بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 899
صفحہ 35 از 45
حدیث نمبر: 4229 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ تَنْعَتُهَا لِزَوْجِهَا حَتَّى، كَأَنَّهُ يَنْظُرُ إِلَيْهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی عورت کسی عورت کے ساتھ اپنا برہنہ جسم نہ لگائے کہ اپنے شوہر کے سامنے اس کی جسمانی ساخت اس طرح سے بیان کرے کہ گویا وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4229]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5241.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5241.
حدیث نمبر: 4230 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، مَنْصُورٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ الْوَاشِمَاتِ وَالْمُتَوَشِّمَاتِ، وَالْمُتَنَمِّصَاتِ، وَالْمُتَفَلِّجَاتِ لِلْحُسْنِ". فَبَلَغَ ذَلِكَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي أَسَدٍ، يُقَالُ لَهَا: أُمُّ يَعْقُوبَ، فَأَتَتْهُ، فَقَالَتْ: قَدْ قَرَأْتُ مَا بَيْنَ اللَّوْحَيْنِ، مَا وَجَدْتُ مَا قُلْتَ! قَالَ: مَا وَجَدْتِ: وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7؟ فَقَالَتْ: إِنِّي لَأُرَاهُ فِي بَعْضِ أَهْلِكَ؟ قَالَ: اذْهَبِي فَانْظُرِي، قَالَ: فَذَهَبَتْ فَنَظَرَتْ، ثُمَّ جَاءَتْ، فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَوْ كَانَ لَهَا مَا جَامَعْنَاهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ موچنے سے بالوں کو نوچنے والی اور نچوانے والی، جسم گودنے والی اور حسن کے لئے دانتوں کو باریک کرنے والی عورتوں پر اللہ کی لعنت ہو، ام یعقوب نامی بنو اسد کی ایک عورت کو یہ بات پتہ چلی تو وہ ان کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ واللہ! میں تو دو گتوں کے درمیان جو مصحف ہے اسے خوب اچھی طرح کھنگال چکی ہوں، مجھے تو اس میں یہ حکم کہیں نہیں ملا؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا اس میں تمہیں یہ آیت ملی: « ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ » [الحشر: 7] اللہ کے پیغمبر تمہیں جو حکم دیں اس پر عمل کرو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ؟ اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان چیزوں سے منع فرمایا ہے۔ وہ عورت کہنے لگے کہ اگر آپ کے گھر کی عورتیں یہ کام کرتی ہوں تو؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جا کر دیکھ لو، وہ عورت ان کے گھر چلی گئی، پھر آکر کہنے لگی کہ مجھے تو وہاں کوئی قابل اعتراض بات نظر نہیں آئی، انہوں نے فرمایا: اگر ایسا ہوتا تو میری بیوی میرے ساتھ نہ رہ سکتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4230]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5948، م: 2125.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5948، م: 2125.
حدیث نمبر: 4231 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَلِمَةً، وَقُلْتُ أُخْرَى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ مَاتَ يُشْرِكُ بِاللَّهِ، شَيْئًا دَخَلَ النَّارَ".وَقُلْتُ:" مَنْ مَاتَ لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا، دَخَلَ الْجَنَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو باتیں ہیں جن میں سے ایک میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے اور دوسری میں اپنی طرف سے کہتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ جو شخص اس حال میں مرجائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہو گا۔ اور میں یہ کہتا ہوں کہ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4231]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1238، م: 92.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1238، م: 92.
حدیث نمبر: 4232 مسند احمد
ابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث موقوف) (حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:... فَذَكَرَ مِثْلَهُ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" يَجْعَلُ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ نِدًّا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4232]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1238، م: 92.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1238، م: 92.
حدیث نمبر: 4233 مسند احمد
وَكِيعٌ ، أَبِيهِ ، وَإِسْرَائِيلَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، وَإِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى، وَالتُّقَى، وَالْعِفَّةَ، وَالْغِنَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعِفَّةَ وَالْغِنَى» اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقوی، عفت اور غنا (مخلوق کے سامنے عدم احتیاج) کا سوال کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4233]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2721.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2721.
