بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 615
صفحہ 6 از 31
حدیث نمبر: 25898 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَائِلُ بْنُ دَاوُدَ ، الْبَهِيَّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَائِلُ بْنُ دَاوُدَ , قَالَ: سَمِعْتُ الْبَهِيَّ يُحَدِّثُ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " مَا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ فِي جَيْشٍ قَطُّ إِلَّا أَمَّرَهُ عَلَيْهِمْ , وَلَوْ بَقِيَ بَعْدَهُ اسْتَخْلَفَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کبھی لشکر میں حضرت زید بن حارثہ کو بھیجا تو انہی کو اس لشکر کا امیر مقرر فرمایا: اگر وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد زندہ رہتے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہی کو اپنا خلیفہ مقرر فرماتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25898]
حکم دارالسلام
إسناده حسن إن صح سماع البهي من عائشة
الحكم: إسناده حسن إن صح سماع البهي من عائشة
حدیث نمبر: 25899 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ ، عِرَاكَ بْنَ مَالِكٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ , عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ , أَنَّ عِرَاكَ بْنَ مَالِكٍ ، حَدَّثَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ , أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَ أَنْ يَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِفُرُوجِهِمْ , فَقَالَ " أَوَ قَدْ فَعَلُوهَا؟ حَوِّلُوا مَقْعَدِي قِبَلَ الْقِبْلَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے یہ تذکرہ ہوا کہ کچھ لوگ اپنی شرمگاہ کا رخ قبلہ کی جانب کرنے کو ناپسند کرتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا وہ ایسا کرتے ہیں؟ بیت الخلاء میں میرے بیٹھنے کی جگہ کا رخ قبلہ کی جانب کردو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25899]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف على نكارة فى متنه، خالد بن أبى الصلت لم يسمع من عراك وهو ضعيف أيضا
الحكم: إسناده ضعيف على نكارة فى متنه، خالد بن أبى الصلت لم يسمع من عراك وهو ضعيف أيضا
حدیث نمبر: 25900 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَتَادَةَ ، الْحَسَنِ ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنِ الْحَسَنِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يُوتِرُ بِتِسْعِ رَكَعَاتٍ فَلَمَّا بَدَّنَ وَلَحُمَ , صَلَّى سَبْعَ رَكَعَاتٍ , ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ , قَالَ عَفَّانُ فَلَمَّا لَحُمَ وَبَدَّنَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نو رکعتوں پر وتر بناتے تھے، پھر جب عمر مبارک زیادہ ہوگئی اور جسم مبارک بھاری ہوگیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سات رکعتوں پر وتر بنانے لگے پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھے بیٹھے دو رکعتیں پڑھ لیتے تھے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25900]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25901 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، حُمَيْدٍ ، بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، وَعَفَّانُ , قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ حُمَيْدٍ , عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , بِمِثْلِهِ.
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25902 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ النُّعْمَانِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ , اغْتَسَلَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25902]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 25903 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، زُهَيْرٌ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُهَاجِرٍ الْبَجَلِيُّ ، مُجَاهِدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُهَاجِرٍ الْبَجَلِيُّ , عَنْ مُجَاهِدٍ , أَنَّ السَّائِبَ سَأَلَ عَائِشَةَ , فَقَالَ: إِنِّي لَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أُصَلِّيَ إِلَّا جَالِسًا , فَكَيْفَ تَرَيْنَ؟ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " صَلَاةُ الرَّجُلِ جَالِسًا مِثْلُ نِصْفِ صَلَاتِهِ قَائِمًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ سائب نے ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ میں صرف بیٹھ کر ہی نماز پڑھ سکتا ہوں تو آپ کی کیا رائے ہے؟ انہوں نے فرمایا میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ بیٹھ کر نماز پڑھنے کا ثواب کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے نصف ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25903]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، إبراهيم بن مهاجر فيه ضعف وقد اختلف عليه
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، إبراهيم بن مهاجر فيه ضعف وقد اختلف عليه
حدیث نمبر: 25904 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، حَمَّادٌ ، بُدَيْلُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ , حَدَّثَنَا بُدَيْلُ بْنُ مَيْسَرَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَرَأَ قَائِمًا , رَكَعَ قَائِمًا , وَإِذَا قَرَأَ قَاعِدًا , رَكَعَ قَاعِدًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو کر قرأت کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے اور جب قراءت بیٹھ کر کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25904]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 730
الحكم: إسناده صحيح، خ: 730
حدیث نمبر: 25905 مسند احمد
