بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 615
صفحہ 22 از 31
حدیث نمبر: 26218 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , زَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا , أَنَّهَا رَأَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو رَافِعًا يَدَيْهِ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي بَشَرٌ , فَلَا تُعَاقِبْنِي أَيُّمَا رَجُلٍ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ وَشَتَمْتُهُ فَلَا تُعَاقِبْنِي فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے ہاتھ پھیلا کر دعا کی کہ اے اللہ! میں بھی انسان ہوں اس لئے آپ کے جس بندے کو میں نے مارا ہو یا ایذاء پہنچائی ہو تو اس پر مجھ سے مؤاخذہ نہ کیجئے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26218]
حکم دارالسلام
حديث ضعيف بهذه السياقة لأن رواية سماك عن عكرمة مضطربة
الحكم: حديث ضعيف بهذه السياقة لأن رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 26219 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، سَعْدَ بْنَ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى , أَنَّ سَعْدَ بْنَ هِشَامٍ ، حَدَّثَهُ، عَنْ عَائِشَةَ , سَمِعَهُ مِنْهَا , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا فَاتَهُ الْقِيَامُ مِنَ اللَّيْلِ , غَلَبَتْهُ عَيْنَاهُ بِنَوْمٍ أَوْ وَجَعٍ صَلَّى ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً مِنَ النَّهَارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی دن نیند کے غلبے یا بیماری کی وجہ سے تہجد کی نماز چھوٹ جاتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دن کے وقت بارہ رکعتیں پڑھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26219]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 746
الحكم: إسناده صحيح، م: 746
حدیث نمبر: 26220 مسند احمد
يُونُسُ ، أَيُّوبُ يَعْنِي ابْنَ ثَابِتٍ ، أُمُّ دَاوُدَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَيُّوبُ يَعْنِي ابْنَ ثَابِتٍ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ دَاوُدَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كُنْتُ أُطَيِّبُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ وَعُمْرَتِهِ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حج اور عمرے میں سب سے بہترین اور عمدہ خوشبو لگائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26220]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف بهذه السياقة
الحكم: إسناده ضعيف بهذه السياقة
حدیث نمبر: 26221 مسند احمد
يُونُسُ ، دَاوُدُ ، مَنْصُورٍ الْحَجَبِيِّ ، أُمِّي صَفِيَّةُ بِنْتُ شَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا دَاوُدُ , عَنْ مَنْصُورٍ الْحَجَبِيِّ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمِّي صَفِيَّةُ بِنْتُ شَيْبَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّكِئُ فِي حِجْرِي وَأَنَا حَائِضٌ , فَيَقْرَأُ الْقُرْآنَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری گود کے ساتھ ٹیک لگا کر قرآن کریم کی تلاوت فرما لیا کرتے تھے حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26221]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 301
الحكم: إسناده صحيح، م: 301
حدیث نمبر: 26222 مسند احمد
يُونُسُ ، وَسُرَيْجٌ ، فُلَيْحٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَسُرَيْجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الصُّبْحَ , فَيَنْصَرِفُ نِسَاءُ الْمُؤْمِنِينَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ , مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ" , أَوْ قَالَ: لَا يَعْرِفُ بَعْضُهُنَّ بَعْضًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ نماز فجر میں خواتین بھی شریک ہوتی تھیں، پھر اپنی چادروں میں اس طرح لپٹ کر نکلتی تھیں کہ انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26222]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 872، م: 645
الحكم: إسناده صحيح، خ: 872، م: 645
حدیث نمبر: 26223 مسند احمد
يُونُسُ ، يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَمْسٌ فَوَاسِقُ يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ الْفَأْرَةُ , وَالْعَقْرَبُ , وَالْغُرَابُ , وَالْحُدَيَّا , وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں " فواسق " میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جاسکتا ہے، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26223]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3314، م: 1198
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3314، م: 1198
حدیث نمبر: 26224 مسند احمد
يُونُسُ ، أَبَانُ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ وَهُوَ يُخَاصِمُ فِي دَارٍ , فَقَالَتْ عَائِشَةُ : يَا أَبَا سَلَمَةَ , اجْتَنِبْ الْأَرْضَ , فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ ظَلَمَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو سلمہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس زمین کا ایک جھگڑا لے کر حاضر ہوئے، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا اے ابوسلمہ! زمین چھوڑ دو، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہے جو شخص ایک بالشت بھر زمین بھی کسی سے ظلماً لیتا ہے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے گلے میں سات زمینوں کا وہ حصہ طوق بنا کر ڈالے گا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26224]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع لأن يحيى لم يسمع هذا الحديث من أبى سلمة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع لأن يحيى لم يسمع هذا الحديث من أبى سلمة
