أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ خَادِمًا لَهُ قَطُّ , وَلَا امْرَأَةً لَهُ قَطُّ , وَلَا ضَرَبَ بِيَدِهِ شَيْئًا قَطُّ إِلَّا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَلَا نِيلَ مِنْهُ شَيْءٌ قَطُّ , فَيَنْتَقِمَهُ مِنْ صَاحِبِهِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , فَإِنْ كَانَ لِلَّهِ انْتَقَمَ لَهُ , وَلَا عُرِضَ عَلَيْهِ أَمْرَانِ إِلَّا أَخَذَ بِالَّذِي هُوَ أَيْسَرُ , إِلَّا أَنْ يَكُونَ إِثْمًا , فَإِنْ كَانَ إِثْمًا , كَانَ أَبْعَدَ النَّاسِ مِنْهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے کسی خادم یا کسی بیوی کو کبھی نہیں مارا اور اپنے ہاتھ سے کبھی کسی پر ضرب نہیں لگائی الاّ یہ کہ اللہ کے راستہ میں جہاد کر رہے ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم الٰہی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے اور جب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آسان چیز کو اختیار فرماتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوسروں لوگوں کی نسبت اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25923]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2328
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2328