بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 615
صفحہ 20 از 31
حدیث نمبر: 26178 مسند احمد
عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ ، أَبُو عَوَانَةَ ، هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَارِمُ بْنُ الْفَضْلِ , حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي لَمْ يَقُمْ مِنْهُ: " لَعَنَ اللَّهُ الْيَهُودَ، وَالنَّصَارَى , فإنهم اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ" قَالَ: وَقَالَتْ عَائِشَةُ: لَوْلَا ذَلِكَ أَبْرَزَ قَبْرَهُ , وَلَكِنَّهُ خَشِيَ أَنْ يُتَّخَذَ مَسْجِدًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے اس مرض میں " جس سے آپ جانبر نہ ہو سکے " ارشاد فرمایا کہ یہود و نصاریٰ پر اللہ کی لعنت نازل ہو، انہوں نے اپنے انبیاء (علیہم السلام) کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو صرف یہ اندیشہ تھا کہ ان کی قبر کو سجدہ گاہ نہ بنایا جائے ورنہ قبر مبارک کو کھلا رکھنے میں کوئی حرج نہ تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26178]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1390، م: 529
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1390، م: 529
حدیث نمبر: 26179 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ امْرَأَةَ أَبِي حُذَيْفَةَ فَأَرْضَعَتْ سَالِمًا خَمْسَ رَضَعَاتٍ , فَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيْهَا بِتِلْكَ الرَّضَاعَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابو حذیفہ کی بیوی کو حکم دیا کہ سالم کو پانچ گھونٹ دودھ پلا دے، پھر وہ اس رضاعت کی وجہ سے ان کے یہاں چلا جاتا تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26179]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26180 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، مَالِكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَمْرَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ , عَنْ عَمْرَةَ , أَنَّهَا سَمِعَتْ عَائِشَةَ تَقُولُ: إِنَّمَا مَرَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى يَهُودِيَّةٍ يُبْكَى عَلَيْهَا , فَقَالَ: " إِنَّكُمْ لَتَبْكُونَ عَلَيْهَا وَإِنَّهَا , لَتُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک یہودیہ عورت کے متعلق فرمائی تھی کہ یہ لوگ اس پر رو رہے ہیں اور اسے قبر میں عذاب ہو رہا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26180]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1289، م: 932
الحكم: حديث صحيح، خ: 1289، م: 932
حدیث نمبر: 26181 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، مَالِكٌ ، سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَرِجْلِي فِي قِبْلَتِهِ , فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَسْجُدَ , غَمَزَنِي , فَقَبَضْتُهَا , فَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے رو رہی تھی اور میرے پاؤں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قبلے کی سمت میں ہوتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدے میں جانے لگتے تو مجھے چٹکی بھر دیتے اور میں اپنے پاؤں سمیٹ لیتی، جب وہ کھڑے ہوجاتے تو میں انہیں پھیلا لیتی تھی اور اس زمانے میں گھروں میں چراغ نہیں ہوتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26181]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 382، م: 512
الحكم: إسناده صحيح، خ: 382، م: 512
حدیث نمبر: 26182 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، جَعْفَرُ بْنُ كَيْسَانَ ، مُعَاذَةُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ , قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ كَيْسَانَ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي مُعَاذَةُ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَنَاءُ أُمَّتِي بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ" , قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , هَذَا الطَّعْنُ قَدْ عَرَفْنَاهُ , فَمَا الطَّاعُونُ؟ قَالَ:" غُدَّةٌ كَغُدَّةِ الْإِبِلِ , الْمُقِيمُ فِيهَا كَالشَّهِيدِ , وَالْفَارُّ مِنْهَا كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
معاذہ عدویہ کہتی ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئی تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے میری امت صرف نیزہ بازی اور طاعون سے ہی ہلاک ہوگی، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! نیزہ بازی کا مطلب تو ہم سمجھ گئے، یہ طاعون سے کیا مراد ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ ایک گلٹی ہوتی ہے جو اونٹ کی گلٹی کے مشابہ ہوتی ہے، اس میں ثابت قدم والا شہید کی طرح ہوگا اور اس سے راہ فرار اختیار کرنے والا میدان جنگ سے بھاگنے والے کی طرح ہوگا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26182]