حدیث نمبر: 26225 مسند احمد
هُدْبَةُ ، أَبَانُ الْعَطَّارُ ، يَحْيَى ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هُدْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبَانُ الْعَطَّارُ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
حکم دارالسلام
حديث صحيح، هو مكرر سابقه
الحكم: حديث صحيح، هو مكرر سابقه
حدیث نمبر: 26226 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ ، قَتَادَةَ ، ابْنِ سِيرِينَ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنِ ابْنِ سِيرِينَ , عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ الْحَارِثِ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: " لَا تُقْبَلُ صَلَاةُ حَائِضٍ إِلَّا بِخِمَارٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی بالغ لڑکی کی نماز دوپٹے کے بغیر قبول نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26226]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26227 مسند احمد
يُونُسُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، الْحَسَنِ ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنِ الْحَسَنِ , أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ ،: قَالَ حَسَنٌ: عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي بَيْتِي , إِذْ احْتَفَزَ جَالِسًا وَهُوَ يَسْتَرْجِعُ , فَقُلْتُ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي , مَا شَأْنُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَسْتَرْجِعُ؟ قَالَ: " جَيْشٌ مِنْ أُمَّتِي يَجِيئُونَ مِنْ قِبَلِ الشَّامِ , يَؤُمُّونَ الْبَيْتَ لِرَجُلٍ يَمْنَعُهُ اللَّهُ مِنْهُمْ , حَتَّى إِذَا كَانُوا بِالْبَيْدَاءِ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةِ , خُسِفَ بِهِمْ , وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى" , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَيْفَ يُخْسَفُ بِهِمْ جَمِيعًا , وَمَصَادِرُهُمْ شَتَّى؟ فَقَالَ:" إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ جُبِرَ , إِنَّ مِنْهُمْ مَنْ جُبِرَ ," ثَلَاثًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے گھر میں لیٹے ہوئے تھے کہ اچانک ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھے اور انا للہ پڑھنے لگے، میں نے عرض کیا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ! کیا بات ہے کہ آپ انا للہ پڑھ رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا امت کا ایک لشکر شام کی جانب سے آئے گا اور ایک آدمی کو گرفتار کرنے کے لئے بیت اللہ کا قصد کرے گا، اللہ اس آدمی کی اس لشکر سے حفاظت فرمائے گا اور جب وہ لوگ ذوالحلیفہ سے مقام بیداء کے قریب پہنچیں گے تو ان سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا اور انہیں مختلف جگہوں سے قیامت کے دن اٹھایا جائے گا، میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ کیا بات ہوئی کہ ان سب کو دھنسایا تو اکٹھے جائے گا اور اٹھایا مختلف جگہوں سے جائے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ فرمایا کہ اس لشکر میں بعض لوگوں کو زبر دستی شامل کرلیا گیا ہوگا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26227]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف بهذه السياقة لاضطراب حماد فيه
الحكم: إسناده ضعيف بهذه السياقة لاضطراب حماد فيه
حدیث نمبر: 26228 مسند احمد
حَسَنٌ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، يُوسُفَ بْنِ سَعْدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لاضطراب حماد بن سلمة فيه
الحكم: إسناده ضعيف لاضطراب حماد بن سلمة فيه
حدیث نمبر: 26229 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ ، أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، يُوسُفَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ سَعْدٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ بِمِثْلِهِ.
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لاضطراب حماد
الحكم: إسناده ضعيف لاضطراب حماد
حدیث نمبر: 26230 مسند احمد
يَعْقُوبُ ، ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَمِّهِ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , وَقَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عَمِّهِ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " خَمْسٌ مِنَ الدَّوَابِّ كُلُّهُنَّ فَاسِقٌ , يُقْتَلْنَ فِي الْحَرَمِ الْغُرَابُ , وَالْحَيَّةُ , وَالْعَقْرَبُ , وَالْكَلْبُ الْعَقُورُ , وَالْحِدَأَةُ" وَفِي كِتَابِ يَعْقُوبَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ مَكَانَ الْحَيَّةِ الْفَأْرَةُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا پانچ چیزیں " فواسق " میں سے ہیں جنہیں حرم میں قتل کیا جاسکتا ہے، بچھو، چوہا، چیل، باؤلا کتا اور کوا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26230]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1829، م: 1198
الحكم: حديث صحيح، خ: 1829، م: 1198
حدیث نمبر: 26231 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: " إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ النَّوْمَ وَهُوَ يُصَلِّي , فَلْيَرْقُدْ حَتَّى يَذْهَبَ نَوْمُهُ , إِنَّ أَحَدَكُمْ عَسَى أَنْ يَذْهَبَ يَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فَيَسُبُّ نَفْسَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کسی شخص کو اونگھ آئے تو اسے سو جانا چاہیے، یہاں تک کہ اس کی نیند پوری ہوجائے، کیونکہ اگر وہ اسی اونگھ کی حالت میں نماز پڑھنے لگے تو ہوسکتا ہے کہ استغفار کرنے لگے اور بیخبر ی میں اپنے آپ کو گالیاں دینے لگے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26231]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 212، م: 786
