هَاشِمٌ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، عِمْرَانَ بْنِ بَشِيرٍ ، سَالِمٍ سَبَلَانَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا هَاشِمٌ , عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ بَشِيرٍ , عَنْ سَالِمٍ سَبَلَانَ , قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ عَائِشَةَ إِلَى مَكَّةَ , فَكَانَتْ تَخْرُجُ بِأَبِي يَحْيَى التَّيْمِيِّ يُصَلِّي لَهَا , فَأَدْرَكَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فَأَسَاءَ الْوُضُوءَ , فَقَالَتْ لَهُ عَائِشَةُ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ , أَسْبِغْ الْوُضُوءَ , فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابو سلمہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں وضو کیا تو انہوں نے فرمایا عبدالرحمن! اچھی طرح اور مکمل وضو کرو، کیونکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایڑیوں کے لئے جہنم کی آگ سے ہلاکت ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26214]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، عمران بن بشير مجهول ولكن تابعه يحيى بن أبى كثير
الحكم: حديث صحيح، عمران بن بشير مجهول ولكن تابعه يحيى بن أبى كثير