بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 899
صفحہ 40 از 45
حدیث نمبر: 4329 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُمْ قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ تَرَ مِنْ أُمَّتِكَ؟ قَالَ:" غُرٌّ مُحَجَّلُونَ، بُلْقٌ مِنْ أَثَرِ الطُّهُورِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے اپنے جن امتیوں کو نہیں دیکھا، انہیں آپ کیسے پہچانیں گے؟ فرمایا: ان کی پیشانیاں وضو کے آثار کی وجہ سے انتہائی روشن اور چمکدار ہوں گی جیسے چتکبرا گھوڑا ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4329]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل عاصم.
الحكم: إسناده حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4330 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" أَخَذْتُ مِنْ فِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً، وَلَا يُنَازِعُنِي فِيهَا أَحَدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مبارک منہ سے سن کر ستر سورتیں پڑھی ہیں، ان میں کوئی شخص مجھ سے جھگڑا نہیں کر سکتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4330]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل عاصم.
الحكم: إسناده حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4331 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، أَبِي وَائِلٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: تَكَلَّمَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كَلِمَةً فِيهَا مَوْجِدَةٌ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ تُقِرَّنِي نَفْسِي أَنْ أَخْبَرْتُ بِهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَوَدِدْتُ أَنِّي افْتَدَيْتُ مِنْهَا بِكُلِّ أَهْلٍ وَمَالٍ، فَقَالَ:" قَدْ آذَوْا مُوسَى عَلَيْهِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ، أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَصَبَرَ". (حديث موقوف) (حديث مرفوع) ثُمَّ أَخْبَرَ" أَنَّ نَبِيًّا كَذَّبَهُ قَوْمُهُ، وَشَجُّوهُ حِينَ جَاءَهُمْ بِأَمْرِ اللَّهِ، فَقَالَ وَهُوَ يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِقَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک انصاری آدمی نے ایسی بات کہی جس سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر غصہ کا اظہار ہوتا تھا، میرا دل نہیں مانا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی اطلاع دوں، کاش! میں اس بات کے بدلے اپنے اہل خانہ اور تمام مال و دولت کو فدیے کے طور پر پیش کر سکتا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: موسیٰ پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، انہیں اس سے بھی زیادہ ستایا گیا تھا لیکن انہوں نے صبر ہی کیا تھا۔ پھر فرمایا کہ ایک نبی کو ان کی قوم نے جھٹلایا اور انہیں زخمی کیا کیونکہ وہ اللہ کے احکامات لے کر آئے تھے، وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتے جا رہے تھے اور کہتے جا رہے تھے کہ پروردگار! میری قوم کو معاف فرما دے، یہ مجھے جانتے نہیں ہیں۔ (واقعہ طائف کی طرف اشارہ ہے) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4331]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4332 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، أَبِي وَائِلٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَنَا فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَسَأُنَازَعُ رِجَالًا، فَأُغْلَبُ عَلَيْهِمْ، فَلَأَقُولَنَّ: رَبِّ أُصَيْحَابِي، أُصَيْحَابِي، فَلَيُقَالَنَّ لِي: إِنَّكَ لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا، مجھ سے اس موقع پر کچھ لوگوں کے بارے جھگڑا کیا جائے گا اور میں مغلوب ہو جاؤں گا، میں عرض کروں گا: پروردگار! میرے ساتھی؟ ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4332]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4333 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، فِرَاسٍ ، عَامِرٍ ، مَسْرُوقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ فِرَاسٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: رُبَّمَا حَدَّثَنَا عَنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَيَكْبُو، وَيَتَغَيَّرُ لَوْنُهُ، وَهُوَ يَقُولُ هَكَذَا، أَوْ قَرِيبًا مِنْ هَذَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، اتنا کہتے ہی ان کے چہرے کا رنگ اڑ گیا اور کہنے لگے: اسی طرح فرمایا، یا اس کے قریب قریب فرمایا۔ (احتیاط کی دلیل) [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4333]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4334 مسند احمد
عَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، أَنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ دَاءٍ إِلَّا أَنْزَلَ مَعَهُ شِفَاءً وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً: إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً، عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ، وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے جو بیماری بھی اتاری ہے، اس کی شفا بھی اتاری ہے، جو جان لیتا ہے سو جان لیتا ہے، اور جو ناواقف رہتا ہے سو ناواقف رہتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4334]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهمام العوذي و إن سمع من عطاء بن السائب بعد اختلاطه - متابع.