حکم دارالسلام
إسناده جيد
الحكم: إسناده جيد
حدیث نمبر: 26183 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، جَعْفَرُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَمْرَةُ الْعَدَوِيَّةُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ , قَالَ: أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ كَيْسَانَ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَمْرَةُ الْعَدَوِيَّةُ , قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْفَارُّ مِنَ الطَّاعُونِ كَالْفَارِّ مِنَ الزَّحْفِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا طاعون سے بچ کر راہ فرار اختیار کرنے والا ایسے ہے جیسے میدان جنگ سے راہ فرار اختیار کرنے والا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26183]
حکم دارالسلام
حديث جيد
الحكم: حديث جيد
حدیث نمبر: 26184 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، وُهَيْبٌ ، ابْنُ طَاوُسٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ , حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ طَاوُسٍ ، عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ:" إِنَّمَا نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ أَنْ يُتَحَرَّى بِهَا طُلُوعُ الشَّمْسِ وَغُرُوبُهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات کی ممانعت فرمائی تھی کہ طلوع شمس یا غروب شمس کے وقت نماز کا اہتمام کیا جائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26184]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 833
الحكم: إسناده صحيح، م: 833
حدیث نمبر: 26185 مسند احمد
أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَزْهَرُ بْنُ الْقَاسِمِ , حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى , عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا أَوْتَرَ , صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب وتر پڑھ لیتے تو بیٹھے بیٹھے دو کعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26185]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 746
الحكم: حديث صحيح، م: 746
حدیث نمبر: 26186 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، طَلْحَةُ بْنُ شَجَّاحٍ ، وَرْقَاءُ بِنْتُ هُذَامٍ الْهُنَائِيَّةُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ , حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ شَجَّاحٍ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي وَرْقَاءُ بِنْتُ هُذَامٍ الْهُنَائِيَّةُ , قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ:" رُبَّمَا رَأَيْتُ فِي ثَوْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجَنَابَةَ , فَأَفْرُكُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کئی مرتبہ میں نے بھی اپنی انگلیوں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کپڑوں سے مادہ منویہ کو کھرچا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26186]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ورقاء الهنائية، م: 288
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة ورقاء الهنائية، م: 288
حدیث نمبر: 26187 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، طَلْحَةُ ، وَرْقَاءُ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ , حَدَّثَنَا طَلْحَةُ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي وَرْقَاءُ ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ كَانَ عَلَيْهِ دَيْنٌ هَمَّهُ قَضَاؤُهُ , أَوْ هَمَّ بِقَضَائِهِ , لَمْ يَزَلْ مَعَهُ مِنَ اللَّهِ حَارِسٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس شخص پر کوئی قرض ہو اور وہ اس کی ادائیگی کی فکر میں ہو تو اس کے ساتھ اللہ کی طرف سے مسلسل ایک محافظ لگا رہتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26187]
حکم دارالسلام
حديث حسن وهذا إسناد كسابقه
الحكم: حديث حسن وهذا إسناد كسابقه
حدیث نمبر: 26188 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ , عَنِ الْحَسَنِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْتَهِدُ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مَا لَا يَجْتَهِدُ فِي غَيْرِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ماہ رمضان کے عشرہ اخیرہ میں جتنی محنت فرماتے تھے کسی اور موقع پر اتنی محنت نہیں فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26188]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1175
