بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 615
صفحہ 5 از 31
حدیث نمبر: 25878 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ , قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , وَأَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ , عَنْ الْقَاسِمِ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , مِثْلَهُ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , مَا سَمِعْتُهُ إِلَّا مِنْ أَبِي , عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ وَطَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ , رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ أَيْلَةَ , قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: قَالَ أَصْحَابُ الْحَدِيثِ لَيْسَ هَذَا بِالْكُوفَةِ , إِنَّمَا هَذَا عَنِ ابْنِ نُمَيْرٍ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , يَعْنِي الْعُمَرِيّ , فَقُلْتُ لَهُمْ: امْضُوا إِلَى أَبِي خَيْثَمَةَ , فَإِنَّ سَمَاعَهُمْ بِالْكُوفَةِ وَاحِدٌ مِنَ ابْنِ نُمَيْرٍ , فَذَهَبُوا فَأَصَابُوهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6696
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6696
حدیث نمبر: 25879 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَجَّاجٌ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُجْنِبُ مِنَ اللَّيْلِ , ثُمَّ يَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ حَتَّى يُصْبِحَ , وَلَا يَمَسُّ مَاءً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر غسل واجب ہوتا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پانی کو ہاتھ لگائے بغیر سو جاتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25879]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف حجاج
حدیث نمبر: 25880 مسند احمد
يَعْلَى ، زَكَرِيَّا ، عَامِرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا , عَنْ عَامِرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: " إِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ" , قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے ایک مرتبہ فرمایا کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، انہوں نے جواب دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25880]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3217، م: 2447
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3217، م: 2447
حدیث نمبر: 25881 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ ، ابْنِ سِيرِينَ ، دِقْرَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ حَسَّانَ , عَنْ ابْنِ سِيرِينَ , عَنْ دِقْرَةَ , قَالَتْ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ عَائِشَةَ فِي نِسْوَةٍ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , فَرَأَيْتُ امْرَأَةً عَلَيْهَا خَمِيصَةٌ فِيهَا صُلُبٌ , فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ " انْزَعِي هَذَا مِنْ ثَوْبِكِ , فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَآهُ فِي ثَوْبٍ قَضَبَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
دقرہ ام عبدالرحمن کہتی ہیں کہ ہم لوگ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ طواف کر رہے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایک عورت کے جسم پر صلیب کی تصویر والی ایک چادر دیکھی، تو اس سے فرمایا کہ اسے اتارو، اتارو کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب ایسی چیز دیکھتے تو اسے ختم کردیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25881]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 25882 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، الثَّوْرِيّ ، قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ ، حَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا الثَّوْرِيّ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ حَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَشِيقَةُ ظَبْيٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ , فَلَمْ يَأْكُلْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ہرن کے گوشت کی بوٹیاں پیش کی گئیں، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احرام کی حالت میں تھے اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے تناول نہیں فرمایا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25882]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح إن ثبت سماع حسن بن محمد من عائشة
الحكم: إسناده صحيح إن ثبت سماع حسن بن محمد من عائشة