حدیث نمبر: 4234 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ الْكَاهِلِيِّ ، مُغِيرَةَ بْنِ سَعْدِ بْنِ الْأَخْرَمِ الطَّائِيِّ ، أَبِيهِ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شِمْرِ بْنِ عَطِيَّةَ الْكَاهِلِيِّ ، عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ سَعْدِ بْنِ الْأَخْرَمِ الطَّائِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَتَّخِذُوا الضَّيْعَةَ، فَتَرْغَبُوا فِي الدُّنْيَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جائیداد نہ بنایا کرو، ورنہ تم دنیا ہی میں منہمک ہو جاؤ گے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4234]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف.
الحكم: إسناده ضعيف.
حدیث نمبر: 4235 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، شُعْبَةَ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" قَرَأَ النَّجْمَ، فَسَجَدَ فِيهَا وَمَنْ مَعَهُ"، إِلَّا شَيْخٌ كَبِيرٌ، أَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى، أَوْ تُرَابٍ، قَالَ: فَقَالَ بِهِ هَكَذَا، وَضَعَهُ عَلَى جَبْهَتِهِ، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ قُتِلَ كَافِرًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورہ نجم کے آخر میں سجدہ تلاوت کیا اور تمام مسلمانوں نے بھی سجدہ کیا، سوائے قریش کے ایک آدمی کے جس نے ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور اسے اپنی پیشانی کی طرف بڑھا کر اس پر سجدہ کر لیا، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بعد میں میں نے اسے دیکھا کہ وہ کفر کی حالت میں مارا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4235]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1067، م: 576.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1067، م: 576.
حدیث نمبر: 4236 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يُنْزِلْ دَاءً إِلَّا أَنْزَلَ لَهُ شِفَاءً، عَلِمَهُ مَنْ عَلِمَهُ، وَجَهِلَهُ مَنْ جَهِلَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مرفوعا مروی ہے کہ اللہ نے جو بیماری بھی اتاری ہے، اس کی شفا بھی اتاری ہے، جو جان لیتا ہے سو جان لیتا ہے اور جو ناواقف رہتا ہے سو ناواقف رہتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4236]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، سفيان الثوري سمع من عطاء بن السائب قبل اختلاطه.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن، سفيان الثوري سمع من عطاء بن السائب قبل اختلاطه.
حدیث نمبر: 4237 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمُ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ خَمْسًا، فَقِيلَ لَهُ: زِيدَ فِي الصَّلَاةِ؟! قَالَ" وَمَا ذَاكَ؟" قَالُوا: صَلَّيْتَ خَمْسًا، قَالَ:" فَثَنَى رِجْلَهُ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَمَا سَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، اور اس کی پانچ رکعتیں پڑھا دیں، کسی نے پوچھا: کیا نماز میں اضافہ ہوگیا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: نہیں، کیا ہوا؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: آپ نے تو پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں، یہ سن کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے پاؤں موڑے اور سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کر لئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4237]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1226، م: 572.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1226، م: 572.
