بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 899
صفحہ 37 از 45
حدیث نمبر: 4269 مسند احمد
أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَبْدِيُّ ، إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى أَبِي: حَدَّثَنَا أَبُو عُبَيْدَةَ الْحَدَّادُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُكَيْنُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْعَبْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا عَالَ مَنْ اقْتَصَدَ". قَالَ عَبْد اللَّهِ بْن أَحْمَد: إِلَى هُنَا قَرَأْتُ عَلَى أَبِي، وَمِنْ هُنَا حَدَّثَنِي أَبِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میانہ روی سے چلنے والا کبھی محتاج اور تنگدست نہیں ہوتا۔
فائدہ: امام احمد رحمہ اللہ کے صاحبزادے عبداللہ نے حدیث 4255 سے 4269 تک کی احادیث کے بارے فرمایا ہے کہ میں نے والد صاحب کو یہ احادیث پڑھ کر سنائی ہیں، اور اس سے آگے کی احادیث انہوں نے مجھے خود سنائی ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4269]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، إبراهيم الهجري لين الحديث ، سكين العبدي مختلف فيه.
الحكم: إسناده ضعيف، إبراهيم الهجري لين الحديث ، سكين العبدي مختلف فيه.
حدیث نمبر: 4270 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي مَعْمَرٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ فِي هَذِهِ الْآيَةِ: اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ سورة القمر آية 1، فَقَالَ: قَدْ" انْشَقَّ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرْقَتَيْنِ، أَوْ فِلْقَتَيْنِ شُعْبَةُ الَّذِي يَشُكُّ، فَكَانَ فِلْقَةٌ مِنْ وَرَاءِ الْجَبَلِ، وَفِلْقَةٌ عَلَى الْجَبَلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ اشْهَدْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے آیت قرآنی: « ﴿اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ﴾ » [القمر: 1] کی تفسیر میں مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ چاند دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا، ایک ٹکڑا پہاڑ کے پیچھے چلا گیا اور ایک ٹکڑا پہاڑ کے اوپر رہا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! گواہ رہ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4270]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4864، م: 2800.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4864، م: 2800.
حدیث نمبر: 4271 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ لَقِيَهُ عُثْمَانُ بِعَرَفَاتٍ، فَخَلَا بِهِ، فَحَدَّثَهُ، ثُمَّ إِنَّ عُثْمَانَ قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ: هَلْ لَكَ فِي فَتَاةٍ أُزَوِّجُكَهَا؟ فَدَعَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ عَلْقَمَةَ، فَحَدَّثَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ، فَلْيَصُمْ، فَإِنَّ الصَّوْمَ وِجَاؤُهُ، أَوْ وِجَاءَةٌ لَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ عرفات کے میدان میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی ملاقات ہو گئی، وہ ان کے ساتھ کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ ابوعبدالرحمن! کیا ہم آپ کی شادی کسی نوجوان لڑکی سے نہ کرا دیں؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے علقمہ کو بلا کر یہ حدیث بیان کی کہ ہم سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اے گروہ نوجواناں! تم میں سے جس میں نکاح کرنے کی صلاحیت ہو، اسے شادی کر لینی چاہیے کیونکہ نکاح نگاہوں کو جھکانے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے، اور جو شخص نکاح کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اسے روزہ رکھنا اپنے اوپر لازم کر لینا چاہیے کیونکہ روزہ انسانی شہوت کو توڑ دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4271]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5066، م: 1400.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5066، م: 1400.