حدیث نمبر: 25883 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَرْفَعُ يَدَيْهِ يَدْعُو , حَتَّى إِنِّي لَأَسْأَمُ لَهُ مِمَّا يَرْفَعُهُمَا يَدْعُو " اللَّهُمَّ فَإِنَّمَا أَنَا بَشْرٌ , فَلَا تُعَذِّبْنِي بِشَتْمِ رَجُلٍ شَتَمْتُهُ أَوْ آذَيْتُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ پھیلا کر دعا کی کہ اے اللہ! میں بھی انسان ہوں اس لئے آپ کے جس بندے کو میں نے مارا ہو یا ایذاء پہنچائی ہو تو اس پر مجھ سے مواخذہ نہ کیجئے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25883]
حکم دارالسلام
حديث ضعيف بهذه السياقة. رواية سماك عن عكرمة مضطربة
الحكم: حديث ضعيف بهذه السياقة. رواية سماك عن عكرمة مضطربة
حدیث نمبر: 25884 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَالِكٌ ، وَإِسْحَاقُ يعني ابن عيسى الطباع ، مَالِكٌ ، أَبِي النَّضْرِ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ وَإِسْحَاقُ يعني ابن عيسى الطباع ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَيَّ فِي قِبْلَتِهِ , فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ , غَمَزَنِي , فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ , فَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهَا , قَالَتْ: وَلَمْ يَكُنْ فِي الْبُيُوتِ يَوْمَئِذٍ مَصَابِيحُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سو رہی ہوتی تھی اور میرے پاؤں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قبلے کی سمت میں ہوتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدے میں جانے لگتے تو مجھے چٹکی بھر دیتے اور میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی، جب وہ کھڑے ہوجاتے تو میں انہیں پھیلا لیتی تھی اور اس زمانے میں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25884]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 382، م: 512
الحكم: إسناده صحيح، خ: 382، م: 512
حدیث نمبر: 25885 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيُّ ، عُرْوَةُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ ، وَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ , عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّهَا لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُ ذَلِكَ , وَقَالَتْ: إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ كَانَ مَنْزِلًا أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ مقام " ابطح " میں پڑاؤ کرنا سنت نہیں ہے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہاں صرف اس لئے پڑاؤ کیا تھا کہ اس طرف سے نکلنا زیادہ آسان تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25885]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1765، م: 1311
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1765، م: 1311
حدیث نمبر: 25886 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، الثَّوْرِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ ، أَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَوْ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ , اشْتَرَى كَبْشَيْنِ عَظِيمَيْنِ سَمِينَيْنِ أَمْلَحَيْنِ أَقْرَنَيْنِ مَوْجُوءيْنِ , فَيَذْبَحُ أَحَدَهُمَا عَنْ أُمَّتِهِ مِمَّنْ شَهِدَ بِالتَّوْحِيدِ , وَشَهِدَ لَهُ بِالْبَلَاغِ , وَذَبَحَ الْآخَرَ عَنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَآلِ مُحَمَّدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو دو مینڈھے خریدتے جو خوب موٹے تازے، صحت مند، سینگدار، خوب صورت اور خصی ہوتے تھے اور ان میں سے ایک اپنی امت کے ان لوگوں کی طرف سے ذبح فرماتے جو توحید کے اقرار پر قائم ہوئے اور اس بات کی گواہی دیتے ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پیغام الٰہی پہنچا دیا اور دوسرا جانور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم و آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے قربان کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25886]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه ضعف لاضطراب عبدالله
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد فيه ضعف لاضطراب عبدالله
حدیث نمبر: 25887 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ يَبْعَثُ بِهَا , فَمَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہدی کا جانور مکہ مکرمہ بھیجتے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدی کے جانور یعنی بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے)۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25887]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1698، م: 1321
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1698، م: 1321
