بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 615
صفحہ 24 از 31
حدیث نمبر: 26258 مسند احمد
حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، مُطِيعُ بْنُ مَيْمُونٍ الْعَنْبَرِيُّ يُكْنَى أبَا سَعِيدٍ ، صَفِيَّةُ بِنْتُ عِصْمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُطِيعُ بْنُ مَيْمُونٍ الْعَنْبَرِيُّ يُكْنَى أبَا سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي صَفِيَّةُ بِنْتُ عِصْمَةَ , عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: مَدَّتْ امْرَأَةٌ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ بِيَدِهَا كِتَابًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَبَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ , وَقَالَ: " مَا أَدْرِي أَيَدُ رَجُلٍ أَوْ يَدُ امْرَأَةٍ؟" فَقَالَتْ: بَلْ امْرَأَةٌ , فَقَالَ:" لَوْ كُنْتِ امْرَأَةً غَيَّرْتِ أَظْفَارَكِ بِالْحِنَّاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مرتبہ پردے کے پیچھے سے ایک عورت نے ہاتھ بڑھا کر ایک تحریر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ پیچھے کرلیا اور فرمایا مجھے کیا خبر کہ یہ کسی مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا؟ اس عورت نے جواب دیا کہ میں عورت ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم عورت ہو تو اپنے ناخنوں کو مہندی سے رنگ لو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26258]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف مطبع بن ميمون العنبري
الحكم: إسناده ضعيف لضعف مطبع بن ميمون العنبري
حدیث نمبر: 26259 مسند احمد
الْحَسَنُ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَيَّ أَفْتِلُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَنَمِ , ثُمَّ لَا يُمْسِكُ عَنْ شَيْءٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میری نظروں کے سامنے اب بھی وہ منظر موجود ہے، جب میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدی کے جانور یعنی بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26259]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1703، م: 1321
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1703، م: 1321
حدیث نمبر: 26260 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرَدْنَ أَنْ يُرْسِلْنَ عُثْمَانَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ يَسْأَلْنَهُ مِيرَاثَهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهُنَّ عَائِشَةُ: أَوَلَيْسَ قَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَاهُ فَهُوَ صَدَقَةٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کے بعد ازواج مطہرات نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وراثت میں سے اپنا حصہ وصول کرنے کے لئے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بھیجنا چاہا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہم وراثت میں کچھ نہیں چھوڑتے، ہم جو کچھ چھوڑ کر جاتے ہیں تو وہ صدقہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26260]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6730، مؒ: 1758
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6730، مؒ: 1758
حدیث نمبر: 26261 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَمْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُدْنِي إِلَيَّ رَأْسَهُ , فَأُرَجِّلُهُ وَأَنَا حَائِضٌ , وَهُوَ مُعْتَكِفٌ , وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةِ الْإِنْسَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے دھو دیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی اور وہ گھر میں صرف انسانی ضرورت کی بناء پر ہی آتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26261]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2029، م: 297
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2029، م: 297
حدیث نمبر: 26262 مسند احمد
إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ , أخبرنا مَالِكٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَكُنْ إِثْمًا , فَإِذَا كَانَ إِثْمًا كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ , وَمَا انْتَقَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِنَفْسِهِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ تُنْتَهَكُ حُرْمَةُ اللَّهِ , فَيَنْتَقِمُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہ لیتے تھے البتہ اگر محارم الٰہی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے اور جب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوسروں لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ دور ہوتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26262]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3560، م: 2327
