يَزِيدُ ، بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ ، زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ , وَقَالَ مَرَّةً: أَخْبَرَنَا , قَالَ: سَمِعْتُ زُرَارَةَ بْنَ أَوْفَى ، يَقُولُ: سُئِلَتْ عَائِشَةُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ؟ , فَقَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ , ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ , ثُمَّ يَنَامُ , فَإِذَا اسْتَيْقَظَ وَعِنْدَهُ وَضُوءُهُ مُغَطًّى وَسِوَاكُهُ اسْتَاكَ , ثُمَّ تَوَضَّأَ , فَقَامَ فَصَلَّى ثَمَانِ رَكَعَاتٍ , يَقْرَأُ فِيهِنَّ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَمَا شَاءَ مِنَ الْقُرْآنِ , وَقَالَ مَرَّةً: مَا شَاءَ اللَّهُ مِنَ الْقُرْآنِ , فَلَا يَقْعُدُ فِي شَيْءٍ مِنْهُنَّ إِلَّا فِي الثَّامِنَةِ , فَإِنَّهُ يَقْعُدُ فِيهَا , فَيَتَشَهَّدُ , ثُمَّ يَقُومُ وَلَا يُسَلِّمُ , فَيُصَلِّيَ رَكْعَةً وَاحِدَةً , ثُمَّ يَجْلِسُ , فَيَتَشَهَّدُ وَيَدْعُو , ثُمَّ يُسَلِّمُ تَسْلِيمَةً وَاحِدَةً: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ , يَرْفَعُ بِهَا صَوْتَهُ حَتَّى يُوقِظَنَا , ثُمَّ يُكَبِّرُ وَهُوَ جَالِسٌ , فَيَقْرَأُ , ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَسْجُدُ وَهُوَ جَالِسٌ , فَيُصَلِّي جَالِسًا رَكْعَتَيْنِ , فَهَذِهِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً , فَلَمَّا كَثُرَ لَحْمُهُ وَثَقُلَ , جَعَلَ التِّسْعَ سَبْعًا لَا يَقْعُدُ إِلَّا كَمَا يَقْعُدُ فِي الْأُولَى , وَيُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَاعِدًا , فَكَانَتْ هَذِهِ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عشاء کی نماز کے بعد دو رکعتیں پڑھ کر سو جاتے تھے، پھر بیدار ہوتے تو وضو کا پانی ڈھکا ہوا اور مسواک ان کے قریب ہی ہوتی، آپ مسواک فرماتے اور وضو فرماتے اور آٹھ رکعات نماز پڑھتے۔ ان رکعتوں میں نہ بیٹھتے سوائے آٹھویں رکعت کے بعد اور اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور اس کی حمد کرتے اور اس سے دعا مانگتے پھر آپ اٹھتے اور سلام نہ پھیرتے پھر کھڑے ہو کر نویں رکعت پڑھتے پھر آپ بیٹھتے، اللہ تعالیٰ کو یاد کرتے اور اس کی حمد بیان فرماتے اور اس سے دعا مانگتے پھر آپ سلام پھیرتے، سلام پھیرنا ہمیں سنا دیتے پھر آپ سلام پھیرنے کے بعد بیٹھے بیٹھے دو رکعات نماز پڑھتے تو یہ گیارہ رکعتیں ہوگئیں پھر جب اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عمر مبارک زیادہ ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسم مبارک پر گوشت آگیا تو سات رکعتیں وتر کی پڑھنے لگے اور دو رکعتیں اسی طرح پڑھتے جس طرح پہلے بیان کیا تو یہ نو رکعتیں ہوئیں اور وفات تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نماز اسی طرح رہی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25987]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 746
الحكم: حديث صحيح، م: 746