بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 899
صفحہ 14 از 45
حدیث نمبر: 3808 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، مَنْصُورٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ لِي أَنْ أَعْلَمَ إِذَا أَحْسَنْتُ، وَإِذَا أَسَأْتُ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا سَمِعْتَ جِيرَانَكَ يَقُولُونَ: قَدْ أَحْسَنْتَ، فَقَدْ أَحْسَنْتَ، وَإِذَا سَمِعْتَهُمْ يَقُولُونَ: قَدْ أَسَأْتَ، فَقَدْ أَسَأْتَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: یا رسول اللہ! مجھے اپنی نیکی اور برائی کا کیسے پتہ چلے گا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اپنے پڑوسیوں کو اپنے متعلق یہ کہتے ہوئے سنو کہ تم نے اچھا کام کیا تو واقعی تم نے اچھا کام کیا، اور جب تم لوگوں کو اپنے متعلق یہ کہتے ہوئے سنو کہ تو نے برا کام کیا تو تم نے واقعی برا کام کیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3808]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 3809 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، شَرِيكٌ ، سِمَاكٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، أَنْبَأَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَعَنَ اللَّهُ آكِلَ الرِّبَا، وَمُوكِلَهُ، وَشَاهِدَيْهِ، وَكَاتِبَهُ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: قَالَ: وَقَالَ:" مَا ظَهَرَ فِي قَوْمٍ الرِّبَا وَالزِّنَا، إِلَّا أَحَلُّوا بِأَنْفُسِهِمْ عِقَابَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سود کھانے والے، کھلانے والے، سودی معاملے پر گواہ بننے والے اور اسے تحریر کرنے والے پر اللہ کی لعنت ہو، نیز یہ کہ جس قوم میں سود اور زنا کا غلبہ ہو جائے، وہ لوگ اپنے اوپر اللہ کے عذاب کو حلال کر لیتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3809]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، م: 1597، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك.
الحكم: صحيح لغيره، م: 1597، وهذا إسناد ضعيف لضعف شريك.
حدیث نمبر: 3810 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، إِسْرَائِيلَ ، أَبِي فَزَارَةَ ، أَبِي زَيْدٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي فَزَارَةَ ، عَنْ أَبِي زَيْدٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ لَقِيَ الْجِنَّ، فَقَالَ:" أَمَعَكَ مَاءٌ؟" فَقُلْتُ: لَا، فَقَالَ:" مَا هَذَا فِي الْإِدَاوَةِ؟" قُلْتُ: نَبِيذٌ، قَالَ:" أَرِنِيهَا، تَمْرَةٌ طَيِّبَةٌ، وَمَاءٌ طَهُورٌ"، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا، ثُمَّ صَلَّى بِنَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں لیلۃ الجن کے موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: عبداللہ! کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: اس برتن میں کیا ہے؟ میں نے عرض کیا: نبیذ ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اسے میرے ہاتھوں پر ڈالو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے وضو کیا اور فرمایا: اے عبداللہ بن مسعود! یہ پینے کی چیز بھی ہے اور طہارت بخش بھی ہے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اسی سے وضو کر کے نماز پڑھائی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3810]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى زيد.
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى زيد.
حدیث نمبر: 3811 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، عَاصِمٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ جَعَلَ لِلَّهِ نِدًّا، جَعَلَهُ اللَّهُ فِي النَّارِ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وقَالَ: وقَالَ: وَأُخْرَى أَقُولُهَا، لَمْ أَسْمَعْهَا مِنْهُ:" مَنْ مَاتَ لَا يَجْعَلُ لِلَّهِ نِدًّا، أَدْخَلَهُ اللَّهُ الْجَنَّةَ، وَإِنَّ هَذِهِ الصَّلَوَاتِ كَفَّارَاتٌ لِمَا بَيْنَهُنَّ مَا اجْتُنِبَ الْمَقْتَلُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ دو باتیں ہیں جن میں سے ایک میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہے اور دوسری میں اپنی طرف سے کہتا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ جو شخص اس حال میں مر جائے کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراتا ہو، وہ جہنم میں داخل ہوگا، اور میں یہ کہتا ہوں کہ جو شخص اس حال میں فوت ہو کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا، اور یہ نمازیں اپنے درمیانی وقت کے لئے کفارہ بن جاتی ہیں بشرطیکہ آدمی قتل و قتال سے بچتا رہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3811]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 3812 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، عَاصِمٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي فَرَطُكُمْ عَلَى الْحَوْضِ، وَإِنِّي سَأُنَازَعُ رِجَالًا، فَأُغْلَبُ عَلَيْهِمْ، فَأَقُولُ: يَا رَبِّ أَصْحَابِي، فَيُقَالُ: لَا تَدْرِي مَا أَحْدَثُوا بَعْدَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں حوض کوثر پر تمہارا انتظار کروں گا، مجھ سے اس موقع پر کچھ لوگوں کے بارے جھگڑا کیا جائے گا اور میں مغلوب ہو جاؤں گا، میں عرض کروں گا: پروردگار! میرے ساتھی؟ ارشاد ہوگا کہ آپ نہیں جانتے کہ انہوں نے آپ کے بعد کیا چیزیں ایجاد کر لی تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3812]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6576 ، م: 2297.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن، خ: 6576 ، م: 2297.