حدیث نمبر: 4272 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، أَنَّ الْأَسْوَدَ، وَعَلْقَمَةَ كَانَا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ فِي الدَّارِ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : صَلَّى هَؤُلَاءِ؟ قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ:" فَصَلَّى بِهِمْ بِغَيْرِ أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ، وَقَامَ وَسَطَهُمْ، وَقَالَ: إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً فَاصْنَعُوا هَكَذَا، فَإِذَا كُنْتُمْ أَكْثَرَ، فَلْيَؤُمَّكُمْ أَحَدُكُمْ، وَلْيَضَعْ أَحَدُكُمْ يَدَيْهِ بَيْنَ فَخِذَيْهِ إِذَا رَكَعَ، فَلْيَحْنَأْ. فَكَأَنَّمَا أَنْظُرُ إِلَى اخْتِلَافِ أَصَابِعِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابراہیم کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ ان کے گھر میں اسود اور علقمہ تھے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے انہیں بغیر اذان اور اقامت کے نماز پڑھائی اور خود ان کے درمیان کھڑے ہوئے اور فرمایا: جب تم تین آدمی ہوا کرو تو اسی طرح کیا کرو، اور جب تم تین سے زیادہ ہو تو تم میں سے ایک آدمی کو امامت کرنی چاہئے، اور رکوع کرتے ہوئے اپنے ہاتھوں کو اپنی رانوں کے درمیان رکھ کر جھکنا چاہئے، کیونکہ وہ منطر میرے سامنے اب تک موجود ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگلیاں منتشر دیکھ رہا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4272]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 534.
الحكم: إسناده صحيح، م: 534.
حدیث نمبر: 4273 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، خِلَاسٍ ، أَبِي حَسَّانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسٍ ، وَعَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ سُبَيْعَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ وَضَعَتْ حَمْلَهَا بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِهَا بِخَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً، فَدَخَلَ عَلَيْهَا أَبُو السَّنَابِلِ، فَقَالَ: كَأَنَّكِ تُحَدِّثِينَ نَفْسَكِ بِالْبَاءَةِ؟! مَا لَكِ ذَلِكَ حَتَّى يَنْقَضِيَ أَبْعَدُ الْأَجَلَيْنِ. فَانْطَلَقَتْ إِلَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَتْهُ بِمَا قَالَ أَبُو السَّنَابِلِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَذَبَ أَبُو السَّنَابِلِ، إِذَا أَتَاكِ أَحَدٌ تَرْضَيْنَهُ، فَأْتِينِي بِهِ أَوْ قَالَ: فَأَنْبِئِينِي"،" فَأَخْبَرَهَا أَنَّ عِدَّتَهَا قَدْ انْقَضَتْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سبیعہ بنت حارث کے یہاں ان کے شوہر کی وفات کے صرف پندرہ دن بعد بچے کی ولادت ہو گئی، اس دوران ابوالسنابل ان کے یہاں گئے تو کہنے لگے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے تم دوسری شادی کرنا چاہتی ہو؟ جب تک تم لمبی مدت والی عدت نہیں گذار لیتیں، تمہارے لئے دوسری شادی کرنا جائز نہیں، سبیعہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئیں اور انہیں ابوالسنابل کی بات بتائی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ابوالسنابل سے غلطی ہوئی، اگر تمہارے پاس کوئی ایسا رشتہ آئے جو تمہیں پسند ہو تو مجھے آ کر بتانا۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں بتایا کہ ان کی عدت پوری ہو چکی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4273]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، محمد بن جعفر سمع من سعيد بن أبى عروبة بعد أختلاطه.
الحكم: إسناده ضعيف، محمد بن جعفر سمع من سعيد بن أبى عروبة بعد أختلاطه.
حدیث نمبر: 4274 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، خِلَاسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ سُبَيْعَةَ بِنْتَ الْحَارِثِ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، أَوْ نَحْوَ ذَلِكَ، وَقَالَ فِيهِ:" وَإِذَا أَتَاكِ كُفُؤٌ، فَأْتِينِي، أَوْ أَنْبِئِينِي"، وَلَيْسَ فِيهِ ابْنُ مَسْعُودٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4274]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5319، م: 1484.
الحكم: حديث صحيح، خ: 5319، م: 1484.
حدیث نمبر: 4275 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ ، خِلَاسٍ ، ابْنِ عُتْبَةَ
وقَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنِ ابْنِ عُتْبَةَ ، مُرْسَلٌ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مرسلاً بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4275]
حکم دارالسلام
صحيح، خ: 5319، م: 1484.