أَبُو كَامِلٍ ، إِبْرَاهِيمُ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، لِعَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو كَامِلٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ , حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ , قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : أَرَأَيْتِ قَوْلَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 فوَاللَّهِ مَا عَلَى أَحَدٍ جُنَاحٌ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا , قَالَتْ: " بِئْسَمَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي , إِنَّهَا لَوْ كَانَتْ كَمَا أَوَّلْتَهَا عَلَيْهِ كَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا إِنَّمَا أُنْزِلَتْ أَنَّ هَذَا الْحَيَّ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا , يُهِلُّوا لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي كَانُوا يَعْبُدُونَ عِنْدَ الْمُشَلَّلِ , وَكَانَ مَنْ أَهَلَّ لَهَا يَتَحَرَّجُ أَنْ يَطَّوَّفَ بِالصَّفَا والْمَرْوَةِ , فَسَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ , فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّ الصَّفَا، وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 , قَالتَ: ثُمَّ قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بِهِمَا , فَلَيْسَ يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَدَعَ الطَّوَافَ بِهِمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عروہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے " إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا " اس کا مطلب تو یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی صفا مروہ کے درمیان سعی نہ کرے تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہوگا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا بھانجھے! یہ تم نے غلط بات کہی، اگر اس آیت کا وہ مطلب ہوتا جو تم نے بیان کیا ہے پھر آیت اس طرح ہوتی " فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا " دراصل اس آیت کا شان نزول یہ ہے کہ اسلام قبول کرنے سے پہلے کے لوگ " مناۃ " کے لئے احرام باندھتے تھے اور مشل کے قریب اس کی پوجا کرتے تھے اور جو شخص احرام باندھتا، وہ صفا مروہ کی سعی کو گناہ سمجھتا تھا، پھر انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا یا رسول اللہ! لوگ زمانہ جاہلیت میں صفا مروہ کی سعی کو گناہ سمجھتے تھے، اب اس کا کیا حکم ہے؟ اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صفا مروہ کی سعی کا ثبوت اپنی سنت سے پیش کیا لہذا اب کسی کے لئے صفا مروہ کی سعی چھوڑنا صحیح نہیں ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25905]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1643، م: 1277
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1643، م: 1277
حدیث نمبر: 25906 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، خُصَيْفٍ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ خُصَيْفٍ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ جُرَيْجٍ , قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ بِأَيِّ شَيْءٍ كَانَ يُوتِرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: " كَانَ يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى بِ سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى , وَفِي الثَّانِيَةَ بِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ , وَفِي الثَّالِثَةِ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ , و َالْمُعَوِّذَتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالعزیز بن جریخ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وتروں میں کون سی سورتیں پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا پہلی رکعت میں " سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى" دوسری میں " قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ " اور تیسری میں " قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " اور معوذتین کی تلاوت فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25906]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: والمعوذتين، وهذا إسناد ضعيف عبدالعزيز بن جريج، ثم إنه لم يسمع من عائشة
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: والمعوذتين، وهذا إسناد ضعيف عبدالعزيز بن جريج، ثم إنه لم يسمع من عائشة
حدیث نمبر: 25907 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، هِشَامٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ هِشَامٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ: " كَانَ يُطِيلُ الصَّلَاةَ قَائِمًا وَقَاعِدًا , وَكَانَ إِذَا صَلَّى قَائِمًا , رَكَعَ قَائِمًا , وَإِذَا صَلَّى قَاعِدًا , رَكَعَ قَاعِدًا" , وَسَأَلْتُهَا عَنْ صِيَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ صَامَ , قَدْ صَامَ , قَدْ صَامَ , وَيُفْطِرُ حَتَّى نَقُولَ قَدْ أَفْطَرَ , قَدْ أَفْطَرَ , قَدْ أَفْطَرَ , وَلَمْ يَصُمْ شَهْرًا تَامًّا مُنْذُ أَتَى الْمَدِينَةَ إِلَّا أَنْ يَكُونَ شَهْرَ رَمَضَانَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نفل نمازوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہو کر اور بیٹھ کر طویل نماز پڑھتے تھے، جب کھڑے ہو کر نماز پڑھتے تو کھڑے ہو کر ہی رکوع کرتے اور بیٹھ کر نماز پڑھتے تو رکوع بھی بیٹھ کر ہی کرتے، پھر میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نفلی روزوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ بعض اوقات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنے روزے رکھتے کہ ہم اس کا تذکرہ کرنے لگتے اور بعض اوقات ناغے کرتے کہ ہم اس کا تذکرہ کرنے لگتے اور مدینہ منورہ آنے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ماہ رمضان کے علاوہ کسی مہینے کے پورے روزے نہیں رکھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25907]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 730
الحكم: إسناده صحيح، خ: 730
