يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , قَالَ: أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ , فَخَرَجْتُ فَإِذَا هُوَ بِالْبَقِيعِ رَافِعٌ رَأْسَهُ إِلَى السَّمَاءِ , فَقَالَ لِي: " أَكُنْتِ تَخَافِينَ أَنْ يَحِيفَ اللَّهُ عَلَيْكِ وَرَسُولُهُ؟" قَالَتْ: قُلْتُ: يا رسول الله , ظَنَنْتُ أَنَّكَ أَتَيْتَ بَعْضَ نِسَائِكَ , فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْزِلُ لَيْلَةَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا , فَيَغْفِرُ لِأَكْثَرَ مِنْ عَدَدِ شَعَرِ غَنَمِ كَلْبٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے بستر پر نہ پایا، میں نکلی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنت البقیع میں آسمان کی طرف سر اٹھائے دعا فرما رہے تھے، مجھے دیکھ کر فرمایا کیا تمہیں اس بات کا اندیشہ ہوگیا تھا کہ اللہ اور اس کے رسول تم پر ظلم کریں گے؟ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں سمجھی تھی کہ شاید آپ اپنی کسی زوجہ کے پاس گئے ہوں گے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ شعبان کی پندرہویں رات کو آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور قبیلہ کلب کی بکریوں کے بالوں کی تعداد سے بھی زیادہ تعداد میں لوگوں کو معاف فرماتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26018]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة
الحكم: إسناده ضعيف لضعف حجاج بن أرطاة