بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 899
صفحہ 29 از 45
حدیث نمبر: 4109 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَيَزِيدُ ، إِسْمَاعِيلُ ، قَيْسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَيَزِيدُ ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا، فَسَلَّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ، وَآخَرُ آتَاهُ اللَّهُ حِكْمَةً، فَهُوَ يَقْضِي بِهَا، وَيُعَلِّمُهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ ارشاد نبوی منقول ہے کہ سوائے دو آدمیوں کے کسی اور پر حسد (رشک) کرنا جائز نہیں ہے، ایک وہ آدمی جسے اللہ نے مال و دولت عطا فرمایا ہو اور اسے راہ حق میں لٹانے پر مسلط کر دیا ہو، اور دوسرا وہ آدمی جسے اللہ نے دانائی عطا فرمائی ہو اور وہ اس کے ذریعے لوگوں کے فیصلے کرتا ہو اور لوگوں کو اس کی تعلیم دیتا ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4109]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1409، م: 816.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1409، م: 816.
حدیث نمبر: 4110 مسند احمد
وَكِيعٌ ، حَسَنٌ ، يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ ، أَبِي مَاجِدٍ الْحَنَفِيِّ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا حَسَنٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي مَاجِدٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: سَأَلْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّيْرِ بِالْجِنَازَةِ؟ فَقَالَ:" مَا دُونَ الْخَبَبِ، الْجِنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ وَلَيْسَتْ بِتَابِعٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جنازے کے ساتھ چلنے کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو دوڑنے سے کم رفتار ہو، اور جنازہ کو متبوع ہونا چاہئے نہ کہ تابع (جنازے کو آگے اور چلنے والوں کو اس کے پیچھے ہونا چاہئے)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4110]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى ماجد الحنفي، وضعف يحيي بن الحارث.
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى ماجد الحنفي، وضعف يحيي بن الحارث.
حدیث نمبر: 4111 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، مَسْرُوقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ مِنَّا مَنْ شَقَّ الْجُيُوبَ، وَلَطَمَ الْخُدُودَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص ہم میں سے نہیں ہے جو اپنے رخساروں کو پیٹے، گریبانوں کو پھاڑے اور جاہلیت کی سی پکار لگائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4111]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1298، م: 103.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1298، م: 103.
حدیث نمبر: 4112 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا مَعْشَرَ الشَّبَابِ، مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ الْبَاءَةَ فَلْيَتَزَوَّجْ، فَإِنَّهُ أَغَضُّ لِلْبَصَرِ، وَأَحْصَنُ لِلْفَرْجِ، وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ، فَعَلَيْهِ بِالصَّوْمِ، فَإِنَّهُ لَهُ وِجَاءٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے گروہ نو جواناں! تم میں سے جس میں نکاح کرنے کی صلاحیت ہو، اسے شادی کر لینی چاہیے کیونکہ نکاح نگاہوں کو جھکانے والا اور شرمگاہ کی حفاظت کرنے والا ہے، اور جو شخص نکاح کرنے کی قدرت نہیں رکھتا اسے روزہ رکھنا اپنے اوپر لازم کر لینا چاہیے کیونکہ روزہ انسانی شہوت کو توڑ دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4112]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5066، م: 1400.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5066، م: 1400.
حدیث نمبر: 4113 مسند احمد
وَكِيعٌ ، ابْنِ أَبِي خَالِدٍ ، قَيْسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَابٌ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" أَلَا نَسْتَخْصِي؟ فَنَهَانَا، ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا فِي أَنْ نَنْكِحَ الْمَرْأَةَ بِالثَّوْبِ إِلَى الْأَجَلِ"، ثُمَّ قَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ: لا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللَّهُ لَكُمْ سورة المائدة آية 87.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شرکت کرتے تھے، ہمارے ساتھ عورتیں نہیں ہوتی تھیں، ایک مرتبہ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا ہم خصی نہ ہو جائیں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں اس سے منع فرما دیا، بعد میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ایک مخصوص وقت کے لئے کپڑوں کے عوض بھی عورتوں سے نکاح کرنے کی اجازت دے دی تھی، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: « ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُحَرِّمُوا طَيِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَلَا تَعْتَدُوا إِنَّ اللّٰهَ لَا يُحِبُّ الْمُعْتَدِينَ﴾ » [المائدة: 87] اے اہل ایمان! اللہ نے تمہارے لئے جو پاکیزہ چیزیں حلال کر رکھی ہیں تم انہیں حرام نہ کرو، اور حد سے تجاوز نہ کرو کیونکہ اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4113]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1404.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1404.