حدیث نمبر: 25908 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: رَجَعَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ جَنَازَةٍ بِالْبَقِيعِ , وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا فِي رَأْسِي , وَأَنَا أَقُولُ: وَا رَأْسَاهْ , قَالَ: " بَلْ أَنَا وَا رَأْسَاهْ" , قَالَ:" مَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي , فَغَسَّلْتُكِ وَكَفَّنْتُكِ , ثُمَّ صَلَّيْتُ عَلَيْكِ , وَدَفَنْتُكِ" , قُلْتُ: لَكِنِّي , أَوْ لَكَأَنِّي بِكَ وَاللَّهِ لَوْ فَعَلْتَ ذَلِكَ لَقَدْ رَجَعْتَ إِلَى بَيْتِي , فَأَعْرَسْتَ فِيهِ بِبَعْضِ نِسَائِكَ , قَالَتْ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ بُدِئَ بِوَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مرض الوفات کی ابتداء ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بقیع سے میرے یہاں تشریف لائے، میرے سر میں درد ہو رہا تھا اس لئے میں نے کہا ہائے میرا سر، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مذاق میں فرمایا میری خواہش ہے کہ جو ہونا ہے وہ میری زندگی میں ہوجائے تو میں اچھی طرح تمہیں تیار کر کے دفن کر دوں، میں نے کہا کہ آپ کا مقصد کچھ اور ہے، آپ اسی دن کسی اور عورت کے ساتھ دولہا بن کر شب باشی کریں گے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسکرانے لگے، پھر مرض الوفات شروع ہوگیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25908]
حکم دارالسلام
حديث حسن، محمد بن إسحاق صرح بالتحديث فى بعض الطرق فانتفت شبهة تدليسه
الحكم: حديث حسن، محمد بن إسحاق صرح بالتحديث فى بعض الطرق فانتفت شبهة تدليسه
حدیث نمبر: 25909 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، ابْنِ إِسْحَاقَ ، أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ ، الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ ، صَفِيَّهَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ , عَنْ أَبَانَ بْنِ صَالِحٍ , عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمِ بْنِ يَنَّاقٍ , عَنْ صَفِيَّهَ بِنْتِ شَيْبَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: جَاءَتْهَا امْرَأَةٌ , فَقَالَتْ ابْنَةٌ لِي سَقَطَ شَعْرُهَا: أَفَنَجْعَلُ عَلَى رَأْسِهَا شَيْئًا نُجَمِّلُهَا بِهِ؟ قَالَتْ: سَمِعْتُ امْرَأَةً تَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مِثْلِ مَا سَأَلْتِ عَنْهُ؟ فَقَالَ: " لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک عورت ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میری بیٹی کی نئی نئی شادی ہوئی ہے، یہ بیمار ہوگئی ہے اور اس کے سر کے بال جھڑ رہے ہیں، کیا میں اس کے سر پر دوسرے بال لگوا سکتی ہوں؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بال لگانے والی اور لگوانے والی دونوں پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25909]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق وقد صرح بالتحديث عنه الحافظ فى التغليق وقد توبع
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل ابن إسحاق وقد صرح بالتحديث عنه الحافظ فى التغليق وقد توبع
حدیث نمبر: 25910 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ ، عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ ,
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادٍ , عَنْ أَبِيهِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ , قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ , فَقَالَتْ: " مَا اعْتَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا فِي ذِي الْقِعْدَةِ , وَلَقَدْ اعْتَمَرَ ثَلَاثَ عُمَرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبادہ بن عبداللہ بن زبیر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو ذیقعدہ میں ہی عمرہ کیا تھا اور انہوں نے تین عمرے کئے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25910]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لتدليس ابن إسحاق وقد عنعن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لتدليس ابن إسحاق وقد عنعن
حدیث نمبر: 25911 مسند احمد
مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، خُصَيْفٍ ، مُجَاهِدٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مَعْمَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ خُصَيْفٍ , عَنْ مُجَاهِدٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ خَمْسٍ لُبْسِ الْحَرِيرِ وَالذَّهَبِ , وَالشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ , وَالْمِيثَرَةِ الْحَمْرَاءِ , وَلُبْسِ الْقَسِّيِّ" , فَقَالَتْ عَائِشَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ , شَيْءٌ رَقِيقٌ مِنَ الذَّهَبِ , يُرْبَطُ بِهِ الْمِسْكُ , أَوْ يُرْبَطُ بِهِ قَالَ:" لَا , اجْعَلِيهِ فِضَّةً , وَصَفِّرِيهِ بِشَيْءٍ مِنْ زَعْفَرَانٍ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں پانچ چیزوں سے منع فرمایا ہے، ریشم اور سونا پہننے سے، سونے اور چاندی کے برتن میں پینے سے، سرخ زین پوش سے اور ریشمی لباس سے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ! اگر تھوڑا سا سونا مشک کے ساتھ ملا لیا جائے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نہیں، تم اسے چاندی کے ساتھ ملا لیا کرو، پھر اسے زعفران کے ساتھ خلط ملط کرلیا کرو۔ عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نفل نمازوں کے متعلق دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25911]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف خصيف والنهي عن بعض اشياء الورادة فى هذا الحديث ثابت بالاحاديث الصحيحة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف خصيف والنهي عن بعض اشياء الورادة فى هذا الحديث ثابت بالاحاديث الصحيحة
حدیث نمبر: 25912 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، هِشَامٌ ، ابْنِ سِيرِينَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنِ ابْنِ سِيرِينَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , قَالَ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى قَائِمًا" , فَذَكَرَ مَعْنَى حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ.