حدیث نمبر: 4238 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، سُلَيْمَانُ ، عُمَارَةَ ، وَهْبِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ عُمَارَةَ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنْتُ مُسْتَتِرًا بِأَسْتَارِ الْكَعْبَةِ، فَجَاءَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ، ثَقَفِيٌّ وَخَتَنَاهُ قُرَشِيَّانِ، كَثِيرٌ شَحْمُ بُطُونِهِمْ، قَلِيلٌ فِقْهُ قُلُوبِهِمْ، قَالَ: فَتَحَدَّثُوا بَيْنَهُمْ بِحَدِيثٍ، قَالَ: فَقَالَ أَحَدُهُمْ: أَتُرَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَسْمَعُ مَا نَقُولُ؟! قَالَ الْآخَرُ: يَسْمَعُ مَا رَفَعْنَا، وَمَا خَفَضْنَا لَا يَسْمَعُ!! قَالَ الْآخَرُ: إِنْ كَانَ يَسْمَعُ شَيْئًا، فَهُوَ يَسْمَعُهُ كُلَّهُ، قَالَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فَنَزَلَتْ: وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سورة فصلت آية 22 إِلَى قَوْلِهِ فَمَا هُمْ مِنَ الْمُعْتَبِينَ سورة فصلت آية 24".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں غلاف کعبہ سے چمٹا ہوا تھا کہ تین آدمی آئے، ان میں سے ایک ثقفی تھا اور دو قبیلہ قریش کے جو اس کے داماد تھے، ان کے پیٹ میں چربی زیادہ تھی لیکن دلوں میں سمجھ بوجھ بہت کم تھی، وہ چپکے چپکے باتیں کرنے لگے جنہیں میں نہ سن سکا، اتنی دیر میں ان میں سے ایک نے کہا: تمہارا کیا خیال ہے، کیا اللہ ہماری ان باتوں کو سن رہا ہے؟ دوسرا کہنے لگا: میرا خیال ہے کہ جب ہم اونچی آواز سے باتیں کرتے ہیں تو وہ انہیں سنتا ہے اور جب ہم اپنی آوازیں بلند نہیں کرتے تو وہ انہیں نہیں سن پاتا، تیسرا کہنے لگا: اگر وہ کچھ سن سکتا ہے تو سب کچھ بھی سن سکتا ہے، میں نے یہ بات نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ذکر کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: «‏‏‏‏ ﴿وَمَا كُنْتُمْ تَسْتَتِرُونَ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْكُمْ سَمْعُكُمْ وَلَا أَبْصَارُكُمْ وَلَا جُلُودُكُمْ . . . . . فَمَا هُمْ مِنَ الْمُعْتَبِينَ﴾ » ‏‏‏‏ [فصلت: 22-24] اور تم جو چیزیں چھپاتے ہو کہ تمہارے کان، آنکھیں اور کھالیں تم پر گواہ نہ بن سکیں . . . . . تو وہ معاف کیے گئے لوگوں میں سے نہیں ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4238]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 4817، م: 2775.
الحكم: حديث صحيح، خ: 4817، م: 2775.
حدیث نمبر: 4239 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةَ ، الْحَكَمِ ، مُجَاهِدٍ ، أَبِي مَعْمَرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: سَمِعْتُهُ مَرَّةً رَفَعَهُ، ثُمَّ تَرَكَهُ، رَأَى أَمِيرًا أَوْ رَجُلًا" سَلَّمَ تَسْلِيمَتَيْنِ، فَقَالَ: أَنَّى عَلِقَهَا؟".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابومعمر کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کسی گورنر یا عام آدمی کو دو مرتبہ سلام پھیرتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: تو نے اسے کہاں لٹکا دیا؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4239]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 581.
الحكم: إسناده صحيح، م: 581.
حدیث نمبر: 4240 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ سورة الأنعام آية 82، شَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالُوا: أَيُّنَا لَمْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ كَمَا تَظُنُّونَ، إِنَّمَا هُوَ كَمَا قَالَ لُقْمَانُ لِابْنِهِ: يَا بُنَيَّ لا تُشْرِكْ بِاللَّهِ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ سورة لقمان آية 13".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب یہ آیت مبارکہ نازل ہوئی: « ﴿الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ . . . . .﴾ » [الأنعام: 82] وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ مخلوط نہیں کیا . . . . . تو لوگوں پر یہ بات بڑی شاق گزری اور وہ کہنے لگے: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم میں سے کون شخص ہے جس نے اپنی جان پر ظلم نہ کیا ہو؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کا وہ مطلب نہیں ہے جو تم مراد لے رہے ہو، کیا تم نے وہ بات نہیں سنی جو عبد صالح (حضرت لقمان علیہ السلام) نے فرمائی تھی کہ پیارے بیٹے! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرانا کیونکہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ اس آیت میں بھی شرک ہی مراد ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4240]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6937، م: 124.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6937، م: 124.
