رَوْحٌ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ ، رَجُلٍ ، عَائِشَةُ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ , حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ , قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ , عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي تَمِيمٍ لَا نُكَذِّبُهُ , قَالَ: أَخْبَرْتُ عَائِشَةَ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الشَّهْرُ تِسْعٌ وَعِشْرُونَ" , فَأَنْكَرَتْ عَائِشَةُ , وَقَالَتْ: يَغْفِرُ اللَّهُ لِأَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ , لَيْسَ كَذَلِكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَكِنَّهُ قَالَ: " الشَّهْرُ يَكُونُ تِسْعًا وَعِشْرِينَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو پتہ چلا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کرتے ہیں کہ مہینہ ٢٩ کا ہوتا ہے، انہوں نے اس پر نکیر کرتے ہوئے فرمایا کہ عبدالرحمن کی اللہ بخشش فرمائے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا، انہوں نے تو یہ فرمایا تھا کہ مہینہ بعض اوقات ٢٩ کا ہوتا ہے۔ [مسند احمد/ مسند النساء/حدیث: 26067]
حکم دارالسلام
حديث صحيح وإسناده كسابقه
الحكم: حديث صحيح وإسناده كسابقه