الحكم: إسناده صحيح، خ: 212، م: 786
حدیث نمبر: 26232 مسند احمد
يُونُسُ ، حَمَّادٌ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ , فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ , وَبَسَطَ يَدَهُ , ثُمَّ قَالَ: " اللَّهُمَّ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ، فَأَيُّ عَبْدٍ مِنْ عِبَادِكَ شَتَمْتُ , أَوْ آذَيْتُ , فَلَا تُعَاقِبْنِي فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس ایک تہبند اور ایک چادر میں تشریف لائے، قبلہ کی جانب رخ کیا اور اپنے ہاتھ پھیلا کر دعا کی کہ اے اللہ! میں بھی ایک انسان ہوں اس لئے آپ کے جس بندے کو میں نے مارا ہو یا ایذا پہنچائی ہو تو اس پر مجھ سے مؤاخذہ نہ کیجئے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26232]
حکم دارالسلام
ضعيف بهذه السياقة ورواية سماك عن عكرمة مضطربة
الحكم: ضعيف بهذه السياقة ورواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 26233 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَمْرٍو ، الْمُطَّلِبِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ , عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ , عَنْ عَمْرٍو , عَنِ الْمُطَّلِبِ , أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرٍ، بَعَثَ إِلَى عَائِشَةَ بِنَفَقَةٍ وَكِسْوَةٍ , فَقَالَتْ لِرَسُولِهِ: يَا بُنَيَّ , إِنِّي لَا أَقْبَلُ مِنْ أَحَدٍ شَيْئًا , فَلَمَّا خَرَجَ قَالَتْ: رُدُّوهُ عَلَيَّ , فَرَدُّوهُ , فَقَالَتْ: إِنِّي ذَكَرْتُ شَيْئًا قَالَهُ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَا عَائِشَةُ , مَنْ أَعْطَاكِ عَطَاءً بِغَيْرِ مَسْأَلَةٍ , فَاقْبَلِيهِ , فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ عَرَضَهُ اللَّهُ لَكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مطلب بن حطیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عبداللہ بن عامر رحمہ اللہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں کچھ نفقہ اور کپڑے بھجوائے، انہوں نے قاصد سے فرمایا بیٹا! میں کسی کی کوئی چیز قبول نہیں کرتی، جب وہ جانے لگا تو انہوں نے فرمایا کہ اسے واپس بلا کر لاؤ۔ لوگ اسے بلا لائے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ مجھے ایک بات یاد آگئی جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے سے فرمائی تھی کہ اے عائشہ! جو شخص تمہیں بن مانگے کوئی ہدیہ پیش کرے تو اسے قبول کرلیا کرو، کیونکہ وہ رزق ہے جو اللہ نے تمہارے پاس بھیجا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26233]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، المطلب لم يدرك عائشة
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، المطلب لم يدرك عائشة
حدیث نمبر: 26234 مسند احمد
يُونُسُ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ , عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " إِنْ كَانَ لَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَإِنِّي لَمُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ اعْتِرَاضَ الْجِنَازَةِ , حَتَّى إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ , مَسَّنِي بِرِجْلِهِ , فَعَرَفْتُ أَنَّهُ يُوتِرُ , تَأَخَّرْتُ شَيْئًا مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی، جب وہ وتر پڑھنا چاہتے تو میرے پاؤں کو چھو دیتے، میں سمجھ جاتی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وتر پڑھنے لگے ہیں لہذا میں پیچھے ہٹ جاتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26234]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 519، م: 744
الحكم: إسناده صحيح، خ: 519، م: 744
حدیث نمبر: 26235 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ أَبُو خَالِدٍ ، حَجَّاجٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ أَبُو خَالِدٍ , حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا نِكَاحَ إِلَّا بِوَلِيٍّ , وَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لَا وَلِيَّ لَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر کوئی عورت اپنے آقا کی اجازت کے بغیر نکاح کرے تو اس کا نکاح نہیں ہوا اور بادشاہ اس کا ولی ہوگا جس کا کوئی ولی نہ ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26235]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج
حدیث نمبر: 26236 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ ، حَجَّاجٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَيَّانَ , عَنْ حَجَّاجٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَجْنَبَ , فَأَرَادَ أَنْ يَنَامَ , تَوَضَّأَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26236]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج
حدیث نمبر: 26237 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ ، جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ , عن عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيِّ ،، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " اللَّهُمَّ ارْفُقْ بِمَنْ رَفَقَ بِأُمَّتِي , وَشُقَّ عَلَى مَنْ شَقَّ عَلَيْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! جو شخص میری امت پر نرمی کرے تو اس پر نرمی فرما اور جو ان پر سختی کرے تو اس پر سختی فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26237]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على جعفر بن برقان
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على جعفر بن برقان