رَوْحٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، ابْنِ شِهَابٍ ، ابْنِ حَزْمٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , قَالَ: مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ , عَنِ ابْنِ حَزْمٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ امْرَأَةٌ مَعَهَا ابْنَتَانِ لَهَا , فَأَطْعَمْتُهَا تَمْرَةً , فَشَقَّتْهَا بَيْنَهُمَا , وَلَمْ تَأْكُلْ مِنْهَا شَيْئًا فَدَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ , فَقَالَ: " مَنْ ابْتُلِيَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَيْءٍ , فَأَحْسَنَ صُحْبَتَهُنَّ , كُنَّ لَهُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک عورت ان کے پاس آئی، اس کے ساتھ اس کی دو بیٹیاں بھی تھیں، انہوں نے اس عورت کو ایک کجھور دی، اس نے کجھور کے دو ٹکڑے کر کے ان دونوں بچیوں میں اسے تقسیم کردیا (اور خود کچھ نہ کھایا) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس واقعے کا تذکرہ کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جس شخص کی ان بچیوں سے آزمائش کی جائے اور وہ ان کے ساتھ حسن سلوک کرے تو یہ اس کے لئے جہنم سے آڑ بن جائیں گی۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26060]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد بن أبى حفصة فيه ضعف ولكن توبع
الحكم: حديث صحيح، محمد بن أبى حفصة فيه ضعف ولكن توبع