُرَيْرِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، لِعَائِشَة
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , وَيَزِيدُ الْمَعْنَى , قَالَا: أَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , قَال: قُلْتُ لِعَائِشَة َأَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقْرَأُ السُّوَرَ؟ قَالَتْ: " الْمُفَصّلَ" قُلْتُ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا؟ قَالَت:" نَعَمْ بَعْدَمَا حَطَمَهُ النَّاسُ" قُلْتُ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى , قَالَتْ:" لَا إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ" قُلْتُ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا سِوَى رَمَضَانَ؟ قَالَت: ْلَا وَاللَّهِ إِنْ صَامَ شَهْرًا تَامًّا سِوَى رَمَضَانَ , وَلَا أَفْطَرَهُ كُلَّهُ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ شَيْئًا , قُلْت: ُأَيُّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ؟ قَالَت:" أَبُو بَكْرٍ" , قُلْت: ُثُمَّ مَنْ؟ قَالَت:" ثُمَّ عُمَرُ" , قُلْتُ: ثُمَّ مَن؟ قَالَت:" أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ" قَال: َيَزِيدُ , قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَال: َفَسَكَتَتْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک رکعت میں کئی سورتیں پڑھ لیتے تھے؟ انہوں نے فرمایا مفصلات۔ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھتے تھے، انہوں نے فرمایا لوگوں کی تعداد زیادہ ہونے کے بعد پڑھنے لگے تھے۔ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چاشت کی نماز پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا نہیں، الاّ یہ کہ وہ کسی سفر سے واپس آئے ہوں۔ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی مہینے کے پورے روزے رکھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ مجھے رمضان کے علاوہ کوئی ایسا مہینہ معلوم نہیں ہے جس کے پورے روزے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رکھے ہوں اور مجھے کوئی ایسا مہنیہ بھی معلوم نہیں ہے جس میں کوئی روزہ نہ رکھا ہو۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے صحابہ اکرام میں سب سے زیادہ محبوب کون تھا؟ انہوں نے فرمایا حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میں نے پوچھا اس کے بعد؟ انہوں نے فرمایا عمر، میں نے پوچھا اس کے بعد؟ انہوں نے فرمایا ابوعبیدہ بن جراح، میں نے پوچھا اس کے بعد؟ تو وہ خاموش رہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25829]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 717
الحكم: إسناده صحيح، م: 717
حدیث نمبر: 25830 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، خَالِدٌ ، أَبِي قِلَابَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَال: َأَخْبَرَنَا خَالِدٌ , قَالَ: ذَكَرُوا عِنْدَ أَبِي قِلَابَةَ خُرُوجَ النِّسَاءِ فِي الْعِيدِ , قَال: َقَالَتْ عَائِشَةُ " كَانَتْ الْكِعَابُ تَخْرُجُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ خِدْرِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ عیدین کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی (دعائیں حاصل کرنے کی نیت اور) بناء پر کنواری لڑکیوں کو بھی ان کی پردہ نشینی کے باوجود عیدگاہ لے جایا جاتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25830]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو قلابة كثير الإرسال
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبو قلابة كثير الإرسال
حدیث نمبر: 25831 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، يُونُسَ ، الْحَسَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , عَنْ يُونُسَ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم: َ" مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ , وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ" , فَقَالَتْ عَائِشَة: ُيَا رَسُولَ اللَّهِ كَرَاهِيَةُ لِقَاءِ اللَّهِ أَنْ يَكْرَهَ الْمَوْتَ؟ فَوَاللَّهِ إِنَّا لَنَكْرَهُهُ , فَقَال: َ" لَا لَيْسَ بِذَاكَ وَلَكِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا قَضَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَبْضَهُ , فَرَّجَ لَهُ عَمَّا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ ثَوَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَكَرَامَتِهِ , فَيَمُوتُ حِينَ يَمُوتُ وَهُوَ يُحِبُّ لِقَاءَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , وَاللَّهُ يُحِبُّ لِقَاءَهُ , وَإِنَّ الْكَافِرَ وَالْمُنَافِقَ إِذَا قَضَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَبْضَهُ , فَرَّجَ لَهُ عَمَّا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنْ عَذَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَهَوَانِهِ , فَيَمُوتُ حِينَ يَمُوتُ وَهُوَ يَكْرَهُ لِقَاءَ اللَّهِ , وَاللَّهُ يَكْرَهُ لِقَاءَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ سے ملنے کو پسند کرتا ہے، اللہ اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اللہ اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ! اللہ سے ناملنے کی ناپسندیدگی کا مطلب اگر موت سے نفرت ہے تو ہم میں واللہ ہر ایک موت کو ناپسند کرتا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، یہ مراد نہیں بلکہ جب اللہ تعالیٰ کسی بندہ مومن کی روح قبض کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس نے اپنے یہاں اس کے لئے جو ثواب اور عزت تیار کر رکھی ہوتی ہے وہ اس کے سامنے منکشف فرما دیتا ہے چنانچہ جس وقت وہ مرتا ہے تو اسے اللہ سے ملنے کی چاہت ہوتی ہے اور اللہ اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ کسی کافر کی روح قبض کرنے کا ارادہ فرماتا ہے تو اس نے اپنے یہاں اس کے لئے جو عذاب اور ذلت تیار کر رکھی ہوتی ہے، وہ اس کے سامنے منکشف فرما دیتا ہے چنانچہ جس وقت وہ مرتا ہے تو اللہ سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25831]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه عنعنة الحسن وفي سماعه من عائشة نظر
