بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 615
صفحہ 15 از 31
حدیث نمبر: 26078 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ ، عُرْوَةَ ، وَالْقَاسِمَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , أَخْبَرَنِي عُمَرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُرْوَةَ , أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ وَالْقَاسِمَ يُخْبِرَانِ , عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ بِذَرِيرَةٍ لِحَجَّةِ الْوَدَاعِ لِلْحِلِّ وَالْإِحْرَامِ حِينَ أَحْرَمَ , وَحِينَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ قَبْلَ أَنْ يَطُوفَ بِالْبَيْتِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر میں اپنے دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے احرام پر " ذریرہ " خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احرام باندھتے تھے اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26078]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5930، م: 1189
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5930، م: 1189
حدیث نمبر: 26079 مسند احمد
رَوْحٌ ، أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْخَزَّازُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: " طَيَّبْتُ , تَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَهَلَّ بِأَطْيَبِ مَا قَدَرْتُ عَلَيْهِ مِنْ طِيبِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے احرام پر عمدہ سے عمدہ خوشبو لگائی ہے جو میرے پاس دستیاب ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26079]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 26080 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمُ ، وَحَمَّادٍ ، وَمَنْصُورٍ ، وَسُلَيْمَانَ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ ، وَحَمَّادٍ ، وَمَنْصُورٍ ، وَسُلَيْمَانَ ، عَنِ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: " كَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ" , قَالَ سُلَيْمَانُ: فِي شَعْرِ , وَقَالَ مَنْصُورٌ: فِي أُصُولِ شَعْرِهِ , وَقَالَ الْحَكَمُ وَحَمَّادٌ فِي مَفْرِقِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26080]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 271، م: 1190
الحكم: إسناده صحيح، خ: 271، م: 1190
حدیث نمبر: 26081 مسند احمد
رَوْحٌ ، الثَّوْرِيُّ ، الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّخَعِيِّ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ النَّخَعِيِّ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الْمِسْكِ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور) گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26081]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5918، م: 1190
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5918، م: 1190
حدیث نمبر: 26082 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، عَبْدِ رَبِّهِ ، أَبِي عِيَاضٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، نَافِعًا ، أُمَّ سَلَمَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ , عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ , أَنَّ مَرْوَانَ بْنَ الْحَكَمِ بَعَثَهُ إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ وَعَائِشَةَ , فَقَالَ: أَتَيْتُ غُلَامَ أُمِّ سَلَمَةَ نَافِعًا , فَأَرْسَلْتُهُ إِلَيْهَا , فَرَجَعَ إِلَيَّ فَأَخْبَرَنِي أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ , ثُمَّ يُصْبِحُ صَائِمًا" , قَالَ: ثُمَّ لَقِيَ غُلَامَ عَائِشَةَ، ذَكْوَانَ أَبَا عَمْرٍو , فَبَعَثَهُ إِلَيْهَا , فَسَأَلَهَا عَنْ ذَلِكَ , فَأَخْبَرَتْهُ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصْبِحُ جُنُبًا مِنْ غَيْرِ احْتِلَامٍ , ثُمَّ يُصْبِحُ صَائِمًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبد الرحمن بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مروان بن حکم نے ایک آدمی کے ساتھ مجھے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پوچھنے کے لئے بھیجا کہ اگر کوئی آدمی رمضان کے مہینے میں اس حال میں صبح کرے کہ وہ جنبی ہو اور اس نے اب تک غسل نہ کیا ہو تو کیا حکم ہے؟ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صبح کے وقت اختیاری طور پر حالت جنابت میں ہوتے، پھر غسل کرلیتے اور بقیہ دن کا روزہ مکمل کرلیتے تھے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خواب دیکھے بغیر اختیاری طور پر صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے اور اپنا روزہ مکمل کرلیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26082]
