يَزِيدُ ، مُحَمَّدٌ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدٌ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " لَقَدْ كَانَ يَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ مَا يُرَى فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِهِ الدُّخَانُ , قَالَ: قُلْتُ: يَا أُمَّهْ , فَمَا كَانَ طَعَامُهُمْ؟ قَالَتْ:" الْأَسْوَدَانِ الْمَاءُ وَالتَّمْرُ , غَيْرَ أَنَّهُ كَانَ لَهُ جِيرَانُ صِدْقٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، وَكَانَتْ لَهُمْ رَبَائِبُ , فَكَانُوا يَبْعَثُونَ إِلَيْهِ مِنْ أَلْبَانِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بعض اوقات ایک ایک مہینہ اس طرح گذر جاتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، الاّ یہ کہ کہیں سے تھوڑا بہت گوشت آجائے اور ہمارے گذارے کے لئے صرف دو ہی چیزیں ہوتی تھیں یعنی پانی اور کجھور، البتہ ہمارے آس پاس انصار کے کچھ گھرانے آباد تھے، اللہ انہیں ہمیشہ جزائے خیر دے، کہ وہ روزانہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس بکری کا دودھ بھیج دیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے نوش فرما لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26004]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2567، م: 2972
الحكم: حديث صحيح، خ: 2567، م: 2972