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3560، م: 2327
حدیث نمبر: 26263 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى , قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا اشْتَكَى يَقْرَأُ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَاتِ وَيَنْفُثُ , فَلَمَّا اشْتَدَّ وَجَعُهُ كُنْتُ أَقْرَأُ عَلَيْهِ , وَأَمْسَحُ عَنْهُ بِيَدِهِ رَجَاءَ بَرَكَتِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اگر بیمار ہوجاتے تو معوذتین پڑھ کر اپنے اوپر دم کرلیتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو میں ان کا دست مبارک پکڑتی تو یہ کلمات پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ ان کے جسم پر پھیر دیتی، تاکہ ان کے ہاتھ کی برکت حاصل ہوجائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26263]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5016، م: 2192
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5016، م: 2192
حدیث نمبر: 26264 مسند احمد
عَمْرُو بْنُ أَيُّوبَ الْمَوْصِلِيُّ ، جَعْفَرٍ ، الزُّهْرِيِّ ، وَكَثِيرٌ ، جَعْفَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَيُّوبَ الْمَوْصِلِيُّ , عَنْ جَعْفَرٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ وَكَثِيرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كَانَ يَرَاهُ فِي مِرْطِ إِحْدَانَا , ثُمَّ يَفْرُكُهُ" , يَعْنِي الْمَاءَ , وَمُرُوطُهُنَّ يَوْمَئِذٍ الصُّوفُ , تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم میں سے کسی کی چادر پر مادہ منویہ کے اثرات دیکھتے تو اسے کھرچ دیتے تھے اور اس دور میں ان کی چادریں اون کی ہوتی تھیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26264]
حکم دارالسلام
حديث ضعيف بهذا اللفظ ، تفرد به جعفر بن برقان
الحكم: حديث ضعيف بهذا اللفظ ، تفرد به جعفر بن برقان
حدیث نمبر: 26265 مسند احمد
أَبُو قَطَنٍ ، عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ مَنْصُورٍ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كُنْتُ أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ مَا أَغْسِلُ" , قَالَ أَبُو قَطَنٍ قَالَتْ مَرَّةً: أَثَرَهُ , وَقَالَتْ مَرَّةً: مَكَانَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کپڑوں سے مادہ منویہ کو کھرچ دیتی تھی اور کپڑے کو دھوتی نہیں تھی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26265]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عباد بن منصور
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف عباد بن منصور
حدیث نمبر: 26266 مسند احمد
أَبُو قَطَنٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، إِبْرَاهِيمَ ، هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنِ الْحَكَمِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ هَمَّامِ بْنِ الْحَارِثِ , عَنْ عَائِشَةَ , مِثْلَ مَعْنَاهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 288
الحكم: إسناده صحيح، م: 288
حدیث نمبر: 26267 مسند احمد
كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، الزُّهْرِيُّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كُنْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ صَائِمَتَيْنِ , فَعُرِضَ لَنَا طَعَامٌ اشْتَهَيْنَاهُ , فَأَكَلْنَا مِنْهُ , فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَدَرَتْنِي إِلَيْهِ حَفْصَةُ , وَكَانَتْ بِنْتَ أَبِيهَا , قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا كُنَّا صَائِمَتَيْنِ الْيَوْمَ فَعُرِضَ لَنَا طَعَامٌ اشْتَهَيْنَاهُ , فَأَكَلْنَا مِنْهُ , فَقَالَ: " اقْضِيَا يَوْمًا آخَرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کے پاس کہیں سے ایک بکری ہدئے میں آئی، ہم دونوں اس دن روزے سے تھیں، انہوں نے میرا روزہ اس سے کھلوا دیا، وہ اپنے والد کی بیٹی تھیں، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم دونوں اس کے بدلے میں کسی اور دن کا روزہ رکھ لینا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26267]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لأن جعفر بن برقان ضعيف فى الزهري خاصة
