عُمَرُ أَبُو حَفْصٍ الْمُعَيْطِيُّ ، هِشَامٌ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عُمَرُ أَبُو حَفْصٍ الْمُعَيْطِيُّ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: خَرَجْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَأَنَا جَارِيَةٌ لَمْ أَحْمِلْ اللَّحْمَ وَلَمْ أَبْدُنْ , فَقَالَ لِلنَّاسِ: " تَقَدَّمُوا" فَتَقَدَّمُوا , ثُمَّ قَالَ لِي:" تَعَالَيْ حَتَّى أُسَابِقَكِ" فَسَابَقْتُهُ فَسَبَقْتُهُ , فَسَكَتَ عَنِّي , حَتَّى إِذَا حَمَلْتُ اللَّحْمَ وَبَدُنْتُ وَنَسِيتُ , خَرَجْتُ مَعَهُ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ , فَقَالَ لِلنَّاسِ:" تَقَدَّمُوا" فَتَقَدَّمُوا , ثُمَّ قَالَ:" تَعَالَيْ حَتَّى أُسَابِقَكِ" فَسَابَقْتُهُ , فَسَبَقَنِي , فَجَعَلَ يَضْحَكُ , وَهُوَ يَقُولُ:" هَذِهِ بِتِلْكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے دوڑ کا مقابلہ کیا، اس مقابلے میں میں آگے نکل گئی، کچھ عرصے بعد جب میرے جسم پر گوشت چڑھ گیا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دوبارہ دوڑ کا مقابلہ کیا، اس مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگے بڑھ گئے اور فرمایا یہ اس مرتبہ کے مقابلے کا بدلہ ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26277]
الحكم: إسناده جيد