عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، سِمَاكٍ ، عِكْرِمَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا عَفَّانُ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , زَعَمَ أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْهَا , أَنَّهَا رَأَتْ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو رَافِعًا يَدَيْهِ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي بَشَرٌ , فَلَا تُعَاقِبْنِي أَيُّمَا رَجُلٍ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ آذَيْتُهُ وَشَتَمْتُهُ فَلَا تُعَاقِبْنِي فِيهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ انہوں نے اپنے ہاتھ پھیلا کر دعا کی کہ اے اللہ! میں بھی انسان ہوں اس لئے آپ کے جس بندے کو میں نے مارا ہو یا ایذاء پہنچائی ہو تو اس پر مجھ سے مؤاخذہ نہ کیجئے گا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26218]
حکم دارالسلام
حديث ضعيف بهذه السياقة لأن رواية سماك عن عكرمة مضطربة
الحكم: حديث ضعيف بهذه السياقة لأن رواية سماك عن عكرمة مضطربة