حکم دارالسلام
مرفوعه صحيح، وهذا اسناد ضعيف لجهالة عبد ربه
الحكم: مرفوعه صحيح، وهذا اسناد ضعيف لجهالة عبد ربه
حدیث نمبر: 26083 مسند احمد
رَوْحٌ ، مَالِكٌ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيِّ ، أَبِي يُونُسَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيِّ , عَنْ أَبِي يُونُسَ مَوْلَى عَائِشَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ وَاقِفٌ عَلَى الْبَابِ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَأَنَا أُصْبِحُ جُنُبًا وَأَنَا أُرِيدُ الصِّيَامَ , ثُمَّ أَغْتَسِلُ فَأَصُومُ" , قَالَ الرَّجُلُ: إِنَّكَ لَسْتَ مِثْلَنَا , إِنَّكَ قَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ , فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ:" وَاللَّهِ , إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَخْشَاكُمْ لِلَّهِ , وَأَعْلَمَ بِمَا أَتَّقِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا یا رسول اللہ! اگر نماز کا وقت آجائے، مجھ پر غسل واجب ہو اور میں روزہ بھی رکھنا چاہتا ہوں تو کیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر میرے ساتھ ایسی کیفیت پیش آجائے تو میں غسل کر کے روزہ رکھ لیتا ہوں، وہ کہنے لگا، ہم آپ کی طرح نہیں ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپ کے تو اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرما دیئے ہیں، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ناراض ہوگئے اور غصے کے آثار چہرہ مبارک پر نظر آنے لگے اور فرمایا واللہ مجھے امید ہے کہ تم سب سے زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور اس کے متعلق جاننے والا میں ہی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26083]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1110
الحكم: إسناده صحيح، م: 1110
حدیث نمبر: 26084 مسند احمد
حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْبَهِيِّ ، ابْنِ عُمَرَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْبَهِيِّ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ لَهَا: " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ" فَقَالَتْ: إِنِّي حَائِضٌ , فَقَالَ:" إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دینا، میں نے عرض کیا کہ میں تو ایام سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26084]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 298
الحكم: حديث صحيح، م: 298
حدیث نمبر: 26085 مسند احمد
رَوْحٌ ، صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ رُسْتُمَ , عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ دَخَلَ عَلَيّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِسَرِفَ وَأَنَا أَبْكِي , فَقَالَ: " مَا يُبْكِيكِ يَا عَائِشَةُ؟" فَقَالَتْ: قُلْتُ: يَرْجِعُ النَّاسُ بِنُسُكَيْنِ , وَأَنَا أَرْجِعُ بِنُسُكٍ وَاحِدٍ! قَالَ:" وَلِمَ ذَاكَ؟" قَالَتْ: قُلْتُ: إِنِّي حِضْتُ , قَالَ:" ذَاكَ شَيْءٌ كَتَبَهُ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ , اصْنَعِي مَا يَصْنَعُ الْحَاجُّ" , قَالَتْ: فَقَدِمْنَا مَكَّةَ , ثُمَّ ارْتَحَلْنَا إِلَى مِنًى , ثُمَّ ارْتَحَلْنَا إِلَى عَرَفَةَ , ثُمَّ وَقَفْنَا مَعَ النَّاسِ , ثُمَّ وَقَفْتُ بِجَمْعٍ , ثُمَّ رَمَيْتُ الْجَمْرَةَ يَوْمَ النَّحْرِ , ثُمَّ رَمَيْتُ الْجِمَارَ مَعَ النَّاسِ تِلْكَ الْأَيَّامَ , قَالَتْ: ثُمَّ ارْتَحَلَ حَتَّى نَزَلَ الْحَصْبَةَ , قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا نَزَلَهَا إِلَّا مِنْ أَجْلِي , أَوْ قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ عَنْهَا إِلَّا مِنْ أَجْلِهَا , ثُمَّ أَرْسَلَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ , فَقَالَ:" احْمِلْهَا خَلْفَكَ حَتَّى تُخْرِجَهَا مِنَ الْحَرَمِ" , فَوَاللَّهِ مَا قَالَ: فَتُخْرِجُهَا إِلَى الْجِعِرَّانَةِ , وَلَا إِلَى التَّنْعِيمِ , فَلْتُهِلَّ بِعُمْرَةٍ , قَالَتْ: فَانْطَلَقْنَا , وَكَانَ أَدْنَى إِلَى الْحَرَمِ التَّنْعِيمُ , فَأَهْلَلْتُ مِنْهُ بِعُمْرَةٍ , ثُمَّ أَقْبَلْتُ فَأَتَيْتُ الْبَيْتَ , فَطُفْتُ بِهِ , وَطُفْتُ بَيْنَ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةِ , ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَارْتَحَلَ , قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ وَكَانَتْ عَائِشَةُ تَفْعَلُ ذَلِكَ بَعْدُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم نے حج کا تلبیہ پڑھا، جب سرف کے مقام پر پہنچے تو میرے " ایام " شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے تو میں رو رہی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ! کیوں رو رہی ہو؟ میں نے عرض کیا کہ میرے " ایام " شروع ہوگئے ہیں، کاش! میں حج ہی نہ کرنے آتی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ! یہ تو وہ چیز ہے جو اللہ نے آدم علیہ السلام کی ساری بیٹیوں پر لکھ دی ہے، تم سارے مناسک ادا کرو، البتہ بیت اللہ کا طواف نہ کرنا، جب ہم مکہ مکرمہ میں داخل ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص اپنے احرام کو عمرے کا احرام بنانا چاہے، وہ ایسا کرسکتا ہے، الاّ یہ کہ اس کے پاس ہدی کا جانور ہو۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دس ذی الحجہ کوا پنی ازواج کی طرف سے گائے ذبح کی تھی، شب بطحاء کو میں " پاک " ہوئی اور عرض کیا یا رسول اللہ! کیا میری سہلیاں حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ واپس جائیں اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤں گی؟ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عبدالرحمن بن ابی بکر کو حکم دیا اور وہ مجھے تنعیم لے گئے جہاں سے میں نے عمرے کا احرام باندھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26085]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف على نكارة فى متنه
الحكم: إسناده ضعيف على نكارة فى متنه
حدیث نمبر: 26086 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ , فَنَزَلْنَا الشَّجَرَةَ , فَقَالَ: " مَنْ شَاءَ فَلْيُهِلَّ بِعُمْرَةٍ وَمَنْ شَاءَ فَلْيُهِلَّ بِحَجَّةٍ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: فَأَهَلَّ مِنْهُمْ بِعُمْرَةٍ , وَأَهَلَّ مِنْهُمْ بِحَجَّةٍ , قَالَتْ: وَكُنْتُ أَنَا مِمَّنْ أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ , فَأَدْرَكَنِي يَوْمُ عَرَفَةَ وَأَنَا حَائِضٌ , فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" انْقُضِي رَأْسَكِ , وَامْتَشِطِي , وَذَرِي عُمْرَتَكِ وَأَهِلِّي بِالْحَجِّ" , فَلَمَّا كَانَ لَيْلَةُ الْحَصْبَةِ , أَمَرَنِي , فَاعْتَمَرْتُ مَكَانَ عُمْرَتِي الَّتِي تَرَكْتُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، میں نے عمرے کا احرام باندھ لیا، میرے ساتھ ہدی کا جانور نہیں تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اعلان فرما دیا کہ جس کے ساتھ ہدی کے جانور ہوں تو وہ اپنے عمرے کے ساتھ حج کا احرام بھی باندھ لے اور دونوں کا احرام اکٹھا ہی کھولے، میں ایام سے تھی، شب عرفہ کو میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں نے عمرے کا احرام باندھا تھا، اب حج میں کیا کروں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا سر کے بال کھول کر کنگھی کرلو، عمرہ چھوڑ کر حج کرلو، جب میں نے حج مکمل کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عبدالرحمن کو حکم دیا تو اس نے مجھے پہلے عمرے کی جگہ تنعیم سے عمرہ کروا دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26086]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1211
الحكم: إسناده صحيح، م: 1211
حدیث نمبر: 26087 مسند احمد