الحكم: إسناده ضعيف لأن جعفر بن برقان ضعيف فى الزهري خاصة
حدیث نمبر: 26268 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، مِسْعَرٌ ، عُبَيْدِ بْنِ حَسَنٍ ، ابْنِ مَعْقِلٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ , عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حَسَنٍ , عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ , عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّهَا كَانَ عَلَيْهَا رَقَبَةٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ , فَجَاءَ سَبْيٌ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ خَوْلَانَ , فَأَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَ مِنْهُمْ , فَنَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ جَاءَ سَبْيٌ مِنْ مُضَرَ مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ , فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعْتِقَ مِنْهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے اولاد اسماعیل میں سے ایک غلام آزاد کرنے کی منت مان رکھی تھی، اس دوران یمن کے قبیلہ خولان سے کچھ قیدی آئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان میں سے ایک غلام کو آزاد کرنا چاہا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روک دیا، پھر جب مضر کے قیبلہ بنو عنبر کے قیدی آئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ان میں سے کسی کو آزاد کردیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26268]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبن معقل
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبن معقل
حدیث نمبر: 26269 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ ، أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَسْرِيِّ ، عَائِشَةَ ، حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ إِيَاسٍ الْجُرَيْرِيِّ , عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْجَسْرِيِّ ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ , وَعِنْدَهَا حَفْصَةُ بِنْتُ عُمَرَ , فَقَالَتْ لِي: إِنَّ هَذِهِ حَفْصَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ أَقْبَلَتْ عَلَيْهَا , فَقَالَتْ: أَنْشُدُكِ اللَّهَ أَنْ تُصَدِّقِينِي بِكَذِبٍ قُلْتُهُ أَوْ تُكَذِّبِينِي بِصِدْقٍ قُلْتُهُ , تَعْلَمِينَ أَنِّي كُنْتُ أَنَا وَأَنْتِ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُغْمِيَ عَلَيْهِ , فَقُلْتُ لَكِ أَتَرَيْنَهُ قَدْ قُبِضَ؟ وقُلْتِ: لَا أَدْرِي , فَأَفَاقَ , فَقَالَ: " افْتَحُوا لَهُ الْبَابَ" , ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ , فَقُلْتُ: لَكِ أَتَرَيْنَهُ قَدْ قُبِضَ؟ قُلْتِ: لَا أَدْرِي , ثُمَّ أَفَاقَ , فَقَالَ:" افْتَحُوا لَهُ الْبَابَ" , فَقُلْتُ لَكِ: أَبِي أَوْ أَبُوكِ؟ قُلْتِ: لَا أَدْرِي , فَفَتَحْنَا الْبَابَ , فَإِذَا عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ , فَلَمَّا أَنْ رَآهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ادْنُهْ" , فَأَكَبَّ عَلَيْهِ , فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ لَا أَدْرِي أَنَا وَأَنْتِ مَا هُوَ , ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ , فَقَالَ:" أَفَهِمْتَ مَا قُلْتُ لَكَ؟" , قَالَ: نَعَمْ , قَالَ:" ادْنُهْ" , فَأَكَبَّ عَلَيْهِ أُخْرَى مِثْلَهَا , فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ لَا نَدْرِي , مَا هُوَ , ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ:" أَفَهِمْتَ مَا قُلْتُ لَكَ؟" قَالَ: نَعَمْ , قَالَ:" ادْنُهُ" , فَأَكَبَّ عَلَيْهِ إِكْبَابًا شَدِيدًا , فَسَارَّهُ بِشَيْءٍ , ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ , فَقَالَ:" أَفَهِمْتَ مَا قُلْتُ لَكَ؟" قَالَ: نَعَمْ , سَمِعَتْهُ أُذُنَيَّ وَوَعَاهُ قَلْبِي , فَقَالَ لَهُ:" اخْرُجْ" , فقَالَ: قَالَتْ حَفْصَةُ: اللَّهُمَّ نَعَمْ , أَوْ قَالَتْ: اللَّهُمَّ صِدْقٌ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو عبداللہ جسری کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو ان کے پاس حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا کہ یہ حفصہ رضی اللہ عنہ ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زوجہ محترمہ، پھر ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا میں آپ کی قسم دیکھ کر پوچھتی ہوں، اگر میں غلط کہوں تو آپ میری تصدیق نہ کریں اور صحیح کہوں تو تکذیب نہ کریں، آپ کو معلوم ہے کہ ایک مرتبہ میں اور آپ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تھیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بےہوشی طاری ہوگئی، میں نے آپ سے پوچھا کیا خیال ہے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوگیا؟ آپ نے کہا مجھے کچھ معلوم نہیں، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو افاقہ ہوگیا اور انہوں نے فرمایا کہ دروازہ کھول دو، میں نے آپ سے پوچھا کہ میرے والد آئے ہیں یا آپ کے؟ آپ نے جواب دیا مجھے کچھ معلوم نہیں ہم نے دروازہ کھولا تو وہاں حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کھڑے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں دیکھ کر فرمایا میرے قریب آجاؤ، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اوپر جھک گئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے سرگوشی میں کچھ باتیں کیں جو آپ کو معلوم ہیں اور نہ مجھے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سر اٹھا کر فرمایا میری بات سمجھ گئے؟ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا جی ہاں! تین مرتبہ اس طرح سرگوشی اور اس کے بعد یہ سوال جواب ہوئے، اس کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا کہ اب تم جاسکتے ہو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا واللہ اسی طرح ہے اور یہ بات سچی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26269]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف على ابن عاصم
الحكم: إسناده ضعيف لضعف على ابن عاصم
حدیث نمبر: 26270 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، مُطَرِّفُ بْنُ أَبِي طَرِيفٍ ، عَامِرٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مُطَرِّفُ بْنُ أَبِي طَرِيفٍ , عَنْ عَامِرٍ , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَظَلُّ صَائِمًا وَيُقَبِّلُ مَا شَاءَ مِنْ وَجْهِي حَتَّى يُفْطِرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں مجھے بوسہ دے دیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26270]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26271 مسند احمد
كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، جَعْفَرٌ ، الزُّهْرِيَّ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ , قَالَ: سَأَلْتُ الزُّهْرِيَّ عَنِ الرَّجُلِ يُخَيِّرُ امْرَأَتَهُ , فَتَخْتَارُهُ , قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: أَتَانِي نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " إِنِّي سَأَعْرِضُ عَلَيْكِ أَمْرًا , فَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَعْجَلِي حَتَّى تُشَاوِرِي أَبَوَيْكِ" فَقُلْتُ: وَمَا هَذَا الْأَمْرُ؟ قَالَتْ: فَتَلَا عَلَيَّ يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّحْكُنَّ سَرَاحًا جَمِيلا وَإِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الآخِرَةَ فَإِنَّ اللَّهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 28 - 29 قَالَتْ: فَقُلْتُ: وَفِي أَيِّ ذَلِكَ تَأْمُرُنِي أَنْ أُشَاوِرَ أَبَوَيَّ؟ بَلْ أُرِيدُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ , قَالَتْ: فَسُرَّ بِذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَعْجَبَهُ , وَقَالَ:" سَأَعْرِضُ عَلَى صَوَاحِبِكِ مَا عَرَضْتُ عَلَيْكِ" , فَكَانَ يَقُولُ لَهُنَّ كَمَا قَالَ لِعَائِشَةَ , ثُمَّ يَقُولُ:" قَدْ اخْتَارَتْ عَائِشَةُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ" , قَالَتْ عَائِشَةُ فَقَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ نَرَ ذَلِكَ طَلَاقًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی تو سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی " اے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو الخ۔ " میں نے عرض کیا کہ کیا میں اس بارے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی؟ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خوش ہوئے اور فرمایا میں تمہاری سہیلیوں کے سامنے بھی یہی بات رکھوں گا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی بتا دیتے تھے، کہ عائشہ نے اللہ اس کے رسول اور آخرت کے گھر کو پسند کرلیا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں جو اختیار دیا، ہم نے اسے طلاق شمار نہیں کیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26271]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، جعفر بن برقان ضعيف فى الزهري ولكن توبع
