حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، مُطِيعُ بْنُ مَيْمُونٍ الْعَنْبَرِيُّ يُكْنَى أبَا سَعِيدٍ ، صَفِيَّةُ بِنْتُ عِصْمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُطِيعُ بْنُ مَيْمُونٍ الْعَنْبَرِيُّ يُكْنَى أبَا سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي صَفِيَّةُ بِنْتُ عِصْمَةَ , عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: مَدَّتْ امْرَأَةٌ مِنْ وَرَاءِ السِّتْرِ بِيَدِهَا كِتَابًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَبَضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ , وَقَالَ: " مَا أَدْرِي أَيَدُ رَجُلٍ أَوْ يَدُ امْرَأَةٍ؟" فَقَالَتْ: بَلْ امْرَأَةٌ , فَقَالَ:" لَوْ كُنْتِ امْرَأَةً غَيَّرْتِ أَظْفَارَكِ بِالْحِنَّاءِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مرتبہ پردے کے پیچھے سے ایک عورت نے ہاتھ بڑھا کر ایک تحریر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا ہاتھ پیچھے کرلیا اور فرمایا مجھے کیا خبر کہ یہ کسی مرد کا ہاتھ ہے یا عورت کا؟ اس عورت نے جواب دیا کہ میں عورت ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تم عورت ہو تو اپنے ناخنوں کو مہندی سے رنگ لو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26258]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف مطبع بن ميمون العنبري
الحكم: إسناده ضعيف لضعف مطبع بن ميمون العنبري