أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، مِسْعَرٌ ، عُبَيْدِ بْنِ حَسَنٍ ، ابْنِ مَعْقِلٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ , عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حَسَنٍ , عَنِ ابْنِ مَعْقِلٍ , عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّهَا كَانَ عَلَيْهَا رَقَبَةٌ مِنْ وَلَدِ إِسْمَاعِيلَ , فَجَاءَ سَبْيٌ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ خَوْلَانَ , فَأَرَادَتْ أَنْ تَعْتِقَ مِنْهُمْ , فَنَهَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , ثُمَّ جَاءَ سَبْيٌ مِنْ مُضَرَ مِنْ بَنِي الْعَنْبَرِ , فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَعْتِقَ مِنْهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے اولاد اسماعیل میں سے ایک غلام آزاد کرنے کی منت مان رکھی تھی، اس دوران یمن کے قبیلہ خولان سے کچھ قیدی آئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان میں سے ایک غلام کو آزاد کرنا چاہا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روک دیا، پھر جب مضر کے قیبلہ بنو عنبر کے قیدی آئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں حکم دیا کہ ان میں سے کسی کو آزاد کردیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26268]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبن معقل
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبن معقل