بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 25820
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 25820
حدیث نمبر: 25820 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
إِسْمَاعِيلُ ، دَاوُدُ ، الشَّعْبِيِّ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ , قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ , عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَال: َقَالَتْ عَائِشَةُ لِابْنِ أَبِي السَّائِبِ قَاصِّ أَهْلِ الْمَدِينَة ِ" ثَلَاثًا لَتُبَايِعَنِّي عَلَيْهِنَّ أَوْ لَأُنَاجِزَنَّكَ؟" فَقَالَ مَا هُنَّ؟ بَلْ أَنَا أُباِيعُكِ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , قَالَتْ:" اجْتَنِبْ السَّجْعَ مِنَ الدُّعَاءِ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ كَانُوا لَا يَفْعَلُونَ ذَلِك" , وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ مَرَّةً , فَقَالَتْ:" إِنِّي عَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ وَهُمْ لَا يَفْعَلُونَ ذَاكَ" , وَقُصَّ عَلَى النَّاسِ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ مَرَّةً , فَإِنْ أَبَيْتَ فَثِنْتَيْنِ , فَإِنْ أَبَيْتَ فَثَلَاثًا , فَلَا تَمَلُّ النَّاسُ هَذَا الْكِتَابَ وَلَا أَلْفيَنَّكَ تَأْتِي الْقَوْمَ وَهُمْ فِي حَدِيثٍ مِنْ حَدِيثِهِمْ , فَتَقْطَعُ عَلَيْهِمْ حَدِيثَهُمْ وَلَكِنْ اتْرُكْهُمْ , فَإِذَا جَرَّءُوكَ عَلَيْهِ وَأَمَرُوكَ بِهِ فَحَدِّثْهُمْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
امام شعبی رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مدینہ منورہ کے ایک واعظ " جس کا نام ابن ابی السائب تھا " سے فرمایا کہ تین باتیں ہیں جنہیں میرے سامنے ماننے کا اقرار کرو، ورنہ میں تم سے جنگ کروں گی، اس نے پوچھا وہ کیا؟ اے ام المومنین! میں آپ کے سامنے ان کو تسلیم کرنے کا اقرار کرتا ہوں، انہوں نے فرمایا کہ دعا میں الفاظ کی تک بندی سے اجتناب کیا کرو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے صحابہ رضی اللہ عنہ ایسا نہیں کرتے تھے، دوسرے یہ کہ جمعہ میں لوگوں کے سامنے صرف ایک مرتبہ وعظ کہا کرو، اگر نہ مانو تو دو مرتبہ ورنہ تین مرتبہ، تم اس کتاب سے لوگوں کو اکتاہٹ میں مبتلا نہ کرو اور تیسرے یہ کہ میں تمہیں کبھی اس طرح نہ پاؤں کہ تم لوگوں کے پاس پہنچو، وہ اپنی باتوں میں مشغول ہوں اور تم ان کے درمیان قطع کلامی کرنے لگو، بلکہ انہیں چھوڑے رکھو، اگر وہ تمہیں آگے بڑھنے دیں اور گفتگو میں شریک ہونے کا حکم دیں تب ان کی گفتگو میں شریک ہوا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25820]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن الشعبي لم يسمع من عائشة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن الشعبي لم يسمع من عائشة
← پچھلی حدیث (25819) باب پر واپس اگلی حدیث (25821) →