مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ , عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ عُتْبَةَ , عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: رَجَعَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنْ جَنَازَةٍ بِالْبَقِيعِ , وَأَنَا أَجِدُ صُدَاعًا فِي رَأْسِي , وَأَنَا أَقُولُ: وَا رَأْسَاهْ , قَالَ: " بَلْ أَنَا وَا رَأْسَاهْ" , قَالَ:" مَا ضَرَّكِ لَوْ مِتِّ قَبْلِي , فَغَسَّلْتُكِ وَكَفَّنْتُكِ , ثُمَّ صَلَّيْتُ عَلَيْكِ , وَدَفَنْتُكِ" , قُلْتُ: لَكِنِّي , أَوْ لَكَأَنِّي بِكَ وَاللَّهِ لَوْ فَعَلْتَ ذَلِكَ لَقَدْ رَجَعْتَ إِلَى بَيْتِي , فَأَعْرَسْتَ فِيهِ بِبَعْضِ نِسَائِكَ , قَالَتْ: فَتَبَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ بُدِئَ بِوَجَعِهِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جس دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مرض الوفات کی ابتداء ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بقیع سے میرے یہاں تشریف لائے، میرے سر میں درد ہو رہا تھا اس لئے میں نے کہا ہائے میرا سر، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مذاق میں فرمایا میری خواہش ہے کہ جو ہونا ہے وہ میری زندگی میں ہوجائے تو میں اچھی طرح تمہیں تیار کر کے دفن کر دوں، میں نے کہا کہ آپ کا مقصد کچھ اور ہے، آپ اسی دن کسی اور عورت کے ساتھ دولہا بن کر شب باشی کریں گے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسکرانے لگے، پھر مرض الوفات شروع ہوگیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25908]
حکم دارالسلام
حديث حسن، محمد بن إسحاق صرح بالتحديث فى بعض الطرق فانتفت شبهة تدليسه
الحكم: حديث حسن، محمد بن إسحاق صرح بالتحديث فى بعض الطرق فانتفت شبهة تدليسه