الحكم: صحيح لغيره، وهمام العوذي و إن سمع من عطاء بن السائب بعد اختلاطه - متابع.
حدیث نمبر: 4335 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَنْبَأَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفْحِ جَبَلٍ، وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي، وَهُمْ نِيَامٌ، قَالَ: إِذْ مَرَّتْ بِهِ حَيَّةٌ، فَاسْتَيْقَظْنَا، وَهُوَ يَقُولُ:" مَنَعَهَا مِنْكُمْ الَّذِي مَنَعَكُمْ مِنْهَا". (حديث موقوف) (حديث مرفوع) " وَأُنْزِلَتْ عَلَيْهِ وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا، فَالْعَاصِفَاتِ عَصْفًا، فَأَخَذْتُهَا وَهِيَ رَطْبَةٌ بِفِيهِ، أَوْ فُوهُ رَطْبٌ بِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی پہاڑ کے غار میں تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے نماز پڑھ رہے تھے اور لوگ سو رہے تھے کہ اچانک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب سے ایک سانپ گزرا، ہم بیدار ہو گئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس ذات نے تمہیں اس سے محفوظ رکھا، اسی نے اسے تم سے محفوظ رکھا۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سورہ مرسلات نازل ہوئی، جسے میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منہ مبارک سے نکلتے ہی یاد کر لیا، ابھی وہ سورت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دہن مبارک پر تازہ ہی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4335]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهمام العوذي - و إن سمع من عطاء بن السائب بعد اختلاطه - متابع.
الحكم: صحيح لغيره، وهمام العوذي - و إن سمع من عطاء بن السائب بعد اختلاطه - متابع.
حدیث نمبر: 4336 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ ، الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَبِيهِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ حَصِيرَةَ ، حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : كُنْتُ مَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حُنَيْنٍ، قَالَ: فَوَلَّى عَنْهُ النَّاسُ، وَثَبَتَ مَعَهُ ثَمَانُونَ رَجُلًا مِنَ الْمُهَاجِرِينَ، وَالْأَنْصَارِ، فَنَكَصْنَا عَلَى أَقْدَامِنَا نَحْوًا مِنْ ثَمَانِينَ قَدَمًا، وَلَمْ نُوَلِّهِمْ الدُّبُرَ، وَهُمْ الَّذِينَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِمْ السَّكِينَةَ، قَالَ: وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى بَغْلَتِهِ يَمْضِي قُدُمًا، فَحَادَتْ بِهِ بَغْلَتُهُ، فَمَالَ عَنِ السَّرْجِ، فَقُلْتُ لَهُ: ارْتَفِعْ رَفَعَكَ اللَّهُ، فَقَالَ:" نَاوِلْنِي كَفًّا مِنْ تُرَابٍ"، فَضَرَبَ بِهِ وُجُوهَهُمْ، فَامْتَلَأَتْ أَعْيُنُهُمْ تُرَابًا، ثُمَّ قَالَ:" أَيْنَ الْمُهَاجِرُونَ، وَالْأَنْصَارُ؟" قُلْتُ: هُمْ أُولَاءِ، قَالَ:" اهْتِفْ بِهِمْ"، فَهَتَفْتُ بِهِمْ، فَجَاءُوا وَسُيُوفُهُمْ بِأَيْمَانِهِمْ كَأَنَّهَا الشُّهُبُ، وَوَلَّى الْمُشْرِكُونَ أَدْبَارَهُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ حنین کے موقع پر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھا، لوگ ابتدائی طور پر پیٹھ پھیر کر بھاگنے لگے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مہاجرین و انصار میں سے صرف اسی آدمی ثابت قدم رہے، ہم لوگ تقریبا اسی قدم پیچھے آ گئے، ہم نے پیٹھ نہیں پھیری تھی، یہ وہی لوگ تھے جن پر اللہ تعالیٰ نے سکینہ نازل فرمایا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت اپنے خچر پر سوار تھے اور آگے بڑھ رہے تھے، خچر کی رفتار تیز ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زمین کی طرف جھک گئے، میں نے عرض کیا: سر اٹھائیے، اللہ آپ کو رفعتیں عطا فرمائے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کہ مجھے ایک مٹھی مٹی اٹھا کر دو، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ مٹی ان کے چہروں پر دے ماری اور مشرکین کی آنکھوں میں مٹی بھر گئی، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مہاجرین و انصار کہاں ہیں؟ میں نے عرض کیا: وہ یہ رہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انہیں آواز دو، میں نے آواز لگائی تو وہ ہاتھوں میں ستاروں کی طرح چمکتی تلواریں لئے حاضر ہو گئے اور مشرکین پشت پھیر کر بھاگ گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4336]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، عبدالرحمن يترجح عدم سماعه هذا الخبر من أبيه.
