رَوْحٌ ، هِشَامٌ ، هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، أَبِيهِ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ , عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ:" وَاللَّهِ لَقَدْ كَانَ يَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ شَهْرٌ مَا نَخْتَبِزُ فِيهِ" , قَالَ: فَقُلْتُ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ , فَمَا كَانَ يَأْكُلُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: " كَانَ لَنَا جِيرَانٌ مِنَ الْأَنْصَارِ , جَزَاهُمْ اللَّهُ خَيْرًا , كَانَ لَهُمْ شَيْءٌ مِنْ لَبَنٍ يُهْدُونَ مِنْهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ واللہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بعض اوقات ایک ایک مہینہ اس طرح گذر جاتا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی گھر میں آگ نہیں جلتی تھی، الاّ یہ کہ کہیں سے تھوڑا بہت گوشت آجائے اور ہمارے گذارے کے لئے صرف دوہی چیزیں ہوتی تھیں یعنی پانی اور کجھور، البتہ ہمارے آس پاس انصار کے کچھ گھرانے آباد تھے، اللہ انہیں جزائے خیر دے، کہ وہ روزانہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اپنی بکری کا دودھ بھیج دیا کرتے تھے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے نوش فرمالیا کرتے تھے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26077]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2567، م: 2972
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2567، م: 2972