يَعْقُوبُ ، ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ ، عَمِّهِ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَخِي ابْنِ شِهَابٍ , عَنْ عَمِّهِ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ , أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهُ جَاءَهَا أَفْلَحُ أَخُو أَبِي الْقُعَيْسِ , وَأَبُو الْقُعَيْسِ أَرْضَعَ عَائِشَةَ , فَجَاءَهَا يَسْتَأْذِنُ عَلَيْهَا , فَأَبَتْ أَنْ تَأْذَنَ لَهُ , حَتَّى ذَكَرَتْ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَفْلَحَ أَخَا أَبِي الْقُعَيْسِ , جَاءَ يَسْتَأْذِنُ عَلَيَّ , فَلَمْ آذَنْ لَهُ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَمَا يَمْنَعُكِ أَنْ تَأْذَنِي لِعَمِّكِ؟" قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , إِنَّ أَبَا قُعَيْسٍ لَيْسَ هُوَ أَرْضَعَنِي , إِنَّمَا أَرْضَعَتْنِي امْرَأَتُهُ؟ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ائْذَنِي لَهُ حِينَ يَأْتِيكِ , فَإِنَّهُ عَمُّكِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ابوقیس کے بھائی " افلح " نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے گھر میں داخل ہو نیکی اجازت مانگی، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں نامحرم سمجھ کر اجازت دینے سے انکار کردیا اور جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آئے تو ان سے ذکر کردیا کہ یا رسول اللہ! ابوقیس کے بھائی افلح نے مجھ سے گھر میں آنے کی اجازت مانگی تھی لیکن میں نے انہیں اجازت دینے سے انکار کردیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انہیں اجازت دے دیا کرو، انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے عورت نے دودھ پلایا ہے، مرد نے تو دودھ نہیں پلایا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں، وہ تمہارے چچا ہیں، انہیں اجازت دے دیا کرو۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26334]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 4796، م: 1445
الحكم: حديث صحيح، خ: 4796، م: 1445