الحكم: حديث صحيح، جعفر بن برقان ضعيف فى الزهري ولكن توبع
حدیث نمبر: 26272 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " رَأَيْتُ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ثَلَاثٍ وَهُوَ مُحْرِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ تین دن کے بعد میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26272]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل عطاء، وسلف بإسناد صحيح دون قوله: بعد ثلاث، برقم: 24107
الحكم: إسناده حسن من أجل عطاء، وسلف بإسناد صحيح دون قوله: بعد ثلاث، برقم: 24107
حدیث نمبر: 26273 مسند احمد
عَلِيٌّ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ ، مُجَاهِدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " رَأَيْتُ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26273]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن أبى زياد
حدیث نمبر: 26274 مسند احمد
شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ , عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِي الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَائِمًا , صَلَّى قَائِمًا , وَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلَاةَ قَاعِدًا صَلَّى قَاعِدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو کر بھی نماز پڑھتے تھے اور بیٹھ کر بھی نماز پڑھتے تھے جب کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر فرماتے اور جب نماز بیٹھ کر پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26274]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث بن أبى سليم
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث بن أبى سليم
حدیث نمبر: 26275 مسند احمد
شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ سَعِيدٍ أَخِي يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنْ عَمْرَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ كَسْرَ عَظْمِ الْمُؤْمِنِ مَيْتًا مِثْلُ كَسْرِ عَظْمِهِ حَيًّا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی فوت شدہ مسلمان کی ہڈی توڑنا ایسے ہی ہے جیسے کسی زندہ آدمی کی ہڈی توڑنا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26275]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات
الحكم: رجاله ثقات
حدیث نمبر: 26276 مسند احمد
مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ ، سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، مَكْحُولٌ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مِسْكِينُ بْنُ بُكَيْرٍ , عَنْ سَعِيدٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ مَكْحُولٌ ، حَدَّثَنِي عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كُفِّنَ فِي ثَلَاثَةِ رِيَاطٍ يَمَانِيَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تین یمنی چادروں میں کفنایا گیا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26276]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، مسكين بن بكير فيه كلام من قبل حفظه
الحكم: حديث صحيح، مسكين بن بكير فيه كلام من قبل حفظه
حدیث نمبر: 26277 مسند احمد
عُمَرُ أَبُو حَفْصٍ الْمُعَيْطِيُّ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُمَرُ أَبُو حَفْصٍ الْمُعَيْطِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَأَنَا جَارِيَةٌ لَمْ أَحْمِلْ اللَّحْمَ وَلَمْ أَبْدُنْ , فَقَالَ لِلنَّاسِ: " تَقَدَّمُوا" فَتَقَدَّمُوا , ثُمَّ قَالَ لِي:" تَعَالَيْ حَتَّى أُسَابِقَكِ" فَسَابَقْتُهُ فَسَبَقْتُهُ , فَسَكَتَ عَنِّي , حَتَّى إِذَا حَمَلْتُ اللَّحْمَ وَبَدُنْتُ وَنَسِيتُ , خَرَجْتُ مَعَهُ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ , فَقَالَ لِلنَّاسِ:" تَقَدَّمُوا" فَتَقَدَّمُوا , ثُمَّ قَالَ:" تَعَالَيْ حَتَّى أُسَابِقَكِ" فَسَابَقْتُهُ , فَسَبَقَنِي , فَجَعَلَ يَضْحَكُ , وَهُوَ يَقُولُ:" هَذِهِ بِتِلْكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا، اس مقابلے میں میں آگے نکل گئی، کچھ عرصے بعد جب میرے جسم پر گوشت چڑھ گیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوبارہ دوڑ کا مقابلہ کیا، اس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگے بڑھ گئے اور فرمایا یہ اس مرتبہ کے مقابلے کا بدلہ ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26277]
حکم دارالسلام
إسناده جيد
الحكم: إسناده جيد