حدیث نمبر: 3813 مسند احمد
رَوْحٌ ، سَعِيدٌ ، عَبْدِ السَّلَامِ ، حَمَّادٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَصُومُ فِي السَّفَرِ، وَيُفْطِرُ، وَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، لَا يَدَعُهُمَا"، يَقُولُ: لَا يَزِيدُ عَلَيْهِمَا يَعْنِي الْفَرِيضَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سفر میں روزہ بھی رکھتے تھے اور افطار بھی فرماتے تھے، دوران سفر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرض نمازوں کی دو رکعتیں پڑھتے تھے، ان پر اضافہ نہیں فرماتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3813]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف جدا، عبدالسلام ضعيف جدا ، منكر الحديث.
الحكم: إسناده ضعيف جدا، عبدالسلام ضعيف جدا ، منكر الحديث.
حدیث نمبر: 3814 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، عَاصِمًا ، زِرٍّ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ عَاصِمًا يُحَدِّثُ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کر کے کوئی بات بیان کرے اسے چاہئے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3814]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، وهذا إسناد حسن.
الحكم: حديث صحيح ، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 3815 مسند احمد
وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، أَبِي ، عَبْدَ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَرْجِعُوا بَعْدِي كُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میرے بعد کافر نہ ہو جانا کہ ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3815]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد صحيح عند من يصحح سماع عبدالرحمن من أبيه مطلقا ، وضعيف عند من يقول: إنه لم يسمع منه إلا اليسير.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد صحيح عند من يصحح سماع عبدالرحمن من أبيه مطلقا ، وضعيف عند من يقول: إنه لم يسمع منه إلا اليسير.
حدیث نمبر: 3816 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِقَوْمٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ:" لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ رَجُلًا يُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ أُحَرِّقَ عَلَى رِجَالٍ يَتَخَلَّفُونَ عَنِ الْجُمُعَةِ بُيُوتَهُمْ"، قَالَ زُهَيْرٌ: حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقُ، أَنَّهُ سَمِعَهُ مِنْ أَبِي الْأَحْوَصِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جمعہ میں شریک نہ ہونے والوں کے متعلق ارشاد فرمایا: ایک مرتبہ میں نے یہ ارادہ کر لیا کہ میں ایک آدمی کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے، اور جو لوگ نماز میں ہمارے ساتھ شریک نہیں ہوتے، ان کے متعلق حکم دوں کہ ان کے گھروں کو آگ لگا دی جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3816]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 652.
الحكم: إسناده صحيح، م: 652.
حدیث نمبر: 3817 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، الْأَشْجَعِيُّ ، سُفْيَانَ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبِي موسى الأشعري
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبِي موسى الأشعري ، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ أَيَّامًا، يُرْفَعُ فِيهِنَّ الْعِلْمُ، وَيَنْزِلُ فِيهِنَّ الْجَهْلُ، وَيَكْثُرُ فِيهِنَّ الْهَرْجُ"، قَالَ: وَالْهَرْجُ: الْقَتْلُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابووائل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے قریب جو زمانہ ہو گا اس میں جہالت کا نزول ہو گا، علم اٹھا لیا جائے گا اور اس میں ہرج کی کثرت ہو گی، ہم نے ہرج کا معنی پوچھا تو فرمایا: قتل۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3817]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7062، م: 2672.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7062، م: 2672.
