بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 25852
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 25852
حدیث نمبر: 25852 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَجَّاجٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَطَاءٌ ، عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ , قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ زَعَمَ عَطَاءٌ أَنَّهُ، سَمِعَ عُبَيْدَ بْنَ عُمَيْرٍ , يُخْبِرُ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , تُخْبِرُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , كَانَ يَمْكُثُ عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ , وَيَشْرَبُ عِنْدَهَا عَسَلًا , فَتَوَاصَيْتُ أَنَا وَحَفْصَةُ , أَنَّ أَيَّتَنَا مَا دَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْتَقُلْ إِنِّي أَجِدُ مِنْكَ رِيحَ مَغَافِيرَ , أَكَلْتَ مَغَافِيرَ؟ فَدَخَلَ عَلَى إِحْدَاهُمَا , فَقَالَتْ: ذَلِكَ لَهُ , فَقَالَ: " بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا عِنْدَ زَيْنَبَ بِنْتِ جَحْشٍ وَلَنْ أَعُودَ لَهُ" , فَنَزَلَتْ لِمَ تُحَرِّمُ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكَ سورة التحريم آية 1 , إِنْ تَتُوبَا سورة التحريم آية 4 لِعَائِشَةَ، وَحَفْصَةَ وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ سورة التحريم آية 3 لِقَوْلِهِ:" بَلْ شَرِبْتُ عَسَلًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعض اوقات زینب بنت جحش کے پاس رک کر ان کے یہاں شہد پیتے تھے، میں نے اور حفصہ نے یہ معاہدہ کرلیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آئیں، وہ یہ کہہ دے کہ مجھے آپ سے مغافیر کی بو آرہی ہے، آپ نے مغافیر کھایا ہے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان میں سے ایک کے پاس جب گئے تو اس نے یہ بات کہہ دی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا میں نے زینب کے یہاں شہد پیا تھا اور آئندہ کبھی نہیں پیوں گا، اس پر یہ آیت نازل ہوئی کہ " آپ اپنے اوپر ان چیزوں کو کیوں حرام کرتے ہیں جنہیں اللہ نے حلال قرار دے رکھا ہے۔۔۔۔۔ " اگر تم دونوں (عائشہ اور حفصہ) توبہ کرلو۔۔۔۔۔۔۔۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 25852]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5267، م: 1474
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5267، م: 1474
← پچھلی حدیث (25851) باب پر واپس اگلی حدیث (25853) →