يَعْقُوبُ ، أَبِي ، صَالِحٍ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ , حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ صَالِحٍ , قَالَ ابْنُ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ , قَالَتْ: " وَاللَّهِ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُومُ عَلَى بَابِ حُجْرَتِي وَالْحَبَشَةُ يَلْعَبُونَ فِي الْمَسْجِدِ , وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتُرُنِي بِرِدَائِهِ لِكَيْ أَنْظُرَ إِلَى لَعِبِهِمْ , ثُمَّ يَقُومُ مِنْ أَجْلِي حَتَّى أَكُونَ أَنَا الَّتِي أَنْصَرِفُ , فَاقْدُرُوا قَدْرَ الْجَارِيَةِ الْحَدِيثَةِ السِّنِّ , الْحَرِيصَةِ عَلَى اللَّهْوِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ واللہ میں نے وہ وقت دیکھا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے حجرے کے دروازے پر کھڑے ہوئے تھے اور حبشی صحن میں کرتب دکھا رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے وہ کرتب دکھانے کے لئے اپنی چادر سے پردہ کرنے لگے، میں ان کے کانوں اور کندھے کے درمیان تھی، پھر وہ میری وجہ سے کھڑے رہے حتیٰ کہ میں واپس چلی گئیں، اب تم اندازہ لگا سکتے ہو کہ ایک نو عمر لڑکی کو کھیل کود کی کتنی رغبت ہوگی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26328]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 454، م: 892
الحكم: إسناده صحيح، خ: 454، م: 892