بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 615
صفحہ 12 از 31
حدیث نمبر: 26018 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ , فَخَرَجْتُ فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ رَافِعٌ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ , فَقَالَ لِي: " أَكُنْتِ تَخَافِينَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ؟" قَالَتْ: قُلْتُ: يا رسول الله , ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِكَ , فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا , فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعَرِ غَنَمِ كَلْبٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے بستر پر نہ پایا، میں نکلی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنت البقیع میں آسمان کی طرف سر اٹھائے دعا فرما رہے تھے، مجھے دیکھ کر فرمایا کیا تمہیں اس بات کا اندیشہ ہوگیا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول تم پر ظلم کریں گے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں سمجھی تھی کہ شاید آپ اپنی کسی زوجہ کے پاس گئے ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں رات کو آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ تعداد میں لوگوں کو معاف فرماتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26018]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة
حدیث نمبر: 26019 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةَ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَتَوَضَّأُ بِقَدْرِ الْمُدِّ , وَيَغْتَسِلُ بِقَدْرِ الصَّاعِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک مد کے قریب پانی سے وضو فرما لیتے تھے اور ایک صاع کے قریب پانی سے غسل فرما لیتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26019]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26020 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَجَّاجٌ ، قَتَادَةَ ، صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا حَجَّاجٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِنَّ لِكُلِّ قَوْمٍ مَادَّةٌ , وَإِنَّ مَادَّةَ قُرَيْشٍ مَوَالِيهِمْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ہر چیز کا ایک مادہ ہوتا ہے اور قریش کا مادہ ان کے آزاد کردہ غلام ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26020]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف حجاج وهو ابن أرطاة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف حجاج وهو ابن أرطاة
حدیث نمبر: 26021 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ , عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي مِنَ الَّذِينَ إِذَا أَحْسَنُوا اسْتَبْشَرُوا , وَإِذَا أَسَاءُوا اسْتَغْفَرُوا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے کہ اے اللہ! مجھے ان لوگوں میں شامل فرما جو نیکی کرتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں اور اگر گناہ کر بیٹھیں تو استغفار کرتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26021]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لأجل على بن زيد بن جدعان
الحكم: إسناده ضعيف لأجل على بن زيد بن جدعان
حدیث نمبر: 26022 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْجُرَيْرِيُّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا الْجُرَيْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ , وَقَالَ يَزِيدُ مَرَّةً: رَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا , وَرَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ , وَكَانَ يَقُولُ: نِعْمَ السُّورَتَانِ هُمَا يَقْرَءُونَهُمَا فِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و َقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور فجر سے پہلے دو رکعتیں پڑھتے تھے اور فرماتے تھے کہ یہ دو سورتیں کتنی اچھی ہیں " قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ " اور " وَقُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " جنہیں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر سے پہلے کی دو رکعتوں میں پڑھا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26022]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 730
الحكم: حديث صحيح، م: 730
حدیث نمبر: 26023 مسند احمد