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 730
الحكم: إسناده صحيح، م: 730
حدیث نمبر: 25913 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: جَاءَتْ سَهْلَةُ بِنْتُ سُهَيْلٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ: إِنَّ سَالِمًا كَانَ يُدْعَى لِأَبِي حُذَيْفَةَ , وَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَنْزَلَ كِتَابَهُ ادْعُوهُمْ لآبَائِهِمْ سورة الأحزاب آية 5 فَكَانَ يَدْخُلُ عَلَيَّ , وَأَنَا فُضُلٌ , وَنَحْنُ فِي مَنْزِلٍ ضَيِّقٍ , فَقَالَ: " أَرْضِعِي سَالِمًا تَحْرُمِي عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک دن حضرت سہلہ آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ! ہم سالم کو اپنا بیٹا سمجھتے تھے، وہ میرے اور ابوحذیفہ کے ساتھ رہتا تھا اور میری پردہ کی باتیں دیکھتا تھا، اب اللہ نے منہ بولے بیٹوں کے متعلق حکم نازل کردیا ہے، جو آپ بھی جانتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے اپنا دودھ پلا دو، تم اس پر حرام ہوجاؤ گی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25913]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5088، م: 1453
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5088، م: 1453
حدیث نمبر: 25914 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٍ ، الزُّهْرِيُّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ , عَنْ مَعْمَرٍ , قَالَ: قَالَ الزُّهْرِيُّ ، وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ , أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ , قَالَتْ:" أَوَّلُ مَا اشْتَكَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ , فَاسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَهُ أَنْ يُمَرَّضَ فِي بَيْتِهَا , فَأَذِنَّ لَهُ , قالت: فَخَرَجَ وَيَدٌ لَهُ عَلَى الْفَضْلِ بْنِ عَبَّاسٍ , وَيَدٌ لَهُ عَلَى رَجُلٍ آخَرَ , وَهُوَ يَخُطُّ بِرِجْلَيْهِ فِي الْأَرْضِ , قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ فَحَدَّثْتُ بِهِ ابْنَ عَبَّاسٍ , فَقَالَ: أَتَدْرُونَ مَنْ الرَّجُلُ الْآخَرُ الَّذِي لَمْ تُسَمِّ عَائِشَةُ؟ هُوَ عَلِيٌّ , وَلَكِنَّ عَائِشَةَ لَا تَطِيبُ لَهُ نَفْسًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیماری کا آغاز حضرت میمونہ کے گھر میں ہوا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی ازواج مطہرات سے بیماری کے ایام میرے گھر میں گزارنے کی اجازت طلب کی تو سب نے اجازت دے دی، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت عباس اور ایک دوسرے آدمی (بقول راوی وہ حضرت علی تھے لیکن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کا نام ذکر کرنا ضروری نہ سمجھا) کے سہارے پر وہاں سے نکلے، اس وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاؤں مبارک زمین پر گھستے ہوئے جا رہے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25914]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 418
الحكم: إسناده صحيح، م: 418
حدیث نمبر: 25915 مسند احمد
الزُّهْرِيُّ ، عُرْوَةُ ، عَمْرَةُ ، عَائِشَةَ
قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَأَخْبَرَنِي عُرْوَةُ , أَوْ عَمْرَةُ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ: " صُبُّوا عَلَيَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْكِيَتُهُنّ , لَعَلِّي أَسْتَرِيحُ , فَأَعْهَدَ إِلَى النَّاسِ" , قَالَتْ عَائِشَةُ فَأَجْلَسْنَاهُ فِي مِخْضَبٍ لِحَفْصَةَ مِنْ نُحَاسٍ , وَسَكَبْنَا عَلَيْهِ الْمَاءَ مِنْهُنَّ حَتَّى طَفِقَ يُشِيرُ إِلَيْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنّ , ثُمَّ خَرَجَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے مرض الوفات میں فرمایا مجھ پر سات ایسے مشکیزوں کا پانی ڈالو جن کا منہ نہ کھولا گیا ہو، شاید مجھے کچھ آرام ہوجائے، تو میں لوگوں کو نصیحت کر دوں، چنانچہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حضرت حفصہ رضی اللہ عنہ کے پاس موجود پیتل کے ایک ٹب میں بٹھایا اور ان مشکیزوں کا پانی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ڈالنے لگے حتیٰ کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمیں اشارے سے کہنے لگے بس کرو، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باہر تشریف لائے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25915]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 198
