بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 615
صفحہ 7 از 31
حدیث نمبر: 25918 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، عُمَارَةَ ، أَبِي عَطِيَّةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ , عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَتْ تَلْبِيَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثًا يَقُولُ: " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ , لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ , إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس طرح تین مرتبہ تلبیہ کہتے تھے لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25918]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1550
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1550
حدیث نمبر: 25919 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ" قَالَتْ: فَقُلْتُ: إِنِّي حَائِضٌ , فَقَالَ:" إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مسجد سے چٹائی اٹھا کر مجھے دینا، میں نے عرض کیا کہ میں تو ایام سے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارا حیض تمہارے ہاتھ میں تو نہیں ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25919]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 298
الحكم: إسناده صحيح، خ: 298
حدیث نمبر: 25920 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: طَلَّقَ رَجُلٌ امْرَأَتَهُ , فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ , فَدَخَلَ بِهَا , وَكَانَ مَعَهُ مِثْلُ الْهُدْبَةِ , فَلَمْ يَقْرَبْهَا إِلَّا هَبَّةً وَاحِدَةً , لَمْ يَصِلْ مِنْهَا إِلَى شَيْءٍ , فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ أأَحِلُّ لِزَوْجِي الْأَوَّلِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَحِلِّي لِزَوْجِكِ الْأَوَّلِ حَتَّى يَذُوقَ الْآخَرُ عُسَيْلَتَكِ , وَتَذُوقِي عُسَيْلَتَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں یہ سوال پیش کیا گیا کہ آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی، اس نے کسی دوسرے شخص سے نکاح کرلیا، اس شخص نے اس کے ساتھ خلوت تو کی لیکن مباشرت سے قبل ہی اسے طلاق دے دی تو کیا وہ اپنے پہلے شوہر کے لئے حلال ہوجائے گی؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ پہلے شخص کے لئے اس وقت تک حلال نہیں ہوگی جب تک دوسرا شوہر اس کا شہد اور وہ اس کا شہد نہ چکھ لے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25920]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 5265، م: 1433
الحكم: إسناده صحيح، م: 5265، م: 1433
حدیث نمبر: 25921 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ , ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ , قَالَتْ: فَعَلَّقْتُ عَلَى بَابِي قِرَامًا فِيهِ الْخَيْلُ أُولَاتُ الْأَجْنِحَةِ , قَالَتْ: فَلَمَّا رَآهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" انْزِعِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی سفر سے واپس آئے تو دیکھا کہ میں نے گھر کے دروازے پر ایک پردہ لٹکا رکھا ہے، جس پر ایک پروں والے گھوڑے کی تصویر بنی ہوئی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے دیکھ کر فرمایا کہ اسے اتار دو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25921]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5955، م: 2107
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5955، م: 2107
حدیث نمبر: 25922 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ , ، الْأَعْمَشُ ، عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ , عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ جُنُبًا , ثُمَّ يَغْتَسِلُ , وَيُتِمُّ صَوْمَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صبح کے وقت حالت جنابت میں ہوتے، پھر غسل کرلیتے اور بقیہ دن کا روزہ مکمل کرلیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25922]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1930، م: 1109
الحكم: حديث صحيح، خ: 1930، م: 1109
حدیث نمبر: 25923 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ خَادِمًا لَهُ قَطُّ , وَلَا امْرَأَةً لَهُ قَطُّ , وَلَا ضَرَبَ بِيَدِهِ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَلَا نِيلَ مِنْهُ شَيْءٌ قَطُّ , فَيَنْتَقِمَهُ مِنْ صَاحِبِهِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , فَإِنْ كَانَ لِلَّهِ انْتَقَمَ لَهُ , وَلَا عُرِضَ عَلَيْهِ أَمْرَانِ إِلَّا أَخَذَ بِالَّذِي هُوَ أَيْسَرُ , إِلَّا أَنْ يَكُونَ إِثْمًا , فَإِنْ كَانَ إِثْمًا , كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے کسی خادم یا کسی بیوی کو کبھی نہیں مارا اور اپنے ہاتھ سے کبھی کسی پر ضرب نہیں لگائی الاّ یہ کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کر رہے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم الٰہی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے اور جب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوسروں لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25923]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2328
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2328
