يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , أَنَّ عَائِشَةَ نَزَلَتْ عَلَى أُمِّ طَلْحَةَ الطَّلْحَاتِ , فَرَأَتْ بَنَاتِهَا يُصَلِّينَ بِغَيْرِ خُمُرٍ , فَقَالَتْ: إِنِّي لَأَرَى بَنَاتِكِ قَدْ حِضْنَ أَوْ حَاضَ بَعْضُهُنَّ , قَالَتْ: أَجَلْ , قَالَتْ: فَلَا تُصَلِّيَنَّ جَارِيَةٌ مِنْهُنَّ وَقَدْ حَاضَتْ إِلَّا وَعَلَيْهَا خِمَارٌ , فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيَّ وَعِنْدِي فَتَاةٌ , فَأَلْقَى إِلَيَّ حَقْوَهُ , فَقَالَ: " شُقِّيهِ بَيْنَ هَذِهِ وَبَيْنَ الْفَتَاةِ الَّتِي عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ , فَإِنِّي لَا أُرَاهُمَا إِلَّا قَدْ حَاضَتَا , أَوْ لَا أُرَاهَا إِلَّا قَدْ حَاضَتْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے صفیہ ام طلحہ الطلحات کے یہاں قیام کیا تو دیکھا کہ کچھ بچیاں جو بالغ ہونے کے باوجود بغیر دوپٹوں کے نماز پڑھ رہی ہیں، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کوئی بچی دوپٹے کے بغیر نماز نہ پڑھے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے، اس وقت میری پرورش میں ایک بچی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک چادر مجھے دی اور فرمایا کہ اس کے دو حصے کر کے اس بچی اور ام سلمہ کے پرورش میں جو بچی ہے ان کے درمیان تقسیم کردو کیونکہ میرے خیال میں یہ دونوں بالغ ہوچکی ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26016]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع بين محمد وعائشة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع بين محمد وعائشة