بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 615
صفحہ 16 از 31
حدیث نمبر: 26098 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ , وَكَفَّارَتُهُ كَفَّارَةُ يَمِينٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ کی نافرمانی میں کوئی منت نہیں ہوتی اور اس کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26098]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن محمدا لم يسمع هذا الحديث من أبى سلمة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه لأن محمدا لم يسمع هذا الحديث من أبى سلمة
حدیث نمبر: 26099 مسند احمد
عُثْمَانُ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ , قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُحَرِّمُ الْمَصَّةُ وَلَا الْمَصَّتَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی عورت کی چھاتی سے ایک دو مرتبہ دودھ چوس لینے سے حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوتی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26099]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1450
الحكم: إسناده صحيح، م: 1450
حدیث نمبر: 26100 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، الزُّهْرِيِّ ، سَالِمٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , أَخْبَرَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا: " أَلَمْ تَرَيْ أَنَّ قَوْمَكِ حِينَ بَنَوْا الْكَعْبَةَ اسْتَقْصَرُوا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ؟" فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَفَلَا تَرُدُّهَا عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ؟ فَقَالَ:" لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِكِ بِالْكُفْرِ" فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنْ كَانَتْ عَائِشَةُ سَمِعَتْ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَا أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ اسْتِلَامَ الرُّكْنَيْنِ اللَّذَيْنِ يَلِيَانِ الْحِجْرَ إِلَّا أَنَّ الْبَيْتَ لَمْ يُتَمَّ عَلَى قَوَاعِدِ إِبْرَاهِيمَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ تمہاری قوم نے جب خانہ کعبہ کی تعمیر نو کی تھی تو اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں سے کم کردیا تھا؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! پھر آپ اسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد پر کیوں لوٹا نہیں دیتے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر نہ ہوتا تو ایسا ہی کرتا، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سن کر فرمایا واللہ اگر ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ حدیث نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے تو میرا خیال ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حطیم سے ملے ہوئے دونوں کونوں کا استلام اسی لئے نہیں فرماتے تھے کہ بیت اللہ کی تعمیر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر مکمل نہیں ہوئی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26100]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1583، م: 1333
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1583، م: 1333
حدیث نمبر: 26101 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ عَلَى بَابِ حُجْرَتِي , وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ بِحِرَابِهِمْ , يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ لِكَيْ أَنْظُرَ إِلَى لَعِبِهِمْ , ثُمَّ يَقُومُ حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ عید کے دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے کچھ حبشی کرتب دکھا رہے تھے، میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کندھے پر سر رکھ کر انہیں جھانک کر دیکھنے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے کندھے میرے لئے جھکا دیئے، میں انہیں دیکھتی رہی اور جب دل بھر گیا تو واپس آگئی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26101]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 454، م: 892
الحكم: إسناده صحيح، خ: 454، م: 892
حدیث نمبر: 26102 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , أَنَّ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " وَإِنْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُدْخِلُ عَلَيَّ رَأْسَهُ , وَهُوَ فِي الْمَسْجِدِ , فَأُرَجِّلُهُ , وَكَانَ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةٍ إِلَّا إِذَا أَرَادَ الْوُضُوءَ وَهُوَ مُعْتَكِفٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معتکف ہوتے اور مسجد سے اپنا سر نکال دیتے، میں اسے کنگھی کردیتی اور وہ گھر میں صرف وضو کے لئے ہی آتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26102]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 301، م: 297
الحكم: إسناده صحيح، خ: 301، م: 297