حدیث نمبر: 25888 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: جَاءَتْ هِنْدٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا كَانَ عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ خِبَاءٌ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يُذِلَّهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ , وَمَا عَلَى ظَهْرِ الْأَرْضِ الْيَوْمَ أَهْلُ خِبَاءٍ أَحَبُّ إِلَيَّ أَنْ يُعِزَّهُمْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ أَهْلِ خِبَائِكَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَيْضًا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ" , ثُمَّ قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وإِنَّ أَبَا سُفْيَانَ رَجُلٌ مُمْسِكٌ , فَهَلْ عَلَيَّ حَرَجٌ أَنْ أُنْفِقَ عَلَى عِيَالِهِ مِنْ مَالِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا حَرَجَ عَلَيْكِ أَنْ تُنْفِقِي عَلَيْهِمْ بِالْمَعْرُوفِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہند بارگاہ نبوت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ! قبول اسلام سے پہلے روئے زمین پر آپ کے خیموں والوں سے زیادہ کسی کو ذلیل کرنا مجھے پسند نہ تھا اور اب آپ کے خیمے والوں سے زیادہ کسی کو عزت دینا مجھے پسند نہیں ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، بات اسی طرح ہے، پھر ہند نے عرض کیا یا رسول اللہ! ابوسفیان مال خرچ کرنے میں ہاتھ تنگ رکھتے ہیں، اگر میں ان کے مال سے ان ہی کے بچوں پر ان کی اجازت کے بغیر کچھ خرچ کرلیا کروں تو کیا مجھ پر گناہ ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بھلے طریقے سے ان پر خرچ کرنے میں تم پر کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25888]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2460، م: 1714
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2460، م: 1714
حدیث نمبر: 25889 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، الثَّوْرِيّ ، الْأَعْمَشِ ، عُمَارَةَ ، يَحْيَى بْنِ الجَزَّارِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيّ , عَنِ الْأَعْمَشِ , عَنْ عُمَارَةَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ الجَزَّارِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعًا , فَلَمَّا ثَقُلَ وَأَسَنَّ , صَلَّى سَبْعًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نو رکعتوں پر وتر بناتے تھے، پھر جب عمر مبارک زیادہ ہوگئی اور جسم مبارک بھاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سات رکعتوں پر وتر بنانے لگے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25889]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على الأعمش
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على الأعمش
حدیث نمبر: 25890 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " أَسَرَّ , تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقِرَاءَةَ فِي رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ , وَقَرَأَ فِيهِمَا قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ وَ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر کی سنتوں میں سورت کافروں اور سورت اخلاص پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25890]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قولها: أسر النبى صلى الله عليه و آله وسلم ، وهذا إسناد فيه انقطاع بين محمد ابن سيرين و عائشة
الحكم: حديث صحيح دون قولها: أسر النبى ﷺ ، وهذا إسناد فيه انقطاع بين محمد ابن سيرين و عائشة
حدیث نمبر: 25891 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , سُئِلَ عَنِ الْبِتْعِ؟ فَقَالَ: " كُلُّ شَرَابٍ يُسْكِرُ , فَهُوَ حَرَامٌ" وَالْبِتْعُ نَبِيذُ الْعَسَلِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شہد کی نیند کے متعلق پوچھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر وہ مشروب جو نشہ آور ہو، وہ حرام ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25891]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5586، م: 2001
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5586، م: 2001