الحكم: إسناده ضعيف، عبدالرحمن يترجح عدم سماعه هذا الخبر من أبيه.
حدیث نمبر: 4337 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، حَسَنٌ ، عَطَاءٍ ، عَفَّانُ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، حَسَنٌ ، ابْنَ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، قَالَ حَسَنٌ : عَنْ عَطَاءٍ ، وَقَالَ عَفَّانُ : حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ حَسَنٌ : إِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" يَكُونُ قَوْمٌ فِي النَّارِ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونُوا، ثُمَّ يَرْحَمُهُمْ اللَّهُ، فَيُخْرِجُهُمْ مِنْهَا فَيَكُونُونَ فِي أَدْنَى الْجَنَّةِ فَيَغْتَسِلُونَ فِي نَهَرٍ يُقَالُ لَهُ: الْحَيَوَانُ، يُسَمِّيهِمْ أَهْلُ الْجَنَّةِ: الْجَهَنَّمِيُّونَ، لَوْ ضَافَ أَحَدُهُمْ أَهْلَ الدُّنْيَا لَفَرَشَهُمْ، وَأَطْعَمَهُمْ، وَسَقَاهُمْ، وَلَحَفَهُمْ، وَلَا أَظُنُّهُ إِلَّا قَالَ: وَلَزَوَّجَهُمْ، قَالَ حَسَنٌ: لَا يَنْقُصُهُ ذَلِكَ شَيْئًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جہنم میں ایک قوم ہو گی جو جہنم میں اس وقت تک رہے گی جب تک اللہ کی مشیت ہو گی، پھر اللہ کو ان پر ترس آئے گا اور وہ انہیں جہنم سے نکال لے گا، تو یہ لوگ جنت کے قریبی حصے میں ہوں گے، پھر وہ حیوان نامی ایک نہر میں غسل کریں گے، اہل جنت انہیں جہنمی کہہ کر پکارا کریں گے، اگر ان میں سے کوئی ایک شخص ساری دنیا کے لوگوں کی دعوت کرنا چاہے تو ان کے لئے بستروں کا بھی انتطام کر لے گا، کھانے پینے کا بھی انتظام کر لے گا، اور ان کے لئے رضائیوں کو بھی مہیا کر لے گا۔ غالبا راوی نے یہ بھی کہا کہ اگر ان سب کی شادی کرنا چاہے تو یہ بھی کر لے گا اور اسے کسی چیز کی کمی محسوس نہ ہو گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4337]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، حماد بن سلمة سمع من عطاء بن السائب قبل الاختلاط، وللحديث أصل من حديث أنس عند البخاري: 6559. ومن حديث جابر أيضا : 6556 .
الحكم: إسناده حسن، حماد بن سلمة سمع من عطاء بن السائب قبل الاختلاط، وللحديث أصل من حديث أنس عند البخاري: 6559. ومن حديث جابر أيضا : 6556 .