الحكم: إسناده صحيح، م: 1175
حدیث نمبر: 26189 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ إِذَا مَرِضَ قَرَأَ عَلَى نَفْسِهِ بِالْمُعَوِّذَتَيْنِ وَيَنْفُثُ , قَالَتْ عَائِشَةُ فَلَمَّا ثَقُلَ جَعَلْتُ أَنْفُثُ عَلَيْهِ بِهِمَا , وَأَمْسَحُ بِيَمِينِهِ الْتِمَاسَ بَرَكَتِهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اگر بیمار ہوجاتے تو معوذتین پڑھ کر اپنے اوپر دم کرلیتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو ان کا دست مبارک پکڑتی تو یہ کلمات پڑھ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ ان کے جسم پر پھر دیتی، تاکہ ان کے ہاتھ کی برکت حاصل ہوجائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26189]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5061، م: 2192
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5061، م: 2192
حدیث نمبر: 26190 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ ، أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ ، وَأَبُو الْمُنْذِرِ ، أَبُو بَكْرٍ ، زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ الْخَيَّاطُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّهْشَلِيُّ , وَأَبُو الْمُنْذِرِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ" , قَالَ أَبُو الْمُنْذِرِ: فِي رَمَضَانَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دے دیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26190]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1927، م: 1106
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1927، م: 1106
حدیث نمبر: 26191 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ , عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ أَوْصَى بِثَلَاثِ مَسَاكِنَ لَهُ , فَقَالَ: الْقَاسِمُ يُخْرَجُ ذَاكَ حَتَّى يُجْعَلَ فِي مَسْكَنٍ وَاحِدٍ , وَقَدْ سَمِعْتُ عَائِشَةَ تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ عَمِلَ عَمَلًا لَيْسَ عَلَيْهِ أَمْرُنَا فَهُوَ رَدٌّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہمارے اس طریقے کے علاوہ کوئی اور طریقہ ایجاد کرتا ہے تو وہ مردود ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26191]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1718
الحكم: إسناده صحيح، م: 1718
حدیث نمبر: 26192 مسند احمد
حَمَّادٌ ، أَفْلَحُ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , حَدَّثَنَا أَفْلَحُ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصْبِحُ وَهُوَ جُنُبٌ , فَيَغْتَسِلُ وَيَصُومُ يَوْمَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وجوبِ غسل کی حالت میں ہی سو گئے جب صبح ہوئی تو غسل کرلیا اور اس دن کا روزہ رکھ لیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26192]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1925، م: 1109
الحكم: حديث صحيح، خ: 1925، م: 1109
حدیث نمبر: 26193 مسند احمد
حَمَّادٌ ، وَأَبُو الْمُنْذِرِ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَأَبُو الْمُنْذِرِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ مَوْلَى عُرْوَةَ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَنْ أَذَلَّ لِي وَلِيًّا , فَقَدْ اسْتَحَلَّ مُحَارَبَتِي , وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدِي بِمِثْلِ أَدَاءِ الْفَرَائِضِ , وَمَا يَزَالُ الْعَبْدُ يَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ , إِنْ سَأَلَنِي أَعْطَيْتُهُ , وَإِنْ دَعَانِي أَجَبْتُهُ , مَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ وَفَاتِهِ , لِأَنَّهُ يَكْرَهُ الْمَوْتَ , وَأَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ" , قَالَ أَبِي: وَقَالَ أَبُو الْمُنْذِرِ: قَالَ حَدَّثَنِي عُرْوَةُ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ , وَقَالَ أَبُو الْمُنْذِرِ آذَى لِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو شخص میرے کسی دوست کی تذلیل کرتا ہے وہ مجھ سے جنگ کو حلال کرلیتا ہے اور فرائض کی ادائیگی سے زیادہ بندہ کسی چیز سے میرا قرب حاصل نہیں کرتا اور بندہ میرا قرب حاصل کرنے کے لئے مسلسل نوافل پڑھتا رہتا ہے حتیٰ کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں، پھر اگر وہ مجھ سے کچھ مانگتا ہے تو میں اسے عطاء کرتا ہوں اور اگر دعاء کرتا ہے تو اسے قبول کرتا ہوں اور مجھے اپنے کسی کام میں ایسا تردد نہیں ہوتا جیسا اپنے بندے کی موت پر ہوتا ہے کیونکہ وہ موت کو پسند نہیں کرتا اور میں اسے تنگ کرنے کو اچھا نہیں سمجھتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26193]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالواحد مولي عروة