يَزِيدُ ، سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي الضُّحَى ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَاخْتَرْنَاهُ , فَلَمْ نَعُدَّهُ طَلَاقًا" , قَالَ أَبُو بَكْرٍ سَقَطَ مِنْ كِتَابِي أَبُو الضُّحَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اپنے پاس رہنے یا دنیا لینے کا اختیار دیا، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اختیار کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ہم پر کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26023]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على الثوري
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على الثوري
حدیث نمبر: 26024 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، أَبِي مَعْشَرٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ , عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ " كُنْتُ أَفْرُكُ الْمَنِيَّ مِنْ ثَوْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کپڑوں سے آب حیات کھرچ دیا کرتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26024]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 288
الحكم: إسناده صحيح، م: 288
حدیث نمبر: 26025 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، ثَابِتٍ البُنَانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ النُّعْمَانِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ ثَابِتٍ البُنَانِيِّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ , عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ النُّعْمَانِ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا الْتَقَى الْخِتَانَانِ وَجَبَ الْغُسْلُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جب شرمگاہ، شرمگاہ سے مل جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26025]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26026 مسند احمد
يَزِيدُ ، شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ ، أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، طَلْحَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ بْنُ الْحَجَّاجِ , عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ طَلْحَةَ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ لِي جَارَيْنِ , فَإِلَى أَيِّهِمَا أُهْدِي؟ , قَالَ: " إِلَى أَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ اگر میرے دو پڑوسی ہوں تو ہدیہ کسے بھیجوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جس کا دروازہ تم سے زیادہ قریب ہو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26026]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2595
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2595
حدیث نمبر: 26027 مسند احمد
يَزِيدُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ ، عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , أَخْبَرَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ , عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ , قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ , فَذَكَرُوا الرَّجُلَ يَجْلِسُ عَلَى الْخَلَاءِ فَيَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ , فَكَرِهُوا ذَلِكَ , فَحَدَّثَ عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ ذَلِكَ ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: " أَوَقَدْ فَعَلُوهَا؟ حَوِّلِي مَقْعَدِي إِلَى الْقِبْلَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے یہ تذکرہ ہوا کہ کچھ لوگ اپنی شرمگاہ کا رخ قبلہ کی جانب کرنے کو ناپسند کرتے ہیں تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا وہ ایسا کرتے ہیں؟ بیت الخلاء میں میرے بیٹھنے کی جگہ کا رخ قبلہ کی جانب کردو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26027]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف خالد بن أبى الصلت على نكارة فى متنه
الحكم: إسناده ضعيف لضعف خالد بن أبى الصلت على نكارة فى متنه
حدیث نمبر: 26028 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، قَتَادَةَ ، زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا هِشَامٌ , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى , عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ , عَنْ عَائِشَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " الْمَاهِرُ بِالْقُرْآنِ مَعَ السَّفَرَةِ الْكِرَامِ الْبَرَرَةِ , وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ وَهُوَ يَشُقُّ عَلَيْهِ لَهُ أَجْرُهُ مَرَّتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص قرآن کریم مہارت کے ساتھ پڑھتا ہے، وہ نیک اور معزز فرشتوں کے ساتھ ہوگا اور جو شخص مشقت برداشت کر کے تلاوت کرے اسے دہرا اجر ملے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26028]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4937، م: 798