الحكم: صحيح، خ: 5319، م: 1484.
حدیث نمبر: 4276 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، قَتَادَةَ ، خِلَاسٍ ، وأَبي حسَّان الأَعرج ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ ، الْجَرَّاحُ ، وَأَبُو سِنَانٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: الرَّجُلُ يَتَزَوَّجُ وَلَا يَفْرِضُ لَهَا، يَعْنِي: ثُمَّ يَمُوتُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسٍ وأَبي حسَّان الأَعرج ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ قَالَ: اخْتَلَفُوا إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ فِي ذَلِكَ شَهْرًا أَوْ قَرِيبًا مِنْ ذَلِكَ، فَقَالُوا: لَا بُدَّ مِنْ أَنْ تَقُولَ فِيهَا؟ قَالَ: فَإِنِّي أَقْضِي لَهَا مِثْلَ صَدُقَةِ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهَا، لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ، وَلَهَا الْمِيرَاثُ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ"، فَإِنْ يَكُ صَوَابًا، فَمِنْ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَإِنْ يَكُنْ خَطَأً، فَمِنِّي وَمِنْ الشَّيْطَانِ، وَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولُهُ بَرِيئَانِ. فَقَامَ رَهْطٌ مِنْ أَشْجَعَ، فِيهِمْ الْجَرَّاحُ ، وَأَبُو سِنَانٍ ، فَقَالُوا: نَشْهَدُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى فِي امْرَأَةٍ مِنَّا يُقَالُ لَهَا: بَرْوَعُ بِنْتُ وَاشِقٍ، بِمِثْلِ الَّذِي قَضَيْتَ. فَفَرِحَ ابْنُ مَسْعُودٍ بِذَلِكَ فَرَحًا شَدِيدًا، حِينَ وَافَقَ قَوْلُهُ قَضَاءَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ لوگوں نے آ کر یہ مسئلہ پوچھا (کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے، مہر مقرر نہ کیا ہو اور خلوت صحیحہ ہونے سے پہلے وہ فوت ہو جائے تو کیا حکم ہے؟) سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس وہ لوگ تقریبا ایک مہینے تک آتے رہے، ان کا یہی کہنا تھا کہ آپ کو اس مسئلے کا جواب ضرور دینا ہو گا، انہوں نے فرمایا کہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کر کے جس نتیجے تک پہنچا ہوں، وہ آپ کے سامنے بیان کر دیتا ہوں، اگر میرا جواب صحیح ہوا تو اللہ کی توفیق سے ہو گا، اور اگر غلط ہوا تو وہ میری جانب سے ہو گا، اللہ، اس کے رسول اس سے بری ہیں، فیصلہ یہ ہے کہ اس عورت کو اس جیسی عورتوں کا جو مہر ہو سکتا ہے، وہ دیا جائے گا، اسے میراث بھی ملے گی اور اس پر عدت بھی واجب ہو گی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ سن کر قبیلہ اشجع کا ایک گروہ کھڑا ہوا جن میں سیدنا جراح اور سیدنا ابوسنان رضی اللہ عنہما بھی تھے، اور کہنے لگا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسہلم نے ہماری ایک عورت کے متعلق یہی فیصلہ فرمایا ہے جس کا نام بروع بنت واشق تھا، اس پر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ بہت خوش ہوئے کہ ان کا فیصلہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فیصلے کے موافق ہو گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4276]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، محمد بن جعفر - وإن سمع من سعيد بن أبى عروبة بعد الاختلاط - قد توبع.
الحكم: حديث صحيح، محمد بن جعفر - وإن سمع من سعيد بن أبى عروبة بعد الاختلاط - قد توبع.
