يَعْقُوبُ ، ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَمِّهِ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عَمِّهِ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ ، تَقُولُ: دَخَلَتْ عَلَيَّ يَهُودِيَّةٌ , فَقَالَتْ: شَعَرْتُ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ , قَالَتْ: فَسَمِعَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَارْتَاعَ , ثُمَّ قَالَ:" إِنَّمَا يُفْتَنُ الْيَهُودُ" فَقَالَتْ عَائِشَةُ: فَلَبِثْتُ بَعْدَ ذَلِكَ لَيَالِيَ , ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " هَلْ شَعَرْتِ أَنَّهُ أُوحِيَ إِلَيَّ أَنَّكُمْ تُفْتَنُونَ فِي الْقُبُورِ؟" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو ایک یہودی عورت میرے یہاں بیٹھی تھی اور وہ یہ کہہ رہی تھی کیا تمہیں معلوم ہے کہ قبروں میں تمہاری آزمائش کی جائے گی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا یہودیوں کو ہی آزمائش میں مبتلا کیا جائے گا، کچھ عرصہ گزرنے کے بعد ایک دن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا تمہیں پتہ چلا کہ مجھ پر یہ وحی آگئی ہے کہ تمہیں قبروں میں آزمایا جائے گا؟ اس کے بعد میں نے ہمیشہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عذاب قبر سے پناہ مانگتے ہوئے سنا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26333]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 6366، م: 586
الحكم: حديث صحيح، خ: 6366، م: 586