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4937، م: 798
حدیث نمبر: 26029 مسند احمد
يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ , عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهَا:" يَا عَائِشَةُ , لَوْلَا أَنَّ قَوْمَكِ حَدِيثُ عَهْدٍ بِجَاهِلِيَّةٍ لَأَمَرْتُ بِالْبَيْتِ فَهُدِمَ , فَأَدْخَلْتُ فِيهِ مَا أُخْرِجَ مِنْهُ , وَأَلْزَقْتُهُ بِالْأَرْضِ , وَجَعَلْتُ لَهُ بَابَيْنِ بَابًا شَرْقِيًّا , وَبَابًا غَرْبِيًّا , فَإِنَّهُمْ عَجَزُوا عَنْ بِنَائِهِ , فَبَلَغْتُ بِهِ أَسَاسَ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلَام" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر تمہاری قوم کا زمانہ کفر کے قریب نہ ہوتا تو میں خانہ کعبہ کو شہید کر کے اسے حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کی بنیادوں پر تعمیر کرتا کیونکہ قریش نے جب اسے تعمیر کیا تھا تو اس کا کچھ حصہ چھوڑ دیا تھا اور میں اسے زمین سے ملا کر اس کے مشرقی اور مغربی دو دروازے بناتا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26029]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1586، م: 1333
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1586، م: 1333
حدیث نمبر: 26030 مسند احمد
يَزِيدُ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ , وَهِيَ أَنْجَالٌ وَغَرْقَدٌ , فَاشْتَكَى آلُ أَبِي بَكْرٍ , فَاسْتَأْذَنْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عِيَادَةِ أَبِي , فَأَذِنَ لِي , فَأَتَيْتُهُ , فَقُلْتُ: يَا أَبَتِ , كَيْفَ تَجِدُكَ؟ قَالَ: كُلُّ امْرِئٍ مُصَبَّحٌ فِي أَهْلِهِ , وَالْمَوْتُ أَدْنَى مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ , قَالَتْ: قُلْتُ: هَجَرَ وَاللَّهِ أَبِي , ثُمَّ أَتَيْتُ عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَ , فَقُلْتُ: أَيْ عَامِرُ , كَيْفَ تَجِدُكَ؟ قَالَ: إِنِّي وَجَدْتُ الْمَوْتَ قَبْلَ ذَوْقِهِ , إِنَّ الْجَبَانَ حَتْفُهُ مِنْ فُوقِهِ , قَالَتْ: فَأَتَيْتُ بِلَالًا , فَقُلْتُ: يَا بِلَالُ , كَيْفَ تَجِدُكَ؟ فَقَالَ: أَلَا لَيْتَ شِعْرِي هَلْ أَبِيتَنَّ لَيْلَةً , بِفَخٍّ وَحَوْلِي إِذْخِرٌ وَجَلِيلُ , قَالَ: فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ , قَالَ: " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا , وَبَارِكْ لَنَا فِي مُدِّنَا , وَحَبِّبْ إِلَيْنَا الْمَدِينَةَ , كَمَا حَبَّبْتَ إِلَيْنَا مَكَّةَ , وَانْقُلْ وَبَاءَهَا إِلَى خُمٍّ، وَمَهْيَعَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہ بیمار ہوگئے، حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ان کے آزاد کردہ غلام عامر بن فہیرہ اور بلال رضی اللہ عنہ بھی بیمار ہوگئے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان لوگوں کی عیادت کے لئے جانے کی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اجازت لی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی، انہوں نے حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ آپ اپنی صحت کیسی محسوس کر رہے ہیں؟ انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " ہر شخص اپنے اہل خانہ میں صبح کرتا ہے جبکہ موت اس کی جوتی کے تسمے سے بھی زیادہ اس کے قریب ہوتی ہے "۔ پھر میں نے عامر سے پوچھا تو انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " کہ موت کا مزہ چکھنے سے پہلے موت کو محسوس کر رہا ہوں اور قبرستان منہ کے قریب آگیا ہے۔ " پھر میں نے بلال رضی اللہ عنہ سے ان کی طبیعت پوچھی تو انہوں نے یہ شعر پڑھا کہ " ہائے مجھے کیا خبر کہ میں دوبارہ " فخ " میں رات گذار سکوں گا اور میرے آس پاس " اذخر " اور " جلیل " نامی گھاس ہوگی "۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوئیں اور ان لوگوں کی باتیں بتائیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آسمان کی طرف دیکھ کر فرمایا اے اللہ! مدینہ منورہ ہماری نگاہوں میں اسی طرح محبوب رکھ جیسے مکہ کو بنایا تھا، بلکہ اس سے بھی زیادہ، اس سے بھی زیادہ، اے اللہ! مدینہ کے صاع اور مد میں برکتیں عطاء فرما اور اس کی وباء کو حجفہ کی طرف منتقل فرما۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26030]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه ضعف وانقطاع لان عبدالرحمن بن الحارث ضعيف ولم يدرك عائشة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه ضعف وانقطاع لان عبدالرحمن بن الحارث ضعيف ولم يدرك عائشة
حدیث نمبر: 26031 مسند احمد