حدیث نمبر: 4241 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ" يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدِّهِ". وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: حَتَّى نَرَى بَيَاضَ خَدِّهِ مِنْ هَاهُنَا، وَنَرَى بَيَاضَ خَدِّهِ مِنْ هَاهُنَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دائیں بائیں اس طرح سلام پھیرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مبارک رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4241]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4242 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، رَجُلٍ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" امْشُوا إِلَى الْمَسْجِدِ، فَإِنَّهُ مِنَ الْهَدْيِ، وَسُنَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ مسجد کی طرف پیدل چل کر جایا کرو کیونکہ یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت اور ان کا طریقہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4242]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإبهام شيخ الأعمش.
الحكم: إسناده ضعيف لإبهام شيخ الأعمش.
حدیث نمبر: 4243 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْعَمَلِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" الصَّلَاةُ لِوَقْتِهَا"، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" بِرُّ الْوَالِدَيْنِ"، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ"، وَلَوْ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ بارگاہ الہی میں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنے وقت پر نماز پڑھنا، میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: والدین کے ساتھ حسن سلوک، میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد، اگر میں مزید سوالات کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے ان کا جواب بھی مرحمت فرماتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4243]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 527، م: 85.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 527، م: 85.
حدیث نمبر: 4244 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، مَنْصُورٌ ، خَيْثَمَةَ ، عَمَّنْ ، ابْنَ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ خَيْثَمَةَ ، عَمَّنْ سَمِعَ ابْنَ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا سَمَرَ إِلَّا لِمُصَلٍّ أَوْ مُسَافِرٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نماز عشا کے بعد باتیں کرنے کی اجازت کسی کو نہیں، سوائے دو آدمیوں کے، جو نماز پڑھ رہا ہو یا جو مسافر ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4244]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لإبهام راويه عن ابن مسعود.
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لإبهام راويه عن ابن مسعود.
حدیث نمبر: 4245 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، مَسْرُوقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ، يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، إِلَّا أَحَدَ ثَلَاثَةِ نَفَرٍ: النَّفْسُ بِالنَّفْسِ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي، وَالتَّارِكُ لِدِينِهِ الْمُفَارِقُ لِلْجَمَاعَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو مسلمان اس بات کی گواہی دیتا ہو کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا پیغمبر ہوں، اس کا خون حلال نہیں ہے، سوائے تین میں سے کسی ایک صورت کے، یا تو شادی شدہ ہو کر بدکاری کرے، یا قصاصا قتل کرنا پڑے، یا وہ شخص جو اپنے دین کو ہی ترک کر دے اور جماعت سے جدا ہو جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4245]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1676.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1676.
حدیث نمبر: 4246 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : انْتَهَيْتُ إِلَى أَبِي جَهْلٍ يَوْمَ بَدْرٍ وَقَدْ ضُرِبَتْ رِجْلُهُ، وَهُوَ صَرِيعٌ، وَهُوَ يَذُبُّ النَّاسَ عَنْهُ بِسَيْفٍ لَهُ، فَقُلْتُ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَخْزَاكَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ! فَقَالَ: هَلْ هُوَ إِلَّا رَجُلٌ قَتَلَهُ قَوْمُهُ؟! قَالَ: فَجَعَلْتُ أَتَنَاوَلُهُ بِسَيْفٍ لِي غَيْرِ طَائِلٍ، فَأَصَبْتُ يَدَهُ، فَنَدَرَ سَيْفُهُ، فَأَخَذْتُهُ فَضَرَبْتُهُ بِهِ، حَتَّى قَتَلْتُهُ، قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ حَتَّى أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنَّمَا أُقَلُّ مِنَ الْأَرْضِ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ:" آللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ؟" قَالَ: فَرَدَّدَهَا ثَلَاثًا، قَالَ: قُلْتُ: آللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ. قَالَ: فَخَرَجَ يَمْشِي مَعِي، حَتَّى قَامَ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَخْزَاكَ يَا عَدُوَّ اللَّهِ، هَذَا كَانَ فِرْعَوْنَ هَذِهِ الْأُمَّةِ". قَالَ: وَزَادَ فِيهِ أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : فَنَفَّلَنِي سَيْفَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں غزوہ بدر میں ابوجہل کے پاس پہنچا تو وہ زخمی پڑا ہوا تھا اور اس کی ٹانگ کٹ چکی تھی، اور وہ لوگوں کو اپنی تلوار سے دور کر رہا تھا، میں نے اس سے کہا: اللہ کا شکر ہے کہ اے اللہ کے دشمن! اس نے تجھے رسوا کر دیا، وہ کہنے لگا کہ کیا کسی شخص کو کبھی اس کی اپنی قوم نے بھی قتل کیا ہے؟ میں اسے اپنی تلوار سے مارنے لگا جو کند تھی، وہ اس کے ہاتھ پر لگی اور اس کی تلوار گر پڑی، میں نے اس کی تلوار پکڑ لی اور اس سے اس پر وار کیا یہاں تک کہ میں نے اسے قتل کر دیا، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ ابوجہل مارا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم کھا کر کہو جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، میں نے قسم کھا لی، تین مرتبہ اسی طرح ہوا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے ساتھ چلتے ہوئے اس کے پاس جا کر کھڑے ہو گئے اور فرمایا: اللہ کا شکر ہے کہ اے اللہ کے دشمن! اس نے تجھے رسوا کر دیا، یہ اس امت کا فرعون تھا۔ اور دوسری سند سے یہ اضافہ بھی منقول ہے کہ پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی تلوار مجھے انعام میں دے دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4246]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود.