حدیث نمبر: 4277 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، سَعِيدٌ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، هِشَامٍ ، قَتَادَةَ ، خِلَاسٍ ، أَبِي حَسَّانَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، ابْنَ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، قَالَ أَبِي: وَقَرَأْتُ عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ : ح عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ خِلَاسٍ ، وَعَنْ أَبِي حَسَّانَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ أُتِيَ فِي امْرَأَةٍ تَزَوَّجَهَا رَجُلٌ فَلَمْ يُسَمِّ لَهَا صَدَاقًا، فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، قَالَ: فَاخْتَلَفُوا إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: كَانَ زَوْجُهَا هِلَالَ، أَحْسَبُهُ قَالَ: ابْنَ مُرَّةَ. قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ: وَكَانَ زَوْجُهَا هِلَالَ بْنَ مُرَّةَ الْأَشْجَعِيَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ لوگوں نے آ کر یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے، مہر مقرر نہ کیا ہو اور خلوت صحیحہ ہونے سے پہلے وہ فوت ہو جائے تو کیا حکم ہے؟ . . . . . پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور اس کے شوہر کا نام ہلال بتایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4277]
حکم دارالسلام
إسناداه صحيحان.
الحكم: إسناداه صحيحان.
حدیث نمبر: 4278 مسند احمد
بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، خِلَاسٍ ، وأَبي حسَّان ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، ابْنِ مَسْعُودٍ ، الْجَرَّاحُ ، وَأَبُو سِنَانٍ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ خِلَاسٍ ، وأَبي حسَّان ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّهُ اخْتُلِفَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ فِي امْرَأَةٍ تَزَوَّجَهَا رَجُلٌ فَمَاتَ... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ. قَالَ: فَقَامَ الْجَرَّاحُ ، وَأَبُو سِنَانٍ ، فَشَهِدَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِهِ فِيهِمْ، فِي الْأَشْجَعِ بْنِ رَيْثٍ، فِي بَرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ الْأَشْجَعِيَّةِ وَكَانَ اسْمُ زَوْجِهَا هِلَالَ بْنَ مَرْوَانَ. قَالَ عَفَّانُ: قَضَى بِهِ فِيهِمْ، فِي الْأَشْجَعِ بْنِ رَيْثٍ، فِي بَرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ الْأَشْجَعِيَّةِ، وَكَانَ زَوْجُهَا هِلَالَ بْنَ مَرْوَانَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس کچھ لوگوں نے آ کر یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے، مہر مقرر نہ کیا ہو اور خلوت صحیحہ ہونے سے پہلے وہ فوت ہوجائے تو کیا حکم ہے؟ . . . . . پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی اور اس کے شوہر کا نام ہلال بتایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4278]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4279 مسند احمد
عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَنْقَضِي الْأَيَّامُ، وَلَا يَذْهَبُ الدَّهْرُ، حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دن اور رات کا چکر اور زمانہ اس وقت تک ختم نہیں ہو گا، یعنی قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک عرب میں میرے اہل بیت میں سے ایک ایسے شخص کی حکومت نہ آ جائے جس کا نام میرے نام کے موافق ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4279]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل عاصم.