رَوْحٌ ، كَهْمَسٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا كَهْمَسٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ؟ قَالَتْ: " مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ حَتَّى يُفْطِرَ مِنْهُ إِلَّا رَمَضَانَ , وَلَا أَفْطَرَ شَهْرًا كُلَّهُ حَتَّى يَصُومَ مِنْهُ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ , أَوْ لِسَبِيلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نفلی روزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ رمضان کے علاوہ مجھے کوئی ایسا مہینہ معلوم نہیں ہے جس میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ رکھا ہو، ناغہ کیا ہو تو روزہ نہ رکھا ہو، تاآنکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا سے رخصت ہوگئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26087]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1156
الحكم: إسناده صحيح، م: 1156
حدیث نمبر: 26088 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ ، عَائِشَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا سَعِيدٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَبِي حَسَّانَ الْأَعْرَجِ , أَنَّ رَجُلَيْنِ دَخَلَا عَلَى عَائِشَةَ , فَقَالَا: إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" إِنَّمَا الطِّيَرَةُ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّابَّةِ وَالدَّارِ" , قَالَ: فَطَارَتْ شِقَّةٌ مِنْهَا فِي السَّمَاءِ , وَشِقَّةٌ فِي الْأَرْضِ , فَقَالَتْ: وَالَّذِي أَنْزَلَ الْقُرْآنَ عَلَى أَبِي الْقَاسِمِ مَا هَكَذَا كَانَ يَقُولُ , وَلَكِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: " كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَقُولُونَ: الطِّيَرَةُ فِي الْمَرْأَةِ وَالدَّارِ وَالدَّابَّةِ" , ثُمَّ قَرَأَتْ عَائِشَةُ مَا أَصَابَ مِنْ مُصِيبَةٍ فِي الأَرْضِ وَلا فِي أَنْفُسِكُمْ إِلا فِي كِتَابٍ سورة الحديد آية 22 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو حسان کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا نحوست عورت، گھر اور سواری کے جانور میں ہوتی ہے تو وہ سخت غصے میں آئیں، پھر اس آدمی نے کہا کہ اس کا ایک حصہ آسمان کی طرف اڑ جاتا ہے اور ایک حصہ زمین پر رہ جاتا ہے، ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اس سے تو اہل جاہلیت بد شگونی لیا کرتے تھے (اسلام نے ایسی چیزوں کو بےاصل قرار دیا ہے) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26088]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26089 مسند احمد
رَوْحٌ ، هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، بُدَيْلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ ، أُمُّ كُلْثُومٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ بُدَيْلٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ , عَنِ امْرَأَةٍ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهَا: أُمُّ كُلْثُومٍ , عَنْ عَائِشَةَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ فِي سِتَّةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ , فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ جَائِعٌ فَأَكَلَ بِلُقْمَتَيْنِ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمَا إِنَّهُ لَوْ ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ لَكَفَاكُمْ , فَإِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ فَلْيَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ , فَإِنْ نَسِيَ أَنْ يُسَمِّيَ اللَّهَ فِي أَوَّلِهِ , فَلْيَقُلْ بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے چھ صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ ایک دیہاتی آیا اور دو لقموں میں ہی سارا کھانا کھا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر یہ بسم اللہ پرھ لیتا تو یہ کھانا تم سب کو کفایت کرجاتا، اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اسے اس پر بسم اللہ پڑھ لینی چاہیے، اگر وہ شروع میں بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو یاد آنے پر یہ پڑھ لیا کرے " بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ " [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26089]
حکم دارالسلام
حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أم كلثوم
الحكم: حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أم كلثوم
حدیث نمبر: 26090 مسند احمد
