بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 26037
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 26037
حدیث نمبر: 26037 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
مُعَاذٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُعَاذٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , عَنْ عَطَاءٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا رَأَى مَخِيلَةً يَعْنِي الْغَيْمَ , تَلَوَّنَ وَجْهُهُ , وَتَغَيَّرَ , وَدَخَلَ , وَخَرَجَ , وَأَقْبَلَ , وَأَدْبَرَ , فَإِذَا مَطَرَتْ سُرِّيَ عَنْهُ , قَالَتْ: فَذَكَرَتْ لَهُ عَائِشَةُ بَعْضَ مَا رَأَتْ مِنْهُ , فَقَالَ: " وَمَا يُدْرِينِي لَعَلَّهُ كَمَا قَالَ قَوْمُ عَادٍ فَلَمَّا رَأَوْهُ عَارِضًا مُسْتَقْبِلَ أَوْدِيَتِهِمْ قَالُوا هَذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهِ رِيحٌ فِيهَا عَذَابٌ أَلِيمٌ سورة الأحقاف آية 24" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب بادل یا آندھی آتی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روئے مبارک پر تفکرات کے آثار نظر آنے لگتے تھے اور وہ اندر باہر اور آگے پیچھے ہونے لگتے، جب وہ برس جاتے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ کیفیت ختم ہوجاتی، ایک مرتبہ انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! لوگ بادل کو دیکھ کر خوش ہوتے ہیں اور انہیں یہ امید ہوتی ہے کہ اب بارش ہوگی اور میں آپ کو دیکھتی ہوں کہ بادلوں کو دیکھ کر آپ کے چہرے کے تفکرات کے آثار نظر آنے لگتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا عائشہ! مجھے اس چیز سے اطمینان نہیں ہوتا کہ کہیں اس میں عذاب نہ ہو، کیونکہ اس سے پہلے ایک قوم پر آندھی کا عذاب ہوچکا ہے، جب ان لوگوں نے عذاب کو دیکھا تھا تو اسے بادل سمجھ کر یہ کہہ رہے تھے کہ یہ بادل ہم پر بارش برسائے گا لیکن اس میں عذاب تھا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26037]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3206، م: 899
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3206، م: 899
← پچھلی حدیث (26036) باب پر واپس اگلی حدیث (26038) →