بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 615
صفحہ 25 از 31
حدیث نمبر: 26278 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ ، سُفْيَانَ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ , عَنْ سُفْيَانَ يَعْنِي ابْنَ حُسَيْنٍ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ مُعْتَكِفًا فِي الْمَسْجِدِ لَا يَدْخُلُ الْبَيْتَ إِلَّا لِحَاجَةٍ , قَالَتْ: فَغَسَلْتُ رَأْسَهُ وَإِنَّ بَيْنِي وَبَيْنَهُ الْعَتَبَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معتکف ہوتے تو صرف انسانی ضرورت کی بناء پر ہی گھر میں آتے تھے اور مسجد سے اپنا سر باہر نکال دیتے، میں اسے دھو دیتی جبکہ میرے اور ان کے درمیان دروازے کی چوکھٹ حائل ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26278]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26279 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ ، سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ يَعْنِي الْوَاسِطِيَّ ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَائِشَةُ , إِنْ كُنْتِ أَلْمَمْتِ بِذَنْبٍ فَاسْتَغْفِرِي اللَّهَ , فَإِنَّ التَّوْبَةَ مِنَ الذَّنْبِ النَّدَمُ وَالِاسْتِغْفَارُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ واقعہ افک کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عائشہ! اگر تم سے گناہ کا ارادہ ہوگیا ہو تو اللہ سے استغفار کیا کرو کیونکہ گناہ سے توبہ ندامت اور استغفار ہی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26279]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قوله فى حديث الإفك: فإن التوبة من الذنب الندم والاستغفار
الحكم: حديث صحيح دون قوله فى حديث الإفك: فإن التوبة من الذنب الندم والاستغفار
حدیث نمبر: 26280 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى الثَّقَفِيَّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْلَى الثَّقَفِيَّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " مَا نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ الْعِشَاءِ وَلَا سَهِرَ بَعْدَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز عشاء سے پہلے کبھی سوئے اور نہ عشاء کے بعد کبھی قصہ گوئی کی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26280]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه عبدالله بن عبد الرحمن ضعيف
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه عبدالله بن عبد الرحمن ضعيف
حدیث نمبر: 26281 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو , قَالَ: حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ , عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُقَبِّلُ وَهُوَ صَائِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں اپنی ازواج کو بوسہ دے دیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26281]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1106
الحكم: إسناده صحيح، م: 1106
حدیث نمبر: 26282 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ ، الشَّعْبِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ , عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ , عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " فُرِضَتْ الصَّلَاةُ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ فُرِضَتْ ثَلَاثًا لِأَنَّهَا وِتْرٌ , قَالَتْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَافَرَ صَلَّى الصَّلَاةَ الْأُولَى إِلَّا الْمَغْرِبَ , فَإِذَا أَقَامَ زَادَ مَعَ كُلِّ رَكْعَتَيْنِ رَكْعَتَيْنِ إِلَّا الْمَغْرِبَ , لِأَنَّهَا وَتْرٌ , وَالصُّبْحَ , لِأَنَّهُ يُطَوِّلُ فِيهَا الْقِرَاءَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ مکہ مکرمہ میں نماز کی ابتدائی فرضیت نماز مغرب کے علاوہ دو دو رکعتوں کی صورت میں ہوئی تھی، لیکن جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ پہنچے تو حکم الٰہی کے مطابق ہر دو رکعتوں کے ساتھ دو رکعتوں کا اضافہ کردیا، سوائے نماز مغرب کے کہ وہ دن کے وتر ہیں اور نماز فجر کے کہ اس میں قرأت لمبی کی جاتی ہے، البتہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سفر پر جاتے تھے تو ابتدائی طریقے کے مطابق دو رکعتیں ہی پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26282]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لأن الشعبي لم يدرك عائشة
الحكم: إسناده ضعيف لأن الشعبي لم يدرك عائشة
حدیث نمبر: 26283 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٍ ، أَبِي مَعْشَرٍ ، النَّخَعِيِّ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنِ النَّخَعِيِّ ، عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّهَا قَالَتْ: " كَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيُمْنَى لِطُهُورِهِ وَلِطَعَامِهِ , وَكَانَتْ الْيُسْرَى لِخَلَائِهِ , وَمَا كَانَ مِنْ أَذًى" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا داہنا ہاتھ کھانے اور ذکر اذکار کے لئے تھا اور بایاں ہاتھ دیگر کاموں کے لئے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26283]
حکم دارالسلام
حديث حسن بطرقه وشاهده، وهذا إسناد ضعيف
الحكم: حديث حسن بطرقه وشاهده، وهذا إسناد ضعيف
حدیث نمبر: 26284 مسند احمد
ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، سَعِيدٍ ، رَجُلٍ ، أَبِي مَعْشَرٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ رَجُلٍ , عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ عَائِشَةَ , نَحْوَهُ.