الحكم: إسناده حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4280 مسند احمد
عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُسَلِّمُ عَنْ يَمِينِهِ، حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ خَدِّهِ، يَقُولُ:" السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ"، وَعَنْ يَسَارِهِ حَتَّى يَبْدُوَ بَيَاضُ خَدِّهِ، يَقُولُ:" السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دائیں بائیں اس طرح سلام پھیرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مبارک رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4280]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4281 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ عَبْد الله بْنِ أَحْمَد: قَالَ أَبِي: وَقَالَ غَيْرُهُ: عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : بَيْنَا نَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، إِذْ قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: وَاللَّهِ لَئِنْ وَجَدَ رَجُلٌ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِهِ فَتَكَلَّمَ لَيُجْلَدَنَّ، وَإِنْ قَتَلَهُ لَيُقْتَلَنَّ، وَلَئِنْ سَكَتَ لَيَسْكُتَنَّ عَلَى غَيْظٍ، وَاللَّهِ لَئِنْ أَصْبَحْتُ، لَآتِيَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. فَلَمَّا أَصْبَحَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَئِنْ وَجَدَ رَجُلٌ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَتَكَلَّمَ لَيُجْلَدَنَّ، وَإِنْ قَتَلَهُ لَيُقْتَلَنَّ، وَإِنْ سَكَتَ لَيَسْكُتَنَّ عَلَى غَيْظٍ؟ وَجَعَلَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ افْتَحْ، اللَّهُمَّ افْتَحْ، قَالَ:" فَنَزَلَتْ الْمُلَاعَنَةُ: وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمْ شُهَدَاءُ إِلا أَنْفُسُهُمْ... سورة النور آية 6" الْآيَةَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ جمعہ کے دن شام کے وقت مسجد نبوی میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک انصاری کہنے لگا: اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی غیر مرد کو دیکھے اور اسے قتل کر دے تو تم اسے بدلے میں قتل کر دیتے ہو، اگر وہ زبان ہلاتا ہے تو تم اسے کوڑے مارتے ہو، اور اگر وہ سکوت اختیار کرتا ہے تو غصے کی حالت میں سکوت کرتا ہے، واللہ! اگر میں صبح کے وقت صحیح ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھ کر رہوں گا۔ چنانچہ اس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ مسئلہ پوچھا اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اگر ہم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ کسی اجنبی مرد کو دیکھتا ہے اور اسے قتل کر دیتا ہے تو بدلے میں آپ اسے قتل کر دیتے ہیں، اگر وہ بولتا ہے تو آپ اسے کوڑے لگاتے ہیں، اور اگر وہ خاموش رہتا ہے تو غصے کی حالت میں خاموش رہتا ہے؟ اے اللہ! تو فیصلہ فرما، چنانچہ آیت لعان نازل ہوئی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4281]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1495.
الحكم: حديث صحيح، م: 1495.
حدیث نمبر: 4282 مسند احمد
ابْنُ إِدْرِيسَ ، الْحَسَنَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّه
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، يَذْكُرُ عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُمْ، عَنْ عَبْدِ اللَّه ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِهِمْ خَمْسًا، ثُمَّ انْفَتَلَ، فَجَعَلَ بَعْضُ الْقَوْمِ يُوَشْوِشُ إِلَى بَعْضٍ، فَقَالُوا لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَلَّيْتَ خَمْسًا. فَانْفَتَلَ، فَسَجَدَ بِهِمْ سَجْدَتَيْنِ، وَسَلَّمَ، وَقَالَ:" إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ أَنْسَى كَمَا تَنْسَوْنَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو پانچ رکعتیں پڑھا دیں اور فراغت کے بعد رخ پھیر لیا، لوگوں کو تشویش ہونے لگی چنانچہ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ نے پانچ رکعتیں پڑھا کر منہ پھیر دیا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر سہو کے دو سجدے کئے اور سلام پھیر دیا اور فرمایا: میں بھی ایک انسان ہی ہوں اور جیسے تم بھول جاتے ہو، میں بھی بھول جاتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4282]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 572.
الحكم: إسناده صحيح، م: 572.
حدیث نمبر: 4283 مسند احمد
الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، سُفْيَانُ ، أَبِي قَيْسٍ ، الْهُزَيْلِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ الْهُزَيْلِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَةَ وَالْمُوتَشِمَةَ، وَالْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ، وَالْمُحِلَّ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ، وَآكِلَ الرِّبَا وَمُوكِلَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جسم گودنے اور گدوانے والی عورتوں، بال ملانے اور ملوانے والی عورتوں، حلالہ کرنے والے اور کروانے والوں، سود کھانے اور کھلانے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4283]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5948، م: 2125.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5948، م: 2125.
حدیث نمبر: 4284 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، سُفْيَانُ ، أَبِي قَيْسٍ ، هُزَيْلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي قَيْسٍ ، عَنْ هُزَيْلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَاشِمَةَ وَالْمُتَوَشِّمَةَ، وَالْوَاصِلَةَ وَالْمَوْصُولَةَ، وَالْمُحَلِّلَ وَالْمُحَلَّلَ لَهُ، وَآكِلَ الرِّبَا وَمُطْعِمَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جسم گودنے اور گدوانے والی عورتوں، بال ملانے اور ملوانے والی عورتوں، حلالہ کرنے والے اور کروانے والوں، سود کھانے اور کھلانے والوں پر لعنت فرمائی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4284]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5968، م: 2125.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5968، م: 2125.