يَزِيدُ ، صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى ، أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا صَدَقَةُ بْنُ مُوسَى , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عِمْرَانَ الْجَوْنِيُّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ بَابَنُوسَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الدَّوَاوِينُ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثَةٌ دِيوَانٌ لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِ شَيْئًا , وَدِيوَانٌ لَا يَتْرُكُ اللَّهُ مِنْهُ شَيْئًا , وَدِيوَانٌ لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ , فَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَغْفِرُهُ اللَّهُ فَالشِّرْكُ بِاللَّهِ , قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِنَّهُ مَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدْ حَرَّمَ اللَّهُ عَلَيْهِ الْجَنَّةَ سورة المائدة آية 72 وَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَعْبَأُ اللَّهُ بِهِ شَيْئًا فَظُلْمُ الْعَبْدِ نَفْسَهُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَبِّهِ مِنْ صَوْمِ يَوْمٍ تَرَكَهُ أَوْ صَلَاةٍ تَرَكَهَا , فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَغْفِرُ ذَلِكَ وَيَتَجَاوَزُ إِنْ شَاءَ , وَأَمَّا الدِّيوَانُ الَّذِي لَا يَتْرُكُ اللَّهُ مِنْهُ شَيْئًا فَظُلْمُ الْعِبَادِ بَعْضِهِمْ بَعْضًا , الْقِصَاصُ لَا مَحَالَةَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کے یہاں تین قسم کے دفتر ہوں گے، ایک قسم کے دفتر (رجسڑ) تو ایسے ہوں گے جن کی اللہ کوئی پرواہ نہیں کرے گا، ایک قسم کے رجسڑ ایسے ہوں گے جن میں سے اللہ کچھ بھی نہیں چھوڑے گا اور ایک قسم کے رجسڑ ایسے ہوں گے جنہیں اللہ کبھی معاف نہیں فرمائے گا، ایسے رجسڑ جنہیں اللہ کبھی معاف نہیں فرمائے گا تو وہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے " جو شخص اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے، اللہ اس پر جنت کو حرام کردیتا ہے اور وہ رجسڑ جن میں سے اللہ کچھ بھی نہیں چھوڑے گا، وہ بندوں کا ایک دوسرے پر ظلم کرنا ہے جن کا بہر صورت بدلہ لیا جائے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26031]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لأجل صدقة بن موسي
الحكم: إسناده ضعيف لأجل صدقة بن موسي
حدیث نمبر: 26032 مسند احمد
يَزِيدُ ، إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ ، أَبِي ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ ، فَاطِمَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي , عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" لَمَّا مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا ابْنَتَهُ فَاطِمَةَ فَسَارَّهَا، فَبَكَتْ , ثُمَّ سَارَّهَا، فَضَحِكَتْ , فَسَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَتْ: أَمَّا حَيْثُ بَكَيْتُ , فَإِنَّهُ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَيِّتٌ فَبَكَيْتُ , ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِهِ لُحُوقًا بِهِ , فَضَحِكْتُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہ کو بلایا، ان کے ساتھ سر گوشی میں باتیں کرنے لگے، اس دوران حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہ رونے لگیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوبارہ سرگوشی کی تو وہ ہنسنے لگیں، تو بعد میں حضرت فاطمہ الزہراء رضی اللہ عنہ سے میں نے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تم سے کیا سرگوشی کی تھی جس پر تم رونے لگیں اور دوبارہ سرگوشی کی تو تم ہنسنے لگی تھیں؟ انہوں نے بتایا کہ پہلی مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب مجھ سے سرگوشی کی تو مجھے اپنی وفات کی خبر دی تو میں رونے لگی اور دوبارہ سرگوشی کی تو یہ بتایا کہ ان کے اہل خانہ میں سے سب سے پہلے میں ہی ان سے جا کر ملوں گی تو میں ہنسنے لگی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26032]
حکم دارالسلام
إستاده صحيح، خ: 3625، م: 2450
الحكم: إستاده صحيح، خ: 3625، م: 2450
حدیث نمبر: 26033 مسند احمد
يَزِيدُ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، أَبِي ، الْقَاسِمِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي , عَنِ الْقَاسِمِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا مَا لَيْسَ مِنْهُ , فَهُوَ رَدٌّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص ہمارے اس طریقے کے علاوہ کوئی اور طریقہ ایجاد کرتا ہے تو وہ مردود ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26033]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2697، م: 1718
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2697، م: 1718
حدیث نمبر: 26034 مسند احمد
