بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 26075
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 26075
حدیث نمبر: 26075 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
رَوْحٌ ، صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُرْوَةَ ، عَائِشَةَ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ , قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ , عَنْ عُرْوَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَتَعَوَّذُ فِي صَلَاتِهِ مِنَ الْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ , فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَكْثَرَ مَا تَعَوَّذُ مِنَ الْمَغْرَمِ؟ فَقَالَ: " إِنَّ الرَّجُلَ إِذَا غَرِمَ , حَدَّثَ فَكَذَبَ , وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز میں یہ دعا مانگتے تھے، اے اللہ! میں گناہوں اور تاوان سے آپ کی پناہ میں آتا ہوں، ایک مرتبہ کسی نے پوچھا یا رسول اللہ! آپ اتنی کثرت سے تاوان سے پناہ کیوں مانگتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انسان پر جب تاوان آتا ہے (اور وہ مقروض ہوتا ہے) تو بات کرتے ہوئے جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کر کے اس کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26075]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، صالح بن أبى الأخضر ضعيف ولكن توبع
الحكم: حديث صحيح، صالح بن أبى الأخضر ضعيف ولكن توبع
← پچھلی حدیث (26074) باب پر واپس اگلی حدیث (26076) →