بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 615
صفحہ 11 از 31
حدیث نمبر: 25998 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدِرْعُهُ مَرْهُونَةٌ بِثَلَاثِينَ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جب وصال ہوا تو ان کی زرہ تیس صاع جَو کے عوض گروی کے طور پر رکھی ہوئی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25998]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2916، م: 1603
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2916، م: 1603
حدیث نمبر: 25999 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ مَخْلَدِ بْنِ خُفَافٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَضَى أَنَّ الْخَرَاجَ بِالضَّمَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کمائی کا منافع تاوان ضمانت کے ساتھ وابستہ ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25999]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لأجل مخلد بن خفاف، قال البخاري: فيه نظر
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لأجل مخلد بن خفاف، قال البخاري: فيه نظر
حدیث نمبر: 26000 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي , ثُمَّ أَشَارَ إِلَى الْقَمَرِ , فَقَالَ: " يَا عَائِشَةُ اسْتَعِيذِي بِاللَّهِ مِنْ شَرِّ هَذَا , فَإِنَّ هَذَا هُوَ الْغَاسِقُ إِذَا وَقَبَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے چاند دکھایا جو طلوع ہو رہا تھا اور فرمایا اس اندھیری رات کے شر سے اللہ کی پناہ مانگا کرو جب وہ چھا جایا کرے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26000]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل الحارث
الحكم: إسناده حسن من أجل الحارث
حدیث نمبر: 26001 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ بْنِ زَمْعَةَ: " الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاهِرِ الْحَجَرُ" , ثُمَّ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْدَةَ بِنْتَ زَمْعَةَ أَنْ تَحْتَجِبَ مِنْهُ لِمَا رَأَى مِنْ شَبَهِهِ بِعُتْبَةَ , فَمَا رَآهَا حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عبد بن زمعہ سے فرمایا بچہ صاحب فراش کا ہوتا ہے اور بدکار کے لئے پتھر، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بچے کو دیکھا تو اس میں عتبہ کے ساتھ واضح شباہت نظر آئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اے سودہ! تم اس سے پردہ کرنا چنانچہ وہ ان کے انتقال تک انہیں دیکھ نہیں سکا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26001]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد بن إسحاق توبع، خ: 2218، م: 1457
الحكم: حديث صحيح، محمد بن إسحاق توبع، خ: 2218، م: 1457
حدیث نمبر: 26002 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيَّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَمْرٍو , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , أَنَّهُ سَمِعَ عَلْقَمَةَ بْنَ وَقَّاصٍ اللَّيْثِيَّ , قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ , قَالَ: قُلْتُ: كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ؟ , فَقَالَتْ:" كَانَ يَقْرَأُ فِيهِمَا وَهُوَ جَالِسٌ , فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ , قَامَ , فَرَكَعَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
علقمہ بن وقاص لیثی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھ کردو رکعتیں کس طرح پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قرأت تو بیٹھ کر کرتے تھے لیکن جب رکوع کا ارادہ کرتے تو کھڑے ہوجاتے اور پھر رکوع فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26002]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 731
الحكم: حديث صحيح، م: 731
حدیث نمبر: 26003 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنَامُ وَهُوَ جُنُبٌ؟ قَالَتْ: " نَعَمْ , وَلَكِنَّهُ كَانَ لَا يَنَامُ حَتَّى يَغْسِلَ فَرْجَهُ , وَيَتَوَضَّأُ وُضُوءَهُ لِلصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب وجوبِ غسل کی حالت میں سونا چاہتے تو شرمگاہ کو دھو کر نماز جیسا وضو فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26003]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26004 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " لَقَدْ كَانَ يَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ مَا يُرَى فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِهِ الدُّخَانُ , قَالَ: قُلْتُ: يَا أُمَّهْ , فَمَا كَانَ طَعَامُهُمْ؟ قَالَتْ:" الْأَسْوَدَانِ الْمَاءُ وَالتَّمْرُ , غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ لَهُ جِيرَانُ صِدْقٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَكَانَتْ لَهُمْ رَبَائِبُ , فَكَانُوا يَبْعَثُونَ إِلَيْهِ مِنْ أَلْبَانِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بعض اوقات ایک ایک مہینہ اس طرح گذر جاتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، الاّ یہ کہ کہیں سے تھوڑا بہت گوشت آجائے اور ہمارے گذارے کے لئے صرف دو ہی چیزیں ہوتی تھیں یعنی پانی اور کجھور، البتہ ہمارے آس پاس انصار کے کچھ گھرانے آباد تھے، اللہ انہیں ہمیشہ جزائے خیر دے، کہ وہ روزانہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بکری کا دودھ بھیج دیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے نوش فرما لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26004]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2567، م: 2972
