يُونُسُ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ , عَنْ يَزِيدَ يَعْنِي ابْنَ الْهَادِ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " إِنْ كَانَ لَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَإِنِّي لَمُعْتَرِضَةٌ بَيْنَ يَدَيْهِ اعْتِرَاضَ الْجِنَازَةِ , حَتَّى إِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ , مَسَّنِي بِرِجْلِهِ , فَعَرَفْتُ أَنَّهُ يُوتِرُ , تَأَخَّرْتُ شَيْئًا مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی، جب وہ وتر پڑھنا چاہتے تو میرے پاؤں کو چھو دیتے، میں سمجھ جاتی کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وتر پڑھنے لگے ہیں لہذا میں پیچھے ہٹ جاتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26234]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 519، م: 744
الحكم: إسناده صحيح، خ: 519، م: 744