يَزِيدُ ، هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَتَادَةَ ، أَبِي حَسَّانَ ، عَائِشَةَ ، أَبَا هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى , عَنْ قَتَادَةَ , عَنْ أَبِي حَسَّانَ ، قَالَ: دَخَلَ رَجُلَانِ مِنْ بَنِي عَامِرٍ عَلَى عَائِشَةَ , فَأَخْبَرَاهَا، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ:" الطِّيَرَةُ مِنَ الدَّارِ وَالْمَرْأَةِ وَالْفَرَسِ" , فَغَضِبَتْ , فَطَارَتْ شِقَّةٌ مِنْهَا فِي السَّمَاءِ , وَشِقَّةٌ فِي الْأَرْضِ , وَقَالَتْ: وَالَّذِي أَنْزَلَ الْفُرْقَانَ عَلَى مُحَمَّدٍ , مَا قَالَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ , إِنَّمَا قَالَ: " كَانَ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ يَتَطَيَّرُونَ مِنْ ذَلِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو حسان کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بتایا کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا نحوست عورت، گھر اور سواری کے جانور میں ہوتی ہے تو وہ سخت غصے میں آئیں، پھر اس آدمی نے کہا کہ اس کا ایک حصہ آسمان کی طرف اڑ جاتا ہے اور ایک حصہ زمین پر رہ جاتا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ اس سے تو اہل جاہلیت بدشگونی لیا کرتے تھے (اسلام نے ایسی چیزوں کو بےاصل قرار دیا ہے) [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26034]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26035 مسند احمد
يَزِيدُ ، جَعْفَرُ بْنُ بُرْدٍ ، أُمِّ سَالِمٍ الرَّاسِبِيَّةِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْدٍ , عَنْ أُمِّ سَالِمٍ الرَّاسِبِيَّةِ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ , لَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں محمد کی جان ہے، روزے دار کے منہ کی بھبک اللہ کے نزدیک مشک کی مہک سے بھی زیادہ عمدہ ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26035]
حکم دارالسلام
حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أم السائب الراسبية
الحكم: حديث صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أم السائب الراسبية
حدیث نمبر: 26036 مسند احمد
يَزِيدُ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، الشَّعْبِيِّ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ , عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " قَدْ خَيَّرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاخْتَرْنَاهُ , أَفَكَانَ طَلَاقًا؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اپنے پاس رہنے یا دنیا لینے کا اختیار دیا، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اختیار کرلیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے ہم پر کوئی طلاق شمار نہیں کیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26036]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5263
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5263
حدیث نمبر: 26037 مسند احمد
مُعَاذٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى مَخِيلَةً يَعْنِي الْغَيْمَ , تَلَوَّنَ وَجْهُهُ , وَتَغَيَّرَ , وَدَخَلَ , وَخَرَجَ , وَأَقْبَلَ , وَأَدْبَرَ , فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ , قَالَتْ: فَذَكَرَتْ لَهُ عَائِشَةُ بَعْضَ مَا رَأَتْ مِنْهُ , فَقَالَ: " وَمَا يُدْرِينِي لَعَلَّهُ كَمَا قَالَ قَوْمُ عَادٍ فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهِ رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ سورة الأحقاف آية 24" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب بادل یا آندھی آتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روئے مبارک پر تفکرات کے آثار نظر آنے لگتے تھے اور وہ اندر باہر اور آگے پیچھے ہونے لگتے، جب وہ برس جاتے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہوجاتی، ایک مرتبہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! لوگ بادل کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور انہیں یہ امید ہوتی ہے کہ اب بارش ہوگی اور میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ بادلوں کو دیکھ کر آپ کے چہرے کے تفکرات کے آثار نظر آنے لگتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ! مجھے اس چیز سے اطمینان نہیں ہوتا کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو، کیونکہ اس سے پہلے ایک قوم پر آندھی کا عذاب ہوچکا ہے، جب ان لوگوں نے عذاب کو دیکھا تھا تو اسے بادل سمجھ کر یہ کہہ رہے تھے کہ یہ بادل ہم پر بارش برسائے گا لیکن اس میں عذاب تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26037]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3206، م: 899
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3206، م: 899