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود.
حدیث نمبر: 4247 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبُو إِسْحَاقَ ، سُفْيَانَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ، فَقُلْتُ: قَتَلْتُ أَبَا جَهْلٍ، قَالَ:" آللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ؟" قَالَ: قُلْتُ: آللَّهِ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ، فَرَدَّدَهَا ثَلَاثًا، قَالَ:" اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي صَدَقَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ، انْطَلِقْ فَأَرِنِيهِ"، فَانْطَلَقْنَا، فَإِذَا بِهِ، فَقَالَ:" هَذَا فِرْعَوْنُ هَذِهِ الْأُمَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ ابوجہل مارا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم کھا کر کہو جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، میں نے قسم کھا لی، تین مرتبہ اسی طرح ہوا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا: اللہ کا شکر ہے جس نے اپنا وعدہ سچا کر دکھایا، اپنے بندے کی مدد کی اور تن تنہا تمام لشکروں کو شکست دے دی، میرے ساتھ چلو تاکہ میں بھی دیکھوں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی لاش کے پاس تشریف لائے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ اس امت کا فرعون تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4247]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود.
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود.
حدیث نمبر: 4248 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنْتُ أَمْشِي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ بِالْمَدِينَةِ، فَمَرَّ عَلَى قَوْمٍ مِنْ الْيَهُودِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: سَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا تَسْأَلُوهُ، فَقَالُوا: يَا مُحَمَّدُ، مَا الرُّوحُ؟ قَالَ: فَقَامَ، وَهُوَ مُتَوَكِّئٌ عَلَى عَسِيبٍ، وَأَنَا خَلْفَهُ، فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُوحَى إِلَيْهِ، فَقَالَ:" وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلا قَلِيلا سورة الإسراء آية 85"، قَالَ: فَقَالَ بَعْضُهُمْ: قَدْ قُلْنَا: لَا تَسْأَلُوهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ کے کسی کھیت میں چل رہا تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی لاٹھی ٹیکتے جا رہے تھے، چلتے چلتے یہودیوں کی ایک جماعت پر سے گزر ہوا، وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ ان سے روح کے متعلق سوال کرو، لیکن کچھ لوگوں نے انہیں سوال کرنے سے منع کیا، الغرض! انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روح کے متعلق دریافت کیا اور کہنے لگے: اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! روح کیا چیز ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھڑے کھڑے اپنی لاٹھی سے ٹیک لگا لی، میں سمجھ گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر وحی نازل ہو رہی ہے، چنانچہ وہ کیفیت ختم ہونے کے بعد نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «‏‏‏‏ ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا﴾ » ‏‏‏‏ [الإسراء: 85] یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ فرما دیجئے کہ روح تو میرے رب کا حکم ہے، اور تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ یہ سن کر وہ ایک دوسرے سے کہنے لگے: ہم نے کہا تھا ناں کہ ان سے مت پوچھو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4248]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7456، م: 2794.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7456، م: 2794.