بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 615
صفحہ 10 از 31
حدیث نمبر: 25978 مسند احمد
عَبْدُ الْوَاحِدِ ، هِشَامٌ ، شُمَيْسَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ شُمَيْسَةَ , عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنْ نَبِيذِ الْجَرِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مٹکے کی نبیذ سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25978]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، شميسة مجهولة ولكن توبعت
الحكم: حديث صحيح، شميسة مجهولة ولكن توبعت
حدیث نمبر: 25979 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، أَبِي الْوَلِيدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ , عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: مَا كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُ بَعْدَ صَلَاتِهِ إِلَّا قَدْرَ مَا يَقُولُ: " اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ , تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر صرف اتنی دیر بیٹھتے تھے جتنی دیر میں یہ کہہ سکیں اے اللہ! تو ہی سلامتی والا ہے، تجھ سے سلامتی ملتی ہے، اے بزرگی اور عزت والے! تو بہت بابرکت ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25979]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 592
الحكم: إسناده صحيح، م: 592
حدیث نمبر: 25980 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْحَجَّاجُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُبَاشِرَ إِحْدَانَا وَهِيَ حَائِضٌ أَمَرَهَا فَاتَّزَرَتْ , فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَنَامَ وَهُوَ جُنُبٌ , تَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اگر ہم میں سے کسی سے مباشرت کرنا چاہتے اور وہ ایام کی حالت میں ہوتیں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تہبند کے اوپر سے اپنی ازواج سے مباشرت فرمایا کرتے تھے اور جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25980]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل حجاج
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لأجل حجاج
حدیث نمبر: 25981 مسند احمد
يَزِيدُ ، عَاصِمٌ ، مُعَاذَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ , عَنْ مُعَاذَةَ بِنْتِ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَتْ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ " أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ هِيَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25981]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 321
الحكم: إسناده صحيح، م: 321
حدیث نمبر: 25982 مسند احمد
يَزِيدُ ، يَحْيَى ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى , عَنْ عَمْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " لَوْ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا أَحْدَثَ النِّسَاءُ , لَمَنَعَهُنَّ الْمَسْجِدَ , كَمَا مُنِعَتْ نِسَاءُ بَنِي إِسْرَائِيلَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اگر آج کی عورتوں کے حالات دیکھ لیتے تو انہیں ضرور مسجدوں میں آنے سے منع فرما دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کردیا گیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25982]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 869، م: 445
الحكم: إسناده صحيح، خ: 869، م: 445
حدیث نمبر: 25983 مسند احمد
يَزِيدُ ، يَحْيَى ، مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَخِي عَمْرَةَ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا يَحْيَى , أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَخِي عَمْرَةَ , أَخْبَرَهُ، عَنْ عَمْرَةَ , أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ:" إِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ اللَّتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ , فَيُخَفِّفُهُمَا حَتَّى إِنْ كُنْتُ لَأَقُولُ هَلْ قَرَأَ فِيهِمَا بِأُمِّ الْقُرْآنِ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (فجر کی سنتیں) اتنی مختصر پڑھتے تھے کہ میں کہتی " نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورت فاتحہ بھی پڑھی ہے یا نہیں "۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25983]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1171، م: 724
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1171، م: 724