رَوْحٌ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، نَافِعٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ أَنَّهَا اشْتَرَتْ نُمْرُقَةً فِيهَا تَصَاوِيرُ , فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَامَ عَلَى الْبَابِ , فَلَمْ يَدْخُلْ , فَعَرَفْتُ فِي وَجْهِهِ الْكَرَاهِيَةَ , فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَتُوبُ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ , مَا أَذْنَبْتُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا بَالُ هَذِهِ النُّمْرُقَةِ؟" فَقُلْتُ: اشْتَرَيْتُهَا لِتَقْعُدَ عَلَيْهَا وَلِتَوَسَّدَهَا , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّورِ يُعَذَّبُونَ بِهَا , يُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ" , وَقَالَ:" إِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي فِيهِ الصُّورَةُ لَا تَدْخُلُهُ الْمَلَائِكَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے ایک تصویر والی چادر لی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے دیکھا تو دورازے پر ہی کھڑے رہے، اندر نہ آئے، میں نے ان کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار دیکھے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اللہ اور اس کے رسول کے سامنے توبہ کرتی ہوں، مجھ سے کیا غلطی ہوئی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا یہ چادر کیسی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ میں نے یہ آپ کے بیٹھنے اور ٹیک لگانے کے لئے خریدی ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان تصویروں والوں کو قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو چیزیں تم نے تخلیق کی تھیں، انہیں زندگی بھی دو اور فرمایا جس گھر میں تصویریں ہوں، اس میں رحمت کے فرشتے داخل نہیں ہوتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26090]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2105، م: 2107
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2105، م: 2107
حدیث نمبر: 26091 مسند احمد
رَوْحٌ ، شُعْبَةُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، أَبَا عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الْجَدَلِيَّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ يَعْنِي الْجَدَلِيَّ , يَقُولُ: سَأَلْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ عَنْ خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: " لَمْ يَكُ فَاحِشًا وَلَا مُتَفَحِّشًا وَلَا صَخَّابًا فِي الْأَسْوَاقِ , وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَصْفَحُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی بیہودہ کام یا گفتگو کرنے والے یا بازاروں میں شور مچانے والے نہیں تھے اور وہ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے تھے، بلکہ معاف اور در گذر فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26091]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26092 مسند احمد
الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ ، أَبِي ، الزُّبَيْرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، نَافِعٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ مَخْلَدٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّبَيْرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ , قَالَ: يَعْنِي: أَبَا عَاصِمٍ , قَالَ أَبِي: وَلَا أَدْرِي مَنْ هُوَ , يَعْنِي: نَافِعٌ هَذَا , قَالَ: كُنْتُ أَتَّجِرُ إِلَى الشَّامِ , أَوْ إِلَى مِصْرَ , قَالَ: فَتَجَهَّزْتُ إِلَى الْعِرَاقِ , فَدَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ , فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , إِنِّي قَدْ تَجَهَّزْتُ إِلَى الْعِرَاقِ , فَقَالَتْ: مَا لَكَ وَلِمَتْجَرِكَ , إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِذَا كَانَ لِأَحَدِكُمْ رِزْقٌ فِي شَيْءٍ , فَلَا يَدَعْهُ حَتَّى يَتَغَيَّرَ لَهُ , أَوْ يَتَنَكَّرَ لَهُ" فَأَتَيْتُ الْعِرَاقَ , ثُمَّ دَخَلْتُ عَلَيْهَا , فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , وَاللَّهِ مَا رَدَدْتُ الرَّأْسَ مَالٍ , فَأَعَادَتْ عَلَيْهِ الْحَدِيثَ , أَوْ قَالَتْ الْحَدِيثُ كَمَا حَدَّثْتُكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
