بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 26065
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 26065
حدیث نمبر: 26065 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
رَوْحٌ ، صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ , قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ شِهَابٍ , أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ , أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْحَجِّ وَالْعُمْرَةِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ , وَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ , وَأَهَلَّ نَاسٌ مَعَهُ بِالْعُمْرَةِ وَسَاقُوا الْهَدْيَ , وَأَهَلَّ نَاسٌ بِالْعُمْرَةِ وَلَمْ يَسُوقُوا هَدْيًا , قَالَتْ عَائِشَةُ: فَكُنْتُ مِمَّنْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَلَمْ أَسُقْ هَدْيًا , فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ , فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , وَلَا يَحِلُّ مِنْهُ شَيْءٌ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ وَيَنْحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ , وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ وَلَمْ يَسُقْ مَعَهُ هَدْيًا , فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ , ثُمَّ لِيُفِضْ وَلْيَحِلَّ , ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ , فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةٍ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ" , قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْحَجَّ الَّذِي خَافَ فَوْتَهُ , وَأَخَّرَ الْعُمْرَةَ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المو منین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حجتہ الوداع کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حج اور عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا اور اپنے ساتھ ہدی کا جانور لے گئے تھے، جبکہ کچھ لوگوں نے عمرے کا احرام باندھا اور ہدی ساتھ لے گئے اور کچھ لوگوں نے عمرہ کا احرام باندھا لیکن ہدی ساتھ نہیں لے کر گئے، میں اس آخری قسم کے لوگوں میں شامل تھی، مکہ مکرمہ پہنچ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم میں سے جو شخص عمرے کا احرام باندھ کر ہدی ساتھ لایا ہے، اسے چاہیے کہ بیت اللہ کا طواف اور صفاء مروہ کی سعی کرلے اور دس ذی الحجہ کو قربانی کرنے اور حج مکمل ہونے تک اپنے اوپر کوئی چیز محرمات میں سے حلال نہ سمجھے اور جو ہدی نہیں لایا وہ طواف اور سعی کر کے حلال ہوجائے، بعد میں حج کا احرام باندھ کر ہدی لے جائے، جس شخص کو قربانی کا جانور نہ ملے، وہ حج کے ایام میں تین اور گھر واپس آنے کے بعد سات روزے رکھ لے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے حج کو " جس کے فوت ہونے کا اندیشہ تھا " مقدم کر کے عمرے کو مؤخر کردیا۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26065]
حکم دارالسلام
حديث صحيح دون قول عائشة: "فقدم رسول الله صلى الله عليه و آله وسلم..." صالح بن أبى الأخضر ضعيف ولكن توبع
الحكم: حديث صحيح دون قول عائشة: "فقدم رسول الله ﷺ..." صالح بن أبى الأخضر ضعيف ولكن توبع
← پچھلی حدیث (26064) باب پر واپس اگلی حدیث (26066) →