حدیث نمبر: 25984 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُعْتَكِفًا , وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ , قَالَتْ: فَغَسَلْتُ رَأْسَهُ , وَإِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ لَعَتَبَةُ الْبَابِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معتکف ہوتے تو صرف انسانی ضرورت کی بناء پر ہی گھر میں آتے تھے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے دھو دیتی جبکہ میرے اور ان کے درمیان دروازے کی چوکھٹ حائل ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25984]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، سفيان بن حسين ضعيف فى روايته عن الزهري ولكن توبع
الحكم: حديث صحيح، سفيان بن حسين ضعيف فى روايته عن الزهري ولكن توبع
حدیث نمبر: 25985 مسند احمد
يَزِيدُ ، عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ ، سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَيْمُونٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ , قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا أَصَابَ ثَوْبَهُ الْمَنِيُّ , غَسَلَ مَا أَصَابَ مِنْ ثَوْبِهِ , ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ , وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى بُقْعَةٍ فِي ثَوْبِهِ ذَلِكَ مِنْ أَثَرِ الْغُسْلِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کپڑوں پر لگنے والے مادہ منویہ کو دھو دیا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھانے چلے گئے تھے اور مجھے ان کے کپڑوں پر پانی کے نشانات نظر آرہے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25985]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 229، م: 289
الحكم: إسناده صحيح، خ: 229، م: 289
حدیث نمبر: 25986 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، الْحَسَنِ ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ , قَالَ: قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ , فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ , فَقَالَتْ لِي: مَنْ أَنْتَ؟ فَقُلْتُ: سَعْدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عَامِرٍ , قَالَتْ: رَحِمَ اللَّهُ أَبَاكَ , قَالَ: قُلْتُ: أَخْبِرِينِي عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأُ , فَقُلْتُ: أَجَلْ , وَلَكِنْ أَخْبِرِينِي , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ عِشَاءَ الْآخِرَةِ , ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ , فَإِذَا كَانَ مِنْ جَوْفِ اللَّيْلِ قَامَ إِلَى طَهُورِهِ , فَتَوَضَّأَ , ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ , فَصَلَّى ثَمَانِيَ رَكَعَاتٍ يُسَوِّي بَيْنَ الْقِرَاءَةِ فِيهِنَّ وَالرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ , ثُمَّ يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ , ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ , ثُمَّ يَضَعُ رَأْسَهُ , فَرُبَّمَا جَاءَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يُغْفِيَ , وَرُبَّمَا شَكَكْتُ أَغْفَى أَوْ لَمْ يُغْفِ , حَتَّى يُؤْذِنَهُ بِالصَّلَاةِ , قَالَتْ: فَكَانَتْ تِلْكَ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى أَسَنَّ وَلَحُمَ , وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْعِشَاءَ , ثُمَّ يَأْوِي إِلَى فِرَاشِهِ , فَإِذَا كَانَ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ قَامَ إِلَى طَهُورِهِ , فَتَوَضَّأَ , ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ , فَصَلَّى سِتَّ رَكَعَاتٍ , يُسَوِّي بَيْنَهُنَّ فِي الرُّكُوعِ وَالسُّجُودِ وَالْقِرَاءَةِ , ثُمَّ يُوتِرُ بِرَكْعَةٍ , ثُمَّ يُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ , فَرُبَّمَا لَمْ يُغْفِ حَتَّى يَجِيءَ بِلَالٌ , فَيُؤْذِنَهُ بِالصَّلَاةِ , وَرُبَّمَا شَكَكْتُ أَغْفَى أَوْ لَمْ يُغْفِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سعد بن ہشام رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں مدینہ منورہ پہنچ کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے مجھ سے پوچھا تم کون ہو؟ میں نے عرض کیا سعد بن ہشام، انہوں نے فرمایا اللہ تمہارے والد پر اپنی رحمتیں نازل کرے، میں نے عرض کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (کی نماز) قیام کے بارے میں بتائے؟ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کو نماز عشاء پڑھا کر اپنے بستر پر آتے، درمیان رات میں بیدار ہو کر وضو کرتے، مسجد میں داخل ہوتے اور آٹھ رکعتیں مساوی قرأت، رکوع اور سجود کے ساتھ پڑھتے، پھر ایک رکعت وتر پڑھتے، پھر بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھتے اور سر رکھ کر لیٹے رہتے اور ان کے اونگھنے سے پہلے ہی بعض اوقات حضرت بلال رضی اللہ عنہ آکر نماز کی اطلاع دے جاتے، یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا، حتیٰ کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جسم مبارک بھاری اور عمر زیادہ ہوگئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مذکورہ معمول میں آٹھ کی بجائے چھ رکعتیں کردیں، باقی معمول وہی رہا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25986]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 746
