بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 615
صفحہ 4 از 31
حدیث نمبر: 25858 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ , قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ , عَنْ عُرْوَةَ , أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم" كَانَ يُصَلِّي ثَلَاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً بِاللَّيْلِ مَعَ رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو تیرہ رکعتیں فجر کی دو رکعتوں کے ساتھ پڑھتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25858]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1140، م: 737
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1140، م: 737
حدیث نمبر: 25859 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عِرَاكٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ , عَنْ عِرَاكٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: إِنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّمِ , فَقَالَتْ عَائِشَةُ: قَدْ رَأَيْتُ مِرْكَنَهَا مَلْآنًا دَمًا , فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " امْكُثِي قَدْرَ مَا كَانَتْ تَحْبِسُكِ حَيْضَتُكِ , ثُمَّ اغْتَسِلِي وَصَلِّي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے ایک مرتبہ فاطمہ بنت ابی حبیش نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ میرا دم حیض ہمیشہ جاری رہتا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے ان کا ٹب خون سے بھرا ہوا دیکھا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ایام حیض تک تو نماز چھوڑ دیا کرو، اس کے بعد غسل کر کے ہر نماز کے وقت وضو کرلیا کرو اور نماز پڑھا کرو خواہ چٹائی پر خون کے قطرے ٹپکنے لگیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25859]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 334
الحكم: إسناده صحيح، م: 334
حدیث نمبر: 25860 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، قيسِ بْنِ وَهْبٍ ، شَيْخٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَال: َأَخْبَرَنَا شَرِيكٌ , عَنْ قيسِ بْنِ وَهْبٍ , عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي سَرَاةَ , قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ , فَقُلْتُ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَجْنَبَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ بِغُسْلٍ يَجْتَزِئُ بِذَلِكَ , أَمْ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ , قَالَتْ: " بَلْ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنو سوارہ کے ایک بزرگ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اختیاری طور پر ناپاکی سے غسل فرماتے تھے، تو جسم پر پانی ڈالتے وقت سر پر جو پانی پڑتا تھا اسے کافی سمجھتے تھے یا سر پر نئے سرے سے پانی ڈالتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں بلکہ نئے سرے سے سر پر پانی ڈالتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25860]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الشيخ من بني سواءة ولضعف شريك
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الشيخ من بني سواءة ولضعف شريك
حدیث نمبر: 25861 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ ، الْبَهِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ , عَنْ الْعَبَّاسِ بْنِ ذَرِيحٍ , عَنِ الْبَهِيِّ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ عَثَرَ بِأُسْكُفَّةِ , أَوْ عَتَبَةِ الْبَابِ , فَشُجَّ فِي جَبْهَتِهِ , فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَمِيطِي عَنْهُ , أَوْ نَحِّي عَنْهُ الْأَذَى" قَالَتْ: فَتَقَذَّرْتُهُ , قَالَتْ: فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمُصُّهُ , ثُمَّ يَمُجُّهُ , وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَوْ كَانَ أُسَامَةُ جَارِيَةً , لَكَسَوْتُهُ , وَحَلَّيْتُهُ , حَتَّى أُنفِِّقَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت اسامہ بن زید دروازے کی چوکھٹ پر لڑکھڑا کر گر پڑھے اور ان کے خون نکل آیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ اس کی گندگی صاف کردو، مجھے وہ کام اچھا نہ لگا تو خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں چوسنے اور فرمانے لگے لڑکی ہوتی تو میں اسے خوب زیورات اور عمدہ کپڑے پہناتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25861]
حکم دارالسلام
حديث حسن بطرقه، وهذا إسناد ضعيف لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
الحكم: حديث حسن بطرقه، وهذا إسناد ضعيف لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 25862 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، أَبِيهِ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَثَّلُ الشِّعْرَ؟ قَالَتْ: " رُبَّمَا تَمَثَّلَ شِعْرَ ابْنِ رَوَاحَةَ , وَيَقُولُ: وَيَأْتِيكَ بِالْأَخْبَارِ مِنْ لَمْ تُزَوِّدِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شریخ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی شعر پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! حضرت عبداللہ بن رواحہ کا یہ شعر کبھی کبھی پڑھتے تھے۔ " اور تمہارے پاس وہ شخص خبریں لے کر آئے گا جسے تم نے زاد راہ نہ دیا ہوگا "۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25862]
حکم دارالسلام
تمثل النبى صلى الله عليه و آله وسلم بشعر ابن واحة صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لضعف شريك
الحكم: تمثل النبى ﷺ بشعر ابن واحة صحيح لغيره، وهذا اسناد ضعيف لضعف شريك
حدیث نمبر: 25863 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، وَابْنُ نُمَيْرٍ ، شَرِيكٌ ، الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ وَابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ , قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ الْحَارِثِيُّ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ هَلْ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْدُو؟ قَالَتْ: نَعَمْ , إِلَى هَذِهِ التِّلَاعِ , قَالَتْ: فَبَدَا مَرَّةً , فَبَعَثَ إِلَيَّ نَعَمَ الصَّدَقَةِ , فَأَعْطَانِي نَاقَةً مُحَرَّمَةً , قَالَ حَجَّاجٌ: لَمْ تُرْكَبْ , وَقَالَ:" يَا عَائِشَةُ عَلَيْكِ بِتَقْوَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَالرِّفْقِ , فَإِنَّ الرِّفْقَ لَمْ يَكُ فِي شَيْءٍ إِلَّا زَانَهُ , وَلَمْ يُنْزَعْ الرِّفْقُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَانَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شریخ حارثی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ کیا نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دیہات میں جاتے تھے؟ انہوں نے فرمایا ہاں! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان ٹیلوں تک جاتے تھے، ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی دیہات (جنگل) میں جانے کا ارادہ کیا تو صدقہ کے جانوروں میں ایک قاصد کو بھیجا اور اس میں سے ایک ایسی اوٹنی عطا فرمائی جس پر ابھی تک کسی نے سواری نہ کی تھی، پھر مجھ سے فرمایا عائشہ! اللہ سے ڈرنا اور نرمی کرنا اپنے اوپر لازم کرلو، کیونکہ نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اس باعث زینت بنا دیتی ہے اور جس چیز سے بھی کھینچی جاتی ہے، اسے بدنما اور عیب دار کرتی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25863]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، شريك ضعيف ولكن توبع
الحكم: حديث صحيح، شريك ضعيف ولكن توبع
حدیث نمبر: 25864 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ , عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى نَاشِئًا فِي السَّمَاءِ سَحَابًا , أَوْ رِيحًا , اسْتَقْبَلَهُ مِنْ حَيْثُ كَانَ , وَإِنْ كَانَ فِي الصَّلَاةِ يَتَعَوَّذُ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ شَرِّه , فَإِذَا أَمْطَرَتْ , قَالَ: " اللَّهُمَّ صَيِّبًا نَافِعًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب آسمان کے کنارے پر کوئی بادل دیکھتے تو ہر کام چھوڑ دیتے اگرچہ نماز ہی میں ہوتے اور یہ دعاء کرتے کہ اے اللہ! میں اس کے شر سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، جب وہ کھل جاتا تو شکر ادا کرتے اور جب بارش ہوتے ہوئے دیکھتے تو فرماتے اے اللہ! موسلا دھار ہو اور نفع بخش۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25864]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لأجل شريك، وقوله: اللهم صيبا…... سلف باسناد صحيح برقم: 24144
الحكم: إسناده ضعيف لأجل شريك، وقوله: اللهم صيبا…... سلف باسناد صحيح برقم: 24144
حدیث نمبر: 25865 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , أَخْبَرَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ , قَالَ: وَقَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ إِلَى خَدِيجَةَ يَرْجُفُ فُؤَادُهُ , فَدَخَلَ , فَقَالَ:" زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي" فَزُمِّلَ , فَلَمَّا سُرِّيَ عَنْهُ , قَالَ:" يَا خَدِيجَةُ , لَقَدْ أَشْفَقْتُ عَلَى نَفْسِي بَلَاءً , لَقَدْ أَشْفَقْتُ عَلَى نَفْسِي بَلَاءً" , قَالَتْ خَدِيجَةُ: أَبْشِرْ , فَوَاللَّهِ لَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدًا , إِنَّكَ لَتَصْدُقُ الْحَدِيثَ , وَتَصِلُ الرَّحِمَ , وَتَحْمِلُ الْكَلَّ , وَتَقْرِي الضَّيْفَ , وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ , فَانْطَلَقَتْ بِي خَدِيجَةُ إِلَى وَرَقَةَ بْنِ نَوْفَلِ بْنِ أَسَدٍ , وَكَانَ رَجُلًا قَدْ تَنَصَّرَ , شَيْخًا أَعْمَى يَقْرَأُ الْإِنْجِيلَ بِالْعَرَبِيَّةِ , فَقَالَتْ لَهُ خَدِيجَةُ: أَيْ عَمِّ , اسْمَعْ مِنَ ابْنِ أَخِيكَ , فَقَالَ لَهُ وَرَقَةُ: يَا ابْنَ أَخِي , مَاذَا تَرَى؟ فَأَخْبَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي رَأَى مِنْ ذَلِكَ , فَقَالَ لَهُ وَرَقَة: ُهَذَا النَّامُوسُ الَّذِي نَزَلَ عَلَى مُوسَى , يَا لَيْتَنِي فِيهَا جَذَعًا , يَا لَيْتَنِي أَكُونُ حَيًّا حِينَ يُخْرِجُكَ قَوْمُكَ , قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَ مُخْرِجِيَّ هُمْ" , قَالَ: نَعَمْ , لَمْ يَأْتِ رَجُلٌ بِمِثْلِ مَا جِئْتَ بِهِ قَطُّ إِلَّا عُودِيَ , وَإِنْ يُدْرِكْنِي يَوْمُكَ , أَنْصُرْكَ نَصْرًا مُؤَزَّرًا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ پہلی وحی نازل ہونے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دل تیزی سے دھڑک رہا تھا اور گھر میں داخل ہوتے ہی فرمایا مجھے کوئی چیز اوڑھا دو، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک کمبل اوڑھا دیا گیا، جب یہ کیفیت ختم ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا خدیجہ! مجھے تو اپنے اوپر کسی مصیبت کے نازل ہونے کا خطرہ ہونے لگا تھا، دو مرتبہ فرمایا: حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ آپ بشارت قبول کیجئے واللہ آپ کو اللہ کبھی تنہا نہیں چھوڑے گا، آپ ہمیشہ سچ بولتے ہیں، صلہ رحمی کرتے ہیں، لوگوں کا بوجھ بٹاتے ہیں، مہمانوں کی مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کے معاملات میں لوگوں کی مدد کرتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، انہوں نے عیسائیت قبول کرلی تھی اور بہت بوڑھے اور نابینا ہوچکے تھے اور عربی زبان میں انجیل پڑھ چکے تھے، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ چچا جان! اپنے بھتیجے کی بات سنیئے، ورقہ نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ بھتیجے! آپ کیا دیکھتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ تمام چیزیں بیان کردیں جو انہوں نے دیکھی تھیں، روقہ نے کہا کہ یہ تو وہی ناموس ہے جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوا تھا، اے کاش! اس وقت مجھ میں طاقت ہو اور میں زندہ ہوں جبکہ آپ کو آپ کی قوم نکال دے گی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا یہ لوگ مجھے نکال دیں گے؟ ورقہ نے کہا جی ہاں! جو شخص بھی آپ جیسی دعوت لے کر آیا لوگوں نے اس سے عداوت کی اور اگر مجھے آپ کا زمانہ ملا تو میں آپ کی مضبوط مدد کروں گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25865]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3، م: 160
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3، م: 160
حدیث نمبر: 25866 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ , قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ , عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , " أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كُنَّ يَخْرُجْنَ بِاللَّيْلِ إِذَا تَبَرَّزْنَ إِلَى الْمَنَاصِعِ , وَهُوَ صَعِيدٌ أَفْيَحُ , وَكَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَقُولُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: احْجُبْ نِسَاءَكَ , فَلَمْ يَكُنْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ , فَخَرَجَتْ سَوْدَةُ بِنْتُ زَمْعَةَ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مِنَ اللَّيَالِي عِشَاءً , وَكَانَتْ امْرَأَةً طَوِيلَةً , فَنَادَاهَا عُمَرُ أَلَا قَدْ عَرَفْنَاكِ يَا سَوْدَةُ وحِرْصًا عَلَى أَنْ يُنْزَلَ الْحِجَابُ , قَالَتْ عَائِشَةُ فَأُنْزِلَ الْحِجَابُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج مطہرات قضاء حاجت کے لئے خالی میدانوں کی طرف رات کے وقت نکلا کرتی تھیں، ایک مرتبہ حضرت سودہ قضاء حاجت کیلئے نکلیں چونکہ ان کا قد لمبا اور جسم بھاری تھا (اس لئے لوگ انہیں پہچان لیتے تھے) راستے میں انہیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ مل گئے، انہوں نے حضرت سودہ کو دیکھ کر دور ہی سے پکارا سودہ! ہم نے تمہیں پہچان لیا اور یہ بات انہوں نے حجاب کا حکم نازل ہونے کی امید میں کہی تھی، چنانچہ آیت حجاب نازل ہوگئی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25866]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 146، م: 2170
الحكم: إسناده صحيح، خ: 146، م: 2170
حدیث نمبر: 25867 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , حَدَّثَنَا لَيْثٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا عُقَيْلٌ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَبَّلَهَا وَهُوَ صَائِمٌ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزے کی حالت میں انہیں بوسہ دیا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25867]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه اختلاف
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه اختلاف
حدیث نمبر: 25868 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، الزُّهْرِيِّ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ وعَنِ الزُّهْرِيِّ , فَذَكَرَهُ بِإِسْنَادِهِ وَمَعْنَاهُ.
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على ابن أبى ذئب
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على ابن أبى ذئب
حدیث نمبر: 25869 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، نَافِعٌ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ , قَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ , عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ أَصْحَابَ هَذِهِ الصُّوَرِ يُعَذَّبُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ , وَيُقَالُ لَهُمْ أَحْيُوا مَا خَلَقْتُمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ان تصویروں والوں کو قیامت کے دن عذاب میں مبتلا کیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ جو چیزیں تم نے تخلیق کی تھیں، انہیں زندگی بھی دو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25869]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7557، م: 1207
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7557، م: 1207
حدیث نمبر: 25870 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ , قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تَقُولُ:" مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُسَبِّحُ سُبْحَةَ الضُّحَى , وَكَانَتْ عَائِشَةُ تُسَبِّحُهَا , وَكَانَتْ تَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَرَكَ كَثِيرًا مِنَ الْعَمَلِ خَشْيَةَ أَنْ يَسْتَنَّ النَّاسُ بِهِ فَيُفْرَضَ عَلَيْهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاشت کی نماز کبھی نہیں پڑھی، البتہ وہ پڑھتی تھیں اور کہتی تھیں کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی عمل کو محبوب رکھنے کے باوجود اس وجہ سے اسے ترک فرما دیتے تھے کہ کہیں لوگ اس پر عمل نہ کرنے لگیں جس کے نتیجے میں وہ عمل ان پر فرض ہوجائے (اور پھر وہ نہ کرسکیں) اس لئے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چاہتے تھے کہ لوگوں پر فرائض میں تخفیف ہونا زیادہ بہتر ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25870]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1128، م: 718
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1128، م: 718
حدیث نمبر: 25871 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، لَيْثٌ ، عُقَيْلٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا لَيْثٌ , قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ , عَنْ ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ: " وَاللَّهِ مَا خُيِّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ أَمْرَيْنِ قَطُّ , إِلَّا أَخَذَ أَيْسَرَهُمَا مَا لَمْ يَأْثَمْ , فَإِذَا كَانَ الْإِثْمُ , كَانَ أَبْعَدَهُمْ مِنْهُ , وَاللَّهِ مَا انْتَقَمَ لِنَفْسِهِ فِي شَيْءٍ يُؤْتَى إِلَيْهِ قَطُّ , حَتَّى تُنْتَهَكَ حُرُمَاتُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ , فَيَنْتَقِمَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے دو چیزیں پیش کی جاتیں اور ان میں سے ایک چیز زیادہ آسان ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس چیز کو اختیار فرما لیتے تھے، الاّ یہ کہ وہ گناہ ہو، کیونکہ اگر وہ گناہ ہوتا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوسروں لوگوں کو اس نسبت سے زیادہ دور ہوتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں کوئی بھی گستاخی ہوتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس آدمی سے کبھی انتقام نہیں لیتے تھے البتہ اگر محارم الٰہی کو پامال کیا جاتا تو اللہ کے لئے انتقام لیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25871]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6786، م: 2327
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6786، م: 2327
حدیث نمبر: 25872 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " رُبَّمَا فَتَلْتُ الْقَلَائِدَ لِهَدْيِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَيُقَلِّدُ هَدْيَهُ , ثُمَّ يَبْعَثُ بِهِ , ثُمَّ يُقِيمُ لَا يَجْتَنِبُ شَيْئًا مِمَّا يَجْتَنِبُ الْمُحْرِمُ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہدی کا جانور مکہ مکرمہ بھیجتے تھے اور میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہدی کے جانور یعنی بکری کے قلادے بٹا کرتی تھی، اس کے بعد بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی چیز سے اپنے آپ کو نہیں روکتے تھے (جن سے محرم بچتے تھے) گزشتہ حدیث اور دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25872]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1702، م: 1321
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1702، م: 1321
حدیث نمبر: 25873 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، هِشَامٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَهُ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح وانظر ماقبله
الحكم: إسناده صحيح وانظر ماقبله
حدیث نمبر: 25874 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " لَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ الطِّيبِ فِي مَفَارِقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُهِلُّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25874]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 271، م: 1190
الحكم: إسناده صحيح، خ: 271، م: 1190
حدیث نمبر: 25875 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ , قَالَتْ: فَقُلْنَا: قَدْ حَاضَتْ , قَالَتْ: فَقَالَ: " عَقْرَى حَلْقَى , مَا أُرَاهَا إِلَّا حَابِسَتَنَا" قَالَتْ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّهَا قَدْ طَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ , قَالَ:" فَلَا إِذًا , مُرُوهَا فَلْتَنْفِرْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا تو ہم نے بتایا کہ ان کے " ایام " شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ عورتیں تو کاٹ دیتی ہیں اور مونڈ دیتی ہیں، وہ ٹھہرنے پر مجبور کر دے گی؟ ہم نے کہا یاسول اللہ! اس نے دس ذی الحجہ کو طواف زیارت کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بس پھر کوئی حرج نہیں، اب روانہ ہوجاؤ۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25875]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1771، م: 1211
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1771، م: 1211
حدیث نمبر: 25876 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنْ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , جَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ , فَقَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ" , قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ , وَإِنَّهُ مَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ , فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ , فَقَالَ:" مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ" , قَالَتْ: فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ: قُولِي لَهُ , فَقَالَتْ لَهُ حَفْصَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ أَسِيفٌ , وَإِنَّهُ مَتَى يَقُومُ مَقَامَكَ لَا يُسْمِعُ النَّاسَ , فَلَوْ أَمَرْتَ عُمَرَ , فَقَالَ:" إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ , مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ , قَالَتْ فَأَمَرُوا أَبَا بَكْرٍ يُصَلِّي بِالنَّاسِ , فَلَمَّا دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ , وَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَفْسِهِ خِفَّةً , فَقَالَتْ: فَقَامَ يُهَادَى بَيْنَ رَجُلَيْنِ , وَرِجْلَاهُ تَخُطَّانِ فِي الْأَرْضِ , حَتَّى دَخَلَ الْمَسْجِدَ , فَلَمَّا سَمِعَ أَبُو بَكْرٍ حِسَّهُ , ذَهَبَ لِيَتَأَخَّرَ , فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ قُمْ كَمَا أَنْتَ , فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى جَلَسَ عَنْ يَسَارِ أَبِي بَكْرٍ , وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ قَاعِدًا , وَأَبُو بَكْرٍ قَائِمًا يَقْتَدِي أَبُو بَكْرٍ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , وَالنَّاسُ يَقْتَدُونَ بِصَلَاةِ أَبِي بَكْرٍ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو ایک مرتبہ حضرت بلال رضی اللہ عنہ انہیں نماز کی اطلاع دینے کے لئے حاضر ہوئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابوبکر سے کہہ دو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ! ابوبکر رقیق القلب آدمی ہیں، جب وہ آپ کی جگہ پر کھڑے ہوں گے تو رونے لگیں گے اور اپنے اوپر قابو نہ رکھ سکیں گے، اس لئے آپ عمر کو اس کا حکم دے دیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر وہی حکم دیا، ہم نے بھی اپنی بات دہرا دی، تیسری مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ابوبکر سے کہہ دو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دیں، تم تو یوسف والیاں ہو، چنانچہ میں نے والد صاحب کے پاس پیغام بھیج دیا۔ کچھ دیر بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی مرض میں تحفیف محسوس ہوئی اور وہ دو آدمیوں کے درمیان سہارا لے کر اس طرح نکلے کہ ان کے پاؤں زمین پر لکیر بناتے جا رہے تھے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو جب محسوس ہوا تو وہ پیچھے ہٹنے لگے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی طرف اشارہ کیا کہ اپنی جگہ ہی رہو۔ اور خود حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ایک جانب بیٹھ گئے۔ اب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اقتداء کر رہے تھے اور لوگ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25876]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 713، م: 418
الحكم: إسناده صحيح، خ: 713، م: 418
حدیث نمبر: 25877 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ نَذَرَ أَنْ يُطِيعَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , فَلْيُطِعْهُ , وَمَنْ نَذَرَ أَنْ يَعْصِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , فَلَا يَعْصِهِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے کسی کام کی منت مانی ہو، اسے اللہ کی اطاعت کرنی چاہئیے اور جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی منت مانی ہو وہ اس کی نافرمانی نہ کرے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25877]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6696
الحكم: حديث صحيح، خ: 6696