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه عنعنة الحسن وفي سماعه من عائشة نظر
حدیث نمبر: 25832 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، زُهَيْرٌ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , قَال: َحَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ , عَنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَمَا يَدَعُ حَاجَةً لَهُ إِلَى امْرَأَتِهِ حَتَّى يَرْجِعَ الْحَاجُّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدی کے جانور یعنی بکری کے قلادہ بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے) یہاں تک کہ حاجی واپس آجاتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25832]
حکم دارالسلام
حديث حسن
الحكم: حديث حسن
حدیث نمبر: 25833 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَتَادَةُ ، وَيُونُسُ ، حَمَّادٌ ، قَتَادَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ وَيُونُسُ ، قَال: َحَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال َ: " لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی بالغ لڑکی کی دوپٹے کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25833]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25834 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، قَتَادَةُ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , قَال: َأَخْبَرَنَا قَتَادَةُ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَال: " لَا يَقْبَلُ اللَّهُ صَلَاةَ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی لڑکی کی دوپٹے کے بغیر نماز قبول نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25834]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25835 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادٌ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أُمَيَّةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أُمَيَّةَ , أَنَّهَا سَأَلَتْ عَائِشَةَ عَنْ هَذِهِ الْآيَة إِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ يُحَاسِبْكُمْ بِهِ اللَّهُ سورة البقرة آية 284 وَعَنْ هَذِهِ الْآيَةِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ سورة النساء آية 123 , فَقَالَتْ: مَا سَأَلَنِي عَنْهُمَا أَحَدٌ مُنْذُ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُمَا , فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ هَذِهِ مُتَابَعَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الْعَبْدَ بِمَا يُصِيبُهُ مِنَ الْحُمَّةِ وَالنَّكْبَةِ وَالشَّوْكَةِ , حَتَّى الْبِضَاعَةُ يَضَعُهَا فِي كُمِّهِ , فَيَفْقِدُهَا , فَيَفْزَعُ لَهَا , فَيَجِدُهَا فِي ضِبْنِهِ , حَتَّى إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَيَخْرُجُ مِنْ ذُنُوبِهِ كَمَا يَخْرُجُ التِّبْرُ الْأَحْمَرُ مِنَ الْكِيرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
امیر سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ان دو آیتوں کا مطلب پوچھا " اگر تم اپنے دلوں کی باتوں کو ظاہر کردیا یا چھپاؤ، دونوں صورتوں میں اللہ تم سے اس کا محاسبہ کرے گا " اور یہ کہ جو " شخص کوئی برا عمل کرے گا اسے اس کا بد لہ دیا جائے گا " تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے جب سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ان آیتوں کے متعلق پوچھا ہے آج تک کسی نے مجھ سے ان کے متعلق نہیں پوچھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اے عائشہ! اس سے مراد وہ پے درپے آنے والی مصیبتیں ہیں جو اللہ اپنے بندے پر مسلط کرتا ہے، مثلاً کسی جانور کا ڈس لینا، تکلیف پہنچ جانا اور کانٹا چبھ جانا، یا وہ سامان جو آدمی آستین میں رکھے اور اسے گم کر بیٹھے، پھر گھبرا کر تلاش کرے تو اسے اپنے پہلو کے درمیان پائے حتیٰ کہ مومن اپنے گناہوں سے اس طرح نکل آتا ہے، جیسے بھٹی سے سرخ سونے کی ڈلی نکل آتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25835]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف بهذه السياقة لضعف على بن زيد ولجهالة أمية
الحكم: إسناده ضعيف بهذه السياقة لضعف على بن زيد ولجهالة أمية
حدیث نمبر: 25836 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَتَادَةُ ، مُعَاذَةَ ، صَفِيَّةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , قَال: َأَخْبَرَنَا قَتَادَةُ , عَنْ مُعَاذَةَ , عَنْ صَفِيَّةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ وَيَتَوَضَّأُ بِالْمُدِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مد کے قریب پانی سے وضو فرما لیتے تھے اور ایک صاع کے قریب پانی سے غسل فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25836]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25837 مسند احمد
بَهْزٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ ، عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ ، عَائِشَة ُ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ , عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ , قَال: َذَكَرُوا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ رَحِمَهُ اللَّهُ اسْتِقْبَالَ الْقِبْلَةِ بِالْفُرُوجِ , فَقَالَ عِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ ، قَالَتْ عَائِشَة ُ : ذَكَرُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ قَوْمًا يَكْرَهُونَ ذَلِكَ , قَال: َفَقَالَ: " قَدْ فَعَلُوهَا؟ حَوِّلُوا مَقْعَدَتِي نَحْوَ الْقِبْلَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے یہ تذکرہ ہوا کہ کچھ لوگ اپنی شرمگاہ کا رخ قبلہ کی جانب کرنے کو ناپسند کرتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ ایسا کرتے ہیں؟ بیت الخلاء میں میرے بیٹھنے کی جگہ کا رخ قبلہ کی جانب کردو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25837]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف على نكارة فى متنة
الحكم: إسناده ضعيف على نكارة فى متنة