حدیث نمبر: 4338 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَاصِمٍ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، رَفَعَ الْحَدِيثَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ جَهَنَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کر کے کوئی بات بیان کرے اسے چاہیے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4338]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4339 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأُمَمُ بِالْمَوْسِمِ، فَرَاثَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي، قَالَ: فَرَأَيْتُهُمْ، فَأَعْجَبَتْنِي كَثْرَتُهُمْ، وَهَيْئَاتُهُمْ، قَدْ مَلَئُوا السَّهْلَ وَالْجَبَلَ ؛ قَالَ حَسَنٌ: فَقَالَ: أَرَضِيتَ يَا مُحَمَّدُ؟ فَقُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنَّ لَكَ مَعَ هَؤُلَاءِ ؛ قَالَ عَفَّانُ، وَحَسَنٌ: فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، إِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، وَهُمْ الَّذِينَ لَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَلَا يَكْتَوُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ"، فَقَامَ عُكَّاشَةُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ. فَدَعَا لَهُ، ثُمَّ قَامَ آخَرُ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَقَالَ:" سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مختلف امتیں دکھائی گئیں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت کے آنے میں تاخیر ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ پھر مجھے میری امت دکھائی گئی، جس کی کثرت پر مجھے بہت تعجب ہوا کہ انہوں نے ہر ٹیلے اور پہاڑ کو بھر رکھا تھا، مجھ سے کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے، ان کے ساتھ ستر ہزار آدمی ایسے ہیں جو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ کر علاج نہیں کرتے، جھاڑ پھونک اور منتر نہیں کرتے، بدشگونی نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ یہ سن کر سیدنا عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے لئے دعا کر دی، پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4339]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل عاصم.
الحكم: إسناده حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4340 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ، وَهُوَ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَإِذَا ابْنُ مَسْعُودٍ يُصَلِّي، وَإِذَا هُوَ يَقْرَأُ النِّسَاءَ، فَانْتَهَى إِلَى رَأْسِ الْمِائَةِ، فَجَعَلَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَدْعُو، وَهُوَ قَائِمٌ يُصَلِّي، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اسْأَلْ تُعْطَهْ، اسْأَلْ تُعْطَهْ"، ثُمَّ قَالَ:" مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا كَمَا أُنْزِلَ، فَلْيَقْرَأْهُ بِقِرَاءَةِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ" فَلَمَّا أَصْبَحَ غَدَا إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ رضِي الله عَنْهُ لِيُبَشِّرَهُ، وَقَالَ لَهُ: مَا سَأَلْتَ اللَّهَ الْبَارِحَةَ؟ قَالَ: قُلْتُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا لَا يَرْتَدُّ، وَنَعِيمًا لَا يَنْفَدُ، وَمُرَافَقَةَ مُحَمَّدٍ فِي أَعْلَى جَنَّةِ الْخُلْدِ"، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ رَضِي الله عَنْه، فَقِيلَ لَهُ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ قَدْ سَبَقَكَ، قَالَ: يَرْحَمُ اللَّهُ أَبَا بَكْرٍ، مَا سَبَقْتُهُ إِلَى خَيْرٍ قَطُّ، إِلَّا سَبَقَنِي إِلَيْهِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ سیدنا ابوبکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سورہ نساء کی تلاوت شروع کی اور مہارت کے ساتھ اسے پڑھتے رہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص قرآن کو اس طرح مضبوطی کے ساتھ پڑھنا چاہے جیسے وہ نازل ہوا تو اسے ابن ام عبد کی طرح پڑھنا چاہیے، پھر وہ بیٹھ کر دعا کرنے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مانگو تمہیں دیا جائے گا، انہوں نے یہ دعا مانگی: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ إِيمَانًا لَا يَرْتَدُّ وَنَعِيمًا لَا يَنْفَدُ وَمُرَافَقَةَ مُحَمَّدٍ فِي أَعْلَى جَنَّةِ الْخُلْدِ» اے اللہ! میں آپ سے ایسی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی ختم نہ ہوں، آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک جو کبھی فنا نہ ہو، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جنت الخلد میں رفاقت کا سوال کرتا ہوں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ انہیں خوشخبری دینے کے لئے پہنچے تو پتہ چلا کہ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان پر سبقت لے گئے ہیں، جس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر آپ نے یہ کام کیا ہے تو آپ ویسے بھی نیکی کے کاموں میں بہت زیادہ سبقت لے جانے والے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4340]
حکم دارالسلام
صحيح بشواهده ، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
الحكم: صحيح بشواهده ، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4341 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، زَائِدَةُ ، عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ ، زِرٍّ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَاهُ بَيْنَ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا... فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4341]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
الحكم: حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4342 مسند احمد
عَفَّانُ ، قَيْسٌ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا قَيْسٌ ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ مِنَ الْبَيَانِ سِحْرًا، وَشِرَارُ النَّاسِ الَّذِينَ تُدْرِكُهُمْ السَّاعَةُ أَحْيَاءً، وَالَّذِينَ يَتَّخِذُونَ قُبُورَهُمْ مَسَاجِدَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں، اور سب سے بدترین لوگ وہ ہوں گے جو اپنی زندگی میں قیامت کا زمانہ پائیں گے، یا وہ جو قبرستان کو سجدہ گاہ بنا لیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4342]
حکم دارالسلام
قوله: «إن من البيان سحرا» صحيح لغيره، وباقي الحديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف قيس.