نافع کہتے ہیں کہ میں شام یا مصر میں تجارت کیا کرتا تھا، ایک مرتبہ میں نے عراق جانے کی تیاری کرلی لیکن روانگی سے پہلے ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے عرض کیا کہ اے ام المومنین! میں عراق جانے کی تیاری کرچکا ہوں، انہوں نے فرمایا کہ تم اپنی تجارت کی جگہ چھوڑ کر کیوں جا رہے ہو؟ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تم میں سے کسی شخص کا کسی چیز کے ساتھ رزق وابستہ ہو تو وہ اسے ترک نہ کرے الاّ یہ کہ اس میں کوئی تبدیلی پیدا ہوجائے یا وہ بگڑ جائے، تاہم میں پھر بھی عراق چلا گیا، واپسی پر ام المومنین کی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوا اور عرض کیا اے ام المومنین! واللہ مجھے اصل سرمایہ بھی واپس نہیں مل سکا، انہوں نے فرمایا کہ میں نے تو تمہیں پہلی ہی حدیث سنا دی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26092]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف مخلد بن الضحاك ولجهالة الزبير ونافع
الحكم: إسناده ضعيف لضعف مخلد بن الضحاك ولجهالة الزبير ونافع
حدیث نمبر: 26093 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ , وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور بدکار کے لئے پتھر ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26093]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2053
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2053
حدیث نمبر: 26094 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَوْ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِي مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا سُقْتُ الْهَدْيَ , وَلَأَحْلَلْتُ مَعَ الَّذِينَ حَلُّوا مِنَ الْعُمْرَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر مجھے اس معاملے کا پہلے پتہ چل جاتا جس کا علم بعد میں ہوا تو میں اپنے ساتھ ہدی کا جانور کبھی نہ لاتا اور ان لوگوں کے ساتھ ہی احرام کھول دیتا جنہوں نے عمرہ کر کے احرام کھول دیا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26094]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7229
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7229
حدیث نمبر: 26095 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ الْحَوْلَاءَ بِنْتَ تُوَيْتٍ مَرَّتْ عَلَى عَائِشَةَ , وَعِنْدَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَذِهِ الْحَوْلَاءُ , وَزَعَمُوا أَنَّهَا لَا تَنَامُ اللَّيْلَ؟ فَقَالَ: " لَا تَنَامُ اللَّيْلَ! خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ , فَوَاللَّهِ لَا يَسْأَمُ اللَّهُ حَتَّى تَسْأَمُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ان کے پاس ایک عورت " حولاء " آتی تھی جو عبادات میں محنت و مشقت برداشت کرنے کے لئے حوالے سے مشہور تھی، میں نے جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اتنا عمل کیا کرو جتنی طاقت تم میں ہے، واللہ اللہ تعالیٰ تو نہیں اکتائے گا البتہ تم ضرور اکتا جاؤ گے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26095]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 43، م: 785
الحكم: إسناده صحيح، خ: 43، م: 785
حدیث نمبر: 26096 مسند احمد
وَهْبٌ ، أَبِي ، النُّعْمَانَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَاه وَهْبٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: مَرَّتْ الْحَوْلَاءُ بِنْتُ تُوَيْتِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى , فَذَكَرَهُ , وَقَالَ:" فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَسْأَمُ حَتَّى تَسْأَمُوا".
حکم دارالسلام
حديث صحيح، النعمان بن راشد ضعيف ولكن توبع
الحكم: حديث صحيح، النعمان بن راشد ضعيف ولكن توبع
حدیث نمبر: 26097 مسند احمد
أَبُو الْيَمَانِ ، شُعَيْبٌ ، الزُّهْرِيِّ , ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ , ، قَالَ عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ , أَنَّ الْحَوْلَاءَ بِنْتَ تُوَيْتِ بْنِ حَبِيبِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى , فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 43، م: 785
الحكم: إسناده صحيح، خ: 43، م: 785