حدیث نمبر: 25892 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رِفَاعَةَ الْقُرَظِيَّ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ , فَبَتَّ طَلَاقَهَا , فَتَزَوَّجَهَا بَعْدَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الزُّبَيْرِ , فَجَاءَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ , إِنَّهَا كَانَتْ عِنْدَ رِفَاعَةَ , وَطَلَّقَهَا آخِرَ ثَلَاثِ تَطْلِيقَاتٍ , فَتَزَوَّجَتْ بَعْدَهُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الزَّبِيرِ , وَإِنَّهُ وَاللَّهِ مَا مَعَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِلَّا مِثْلَ هَذِهِ الْهُدْبَةِ , فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ قَالَ لَهَا: " لَعَلَّكِ تُرِيدِينَ أَنْ تَرْجِعِي إِلَى رِفَاعَةَ , لَا , حَتَّى تَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ , وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَكِ" , قَالَتْ وَأَبُو بَكْرٍ جَالِسٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ جَالِسٌ بِبَابِ الْحُجْرَةِ , لَمْ يُؤْذَنْ لَهُ , فَطَفِقَ خَالِدٌ يُنَادِي أَبَا بَكْرٍ يَقُولُ يَا أَبَا بَكْرٍ , أَلَا تَزْجُرُ هَذِهِ عَمَّا تَجْهَرُ بِهِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں رفاعہ قرظی کی بیوی آئی، میں اور حضرت ابوبکر بھی وہاں موجود تھے، اس نے کہا مجھے رفاعہ نے طلاق بتہ دے دی ہے، جس کے بعد عبدالرحمن بن زبیر نے مجھ سے نکاح کرلیا، پھر اس نے اپنی چادر کا ایک کونا پکڑ کر کہا کہ اس کے پاس تو صرف اس طرح کا ایک کونا ہے، اس وقت گھر کے دروازے پر خالد بن سعید بن عاص موجود تھے، انہیں اندر آنے کی اجازت نہیں ملی تھی اس لئے انہوں نے باہر سے ہی کہا کہ ابوبکر! آپ اس عورت کو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اس طرح باتیں بڑھ چڑھ کر بیان کرنے سے کیوں نہیں روکتے؟ تاہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف مسکرانے پر ہی اکتفاء کیا اور پھر شاید تم رفاعہ کے پاس جانے کی خواہش رکھتی ہو؟ لیکن یہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک تم اس کا شہد نہ چکھ لو اور وہ تمہارا شہد نہ چکھ لے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25892]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6084، م: 1433
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6084، م: 1433
حدیث نمبر: 25893 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , قَالَ: دَخَلَتْ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُونٍ , أَحْسِبُ اسْمَهَا خَوْلَةَ بِنْتَ حَكِيمٍ , عَلَى عَائِشَةَ , وَهِيَ بَاذَّةُ الْهَيْئَةِ , فَسَأَلْتُهَا مَا شَأْنُكِ؟ , فَقَالَتْ: زَوْجِي يَقُومُ اللَّيْلَ وَيَصُومُ النَّهَارَ , فَدَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَذَكَرَتْ عَائِشَةُ ذَلِكَ لَهُ , فَلَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُثْمَانَ , فَقَالَ:" يَا عُثْمَانُ , إِنَّ الرَّهْبَانِيَّةَ لَمْ تُكْتَبْ عَلَيْنَا , أَفَمَا لَكَ فِيَّ أُسْوَةٌ؟ فَوَاللَّهِ إِنِّي أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ , وَأَحْفَظُكُمْ لِحُدُودِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضرت عثمان بن معظون کی اہلیہ مہندی لگاتی تھیں اور خوشبو سے مہکتی تھیں لیکن ایک دم انہوں نے یہ سب چیزیں چھوڑ دیں، ایک دن وہ میرے پاس پراگندہ حالت میں آئیں تو میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کی کیا حالت ہے؟ انہوں نے کہا کہ میرے شوہر شب بیدار اور صائم النہار ہیں، تھوڑی دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو میں نے ان سے یہ بات ذکر کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے ملے اور فرمایا اے عثمان! ہم پر رھبانیت فرض نہیں کی گئی، کیا میری ذات میں تمہارے لئے اسوہ حسنہ نہیں ہے؟ واللہ تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اس کی حدود کی حفاظت کرنے والا میں ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25893]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25894 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ عُتْبَةَ بْنَ أَبِي وَقَّاصٍ قَالَ لِأَخِيهِ سَعْدٍ أَتَعْلَمُ أَنَّ ابْنَ جَارِيَةِ زَمْعَةَ ابْنِي؟ قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ , رَأَى سَعْدٌ الْغُلَامَ , فَعَرَفَهُ بِالشَّبَهِ , وَاحْتَضَنَهُ إِلَيْهِ , وَقَالَ ابْنُ أَخِي: وَرَبِّ الْكَعْبَةِ , فجاء عبد بن زمعة , فقال: بل هو أخي , وولد على فراش أبي من جاريته , فانطلقا إلى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ سَعْدٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَذَا ابْنُ أَخِي , انْظُرْ إِلَى شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ , قَالَتْ عَائِشَةُ: فَرَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَبَهًا , لَمْ يَرَ النَّاسُ شَبَهًا أَبْيَنَ مِنْهُ بِعُتْبَةَ , فَقَالَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , بَلْ هُوَ أَخِي , وُلِدَ عَلَى فِرَاشِ أَبِي مِنْ جَارِيَتِهِ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ , وَاحْتَجِبِي عَنْهُ يَا