الحكم: قوله: «إن من البيان سحرا» صحيح لغيره، وباقي الحديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف قيس.
حدیث نمبر: 4343 مسند احمد
عَفَّانُ ، جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْمُتَوَشِّمَاتِ وَالْمُتَنَمِّصَاتِ وَالْمُتَفَلِّجَاتِ، وَالْمُغَيِّرَاتِ خَلْقَ اللَّهِ"، ثُمّ قَالَ: أَلَا أَلْعَنُ مَنْ لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ: إِنِّي لَأَظُنُّهُ فِي أَهْلِكَ! فَقَالَ: لَهَا اذْهَبِي فَانْظُرِي، فَذَهَبَتْ فَنَظَرَتْ، فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ فِيهِمْ شَيْئًا، وَمَا رَأَيْتُهُ فِي الْمُصْحَفِ! قَالَ: بَلَى، قَالَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ موچنے سے بالوں کو نوچنے والی، دانتوں کو باریک کرنے والی، دوسرے کے بالوں کو اپنے ساتھ ملانے والی اور جسم گودنے والی اور اللہ کی تخلیق کو بدلنے والی عورتوں پر اللہ کی لعنت ہو، اور میں اس پر کیوں لعنت نہ کروں جس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لعنت فرمائی ہے۔ اس پر بنو اسد کی ایک عورت کہنے لگی کہ اگر آپ کے گھر کی عورتیں یہ کام کرتی ہوں تو؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جا کر دیکھ لو، وہ عورت ان کے گھر چلی گئی، پھر آ کر کہنے لگی کہ مجھے تو وہاں کوئی قابل اعتراض بات نظر نہیں آئی، البتہ مجھے قرآن میں تو یہ حکم نہیں ملتا؟ انہوں نے فرمایا: کیوں نہیں، یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4343]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5948، م: 2125.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5948، م: 2125.
حدیث نمبر: 4344 مسند احمد
شَيْبَانُ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ... نَحْوَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4344]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5948، م: 2125.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5948، م: 2125.
حدیث نمبر: 4345 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، زُبَيْدٍ ، وَمَنْصُورٍ ، وَسُلَيْمَانَ ، أبا وائل ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، وَمَنْصُورٍ ، وَسُلَيْمَانَ ، أخبروني أنهم سمعوا أبا وائل يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ"، قَالَ زُبَيْدٌ: قُلْتُ لِأَبِي وَائِلٍ مَرَّتَيْنِ: أَأَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے دو مرتبہ ابووائل سے پوچھا: کیا آپ نے یہ بات سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے خود سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں! [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4345]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6044، م: 64.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6044، م: 64.
