بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
تتمة مسند عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 615
صفحہ 19 از 31
حدیث نمبر: 26158 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ حَتَّى يَكُونَ آخِرَ صَلَاتِهِ الْوَتْرُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو جب نماز پڑھتے تھے تو سب سے آخری نماز وتر کی ہوتی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26158]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 740
الحكم: إسناده صحيح، م: 740
حدیث نمبر: 26159 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو نو رکعتیں پڑھتے ہیں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26159]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 730
الحكم: حديث صحيح، م: 730
حدیث نمبر: 26160 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، مُفَضَّلٌ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: خَرَجْنَا نُرِيدُ الْحَجَّ , فَلَمْ أَطُفْ , فَقُلْتُ: يَرْجِعُونَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِعُمْرَةٍ وَحَجَّةٍ وَأَرْجِعُ بِحَجَّةٍ؟ قَالَتْ صَفِيَّةُ: مَا أُرَانِي إِلَّا حَابِسَتَكُمْ , قَالَ: " عَقْرَى حَلْقَى" , قَالَ:" طُفْتِ يَوْمَ النَّحْرِ؟" , قَالَتْ: نَعَمْ , قَالَتْ: فَأَمَرَهَا فَنَفَرَتْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے، ہماری نیت صرف حج کرنا تھی، میں نے عرض کیا یار سول اللہ! کیا آپ کے صحابہ حج اور عمرہ دونوں کے ساتھ اور میں صرف حج کے ساتھ واپس جاؤنگی؟ اسی دوران حضرت صفیہ کے " ایام " شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا یہ عورتیں تو کاٹ دیتی ہیں اور مونڈ دیتی ہیں، تم ہمیں ٹھہرنے پر مجبور کر دوگی، کیا تم نے دس ذی الحجہ کو طواف زیارت نہیں کیا تھا؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بس پھر کوئی حرج نہیں، اب روانہ ہوجاؤ۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26160]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1561، م: 1211
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1561، م: 1211
حدیث نمبر: 26161 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، مُفَضَّلٌ ، الْأَعْمَشِ ، مُسْلِمٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا مُفَضَّلٌ , عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ مُسْلِمٍ , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُنْذُ نَزَلَتْ عَلَيْهِ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ يُصَلِّي صَلَاةً إِلَّا دَعَا , وَقَالَ: " سُبْحَانَكَ رَبِّي وَبِحَمْدِكَ , اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ سورت نصر کے نزول کے بعد میں نے جب بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعاء کر کے یہ ضرور کہا " سُبْحَانَكَ رَبِّي وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي " [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26161]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4967، م: 484
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4967، م: 484
حدیث نمبر: 26162 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " رَأَيْتُ وَبِيصَ الطِّيبِ فِي مَفْرِقِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُحْرِمٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ (میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26162]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 271، م: 1190
الحكم: إسناده صحيح، خ: 271، م: 1190
حدیث نمبر: 26163 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " كُنْتُ أُطَيِّبُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَطْيَبِ مَا أَجِدُ مِنَ الطِّيبِ , حَتَّى أَنِّي أَرَى وَبِيصَ الطِّيبِ فِي رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے پاس موجود سب سے عمدہ خوشبو لگاتی تھی اور گویا وہ منظر اب تک میری نگاہوں کے سامنے ہے کہ میں حالت احرام میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر پر مشک کی چمک دیکھ رہی ہوں۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26163]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5923، م: 1190
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5923، م: 1190
حدیث نمبر: 26164 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ صَفِيَّةَ حَاضَتْ قَبْلَ النَّفْرِ , فَسَأَلَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: " كُنْتِ طُفْتِ طَوَافَ يَوْمِ النَّحْرِ؟" قَالَتْ: نَعَمْ , فَأَمَرَهَا أَنْ تَنْفِرَ , فَنَفَرَتْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رونگی سے پہلے حضرت صفیہ کے " ایام " شروع ہوگئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم ہمیں ٹھہرنے پر مجبور کر دوگی، کیا تم نے دس ذی الحجہ کو طواف زیارت نہیں کیا تھا؟ انہوں نے عرض کیا کیوں نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا بس پھر کوئی حرج نہیں، اب روانہ ہوجاؤ۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26164]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1561، م: 1211
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1561، م: 1211
