كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ ، جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ ، الزُّهْرِيُّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ , قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كُنْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ صَائِمَتَيْنِ , فَعُرِضَ لَنَا طَعَامٌ اشْتَهَيْنَاهُ , فَأَكَلْنَا مِنْهُ , فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَدَرَتْنِي إِلَيْهِ حَفْصَةُ , وَكَانَتْ بِنْتَ أَبِيهَا , قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّا كُنَّا صَائِمَتَيْنِ الْيَوْمَ فَعُرِضَ لَنَا طَعَامٌ اشْتَهَيْنَاهُ , فَأَكَلْنَا مِنْهُ , فَقَالَ: " اقْضِيَا يَوْمًا آخَرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کے پاس کہیں سے ایک بکری ہدئے میں آئی، ہم دونوں اس دن روزے سے تھیں، انہوں نے میرا روزہ اس سے کھلوا دیا، وہ اپنے والد کی بیٹی تھیں، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم دونوں اس کے بدلے میں کسی اور دن کا روزہ رکھ لینا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26267]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لأن جعفر بن برقان ضعيف فى الزهري خاصة
الحكم: إسناده ضعيف لأن جعفر بن برقان ضعيف فى الزهري خاصة