حدیث نمبر: 26103 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أُسَامَةُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَسْمَاءَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ: حَدَّثَنَا أُسَامَةُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أُمِّهِ أَسْمَاءَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ وَقَدْ اشْتَرَيْتُ نَمَطًا فِيهِ صُورَةٌ , فَسَتَرْتُهُ عَلَى سَهْوَةِ بَيْتِي , فَلَمَّا دَخَلَ , كَرِهَ مَا صَنَعْتُ , وَقَالَ: " أَتَسْتُرِينَ الْجُدُرَ يَا عَائِشَةُ؟" فَطَرَحْتُهُ فَقَطَعْتُهُ مِرْفَقَتَيْنِ , فَقَدْ رَأَيْتُهُ مُتَّكِئًا عَلَى إِحْدَاهُمَا , وَفِيهَا صُورَةٌ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی سفر سے واپس آئے، میں نے ایک تصویروں والا پردہ خریدا ہوا تھا جسے میں نے اپنے گھر کے صحن میں لٹکا لیا تھا، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر میں تشریف لائے تو میرے اس کارنامے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا اور فرمایا اے عائشہ! دیواروں کو پردوں سے ڈھانپ رہی ہو؟ چنانچہ میں نے اسے اتار کر اسے کاٹا اور دو تکئے بنا لئے اور تصویر کی موجودگی میں ہی میں نے اس پر اپنے آپ کو ٹیک لگائے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26103]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه أسامة الليثي متكلم فيه واسماء بنت عبدالرحمن مجهولة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه أسامة الليثي متكلم فيه واسماء بنت عبدالرحمن مجهولة
حدیث نمبر: 26104 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَبِي ، حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ ، أَبِي ، حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي , عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , وَمُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ , قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي , عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا يُصِيبُ الْمُؤْمِنَ شَيْءٌ إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ أَجْرٌ , أَوْ كَفَّارَةٌ , حَتَّى النَّكْبَةُ وَالشَّوْكَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کے گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26104]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل حمزة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل حمزة
حدیث نمبر: 26105 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ مِنْ الْيَهُودِ , وَهِيَ تَقُولُ: أُشْعِرْتُ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ؟ فَارْتَاعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: " إِنَّمَا تُفْتَنُ يَهُوَدُ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَبِثْنَا لَيَالِيَ , ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أُشْعِرْتُ أَنَّهُ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ" , وَقَالَتْ عَائِشَةُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدُ يَسْتَعِيذُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو ایک یہودی عورت میرے یہاں بیٹھی تھی اور وہ کہہ رہی تھی کیا معلوم ہے کہ قبروں میں تمہاری آزمائش کی جائے گی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا یہودیوں کو ہی آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا، کچھ عرصہ گذرنے کے بعد ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا تمہیں پتہ چلا کہ مجھ پر وحی آگئی ہے کہ تمہیں قبروں میں آزمایا جائے گا؟ اس کے بعد میں نے ہمیشہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26105]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 584
الحكم: إسناده صحيح، م: 584
حدیث نمبر: 26106 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ إِحْدَى عَشْرَةَ رَكْعَةً , فَكَانَتْ تِلْكَ صَلَاتُهُ , يَسْجُدُ فِي السَّجْدَةِ مِنْ ذَلِكَ قَدْرَ مَا يَقْرَأُ أَحَدُكُمْ خَمْسِينَ آيَةً قَبْلَ أَنْ يَرْفَعَ رَأْسَهُ , وَيَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ , ثُمَّ يَضْطَجِعُ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ حَتَّى يَأْتِيَهُ الْمُؤَذِّنُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عشاء اور فجر کے درمیان گیارہ رکعتیں پڑھتے تھے ہر دو رکعت پر سلام پھر دیتے تھے اور ایک رکعت وتر پڑھتے تھے، نوافل میں اتنا لمبا سجدہ کرتے کہ ان کے سر اٹھانے سے پہلے تم میں سے کوئی شخص پچاس آیتیں پڑھ لے، جب مؤذن اذان دے کر فارغ ہوتا تو دو مختصر رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے، یہاں تک کہ مؤذن آجاتا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز کی اطلاع دیتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26106]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 736
الحكم: إسناده صحيح، م: 736
حدیث نمبر: 26107 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَأْمُرُ بِصِيَامِ عَاشُورَاءَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ رَمَضَانُ , فَلَمَّا فُرِضَ رَمَضَانُ كَانَ مَنْ شَاءَ صَامَ , وَمَنْ شَاءَ أَفْطَرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رمضان کے روزے فرض ہونے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم صحابہ رضی اللہ عنہ کو دس محرم کا روزہ رکھنے کا حکم دیتے رہے، پھر جب ماہ رمضان کے روزے فرض ہوگئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ماہ رمضان ہی کے روزے رکھنے لگے اور عاشورہ کا روزہ چھوڑ دیا، اب جو چاہے وہ روزہ رکھ لے اور جو چاہے نہ رکھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26107]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2001، م: 1125
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2001، م: 1125
حدیث نمبر: 26108 مسند احمد