الحكم: إسناده صحيح، م: 746
حدیث نمبر: 25987 مسند احمد
يَزِيدُ ، بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ , وَقَالَ مَرَّةً: أَخْبَرَنَا , قَالَ: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى ، يَقُولُ: سُئِلَتْ عَائِشَةُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ؟ , فَقَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ , ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ يَنَامُ , فَإِذَا اسْتَيْقَظَ وَعِنْدَهُ وَضُوءُهُ مُغَطًّى وَسِوَاكُهُ اسْتَاكَ , ثُمَّ تَوَضَّأَ , فَقَامَ فَصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ , يَقْرَأُ فِيهِنَّ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَا شَاءَ مِنَ الْقُرْآنِ , وَقَالَ مَرَّةً: مَا شَاءَ اللَّهُ مِنَ الْقُرْآنِ , فَلَا يَقْعُدُ فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ , فَإِنَّهُ يَقْعُدُ فِيهَا , فَيَتَشَهَّدُ , ثُمَّ يَقُومُ وَلَا يُسَلِّمُ , فَيُصَلِّيَ رَكْعَةً وَاحِدَةً , ثُمَّ يَجْلِسُ , فَيَتَشَهَّدُ وَيَدْعُو , ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ , يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ حَتَّى يُوقِظَنَا , ثُمَّ يُكَبِّرُ وَهُوَ جَالِسٌ , فَيَقْرَأُ , ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ وَهُوَ جَالِسٌ , فَيُصَلِّي جَالِسًا رَكْعَتَيْنِ , فَهَذِهِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً , فَلَمَّا كَثُرَ لَحْمُهُ وَثَقُلَ , جَعَلَ التِّسْعَ سَبْعًا لَا يَقْعُدُ إِلَّا كَمَا يَقْعُدُ فِي الْأُولَى , وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَاعِدًا , فَكَانَتْ هَذِهِ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عشاء کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھ کر سو جاتے تھے، پھر بیدار ہوتے تو وضو کا پانی ڈھکا ہوا اور مسواک ان کے قریب ہی ہوتی، آپ مسواک فرماتے اور وضو فرماتے اور آٹھ رکعات نماز پڑھتے۔ ان رکعتوں میں نہ بیٹھتے سوائے آٹھویں رکعت کے بعد اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور اس کی حمد کرتے اور اس سے دعا مانگتے پھر آپ اٹھتے اور سلام نہ پھیرتے پھر کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھتے پھر آپ بیٹھتے، اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور اس کی حمد بیان فرماتے اور اس سے دعا مانگتے پھر آپ سلام پھیرتے، سلام پھیرنا ہمیں سنا دیتے پھر آپ سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعات نماز پڑھتے تو یہ گیارہ رکعتیں ہوگئیں پھر جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عمر مبارک زیادہ ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسم مبارک پر گوشت آگیا تو سات رکعتیں وتر کی پڑھنے لگے اور دو رکعتیں اسی طرح پڑھتے جس طرح پہلے بیان کیا تو یہ نو رکعتیں ہوئیں اور وفات تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز اسی طرح رہی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25987]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 746
الحكم: حديث صحيح، م: 746
حدیث نمبر: 25988 مسند احمد
يُونُسُ ، عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ ، بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ: حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ يَزِيدَ الْعَطَّارُ , عَنْ بَهْزِ بْنِ حَكِيمٍ , عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى , عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ , قَالَ: قُلْتُ لِأُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ كَيْفَ كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ اللَّيْلِ؟ قَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ , وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ قَائِمًا يَرْفَعُ صَوْتَهُ كَأَنَّهُ يُوقِظُنَا , بَلْ يُوقِظُنَا , ثُمَّ يَدْعُو بِدُعَاءٍ يُسْمِعُنَا , ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً ثُمَّ يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ".