حکم دارالسلام
حديث حسن بطرقه و شاهده، وإسناده كسابقه
الحكم: حديث حسن بطرقه و شاهده، وإسناده كسابقه
حدیث نمبر: 26285 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٍ ، أَبِي مَعْشَرٍ ، النَّخَعِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنِ النَّخَعِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيُسْرَى لِخَلَائِهِ , وَمَا كَانَ مِنْ أَذًى , وَكَانَتْ الْيُمْنَى لِوُضُوئِهِ وَلِمَطْعَمِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا داہنا ہاتھ کھانے اور ذکر اذکار کے لئے تھا اور بایاں ہاتھ دیگر کاموں کے لئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26285]
حکم دارالسلام
حديث حسن بطرقه وشاهده، وهو مكرر ما قبله
الحكم: حديث حسن بطرقه وشاهده، وهو مكرر ما قبله
حدیث نمبر: 26286 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى , عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا جَمِيعًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کے متعلق فرمایا ہے کہ یہ دو رکعتیں ساری دنیا سے زیادہ بہتر ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26286]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 725
الحكم: إسناده صحيح، م: 725
حدیث نمبر: 26287 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ مُعَاذَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصَلِّي الضُّحَى أَرْبَعًا وَيَزِيدُ مَا شَاءَ اللَّهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاشت کی چار رکعتیں پڑھی ہیں اور جتنا چاہتے اس پر اضافہ بھی فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26287]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 719
الحكم: إسناده صحيح، م: 719
حدیث نمبر: 26288 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٍ ، عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ ، مُعَاذَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ , عَنْ مُعَاذَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ" , وَكَانَ فِي حَدِيثِهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبْدَأُ قَبْلَهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26288]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 321
الحكم: إسناده صحيح، م: 321
حدیث نمبر: 26289 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ , أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ , فَقَالَ: إِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَسْأَلَكِ عَنْ شَيْءٍ وَإِنِّي أَسْتَحْيِيكِ , فَقَالَتْ:" سَلْ مَا بَدَا لَكَ , فَإِنَّمَا أَنَا أُمُّكَ" , فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ مَا يُوجِبُ الْغُسْلَ؟ فَقَالَتْ:" إِذَا اخْتَلَفَ الْخِتَانَانِ وَجَبَتْ الْجَنَابَةُ" , فَكَانَ قَتَادَةُ يُتْبِعُ هَذَا الْحَدِيثَ أَنَّ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " قَدْ فَعَلْتُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاغْتَسَلْنَا" , فَلَا أَدْرِي أَشَيْءٌ فِي هَذَا الْحَدِيثِ أَمْ كَانَ قَتَادَةُ يَقُولُهُ؟ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن رباح کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں لیکن مجھے حیاء آتی ہے؟ انہوں نے فرمایا جو چاہو پوچھ سکتے ہو کہ میں تمہاری ماں ہوں، میں نے عرض کیا ام المومنین! غسل کس چیز سے واجب ہوتا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ جب شرمگاہیں ایک دوسرے سے مل جائیں تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔ اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد قتادہ یہ بھی کہتے تھے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایسا کرتے تھے تو ہم غسل کرتے تھے، اب مجھے معلوم نہیں ہے کہ یہ جملہ حدیث کا حصہ یہ یا قتادہ کا قول ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26289]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع لأن عبد الله بن رباح لم يسمع هذا الحديث من عائشة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع لأن عبد الله بن رباح لم يسمع هذا الحديث من عائشة
حدیث نمبر: 26290 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٍ ، بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُكْثِرُ الصَّلَاةَ قَائِمًا وَقَاعِدًا , فَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا , وَإِذَا صَلَّى قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو کر بھی نماز پڑھتے تھے اور بیٹھ کر بھی نماز پڑھتے تھے جب کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تو رکوع کھڑے ہو کر فرماتے اور جب نماز بیٹھ کر پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26290]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 730
الحكم: حديث صحيح، م: 730
حدیث نمبر: 26291 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٍ ، أَيُّوبَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَائِشَةَ ، الْخَفَّافُ ، ابْنِ عَبَّاسٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٍ ، أَيُّوبَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , وقَالَ مَرَّةً أُخْرَى الْخَفَّافُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُصِيبُ مِنَ الرُّءُوسِ وَهُوَ صَائِمٌ" , وقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ , يَعْنِي فِي حَدِيثِهِ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ أَيُّوبَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , وَكَذَا قَالَ الْخَفَّافُ مَرَّةً أُخْرَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے سے ہوتے تب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے سر کا بوسہ لیتے تھے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26291]
حکم دارالسلام
حديث عائشة إسناده صحيح، م: 1106
الحكم: حديث عائشة إسناده صحيح، م: 1106