سَوْدَةُ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: فَوَاللَّهِ مَا رَآهَا حَتَّى مَاتَتْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ زمعہ کی باندی کے بیٹے کے سلسلے میں عبد زمعہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص اپنا جھگڑا لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، عبد بن زمعہ کا کہنا تھا کہ یا رسول اللہ! یہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کی باندی کا بیٹا ہے اور میرے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے اور حضرت سعد یہ کہہ رہے تھے کہ میرے بھائی نے مجھے وصیت کی ہے کہ جب تم مکہ مکرمہ پہنچو تو زمعہ کی باندی کے بیٹے کو اپنے قبضے میں لے لینا کیونکہ وہ میرا بیٹا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بچے کو دیکھا تو اس میں عتبہ کے ساتھ واضح شباہت نظر آئی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے عبد! یہ بچہ تمہارا ہے، بدکار کے لئے پتھر ہیں اور اے سودہ! تم اس سے پردہ کرنا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25894]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2421، م: 1457
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2421، م: 1457
حدیث نمبر: 25895 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , قَالَ: دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى عَائِشَةَ مَسْرُورًا , فَقَالَ: " أَلَمْ تَسْمَعِي مَا قَالَ الْمُدْلِجِيُّ؟" وَرَأَى أُسَامَةَ وَزَيْدًا نَائِمَيْنِ فِي ثَوْبٍ , أَوْ فِي قَطِيفَةٍ , وَقَدْ خَرَجَتْ أَقْدَامُهُمَا , فَقَالَ:" إِنَّ هَذِهِ الْأَقْدَامَ بَعْضُهَا مِنْ بَعْضٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس خوش و خرم تشریف لائے اور فرمایا دیکھو تو سہی؟ ابھی مجزز آیا تھا، اس نے دیکھا کہ زید اور اسامہ ایک چادر اوڑھے ہوئے ہیں، ان کے سر ڈھکے ہوئے ہیں اور پاؤں کھلے ہوئے ہیں تو اس نے کہا کہ ان پاؤں والوں کو ایک دوسرے کے ساتھ کوئی رشتہ ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25895]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح إن كان صورة سياقة الإرسال غير أن عروة إنما سمعه من عائشة، خ: 6771، م: 1459
الحكم: إسناده صحيح إن كان صورة سياقة الإرسال غير أن عروة إنما سمعه من عائشة، خ: 6771، م: 1459
حدیث نمبر: 25896 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ تَبْرُقُ أَسَارِيرُ وَجْهِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25896]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3555، م: 1459
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3555، م: 1459
حدیث نمبر: 25897 مسند احمد
يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، يَحْيَى ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ عَمْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ , صَلَّى الصُّبْحَ , ثُمَّ دَخَلَ فِي الْمَكَانِ الَّذِي يُرِيدُ أَنْ يَعْتَكِفَ فِيهِ , فَأَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ , فَأَمَرَ , فَضُرِبَ لَهُ خِبَاءٌ , وَأَمَرَتْ عَائِشَةُ , فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ , وَأَمَرَتْ حَفْصَةُ , فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ , فَلَمَّا رَأَتْ زَيْنَبُ خِبَاءَهُمَا , أَمَرَتْ , فَضُرِبَ لَهَا خِبَاءٌ , فَلَمَّا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَلِكَ قَالَ: " الْبِرُّ تُرِدْنَ؟" , فَلَمْ يَعْتَكِفْ فِي رَمَضَانَ وَاعْتَكَفَ عَشْرًا مِنْ شَوَّالٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو صبح کی نماز پڑھ کی ہی اعتکاف کی جگہ میں داخل ہوجاتے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ماہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کے ارادے کا ذکر فرمایا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے اعتکاف کی اجازت مانگی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا خیمہ لگانے کا حکم دیا اور وہ لگا دیا گیا، حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کے حکم پر ان کا خیمہ بھی لگا دیا گیا، یہ دیکھ کر حضرت زینب رضی اللہ عنہ نے بھی اپنا خیمہ لگانے کو حکم دے دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس دن مسجد میں بہت سارے خیمے دیکھے تو فرمایا کیا تم اس سے نیکی حاصل کرنا چاہتی ہو؟ میں اعتکاف ہی نہیں کرتا چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس آگئے اور عید گزرنے کے بعد شوال کے دس دن کا اعتکاف فرمایا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25897]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2033، م: 1173
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2033، م: 1173