حدیث نمبر: 3818 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، عِمْرَانُ ، قَتَادَةَ ، عَبْدِ رَبِّهِ ، أَبِي عِيَاضٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِيَّاكُمْ وَمُحَقَّرَاتِ الذُّنُوبِ، فَإِنَّهُنَّ يَجْتَمِعْنَ عَلَى الرَّجُلِ حَتَّى يُهْلِكْنَهُ"، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ لَهُنَّ مَثَلًا كَمَثَلِ قَوْمٍ نَزَلُوا أَرْضَ فَلَاةٍ، فَحَضَرَ صَنِيعُ الْقَوْمِ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَنْطَلِقُ، فَيَجِيءُ بِالْعُودِ، وَالرَّجُلُ يَجِيءُ بِالْعُودِ، حَتَّى جَمَعُوا سَوَادًا، فَأَجَّجُوا نَارًا، وَأَنْضَجُوا مَا قَذَفُوا فِيهَا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چھوٹے گناہوں سے بھی اپنے آپ کو بچاؤ، کیونکہ بعض اوقات بہت سے چھوٹے گناہ بھی اکٹھے ہو کر انسان کو ہلاک کر دیتے ہیں، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی مثال اس قوم سے دی جنہوں نے کسی جنگل میں پڑاؤ ڈالا، کھانے کا وقت آیا تو ایک آدمی جا کر ایک لکڑی لے آیا، دوسرا جا کر دوسری لکڑی لے آیا یہاں تک کہ بہت سی لکڑیاں جمع ہو گئیں اور انہوں نے آگ جلا کر جو اس میں ڈالا تھا وہ پکا لیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3818]
حکم دارالسلام
حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عبد ربه.
الحكم: حديث حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة حال عبد ربه.
حدیث نمبر: 3819 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، عَاصِمٍ ، زِرٍّ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُرِيَ الْأُمَمَ بِالْمَوْسِمِ، فَرَاثَتْ عَلَيْهِ أُمَّتُهُ، قَالَ:" فَأُرِيتُ أُمَّتِي، فَأَعْجَبَنِي كَثْرَتُهُمْ، قَدْ مَلَئُوا السَّهْلَ وَالْجَبَلَ، فَقِيلَ لِي: إِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ، هُمْ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ"، فَقَالَ عُكَّاشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، فَدَعَا لَهُ، ثُمَّ قَامَ يَعْنِي آخَرُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مَعَهُمْ، قَالَ:" سَبَقَكَ بِهَا عُكَّاشَةُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مختلف امتیں دکھائی گئیں، آپ کی امت کے آنے میں تاخیر ہوئی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں کہ پھر مجھے میری امت دکھائی گئی، جس کی کثرت پر مجھے بہت تعجب ہوا کہ انہوں نے ہر ٹیلے اور پہاڑ کو بھر رکھا تھا، مجھ سے کہا گیا کہ یہ آپ کی امت ہے، ان کے ساتھ ستر ہزار آدمی ایسے ہیں جو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ کر علاج نہیں کرتے، جھاڑ پھونک اور منتر نہیں کرتے، بدشگونی نہیں لیتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں، یہ سن کر سیدنا عکاشہ بن محصن اسدی رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر پوچھنے لگے: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر لے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے لئے دعا کردی، پھر ایک اور آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر لے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3819]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 3820 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَمَّادٌ ، عَاصِمٍ ، زِرٍّ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ لَهُ: كَيْفَ تَعْرِفُ مَنْ لَمْ يَرَكَ مِنْ أُمَّتِكَ؟ فَقَالَ:" إِنَّهُمْ غُرٌّ مُحَجَّلُونَ بُلْقٌ مِنْ آثَارِ الْوُضُوءِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے اپنے جن امتیوں کو نہیں دیکھا، انہیں آپ کیسے پہچانیں گے؟ فرمایا: ان کی پیشانیاں وضو کے آثار کی وجہ سے انتہائی روشن اور چمکدار ہوں گی جیسے چتکبرا گھوڑا ہوتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3820]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 3821 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا كَانَ ثُلُثُ اللَّيْلِ الْبَاقِي يَهْبِطُ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، ثُمَّ يَفْتَحُ أَبْوَابَ السَّمَاءِ، ثُمَّ يَبْسُطُ يَدَهُ، فَيَقُولُ: هَلْ مِنْ سَائِلٍ يُعْطَى سُؤْلَهُ؟ وَلَا يَزَالُ كَذَلِكَ حَتَّى يَسْطَعَ الْفَجْرُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب رات کا آخری تہائی حصہ باقی رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی شان کے مطابق آسمان دنیا پر نزول اجلال فرماتے ہیں، آسمانوں کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور اللہ اپنے ہاتھوں کو پھیلا کر فرماتے ہیں: ہے کوئی مانگنے والا کہ اس کی درخواست پوری کی جائے؟ اور یہ سلسلہ طلوع فجر تک چلتا رہتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3821]
حکم دارالسلام
حديث صحيح.