الحكم: حديث صحيح، خ: 2567، م: 2972
حدیث نمبر: 26005 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ " أَنَّ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَأَمَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْغُسْلِ لِكُلِّ صَلَاةٍ , فَإِنْ كَانَتْ لَتَدْخُلُ الْمِرْكَنَ مَمْلُوءًا مَاءً , فَتَغْتَمِسُ فِيهِ , ثُمَّ تَخْرُجُ مِنْهُ , وَإِنَّ الدَّمَ لَغَالِبُهُ , فَتَخْرُجُ فَتُصَلِّي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ زینب بنت جحش نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرا دم حیض ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایام حیض تک تو نماز چھوڑ دیا کرو، اس کے بعد غسل کر کے ہر نماز کے وقت وضو کرلیا کرو اور نماز پڑھا کرو خواہ چٹائی پر خون کے قطرے ٹپکنے لگیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26005]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لتدليس محمد بن إسحاق وقد عنعن
الحكم: إسناده ضعيف لتدليس محمد بن إسحاق وقد عنعن
حدیث نمبر: 26006 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِيهِ ، جَدِّهِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: " كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ يُحْرِمُ وَحِينَ يَحِلُّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے ان دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احرام باندھتے تھے اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26006]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين، خ: 1754، م: 1189
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد محتمل للتحسين، خ: 1754، م: 1189
حدیث نمبر: 26007 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: أُهْدِيَتْ لِحَفْصَةَ شَاةٌ وَنَحْنُ صَائِمَتَانِ , فَأَفْطَرَتْنِي , وَكَانَتْ ابْنَةُ أَبِيهَا , فَدَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ: " أَبْدِلَا يَوْمًا مَكَانَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کے پاس کہیں سے ایک بکری ہدیئے میں آئی، ہم دونوں اس دن روزے سے تھیں، انہوں نے میرا روزہ اس سے کھلوا دیا، وہ اپنے والد کی بیٹی تھیں، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم دونوں اس کے بدلے میں کسی اور دن کا روزہ رکھ لینا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26007]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، سفيان - هو ابن حسين - ضعيف فى الزهري
الحكم: إسناده ضعيف، سفيان - هو ابن حسين - ضعيف فى الزهري
حدیث نمبر: 26008 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَ: سَأَلَتْهَا امْرَأَةٌ يَهُودِيَّةٌ فَأَعْطَتْهَا , فَقَالَتْ لَهَا: أَعَاذَكِ اللَّهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ , فَأَنْكَرَتْ عَائِشَةُ ذَلِكَ , فَلَمَّا رَأَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ لَهُ , فَقَالَ:" لَا" قَالَتْ عَائِشَةُ: ثُمَّ قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَلِكَ: " إِنَّهُ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي قُبُورِكُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک یہودیہ عورت نے ان سے کچھ مانگا، انہوں نے اسے وہ دے دیا، اس نے کہا کہ اللہ تمہیں عذاب قبر سے محفوظ رکھے، انہیں اس پر تعجب ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے ان سے اس کا ذکر کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، کچھ عرصہ گذرنے کے بعد ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مجھ پر یہ وحی آگئی ہے کہ تمہیں قبروں میں آزمایا جائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26008]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، سفيان توبع
الحكم: حديث صحيح، سفيان توبع
حدیث نمبر: 26009 مسند احمد
يَزِيدُ ، يَحْيَى ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا يَحْيَى , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ تَقُولُ: " لَقَدْ فَتَلْتُ قَلَائِدَ هَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ؟ , فَبَعَثَ بِهَا وَأَقَامَ , فَمَا تَرَكَ شَيْئًا كَانَ يَصْنَعُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدی کے جانوروں کا قلادہ اپنے ہاتھ سے بٹا کرتی تھی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے بھیج کر ہمارے درمیان غیر محرم ہو کر مقیم رہتے تھے اور کوئی چیز نہ چھوڑتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26009]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1696، م: 1321
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1696، م: 1321
حدیث نمبر: 26010 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبَّاسٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نِيَارٍ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَبْيَةٍ فِيهَا خَرَزٌ , فَقَسَمَهُ بَيْنَ الْحُرَّةِ وَالْأَمَةِ سَوَاءً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس ایک تھیلی لائی گئی جس میں نگینے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ نگینے آزاد اور غلام عورتوں میں تقسیم کردیئے اور میرے والد بھی غلام اور آزاد میں اسے تقسیم فرما دیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26010]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26011 مسند احمد
