يُونُسُ ، حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا يُونُسُ , قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , كُلُّ صَوَاحِبِي لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي , قَالَ: " فَاكْتَنِي بِابْنِكِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ" , فَكَانَتْ تُدْعَى بِأُمِّ عَبْدِ اللَّهِ حَتَّى مَاتَتْ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کیا یا رسول اللہ! میرے علاوہ آپ کی ہر بیوی کی کوئی نہ کوئی کنیت ضرور ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم اپنے بیٹے (بھانجے) عبداللہ کے نام پر اپنی کنیت رکھ لو چنانچہ انتقال تک انہیں " ام عبداللہ " کہہ کر پکارا جاتا رہا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26242]
الحكم: حديث صحيح