الحكم: حديث صحيح.
حدیث نمبر: 3822 مسند احمد
أَبُو أَحْمَدَ ، أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ ، كَرِيمِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، سَلْمَى بِنْتِ جَابِرٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيُّ ، عَنْ كَرِيمِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ جَدَّتِهِ سَلْمَى بِنْتِ جَابِرٍ ، أَنَّ زَوْجَهَا اسْتُشْهِدَ، فَأَتَتْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، فَقَالَتْ: إِنِّي امْرَأَةٌ قَدْ اسْتُشْهِدَ زَوْجِي، وَقَدْ خَطَبَنِي الرِّجَالُ، فَأَبَيْتُ أَنْ أَتَزَوَّجَ حَتَّى أَلْقَاهُ، فَتَرْجُو لِي إِنْ اجْتَمَعْتُ أَنَا وَهُوَ أَنْ أَكُونَ مِنْ أَزْوَاجِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: مَا رَأَيْنَاكَ نَقَلْتَ هَذَا مُذْ قَاعَدْنَاكَ! قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ أَسْرَعَ أُمَّتِي بِي لُحُوقًا فِي الْجَنَّةِ، امْرَأَةٌ مِنْ أَحْمَسَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت سلمی بنت جابر کہتی ہیں کہ ان کے شوہر شہید ہو گئے، وہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں اور کہنے لگیں کہ میرے شوہر شہید ہو گئے ہیں، مجھے کئی لوگوں نے پیغام نکاح بھیجا ہے لیکن میں نے اب مرنے تک شادی کرنے سے انکار کر دیا ہے، کیا آپ کو امید ہے کہ اگر میں اور وہ جنت میں اکٹھے ہو گئے تو میں ان کی بیویوں میں شمار ہوں گی؟ انہوں نے فرمایا: ہاں! ایک آدمی یہ سن کر کہنے لگا کہ ہم نے جب سے آپ کو یہاں بیٹھے ہوئے دیکھا ہے، کبھی اس طرح کرتے ہوئے نہیں دیکھا (کہ کسی کو آپ نے اس طرح یقین دلایا ہو)؟ انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جنت میں میری امت میں سے مجھے سب سے پہلے ملنے والی ایک عورت ہو گی جس کا تعلق قریش سے ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3822]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف ، كريم مجهول.
الحكم: إسناده ضعيف ، كريم مجهول.