عُثْمَانُ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , أَنَّ عَائِشَةَ , قَالَتْ: لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَخْيِيرِ أَزْوَاجِهِ , بَدَأَ بِي , فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ , إِنِّي أَذْكُرُ لَكِ أَمْرًا , وَلَا عَلَيْكِ أَنْ لَا تَسْتَعْجِلِي حَتَّى تُذَاكِرِي أَبَوَيْكِ" , قَالَتْ: وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ أَبَوَيَّ لَمْ يَكُونَا لِيَأْمُرَانِي بِفِرَاقِهِ , ثُمَّ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ يَأَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا سورة الأحزاب آية 28 حَتَّى بَلَغَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا سورة الأحزاب آية 29 فَقُلْتُ: فِي أَيِّ هَذَا أَسْتَأْمِرُ أَبَوَيَّ؟ فَإِنِّي قَدْ اخْتَرْتُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَالدَّارَ الْآخِرَةَ , قَالَتْ: ثُمَّ فَعَلَ أَزْوَاجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا فَعَلْتُ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب آیت تخییر نازل ہوئی سب سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا اے عائشہ! میں تمہارے سامنے ایک بات ذکر کرنا چاہتا ہوں، تم اس میں اپنے والدین سے مشورے کے بغیر کوئی فیصلہ نہ کرنا، میں نے عرض کیا ایسی کیا بات ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے بلا کر یہ آیت تلاوت فرمائی " اے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اپنی بیویوں سے کہہ دیجئے کہ اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دار آخرت کو چاہتی ہو " يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ إِنْ كُنْتُنَّ تُرِدْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا حَتَّى بَلَغَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنْكُنَّ أَجْرًا عَظِيمًا " میں نے عرض کیا کہ کیا میں اس معاملے میں اپنے والدین سے مشورہ کروں گی؟ میں اللہ اور اس کے رسول کو اختیار کرتی ہوں، اس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہت خوش ہوئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26108]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4785، م: 1475
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4785، م: 1475
حدیث نمبر: 26109 مسند احمد
عُثْمَانُ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ , حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، وَجَدْتُ فِي مَوْضِعٍ عَنْ عُرْوَةَ , وَمَوْضِعٍ آخَرَ , عَنْ عَمْرَةَ , كِلَاهُمَا قَالَهُ عُثْمَانُ , عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحَرَ عَنْ أَزْوَاجِهِ بَقَرَةً فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے گائے کی قربانی کی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26109]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره
الحكم: حديث صحيح لغيره
حدیث نمبر: 26110 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , " أَنَّ نِسَاءً مِنَ الْمُؤْمِنَاتِ كُنَّ يَشْهَدْنَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ , ثُمَّ يَنْقَلِبْنَ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِهِنَّ إِلَى بُيُوتِهِنَّ , مَا يُعْرَفْنَ مِنَ الْغَلَسِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ نماز فجر میں خواتین بھی شریک ہوتی تھیں، پھر اپنی چادروں میں اس طرح لپٹ کر نکلتی تھیں کہ انہیں کوئی پہچان نہیں سکتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26110]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 372، م: 645
الحكم: إسناده صحيح، خ: 372، م: 645
حدیث نمبر: 26111 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا يُونُسُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي عَلَى خُمْرَةٍ , فَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ , ارْفَعِي عَنَّا حَصِيرَكِ هَذَا , فَقَدْ خَشِيتُ أَنْ يكونَ يَفْتِنَ النَّاسَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مرتبہ چٹائی پر نماز پڑھ رہے تھے، نماز سے فارغ ہو کر فرمایا عائشہ! اس چٹائی کو ہمارے پاس سے اٹھا لو، کیونکہ مجھے اندیشہ ہے کہ لوگ فتنے میں نہ پڑھ جائیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26111]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26112 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، يُونُسُ ، أَبُو شَدَّادٍ ، مُجَاهِدٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا يُونُسُ , حَدَّثَنَا أَبُو شَدَّادٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ , قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ ، خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَلَمَّا كُنَّا بِالْحَزِّ , انْصَرَفْنَا وَأَنَا عَلَى جَمَلٍ , وَكَانَ آخِرُ الْعَهْدِ مِنْهُمْ , وَأَنَا أَسْمَعُ صَوْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بَيْنَ ظَهْرَيْ ذَلِكَ السَّمُرِ , وَهُوَ يَقُولُ: " وَا عَرُوسَاهْ" قَالَتْ: فَوَاللَّهِ إِنِّي لَعَلَى ذَلِكَ إِذْ نَادَى مُنَادٍ أَنْ أَلْقِي الْخِطَامَ , فَأَلْقَيْتُهُ , فَأَعْلَقََهُ اللَّهُ بِيَدِهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی سفر پر روانہ ہوئے، حر کے پاس پہنچ کر ہم واپس روانہ ہوئے، میں اپنے اونٹ پر سوار تھی، جو سب سے آخر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ملنے والا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس ببول کے درختوں کے درمیان تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آواز سن رہی تھی، کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہہ رہے ہیں ہائے میری دلہن! واللہ میں ابھی اسی اونٹ پر تھی کہ ایک منادی نے پکار کر کہا کہ اس کی لگام پھنک دو، میں نے اس کی لگام پھنک دی تو اللہ نے اسے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ میں دے دیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26112]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى شداد