حدیث نمبر: 4285 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قُلْتُ: أَيُّ الْأَعْمَالِ أَفْضَلُ؟ قَالَ:" الصَّلَوَاتُ لِوَقْتِهَا، وَبِرُّ الْوَالِدَيْنِ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ بارگاہ الٰہی میں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنے وقت پر نماز پڑھنا، والدین کے ساتھ حسن سلوک، اللہ کے راستے میں جہاد۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4285]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 527، م، 85، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود.
الحكم: حديث صحيح، خ: 527، م، 85، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود.
حدیث نمبر: 4286 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، رَجُلٍ ، عَمْرِو بْنِ وَابِصَةَ الْأَسَدِيِّ ، أَبِيهِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ رَجُلٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ وَابِصَةَ الْأَسَدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: إِنِّي بِالْكُوفَةِ فِي دَارِي، إِذْ سَمِعْتُ عَلَى بَابِ الدَّارِ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، أَأَلِجُ؟ قُلْتُ: عَلَيْكُمْ السَّلَامُ فَلِجْ، فَلَمَّا دَخَلَ، فَإِذَا هُوَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَيَّةُ سَاعَةِ زِيَارَةٍ هَذِهِ؟! وَذَلِكَ فِي نَحْرِ الظَّهِيرَةِ، قَالَ: طَالَ عَلَيَّ النَّهَارُ، فَذَكَرْتُ مَنْ أَتَحَدَّثُ إِلَيْهِ. قَالَ: فَجَعَلَ يُحَدِّثُنِي عَنْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُحَدِّثُهُ، قَالَ: ثُمَّ أَنْشَأَ يُحَدِّثُنِي، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" تَكُونُ فِتْنَةٌ، النَّائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمُضْطَجِعِ، وَالْمُضْطَجِعُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَاعِدِ، وَالْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْمَاشِي، وَالْمَاشِي خَيْرٌ مِنَ الرَّاكِبِ، وَالرَّاكِبُ خَيْرٌ مِنَ الْمُجْرِي، قَتْلَاهَا كُلُّهَا فِي النَّارِ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَتَى ذَلِكَ؟ قَالَ:" ذَلِكَ أَيَّامَ الْهَرْجِ"، قُلْتُ: وَمَتَى أَيَّامُ الْهَرْجِ؟ قَالَ:" حِينَ لَا يَأْمَنُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ"، قَالَ: قُلْتُ: فَمَا تَأْمُرُنِي إِنْ أَدْرَكْتُ ذَلِكَ؟ قَالَ:" اكْفُفْ نَفْسَكَ وَيَدَكَ، وَادْخُلْ دَارَكَ"، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ رَجُلٌ عَلَيَّ دَارِي؟ قَالَ:" فَادْخُلْ بَيْتَكَ"، قَالَ: قُلْتُ: أَفَرَأَيْتَ إِنْ دَخَلَ عَلَيَّ بَيْتِي؟ قَالَ: فَادْخُلْ مَسْجِدَكَ، وَاصْنَعْ هَكَذَا، وَقَبَضَ بِيَمِينِهِ عَلَى الْكُوعِ، وَقُلْ: رَبِّيَ اللَّهُ، حَتَّى تَمُوتَ عَلَى ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
وابصہ اسدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ کوفہ میں اپنے گھر میں تھا کہ گھر کے دروازے پر آواز آئی: السلام علیکم! کیا میں اندر آ سکتا ہوں؟ میں نے کہا: وعلیکم السلام! آ جائیے، دیکھا تو وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے، میں نے عرض کیا: اے ابوعبدالرحمن! اس وقت ملاقات کے لئے تشریف آوری؟ وہ دوپہر کا وقت تھا (اور گرمی خوب تھی)، انہوں نے فرمایا کہ آج کا دن میرے لئے بڑا لمبا ہو گیا، میں سوچنے لگا کہ کس کے پاس جا کر باتیں کروں (تمہاے بارے خیال آیا اس لئے تمہاری طرف آ گیا)۔ پھر وہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی احادیث سنانے لگے اور میں انہیں سنانے لگا، اس دوران انہوں نے یہ حدیث بھی سنائی کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: عنقریب فتنہ کا زمانہ آنے والا ہے، اس زمانے میں سویا ہوا شخص لیٹے ہوئے سے بہتر ہو گا، لیٹا ہوا بیٹھے ہوئے سے بہتر ہو گا، بیٹھا ہوا کھڑے ہوئے سے بہتر ہو گا، کھڑا ہوا چلنے والے سے بہتر ہو گا، چلنے والا سوار سے بہتر ہو گا اور سوار دوڑنے والے سے بہتر ہو گا، اس زمانے کے تمام مقتولین جہنم میں جائیں گے۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ایسا کب ہو گا؟ فرمایا: وہ ہرج کے ایام ہوں گے، میں نے پوچھا کہ ہرج کے ایام سے کیا مراد ہے؟ فرمایا: جب انسان کو اپنے ہم نشین سے اطمینان نہ ہو، میں نے عرض کیا کہ اگر میں ایسا زمانہ پاؤں تو آپ اس کے متعلق مجھے کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا: اپنے نفس اور اپنے ہاتھ کو روک لو اور اپنے گھر میں گھس جاؤ، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! یہ بتائیے کہ اگر کوئی شخص میرے گھر میں آ جائے تو کیا کروں؟ فرمایا: اپنے کمرے میں چلے جاؤ، میں نے عرض کیا کہ اگر وہ میرے کمرے میں آ جائے تو کیا کروں؟ فرمایا: اپنی مسجد میں چلے جاؤ اور اس طرح کرو، یہ کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دائیں ہاتھ کی مٹھی بنا کر انگوٹھے پر رکھی اور فرمایا: یہ کہتے رہو کہ میرا رب اللہ ہے یہاں تک کہ اسی ایمان و عقیدے پر تمہیں موت آجائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4286]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف على نكارة فى بعض ألفاظه، الراوي عن عمرو بن وابصة مبهم فهو مجهول، وعلى القول بأنه إسحاق بن راشد كما فى الرواية التالية، فهو مختلف فيه.
الحكم: إسناده ضعيف على نكارة فى بعض ألفاظه، الراوي عن عمرو بن وابصة مبهم فهو مجهول، وعلى القول بأنه إسحاق بن راشد كما فى الرواية التالية، فهو مختلف فيه.
حدیث نمبر: 4287 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، مَعْمَرٌ ، إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ ، عَمْرِو بْنِ وَابِصَةَ الْأَسَدِيِّ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ الْمُبَارَكِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ وَابِصَةَ الْأَسَدِيِّ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4287]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف، إسحاق بن راشد مختلف فيه، ثم إنه لم يصرح بسماعه من عمرو ابن وابصة.
الحكم: إسناده ضعيف، إسحاق بن راشد مختلف فيه، ثم إنه لم يصرح بسماعه من عمرو ابن وابصة.
حدیث نمبر: 4288 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ ، ابْنَ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي عَبْدَةُ بْنُ أَبِي لُبَابَةَ ، أَنَّ شَقِيقَ بْنَ سَلَمَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" بِئْسَمَا لِلرَّجُلِ أَوْ لِلْمَرْءِ أَنْ يَقُولَ: نَسِيتُ سُورَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، أَوْ آيَةَ كَيْتَ وَكَيْتَ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم میں سے کسی آدمی کی یہ بات انتہائی بری ہے کہ وہ یوں کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا، بلکہ اسے یوں کہنا چاہئے کہ اسے فلاں آیت بھلا دی گئی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4288]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5039.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5039.