حدیث نمبر: 26165 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، سُفْيَانُ ، حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ ، سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَمْ يَكُنْ يُسَارِعُ إِلَى شَيْءٍ مَا يُسَارِعُ إِلَى الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر سے پہلے کی دو رکعتوں کی طرف جتنی سبقت فرماتے تھے، کسی اور چیز کی طرف نہ فرماتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26165]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف الضعف حكيم بن جبير
الحكم: إسناده ضعيف الضعف حكيم بن جبير
حدیث نمبر: 26166 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، شَرِيكٌ ، خَصِيفٍ ، رَجُلٌ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ , قَالَ: حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ خَصِيفٍ , قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مُنْذُ ثَلَاثِينَ سَنَةً , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: أَجْمَرْتُ شَعْرِي إِجْمَارًا شَدِيدًا , فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَائِشَةُ , أَمَا عَلِمْتِ أَنَّ عَلَى كُلِّ شَعَرَةٍ جَنَابَةً؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے سر کے بالوں کا بڑا مضبوط جوڑا باندھ لیا، تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا اے عائشہ! کیا تمہیں معلوم نہیں ہے کہ جنابت کا اثر ہر بال تک پہنچتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26166]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام الرجل الراوي عن عائشة ولضعف شريك
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام الرجل الراوي عن عائشة ولضعف شريك
حدیث نمبر: 26167 مسند احمد
مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، إِسْرَائِيلُ ، الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحٍ , عَنِ أَبِيهِ , قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ كَانَ يُصَلِّي؟ قَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ , ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَهَا رَكْعَتَيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شریح کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس طرح نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ وہ ظہر کی نماز پڑھتے تھے اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26167]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26168 مسند احمد
مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، إِسْرَائِيلُ ، الْمِقْدَامِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُصْعَبُ بْنُ الْمِقْدَامِ , قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ , عَنِ الْمِقْدَامِ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ سَأَلَ عَائِشَةَ مَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ قَبْلَ أَنْ يَخْرُجَ؟ قَالَتْ:" كَانَ يُصَلِّي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ , ثُمَّ يَخْرُجُ إِلَى الصَّلَاةِ , فَإِذَا دَخَلَ تَسَوَّكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رات کو جب اپنے گھر میں داخل ہوتے تھے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے تھے اور جب گھر سے نکلتے تھے تو سب سے آخر میں فجر سے پہلے کی دو رکعتیں پڑھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26168]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26169 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ ، سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ ، أَبُو الْأَسْوَدِ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ , قَالَ: سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ أَبِي أَيُّوبَ , حَدَّثَنَا أَبُو الْأَسْوَدِ ، عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى رَكْعَتَيْ الْفَجْرِ اضْطَجَعَ عَلَى شِقِّهِ الْأَيْمَنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فجر سے پہلے دو مختصر رکعتیں پڑھتے، پھر دائیں پہلو پر لیٹ جاتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26169]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1160، م: 736
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1160، م: 736
حدیث نمبر: 26170 مسند احمد
أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، مُطَرِّفٌ ، الشَّعْبِيِّ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ , عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبِيتُ جُنُبًا فَيَأْتِيهِ بِلَالٌ , فَيُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ , فَيَقُومُ فَيَغْتَسِلُ , فَأَنْظُرُ إِلَى تَحَادُرِ الْمَاءِ فِي شَعْرِهِ وَجِلْدِهِ , ثُمَّ يَخْرُجُ , فَأَسْمَعُ صَوْتَهُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ , ثُمَّ يَظَلُّ صَائِمًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض اوقات صبح کے وقت اختیاری طور پر ناپاک ہوتے تو غسل فرماتے، ان کے بالوں اور جسم سے پانی کے قطرے ٹپک رہے ہوتے تھے اور وہ نماز کیلئے چلے جاتے اور میں ان کی قرأت سنتی تھی اور اس دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے سے ہوتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26170]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على عامر
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد اختلف فيه على عامر
حدیث نمبر: 26171 مسند احمد
أَسْبَاطٌ ، مُطَرِّفٌ ، عَامِرٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ , حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ , عَنْ عَامِرٍ , عَنْ مَسْرُوقٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَظَلُّ صَائِمًا , مَا يُبَالِي مَا قَبَّلَ مِنْ وَجْهِي حَتَّى يُفْطِرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے کی حالت میں مجھے بوسہ دے دیا کرتے تھے اور اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26171]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 26172 مسند احمد
أَسْبَاطٌ ، الشَّيْبَانِيُّ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " رَخَّصَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرُّقْيَةِ مِنْ كُلِّ ذِي حُمَةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر ڈنگ والی چیز سے جھاڑ پھونک کرنے کی اجازت دی تھی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26172]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5741، م: 2193
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5741، م: 2193
حدیث نمبر: 26173 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَبَا نُبَيْهٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ , قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا نُبَيْهٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَا تَحْتَ الْكَعْبِ مِنَ الْإِزَارِ فَفِي النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تہبند کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچا رہے گا وہ جہنم میں ہوگا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26173]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى نبيه
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة أبى نبيه
حدیث نمبر: 26174 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، وَائِلٌ ، الْبَهِيَّ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا وَائِلٌ , قَالَ: سَمِعْتُ الْبَهِيَّ يُحَدِّثُ، أَنَّ عَائِشَةَ قَالَتْ: " مَا بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ فِي جَيْشٍ قَطُّ إِلَّا أَمَّرَهُ عَلَيْهِمْ , وَإِنْ بَقِيَ بَعْدَهُ اسْتَخْلَفَهُ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب کبھی لشکر میں حضرت زید بن حارثہ کو بھیجا تو انہی کو اس لشکر کا امیر مقرر فرمایا: اگر وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد زندہ رہتے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہی کو اپنا خلیفہ مقرر فرماتے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26174]
حکم دارالسلام
إسناده حسن إن صح سماع البهي عن عائشة
الحكم: إسناده حسن إن صح سماع البهي عن عائشة
حدیث نمبر: 26175 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، الْأَسْوَدِ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , عَنِ الْأَسْوَدِ , قَالَ: اعْتَلَجَ نَاسٌ , فَأَصَابَ طُنُبُ الْفُسْطَاطِ عَيْنَ رَجُلٍ مِنْهُمْ , فَضَحِكُوا , فَقَالَتْ عَائِشَةُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَا مِنْ مُؤْمِنٍ تَشُوكُهُ شَوْكَةٌ , فَمَا فَوْقَهَا , إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَنْهُ خَطِيئَةً , وَرَفَعَ لَهُ بِهَا دَرَجَةً" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کسی مسلمان کو کانٹا چبھنے کی یا اس سے بھی کم درجے کی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو اس کے بدلے اس کا ایک درجہ بلند کردیا جاتا ہے اور ایک گناہ معاف کردیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26175]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2572
الحكم: إسناده صحيح، م: 2572
حدیث نمبر: 26176 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، مُطِيعٌ الْغَزَّالُ ، كُرْدُوسٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُطِيعٌ الْغَزَّالُ , عَنْ كُرْدُوسٍ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " لَقَدْ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِسَبِيلِهِ وَمَا شَبِعَ أَهْلُهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ طَعَامِ بُرٍّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کبھی تین دن تک پیٹ بھر کر گندم کی روٹی نہیں کھائی، حتیٰ کہ دنیا سے رخصت ہوگئے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26176]
حکم دارالسلام
حديث صحيح
الحكم: حديث صحيح
حدیث نمبر: 26177 مسند احمد
رَوْحٌ ، أَبَانُ بْنُ صَمْعَةَ ، عِكْرِمَةُ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ صَمْعَةَ , حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ , قَالَ: حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ : " أَنَّهَا كَانَتْ تَغْتَسِلُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِنَاءٍ وَاحِدٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک ہی برتن کے پانی سے غسل جنابت کرلیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26177]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 248، م: 321
الحكم: إسناده صحيح، خ: 248، م: 321