حکم دارالسلام
حديث صحيح وأنظر ما قبله
الحكم: حديث صحيح وأنظر ما قبله
حدیث نمبر: 25989 مسند احمد
يَزِيدُ ، زَكَرِيَّا ، عَامِرٍ ، شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا , عَنْ عَامِرٍ , عَنْ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ أَحَبَّ لِقَاءَ اللَّهِ , أَحَبَّ اللَّهُ لِقَاءَهُ , وَمَنْ كَرِهَ لِقَاءَ اللَّهِ , كَرِهَ اللَّهُ لِقَاءَهُ , وَالْمَوْتُ قَبْلَ لِقَاءِ اللَّهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے، اللہ تعالیٰ اس سے ملاقات کو محبوب رکھتا ہے اور جو اللہ سے ملاقات کو ناپسند کرتا ہے، اللہ اس سے ملنے کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ سے ملاقات ہونے سے پہلے موت ہوتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25989]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2684
الحكم: إسناده صحيح، م: 2684
حدیث نمبر: 25990 مسند احمد
يَزِيدُ ، زَكَرِيَّا ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيُّ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْجَدَلِيُّ , قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ كَيْفَ كَانَ خُلُقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَهْلِهِ؟ , قَالَتْ: " كَانَ أَحْسَنَ النَّاسِ خُلُقًا , لَمْ يَكُنْ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَلَا سَخَّابًا بِالْأَسْوَاقِ , وَلَا يُجْزِئُ بِالسَّيِّئَةِ مِثْلَهَا , وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام لوگوں میں سب سے زیادہ اچھے اخلاق والے تھے، کوئی بیہودہ کام یا گفتگو کرنے والے یا بازاروں میں شور مچانے والے نہیں تھے اور وہ برائی سے نہیں دیتے تھے، بلکہ معاف اور درگذر فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25990]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25991 مسند احمد
يَزِيدُ ، زَكَرِيَّا ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ ادَّهَنَ بِأَطْيَبِ دُهْنٍ يَجِدُهُ , حَتَّى إِنِّي لَأَرَى بَصِيصَ الدُّهْنِ فِي شَعَرِهِ , وَلَقَدْ كُنْتُ أَفْتِلُ قَلَائِدَ الْهَدْيِ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ يَبْعَثُ بِهِ فَمَا يَعْتَزِلُ مِنَّا امْرَأَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ اور میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جانور یعنی بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی اور اسے بھیج کر بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی عورت سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25991]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى إسحاق
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على أبى إسحاق
حدیث نمبر: 25992 مسند احمد
يَزِيدُ ، حُمَيْدٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا حُمَيْدٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي قَاعِدًا؟ قَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ طَوِيلًا قَاعِدًا , وَيُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ طَوِيلًا قَائِمًا , فَإِذَا قَرَأَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا , وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نفل نمازوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ رات کی نماز میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم طویل قیام فرماتے اور کافی دیر تک بیٹھتے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے اور بیٹھ کر بھی تلاوت اور رکوع و سجود فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25992]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 730
الحكم: إسناده صحيح، م: 730
حدیث نمبر: 25993 مسند احمد
يَزِيدُ ، دَاوُدُ ، عَامِرٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا دَاوُدُ , عَنْ عَامِرٍ , عَنْ مَسْرُوقٍ , قَالَ: كُنْتُ مُتَّكِئًا عِنْدَ عَائِشَةَ , فَقَالَتْ: يَا أَبَا عَائِشَةَ , أَنَا أَوَّلُ مَنْ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ هَذِهِ , قَالَ: " ذَلِكَ جِبْرِيلُ , لَمْ أَرَهُ فِي صُورَتِهِ الَّتِي خُلِقَ فِيهَا إِلَّا مَرَّتَيْنِ , رَأَيْتُهُ مُنْهَبِطًا مِنَ السَّمَاءِ , سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مسروق کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں ٹیک لگائے بیٹھا ہوا تھا، (میں نے ان سے پوچھا کہ کیا اللہ تعالیٰ یہ نہیں فرماتا " تحقیق پیغمبر نے اسے آسمان کے کنارے پر واضح طور پر دیکھا ہے " اور یہ کہ " پیغمبر نے اسے ایک اور مرتبہ اترتے ہوئے بھی دیکھا ہے؟ '') انہوں نے فرمایا اے ابو عائشہ! اس کے متعلق سب سے پہلے میں نے ہی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا تھا اور انہوں نے فرمایا تھا کہ اس سے مراد حضرت جبرائیل علیہ السلام ہیں، جنہیں میں نے ان کی اصلی صورت میں صرف دو مرتبہ دیکھا ہے، میں نے ایک مرتبہ انہیں آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا تو ان کی عظیم جسمانی ہیئت نے آسمان و زمین کے درمیان کی فضاء کو پر کیا ہوا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25993]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 177
الحكم: إسناده صحيح، م: 177
حدیث نمبر: 25994 مسند احمد
يَزِيدُ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ مُعَاذَةَ , عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: " مُرْنَ أَزْوَاجَكُنَّ أَنْ يَغْسِلُوا عَنْهُمْ أَثَرَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ فَإِنِّي أَسْتَحْيِيهِمْ , وَإِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ كَانَ يَفْعَلُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بصرہ کی کچھ خواتین ان کے پاس حاضر ہوئیں تو انہوں نے انہیں پانی سے استنجاء کرنے کا حکم دیا اور فرمایا اپنے شوہر کو بھی اس کا حکم دو، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پانی سے ہی استنجاء کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25994]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 25995 مسند احمد
يَزِيدُ ، عُرْوَةُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ ، الشَّعْبِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا عُرْوَةُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ , عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا اغْتَسَلَ مِنَ الْجَنَابَةِ بَدَأَ فَتَوَضَّأَ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ , وَغَسَلَ فَرْجَهُ وَقَدَمَيْهِ , وَمَسَحَ يَدَهُ بِالْحَائِطِ , ثُمَّ أَفَاضَ عَلَيْهِ الْمَاءَ , فَكَأَنِّي أَرَى أَثَرَ يَدِهِ فِي الْحَائِطِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی غسل کی تفصیل یوں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سب سے پہلے نماز جیسا وضو فرماتے تھے، پھر شرمگاہ اور پاؤں دھوتے، ہاتھ کو دیوار پر ملتے اور اس پر پانی بہاتے، گویا ان کے ہاتھ کا دیوار اوپر نشان میں اب تک دیکھ رہی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25995]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، الشعبي لم يسمع من عائشة
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، الشعبي لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 25996 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، يَحْيَى ، عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ يَحْيَى , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حِطَّانَ , أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَكُنْ يَتْرُكُ فِي بَيْتِهِ شَيْئًا فِيهِ تَصْلِيبٌ إِلَّا قَضَبَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھر میں کوئی ایسا کپڑا نہیں چھوڑتے تھے جس میں صلیب کا نشان بنا ہوا ہو، یہاں تک کہ اسے ختم کردیتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25996]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5952
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5952
حدیث نمبر: 25997 مسند احمد
يَزِيدُ ، شَرِيكٌ ، الْمِقْدَامِ ، أَبِيهِ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ , عَنِ الْمِقْدَامِ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ يَا أُمَّهْ , بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَبْدَأُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْكِ بَيْتَكِ , وَبِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يَخْتِمُ؟ , قَالَتْ:" كَانَ يَبْدَأُ بِالسِّوَاكِ، وَيَخْتِمُ بِرَكْعَتَيْ الْفَجْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تھے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے اور جب گھر سے نکلتے تھے تو سب سے آخر میں فجر سے پہلے کی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25997]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، شريك توبع، م: 253
الحكم: حديث صحيح، شريك توبع، م: 253