الحكم: حديث صحيح، خ: 198
حدیث نمبر: 25916 مسند احمد
الزُّهْرِيُّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَائِشَةُ ، وَابْنُ عَبَّاسٍ
قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ : وَأَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , قَالَ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ وَابْنُ عَبَّاسٍ ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ نَزَلَ بِهِ , جَعَلَ يُلْقِي خَمِيصَةً لَهُ عَلَى وَجْهِهِ , فَإِذَا اغْتَمَّ , كَشَفَهَا عَنْ وَجْهِهِ وَهُوَ يَقُولُ: " لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْيَهُودِ وَالنَّصَارَى , اتَّخَذُوا قُبُورَ أَنْبِيَائِهِمْ مَسَاجِدَ" , قَالَ: تَقُولُ عَائِشَةُ يُحَذِّرُ مِثْلَ الَّذِي صَنَعُوا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرض الوفات میں مبتلا ہوئے تو بار بار اپنے رخ انور پر چادر ڈال لیتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گھبراہٹ ہوتی تو وہ چادر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے چہرے سے ہٹا دیتے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے کہ یہودونصاریٰ پر اللہ کی لعنت ہو، انہوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ دراصل نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے اس عمل سے لوگوں کو تنبیہ فرما رہے تھے تاکہ وہ اس میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25916]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 435 ،م: 531
الحكم: إسناده صحيح، خ: 435 ،م: 531
حدیث نمبر: 25917 مسند احمد
الزُّهْرِيُّ ، حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَائِشَةَ
قَالَ قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَأَخْبَرَنِي حَمْزَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ , عَنْ عَائِشَةَ , لَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْتِي , قَالَ: " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ" , قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَجُلٌ رَقِيقٌ , إِذَا قَرَأَ الْقُرْآنَ لَا يَمْلِكُ دَمْعَهُ , فَلَوْ أَمَرْتَ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ , قَالَتْ: وَاللَّهِ مَا بِي إِلَّا كَرَاهِيَةُ أَنْ يَتَشَاءَمَ النَّاسُ بِأَوَّلِ مَنْ يَقُومُ فِي مَقَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَتْ فَرَاجَعْتُهُ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا , فَقَالَ:" لِيُصَلِّ بِالنَّاسِ أَبُو بَكْرٍ , فَإِنَّكُنَّ صَوَاحِبُ يُوسُفَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب میرے گھر آگئے تو فرمایا ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، حضرت عائشہ نے عرض کیا یا رسول اللہ! ابورقیق القلب آدمی ہیں، وہ اپنے آنسوؤں پر قابو نہ رکھ سکیں گیں، کیونکہ حضرت ابوبکر جب بھی قرآن کریم کی تلاوت فرماتے تو رونے لگتے تھے اور میں نے یہ بات صرف اس لئے کہی تھی کہ کہیں لوگ حضرت ابوبکر کے متعلق یہ نہ کہنا شروع کردیں کہ یہ ہے وہ پہلا آدمی جو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جگہ کھڑا ہوا تھا اور گنہگا بن جائیں، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر فرمایا ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، جب میں نے تکرار کی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہی حکم دیا اور فرمایا تم یوسف علیہ السلام پر فریفتہ ہونے والی عورتوں کی طرح ہو (جو دل میں کچھ رکھتی تھیں اور زبان سے کچھ ظاہر کرتی تھیں) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25917]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 682، م: 418
الحكم: إسناده صحيح، خ: 682، م: 418