حدیث نمبر: 26292 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ ، بُدَيْلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أُمُّ كُلْثُومٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ بُدَيْلٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ , أَنَّ امْرَأَةً مِنْهُمْ , يُقَالُ لَهَا: أُمُّ كُلْثُومٍ حَدَّثَتْهُ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْكُلُ طَعَامًا فِي سِتَّةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ , فَجَاءَ أَعْرَابِيٌّ جَائِعٌ فَأَكَلَهُ بِلُقْمَتَيْنِ , فَقَالَ: " أَمَا إِنَّهُ لَوْ ذَكَرَ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ لَكَفَاكُمْ , فَإِذَا أَكَلَ أَحَدُكُمْ , فَلْيَذْكُرْ اسْمَ اللَّهِ , فَإِنْ نَسِيَ بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ , فَلْيَقُلْ: بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے چھ صحابہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے کہ ایک دیہاتی آیا اور دو لقموں میں ہی سارا کھانا کھا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اگر یہ بسم اللہ پڑھ لیتا تو یہ کھانا تم سب کو کفایت کرجاتا، اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اس پر بسم اللہ پڑھ لینی چاہیے، اگر وہ شروع میں بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو یاد آنے پر یہ پڑھ لے بِسْمِ اللَّهِ فِي أَوَّلِهِ وَآخِرِهِ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26292]
حکم دارالسلام
حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أم كلثوم
الحكم: حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال أم كلثوم
حدیث نمبر: 26293 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , قَالَ: سُئِلَ سَعِيدٌ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ فِي رُكُوعِهِ؟ فَأَخْبَرَنَا، عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ مُطَرِّفِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ: " سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ , رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکوع و سجود میں یہ پڑھتے تھے سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26293]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 487
الحكم: حديث صحيح، م: 487
حدیث نمبر: 26294 مسند احمد
عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ ، سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَلْقَمَةَ ، أُمِّهِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ , عَنْ عَلْقَمَةَ , عَنْ أُمِّهِ فِي قِصَّةٍ ذَكَرَهَا , فَقَالَتْ عَائِشَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ أَشَارَ بِحَدِيدَةٍ إِلَى أَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُرِيدُ قَتْلَهُ فَقَدْ وَجَبَ دَمُهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص کسی مسلمان کی طرف کسی دھاری دار آلے سے اشارہ کرتا ہے اور قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو اسے قتل کرنا جائز ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26294]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لتفرد أم علقمة
الحكم: إسناده ضعيف لتفرد أم علقمة
حدیث نمبر: 26295 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، دَاوُدَ ، عَامِرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ دَاوُدَ , عَنْ عَامِرٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " لَوْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَاتِمًا شَيْئًا , لَكَتَمَ هَذِهِ الْآيَةَ وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّهَ , وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّهُ مُبْدِيهِ سورة الأحزاب آية 37" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے اوپر نازل ہونے والی وحی میں سے کوئی آیت چھپانا ہوتی تو یہ آیت " جو ان کی اپنی ذات سے متعلق تھی " چھپاتے " اس وقت کو یاد کیجئے جب آپ اس شخص سے فرما رہے تھے جس پر اللہ نے بھی احسان کیا تھا اور آپ کے بھی احسان کیا تھا کہ اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھو اور اللہ سے ڈرو، جبکہ آپ اپنے ذہن میں ایسے وسوسے پوشیدہ رکھے ہوئے تھے جن کا حکم بعد میں اللہ ظاہر کرنے والا تھا "۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26295]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع، لأن الشعبي لم يسمع من عائشة، م: 177
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع، لأن الشعبي لم يسمع من عائشة، م: 177
حدیث نمبر: 26296 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَعِيدٍ ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ , عَنْ سَعِيدٍ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى , عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ , وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ وَيَتَتَعْتَعُ فِيهِ وَهُوَ عَلَيْهِ شَاقٌّ , فَلَهُ أَجْرَانِ اثْنَانِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم مہارت کے ساتھ پڑھتا ہے، وہ نیک اور معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو شخص مشقت برداشت کر کے تلاوت کرے اسے دہرا اجر ملے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26296]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4937، م: 798
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4937، م: 798
حدیث نمبر: 26297 مسند احمد
عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، عِكْرِمَةَ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِي الْقِدْرَ فَيَأْخُذُ الذِّرَاعَ مِنْهَا , فَيَأْكُلُهَا , ثُمَّ يُصَلِّي وَلَا يَتَوَضَّأُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہنڈیا کے پاس سے گزرتے تو اس میں سے ہڈی والی بوٹی نکالتے اور اسے تناول فرماتے، پھر پانی کو ہاتھ لگائے بغیر اور نیا وضو کئے بغیر نماز پڑھ لیتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26297]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع عكرمة لم يسمع هذا الحديث من عائشة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه انقطاع عكرمة لم يسمع هذا الحديث من عائشة