حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، قيسِ بْنِ وَهْبٍ ، شَيْخٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَال: َأَخْبَرَنَا شَرِيكٌ , عَنْ قيسِ بْنِ وَهْبٍ , عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي سَرَاةَ , قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ , فَقُلْتُ: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَجْنَبَ يَغْسِلُ رَأْسَهُ بِغُسْلٍ يَجْتَزِئُ بِذَلِكَ , أَمْ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ , قَالَتْ: " بَلْ يُفِيضُ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
بنو سوارہ کے ایک بزرگ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اختیاری طور پر ناپاکی سے غسل فرماتے تھے، تو جسم پر پانی ڈالتے وقت سر پر جو پانی پڑتا تھا اسے کافی سمجھتے تھے یا سر پر نئے سرے سے پانی ڈالتے تھے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ نہیں بلکہ نئے سرے سے سر پر پانی ڈالتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25860]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الشيخ من بني سواءة ولضعف شريك
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الشيخ من بني سواءة ولضعف شريك