يَزِيدُ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " مَا سَبَّحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُبْحَةَ الضُّحَى قَطُّ , وَإِنِّي لَأُسَبِّحُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، البتہ میں پڑھ لیتی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26011]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1177، م: 718
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1177، م: 718
حدیث نمبر: 26012 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْمَسْعُودِيُّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْحَيَّةُ فَاسِقَةٌ , وَالْعَقْرَبُ فَاسِقَةٌ , وَالْغُرَابُ فَاسِقٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا سانپ نافرمان جانور ہوتا ہے، اسی طرح بچھو، کوا اور چوہا بھی نافرمان ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26012]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1829، م: 1198
الحكم: حديث صحيح، خ: 1829، م: 1198
حدیث نمبر: 26013 مسند احمد
يَزِيدُ ، يَحْيَى ، أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدٍ ، عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى , أَنَّ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدٍ أَخْبَرَهُ , عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا زَالَ جِبْرِيلُ يُوصِينِي بِالْجَارِ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا حضرت جبرائیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کرتے رہے، حتیٰ کہ مجھے یہ گمان ہونے لگا کہ وہ اسے وارث قرار دے دیں گے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26013]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6014، م: 2624
الحكم: حديث صحيح، خ: 6014، م: 2624
حدیث نمبر: 26014 مسند احمد
يَزِيدُ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " إِنَّ السِّوَاكَ لَمَطْهَرَةٌ لِلْفَمِ مَرْضَاةٌ لِلرَّبِّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا مسواک منہ کی پاکیزگی اور رب کی رضا کا ذریعہ ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26014]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه
الحكم: حديث صحيح بطرقه
حدیث نمبر: 26015 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , أَنَّ عَائِشَةَ سُئِلَتْ عَنِ الْقِرَاءَةِ فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ صَلَاةِ الْفَجْرِ؟ فَقَالَتْ" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسِرُّ الْقِرَاءَةَ فِيهِمَا , وَذَكَرَتْ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد کہتے ہیں کہ کسی شخص نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فجر کی سنتون میں قرأت کے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان میں سری قرأت فرماتے تھے اور میرا خیال ہے کہ اس میں سورت کافروں اور سورت اخلاص جیسی سورتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26015]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه لأن محمدا لم يدرك عائشة والحديث صحيح دون قوله: "يسر القراءة."
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه لأن محمدا لم يدرك عائشة والحديث صحيح دون قوله: "يسر القراءة."
حدیث نمبر: 26016 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ مُحَمَّدٍ , أَنَّ عَائِشَةَ نَزَلَتْ عَلَى أُمِّ طَلْحَةَ الطَّلْحَاتِ , فَرَأَتْ بَنَاتِهَا يُصَلِّينَ بِغَيْرِ خُمُرٍ , فَقَالَتْ: إِنِّي لَأَرَى بَنَاتِكِ قَدْ حِضْنَ أَوْ حَاضَ بَعْضُهُنَّ , قَالَتْ: أَجَلْ , قَالَتْ: فَلَا تُصَلِّيَنَّ جَارِيَةٌ مِنْهُنَّ وَقَدْ حَاضَتْ إِلَّا وَعَلَيْهَا خِمَارٌ , فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيَّ وَعِنْدِي فَتَاةٌ , فَأَلْقَى إِلَيَّ حَقْوَهُ , فَقَالَ: " شُقِّيهِ بَيْنَ هَذِهِ وَبَيْنَ الْفَتَاةِ الَّتِي عِنْدَ أُمِّ سَلَمَةَ , فَإِنِّي لَا أُرَاهُمَا إِلَّا قَدْ حَاضَتَا , أَوْ لَا أُرَاهَا إِلَّا قَدْ حَاضَتْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
محمد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے صفیہ ام طلحہ الطلحات کے یہاں قیام کیا تو دیکھا کہ کچھ بچیاں جو بالغ ہونے کے باوجود بغیر دوپٹوں کے نماز پڑھ رہی ہیں، تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کوئی بچی دوپٹے کے بغیر نماز نہ پڑھے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے یہاں تشریف لائے، اس وقت میری پرورش میں ایک بچی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک چادر مجھے دی اور فرمایا کہ اس کے دو حصے کر کے اس بچی اور ام سلمہ کے پرورش میں جو بچی ہے ان کے درمیان تقسیم کردو کیونکہ میرے خیال میں یہ دونوں بالغ ہوچکی ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26016]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع بين محمد وعائشة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع بين محمد وعائشة
حدیث نمبر: 26017 مسند احمد
يَزِيدُ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " طَيَّبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدَيَّ لِحُرْمِهِ , وَطَيَّبْتُهُ بِمِنًى قَبْلَ أَنْ يُفِيضَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے اپنے ان دونوں ہاتھوں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے احرام پر خوشبو لگائی ہے جبکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم احرام باندھتے تھے اور طوافِ زیارت سے قبل حلال ہونے کے بعد بھی خوشبو لگائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26017]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5922، م: 1189
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5922، م: 1189