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى شداد
حدیث نمبر: 26113 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي أَبَا دَاوُدَ الطَّيَالِسِيَّ ، شُعْبَةُ ، مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ ، عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ يَعْنِي أَبَا دَاوُدَ الطَّيَالِسِيَّ , حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عَائِشَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يُصَلِّيَ بِالنَّاسِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ , فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ يَدَيْ أَبِي بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَاعِدًا , وَأَبُو بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ , وَالنَّاسُ خَلْفَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مرض الوفات میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ آپ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر نماز پڑھتے رہے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھ کر نماز پڑھنے لگے اور لوگ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پیچھے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26113]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26114 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، شُعْبَةُ ، يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُوسَى ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ خُمَيْرٍ , قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُوسَى , قَالَ أَحْمَدُ ابْنُ أَبِي قَيْسٍ وَهُوَ الصَّوَابُ , مَوْلَى لِبَنِي نَصْرِ بْنِ مُعَاوِيَةَ , قَالَ: قَالَتْ لِي عَائِشَةُ : " لَا تَدَعْ قِيَامَ اللَّيْلِ , فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَدَعُهُ , وَكَانَ إِذَا مَرِضَ أَوْ كَسِلَ , صَلَّى قَاعِدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن ابی موسیٰ (اور زیادہ صحیح رائے کے مطابق عبداللہ بن ابی قیس) " جو کہ بنو نصر بن معاویہ کے آزاد کردہ غلام تھے " سے مروی ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے فرمایا ہے قیام اللیل کو کبھی نہ چھوڑنا، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے کبھی ترک نہیں فرماتے تھے، حتیٰ کہ اگر بیمار ہوتے یا طبیعت میں چستی نہ ہوتی تو بھی بیٹھ کر پڑھ لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26114]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26115 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ , قَالَ: أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ أَتَتْ سَهْلَةُ ابْنَةُ سُهَيْلِ بْنِ عَمْرٍو , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ سَالِمًا كَانَ يَدْخُلُ عَلَيَّ وَأَنَا وَاضِعَةٌ ثَوْبِي , ثُمَّ إِنَّهُ يَدْخُلُ عَلَيَّ الْآنَ بَعْدَمَا شَبَّ وَكَبِرَ , فَأَجِدُ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ , قَالَ: " فَأَرْضِعِيهِ , فَإِنَّ ذَلِكَ يَذْهَبُ بِالَّذِي تَجِدِينَ فِي نَفْسِكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سہلہ بنت سہیل ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا یا رسول اللہ! سالم میرے یہاں آتا تھا، میں اپنا دوپٹہ وغیرہ اتارے رکھتی تھی، لیکن اب جب وہ بڑی عمر کا ہوگیا ہے اور اس کے بال بھی سفید ہوگئے تو اس کے آنے پر میرے دل میں بوجھ ہوتا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اسے دودھ پلا دو، یہ بوجھ دور ہوجائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26115]
حکم دارالسلام
حديث ضعيف بهذه السياقة
الحكم: حديث ضعيف بهذه السياقة
حدیث نمبر: 26116 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، يَحْيَى ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زُرَارَةَ ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زُرَارَةَ , عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لَا تُقْطَعُ الْيَدُ إِلَّا فِي رُبُعِ دِينَارٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ کی چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹ دیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26116]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6791، م: 1684
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6791، م: 1684
حدیث نمبر: 26117 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، مُطَرِّفٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ , حَدَّثَنَا هَمَّامٌ , حَدَّثَنَا قَتَادَةُ , عَنْ مُطَرِّفٍ , عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّهَا صَنَعَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُلَّةً مِنْ صُوفٍ سَوْدَاءَ , فَلَبِسَهَا , فَلَمَّا عَرِقَ وَجَدَ رِيحَ الصُّوفِ فَقَذَفَهَا , قَالَ: وَأَحْسِبُهُ قَالَ: وَكَانَتْ تُعْجِبُهُ الرِّيحُ الطَّيِّبَةُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لئے اون کی ایک سیاہ چادر بنائی، اس چادر کی سیاہی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رنگت کے اجلا پن اور سفیدی کا تذکرہ ہونے لگا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے پہن لیا، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پسینہ آیا اور ان کی بو اس میں محسوس ہونے لگی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے اتار دیا کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اچھی مہک کو پسند فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26117]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح