أَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفِيَّةَ , قَالَتْ: فَقُلْنَا: قَدْ حَاضَتْ , قَالَتْ: فَقَالَ: " عَقْرَى حَلْقَى , مَا أُرَاهَا إِلَّا حَابِسَتَنَا" قَالَتْ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّهَا قَدْ طَافَتْ يَوْمَ النَّحْرِ , قَالَ:" فَلَا إِذًا , مُرُوهَا فَلْتَنْفِرْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کا تذکرہ کیا تو ہم نے بتایا کہ ان کے " ایام " شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ عورتیں تو کاٹ دیتی ہیں اور مونڈ دیتی ہیں، وہ ٹھہرنے پر مجبور کر دے گی؟ ہم نے کہا یاسول اللہ! اس نے دس ذی الحجہ کو طواف زیارت کیا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بس پھر کوئی حرج نہیں، اب روانہ ہوجاؤ۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25875]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1771، م: 1211
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1771، م: 1211