حدیث نمبر: 4346 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ سُوَيْدٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوعَكُ، فَوَضَعْتُ يَدِي عَلَيْهِ، وَقُلْتُ: إِنَّكَ تُوعَكُ وَعْكًا شَدِيدًا؟ قَالَ:" إِنِّي أُوعَكُ كَمَا يُوعَكُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ"، قَالَ قُلْتُ ذَاكَ بِأَنَّ لَكَ أَجْرَيْنِ؟ قَالَ" أَجَلْ، مَا مِنْ مُؤْمِنٍ يُصِيبُهُ مَرَضٌ فَمَا سِوَاهُ إِلَّا حَطَّ اللَّهُ بِهِ خَطَايَاهُ، كَمَا تَحُطُّ الشَّجَرَةُ وَرَقَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شدید بخار چڑھا ہوا تھا، میں نے ہاتھ لگا کر پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا آپ کو بھی ایسا شدید بخار ہوتا ہے؟ فرمایا: ہاں! مجھے تم میں سے دو آدمیوں کے برابر بخار ہوتا ہے، میں نے عرض کیا کہ پھر آپ کو اجر بھی دوہرا ملتا ہوگا؟ فرمایا: ہاں! اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے، روئے زمین پر کوئی مسلمان ایسا نہیں ہے کہ جسے کوئی تکلیف پہنچے - خواہ وہ بیماری ہو یا کچھ اور - اور اللہ اس کی برکت سے اس کے گناہ اسی طرح نہ جھاڑ دے جیسے درخت سے اس کے پتے جھڑ جاتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4346]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5647، م: 2571.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5647، م: 2571.
حدیث نمبر: 4347 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: دَخَلْتُ أَنَا وَعَلْقَمَةُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ بِالْهَاجِرَةِ،" فَلَمَّا مَالَتْ الشَّمْسُ، أَقَامَ الصَّلَاةَ، وَقُمْنَا خَلْفَهُ، فَأَخَذَ بِيَدِي وَبِيَدِ صَاحِبِي، فَجَعَلَنَا عَنْ نَاحِيَتَيْهِ، وَقَامَ بَيْنَنَا"، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَصْنَعُ إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً، ثُمَّ صَلَّى بِنَا. فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ:" إِنَّهَا سَتَكُونُ أَئِمَّةٌ يُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا، فَلَا تَنْتَظِرُوهُمْ بِهَا، وَاجْعَلُوا الصَّلَاةَ مَعَهُمْ سُبْحَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
اسود کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ دوپہر کے وقت میں علقمہ کے ساتھ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، نماز کھڑی ہوئی تو ہم دونوں ان کے پیچھے کھڑے ہو گئے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک ہاتھ سے مجھے پکڑا اور ایک ہاتھ سے میرے ساتھی کو اور ہمیں آگے کھینچ لیا، یہاں تک کہ ہم میں سے ہر شخص ایک کونے پر ہو گیا اور وہ خود ہمارے درمیان کھڑے ہو گئے، پھر انہوں نے فرمایا کہ جب تین آدمی ہوتے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے، پھر ہمیں نماز پڑھا کر فرمایا: عنقریب ایسے حکمران آئیں گے جو نماز کو اس کے وقت مقررہ سے مؤخر کر دیا کریں گے، تم ان کا انتظار مت کرنا اور ان کے ساتھ نوافل کی نیت سے شریک ہو جایا کرنا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4347]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 534، وهذا إسناد حسن، ابن إسحاق صرح بالتحديث فى الرواية الآتية برقم: 4386.
الحكم: صحيح لغيره، م: 534، وهذا إسناد حسن، ابن إسحاق صرح بالتحديث فى الرواية الآتية برقم: 4386.
حدیث نمبر: 4348 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، مِسْعَرٌ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ، فَأَيُّكُمْ مَا شَكَّ فِي صَلَاتِهِ، فَلْيَنْظُرْ أَحْرَى ذَلِكَ الصَّوَابَ، فَلْيُتِمَّ عَلَيْهِ وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں بھی انسان ہوں، جس طرح تم بھول جاتے ہو، میں بھی بھول سکتا ہوں، اور تم میں سے کسی کو جب کبھی اپنی نماز میں شک پیدا ہو جائے تو وہ خوب غور کر کے محتاط رائے کو اختیار کر لے اور سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کر لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4348]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 572.
الحكم: إسناده صحيح، م: 572.