حدیث نمبر: 25924 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، مُسْلِمٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ , فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ , فَقَالَ:" وَعَلَيْكُمْ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ: وَعَلَيْكُمْ السَّامُ وَالذَّامُ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَائِشَةُ , لَا تَكُونِي فَاحِشَةً" , قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَمَا سَمِعْتَ مَا قَالُوا: السَّامُ عَلَيْكَ , قَالَ:" أَلَيْسَ قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْهِمْ الَّذِي قَالُوا , قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ" , قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ , يَعْنِي فِي حَدِيثِ عَائِشَةَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُحِبُّ الْفُحْشَ وَلَا التَّفَحُّشَ , وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ وَإِذَا جَاءُوكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللَّهُ سورة المجادلة آية 8 حَتَّى فَرَغَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ یہودیوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے گھر میں آنے کی اجازت چاہی اور السام علیک کہا، (جس کا مطلب یہ ہے کہ تم پر موت طاری ہو) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وعلیکم، یہ سن کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ تم پر ہی موت اور لعنت طاری ہو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ! اتنی کھلی بات کرنے والی نہ بنو، میں نے عرض کیا کہ کیا آپ نے سنا نہیں کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے انہیں جواب دیدیا ہے، وعلیکم (تم پر ہی موت طاری ہو) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25924]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6927، م: 2165
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6927، م: 2165
حدیث نمبر: 25925 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , وَقَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25925]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان، خ: 273، م: 321
الحكم: إسناداه صحيحان، خ: 273، م: 321
حدیث نمبر: 25926 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " إِنَّ نُزُولَ الْأَبْطَحِ لَيْسَ بِسُنَّةٍ , إِنَّمَا نَزَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّهُ كَانَ أَسْمَحَ لِخُرُوجِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مقام " ابطح " میں پڑاؤ کرنا سنت نہیں ہے، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہاں صرف اس لئے پڑاؤ کیا تھا کہ اس طرف سے نکلنا زیادہ آسان تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25926]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1765، م: 1311
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1765، م: 1311
حدیث نمبر: 25927 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، وَيَعْلَى ، الْأَعْمَشُ ، تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ وَيَعْلَى , أَنْبَأَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كُنْتُ أَغْسِلُ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَاكِفٌ , وَأَنَا حَائِضٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے دھو دیتی حالانکہ میں ایام سے ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25927]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 301، م: 297
الحكم: إسناده صحيح، خ: 301، م: 297
حدیث نمبر: 25928 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشِ ، وَيَعْلَى ، الْأَعْمَشُ ، مُسْلِمٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ ، وَيَعْلَى , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: لَمَّا أُنْزِلَتْ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ سورة النصر آية 1 إِلَى آخِرِهَا , مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى صَلَاةً إِلَّا قَالَ: " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ , اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سورت نصر کے نزول کے بعد میں نے جب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہی کہتے تھے " سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي " [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25928]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4967، م: 484
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4967، م: 484
حدیث نمبر: 25929 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، مُسْلِمٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ مُسْلِمٍ , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , وَحَدَّثَنَاُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَ: بَلَغَهَا أَنَّ نَاسًا يَقُولُونَ: يَقْطَعُ الصَّلَاةَ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ وَالْمَرْأَةُ , فَقَالَتْ عَائِشَةُ :" عَدَلْتُمُونَا بِالْكِلَابِ وَالْحَمِيرِ! لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مُقَابِلَ السَّرِيرِ , وَأَنَا عَلَيْهِ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ , فَتَكُونُ لِي الْحَاجَةُ , فَأَنْسَلُّ مِنْ قِبَلِ رِجْلِ السَّرِيرِ , كَرَاهِيَةَ أَنْ أَسْتَقْبِلَهُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ایک مرتبہ معلوم ہوا کہ کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ کتا، گدھا اور عورت کے آگے سے گزرنے کی وجہ سے نمازی کی نماز ٹوٹ جاتی ہیں تو انہوں نے فرمایا میرا خیال تو یہی ہے کہ ان لوگوں نے ہمیں کتوں اور گدھوں کے برابر کردیا ہے، حالانکہ کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو نماز پڑھتے تو میں ان کے اور قبلے کے درمیان جنازے کی طرح لیٹی ہوتی تھی، مجھے کوئی کام ہوتا تو چار پائی کی پائنتی کی جانب کھسک جاتی تھی، کیونکہ میں سامنے سے جانا اچھا نہ سمجھتی تھی۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25929]