حدیث نمبر: 3823 مسند احمد
مُحَاضِرٌ أَبُو الْمُوَرِّعِ ، عَاصِمٌ ، عَوْسَجَةَ بْنِ الرَّمَّاحِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَاضِرٌ أَبُو الْمُوَرِّعِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ عَوْسَجَةَ بْنِ الرَّمَّاحِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي، فَأَحْسِنْ خُلُقِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آئینہ دیکھتے ہوئے یہ دعا پڑھتے تھے: «اَللّٰهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي فَأَحْسِنْ خُلُقِي» اے اللہ! جس طرح آپ نے میری صورت اچھی بنائی ہے، میری سیرت بھی اچھی کر دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3823]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 3824 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، شَرِيكٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا جَهْلٍ وَقَدْ جُرِحَ، وَقُطِعَتْ رِجْلُهُ، قَالَ: فَجَعَلْتُ أَضْرِبُهُ بِسَيْفِي، فَلَا يَعْمَلُ فِيهِ شَيْئًا قِيلَ لِشَرِيكٍ: فِي الْحَدِيثِ: وَكَانَ يَذُبُّ بِسَيْفِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَلَمْ أَزَلْ حَتَّى أَخَذْتُ سَيْفَهُ، فَضَرَبْتُهُ بِهِ، حَتَّى قَتَلْتُهُ، قَالَ: ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: قَدْ قُتِلَ أَبُو جَهْلٍ رُبَّمَا قَالَ شَرِيكٌ: قَدْ قَتَلْتُ أَبَا جَهْلٍ، قَالَ:" أَنْتَ رَأَيْتَهُ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" آللَّهِ" مَرَّتَيْنِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" فَاذْهَبْ حَتَّى أَنْظُرَ إِلَيْهِ"، قال فَذَهَبَ، فَأَتَاهُ، وَقَدْ غَيَّرَتْ الشَّمْسُ مِنْهُ شَيْئًا، فَأَمَرَ بِهِ وَبِأَصْحَابِهِ، فَسُحِبُوا حَتَّى أُلْقُوا فِي الْقَلِيبِ، قَالَ: وَأُتْبِعَ أَهْلُ الْقَلِيبِ لَعْنَةً، وَقَالَ:" كَانَ هَذَا فِرْعَوْنَ هَذِهِ الْأُمَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں غزوہ بدر میں ابوجہل کے پاس پہنچا تو وہ زخمی پڑا ہوا تھا اور اس کی ٹانگ کٹ چکی تھی، میں اسے اپنی تلوار سے مارنے لگا لیکن تلوار نے اس پر کچھ اثر نہ کیا، میں اسے مسلسل تلوار مارتا رہا یہاں تک کہ میں نے اپنی تلوار سے اسے قتل کر دیا، پھر میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ ابوجہل مارا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم نے خود اسے دیکھا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، دو مرتبہ اسی طرح سوال و جواب ہوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ چلو تاکہ میں بھی دیکھوں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی لاش کے پاس تشریف لائے، سورج کی تمازت کی وجہ سے اس کی لاش سڑنے لگی تھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے اور اس کے ساتھیوں کو کھینچ کر کنوئیں میں ڈال دو، اور ان کنوئیں والوں کے پیچھے پیچھے لعنت کو لگا دیا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ اس امت کا فرعون تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3824]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه عبدالله.
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه عبدالله.
حدیث نمبر: 3825 مسند احمد
أَسْودُ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَسْودُ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" هَذَا فِرْعَوْنُ أُمَّتِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابوجہل کے متعلق فرمایا: یہ میری امت کا فرعون ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3825]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، وهو مكرر سابقه.
الحكم: إسناده ضعيف، وهو مكرر سابقه.
حدیث نمبر: 3826 مسند احمد
طَلْقُ بْنُ غَنَّامِ بْنِ طَلْقٍ ، زَكَرِيَّا بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، أَبِيهِ ، شَقِيقٌ ، زِرٌّ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامِ بْنِ طَلْقٍ ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي شَيْخٌ مِنْ بَنِي أَسَدٍ، إِمَّا قَالَ: شَقِيقٌ ، وَإِمَّا قَالَ: زِرٌّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: شَهِدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو لِهَذَا الْحَيِّ مِنَ النَّخَعِ، أَوْ قَالَ: يُثْنِي عَلَيْهِمْ، حَتَّى تَمَنَّيْتُ أَنِّي رَجُلٌ مِنْهُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک مرتبہ میں حاضر ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بنو نخع کے اس قبیلے کے لئے دعا یا تعریف فرما رہے تھے حتی کہ میں تمنا کرنے لگا کہ کاش! میں بھی ان ہی میں سے ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3826]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 3827 مسند احمد
أَبُو سَلَمَةَ ، عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَمْرٍو يَعْنِي ابْنَ أَبِي عَمْرٍو ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يَأْكُلُ اللَّحْمَ، ثُمَّ يَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ، فَمَا يَمَسُّ قَطْرَةً مِنْ مَاءٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گوشت تناول فرماتے ہوئے دیکھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پانی کو ہاتھ لگائے بغیر نماز پڑھانے کھڑے ہو گئے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3827]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، عبيدالله لم يدرك عم أبيه عبدالله بن مسعود.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه ، عبيدالله لم يدرك عم أبيه عبدالله بن مسعود.