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالواحد مولي عروة
حدیث نمبر: 26194 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ , عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: سُئِلْتُ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْمَلُ فِي بَيْتِهِ؟ قَالَتْ:" كَانَ بَشَرًا مِنَ الْبَشَرِ يَفْلِي ثَوْبَهُ , وَيَحْلُبُ شَاتَهُ , وَيَخْدُمُ نَفْسَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کسی نے سوال پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر میں ہوتے تو کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ایک بشر تھے، وہ اپنے کپڑوں کو صاف کرلیتے تھے، بکری کا دودھ دو لیتے تھے اور اپنے کام اپنے ہاتھ سے کرلیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26194]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26195 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَخِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الرَّجُلِ يَجِدُ الْبَلَلَ , وَلَا يَذْكُرُ احْتِلَامًا , قَالَ: " يَغْتَسِلُ" وَعَنِ الرَّجُلِ يَرَى أَنَّهُ قَدْ احْتَلَمَ , وَلَا يَرَى بَلَلًا , قَالَ:" لَا غُسْلَ عَلَيْهِ" فَقَالَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ: هَلْ عَلَى الْمَرْأَةِ تَرَى ذَلِك شَيْءٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ , إِنَّمَا النِّسَاءُ شَقَائِقُ الرِّجَالِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس آدمی کا حکم پوچھا جو تری دیکھتا ہے لیکن اسے خواب یاد نہیں ہے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ وہ غسل کرے گا، سائل نے پوچھا کہ جو آدمی سمجھتا ہو کہ اس نے خواب دیکھا ہے لیکن اسے تری نہ آئے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اس پر غسل نہیں ہے، حضرت ام سلیم نے عرض کیا اگر عورت ایسی کوئی چیز دیکھتی ہے تو اس پر بھی غسل واجب ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہاں! کیونکہ عورتیں مردوں کا جوڑا ہی تو ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26195]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله العمري
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبدالله العمري
حدیث نمبر: 26196 مسند احمد
حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، وَصَالِحِ بْنِ أَبِي حَسَّانَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ , عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، وَصَالِحِ بْنِ أَبِي حَسَّانَ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دے دیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26196]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه اختلاف
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه اختلاف
حدیث نمبر: 26197 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلا اللَّهُ سورة آل عمران آية 7 فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " فَإِذَا رَأَيْتُمْ الَّذِينَ يَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ , فَأُولَئِكَ الَّذِينَ سَمَّى اللَّهُ , أَوْ فَهُمْ , فَاحْذَروْهُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قرآن کریم کی یہ آیت تلاوت فرمائی اللہ وہی ہے جس نے آپ پر کتاب نازل فرمائی ہے جس کی بعض آیتیں محکم ہیں، ایسی آیات ہی اس کتاب کی اصل ہیں اور کچھ آیات متشابہات میں سے بھی ہیں، جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہوتی ہے، وہ تو متشابہات کے پیچھے چل پڑتے ہیں تاکہ فتنہ پھیلائیں اور اس کی تاویل حاصل کرنے کی کوشش کریں، حالانکہ ان کی تاویل اللہ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا اور علمی مضبوطی رکھنے والے لوگ کہتے ہیں کہ ہم اس پر ایمان لے آئے ہیں، یہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے اور نصیحت تو عقلمند لوگ ہی حاصل کرتے ہیں۔ اور فرمایا کہ جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو قرآنی آیات میں جھگڑ رہے ہیں تو یہ وہی لوگ ہوں گے جو اللہ کی مراد ہیں، لہذا ان سے بچو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26197]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4547، م: 2665
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4547، م: 2665