حکم دارالسلام
اسناداه صحيحان، خ: 514، م: 512
الحكم: اسناداه صحيحان، خ: 514، م: 512
حدیث نمبر: 25930 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قُطْبَةُ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا قُطْبَةُ , فَذَكَرَهُمَا جَمِيعًا , وَقَالَ: رِجْلَيْ السَّرِيرِ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح وانظر ما قبله
الحكم: إسناده صحيح وانظر ما قبله
حدیث نمبر: 25931 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُصِيبُهُ الْجَنَابَةُ مِنَ اللَّيْلِ وَهُوَ يُرِيدُ الصِّيَامَ , فَيَنَامُ وَيَسْتَيْقِظُ , وَيُصْبِحُ جُنُبًا , فَيُفِيضُ عَلَيْهِ مِنَ الْمَاءِ , ثُمَّ يَتَوَضَّأُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر رات کی غسل واجب ہوجاتا اور ان کا ارادہ روزہ رکھنے کا ہوتا تو وہ سو جاتے اور جب بیدار ہوتے تو اپنے جسم پر پانی بہاتے اور وضو فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25931]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1930، م: 1109
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1930، م: 1109
حدیث نمبر: 25932 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ , لِأَنَّهُ كَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دیدیا کرتے تھے اور ان کے جسم سے اپنا جسم ملا لیتے تھے البتہ وہ تم سب سے زیادہ اپنی خواہشات پر قابو رکھنے والے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25932]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1927، م: 1106
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1927، م: 1106
حدیث نمبر: 25933 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " لَقَدْ رَأَيْتُ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُلَبِّي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور گو یا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت ِاحرام میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25933]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 271، م: 1190
الحكم: إسناده صحيح، خ: 271، م: 1190
حدیث نمبر: 25934 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَسْوَدُ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " رَهَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَهُودِيًّا دِرْعًا , وَأَخَذَ مِنْهُ طَعَامًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک یہودی سے ادھار پر کچھ غلہ خریدا اور اس کے پاس اپنی زرہ گروی کے طور پر رکھوا دی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25934]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2096، م: 1603
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2096، م: 1603
حدیث نمبر: 25935 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، الْأَعْمَشُ ، عُمَارَةَ ، أَبِي عَطِيَّةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , قَالَ: أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ , عَنْ أَبِي عَطِيَّةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: إِنِّي لَأَعْلَمُ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي , قَالَ: فَكَانَتْ تُلَبِّي بِهَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ , لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ , إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں سب سے زیادہ جانتی ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس طرح تلبیہ کہتے تھے، پھر انہوں نے تلبیہ کے یہ الفاظ دہرائے " لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ " [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25935]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1550
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1550
حدیث نمبر: 25936 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَتْ صَلَاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً , يُوتِرُ مِنْ ذَلِكَ بِخَمْسٍ , لَا يَجْلِسُ فِي شَيْءٍ مِنْهَا إِلَّا فِي آخِرِهَا , فَإِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ قَامَ , فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں پڑھتے تھے اور پانچویں جوڑے پر وتر بناتے تھے اور اسی پر بیٹھ کر سلام پھیرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25936]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 737
الحكم: إسناده صحيح، م: 737
حدیث نمبر: 25937 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَكَّ مِنَ الْقِبْلَةِ مُخَاطًا أَوْ بُصَاقًا أَوْ نُخَامَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسجد میں تھوک کو مٹی میں مل دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25937]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 407، م: 549
الحكم: إسناده صحيح، خ: 407، م: 549