حدیث نمبر: 4114 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، أَبِي مُوسَى الْهِلَالِيِّ ، أَبِيهِ ، ابْنَ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْهِلَالِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ رَجُلًا كَانَ فِي سَفَرٍ، فَوَلَدَتْ امْرَأَتُهُ، فَاحْتُبِسَ لَبَنُهَا، فَجَعَلَ يَمُصُّهُ وَيَمُجُّهُ، فَدَخَلَ حَلْقَهُ، فَأَتَى أَبَا مُوسَى، فَقَالَ: فَأَتَى ابْنَ مَسْعُودٍ ، فَسَأَلَهُ؟ فَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا يُحَرِّمُ مِنَ الرَّضَاعِ، إِلَّا مَا أَنْبَتَ اللَّحْمَ، وَأَنْشَزَ الْعَظْمَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوموسی ہلالی اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی سفر میں تھا، اس کی بیوی کے یہاں بچہ پیدا ہوا، اس کی چھاتیوں میں دودھ اکٹھا ہو گیا، شوہر نے اسے چوسنا شروع کر دیا اور اسی اثنا میں وہ دودھ اس کے حلق میں بھی چلا گیا، وہ شخص سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لئے آیا، انہوں نے فرمایا کہ تیری بیوی تجھ پر حرام ہو گئی، پھر اس نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہو کر یہ مسئلہ پوچھا، تو انہوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہی رضاعت حرمت ثابت کرتی ہے جو گوشت اگائے اور ہڈیوں کو جوڑ دے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4114]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لانقطاع بين والد أبى موسى الهلالي وعبدالله بن مسعود.
الحكم: حديث صحيح بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لانقطاع بين والد أبى موسى الهلالي وعبدالله بن مسعود.
حدیث نمبر: 4115 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ فِي خُطْبَةِ الْحَاجَةِ: إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ، وَنَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ، فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْ، فَلَا هَادِيَ لَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ قَرَأَ ثَلَاثَ آيَاتٍ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ: اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ سورة آل عمران آية 102، وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا سورة النساء آية 1، اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلا سَدِيدًا سورة الأحزاب آية 70 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں خطبہ حاجت اس طرح سکھایا ہے: «إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰهِ نَسْتَعِينُهُ وَنَسْتَغْفِرُهُ وَنَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُورِ أَنْفُسِنَا مَنْ يَهْدِهِ اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ وَمَنْ يُضْلِلْ فَلَا هَادِيَ لَهُ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں، ہم اسی سے مدد مانگتے ہیں اور اسی سے بخشش طلب کرتے ہیں، اور ہم اپنے نفس کے شر سے اللہ کی پناہ میں آتے ہیں، جسے اللہ ہدایت دے دے اسے کوئی گمراہ نہیں کر سکتا، اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا، اور میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، پھر حسب ذیل تین آیات پڑھیں: « ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ » [آل عمران: 102] اے اہل ایمان! اللہ سے اسی طرح ڈرو جیسے اس سے ڈرنے کا حق ہے، اور تم نہ مرنا مگر مسلمان ہونے کی حالت میں۔ « ﴿وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾ » [النساء: 1] اور اس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو، اور رشتہ داریوں کے بارے ڈرو، بیشک اللہ تمہارے اوپر نگران ہے۔ « ﴿اتَّقُوا اللّٰهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا﴾ » [الأحزاب: 70] اے اہل ایمان! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4115]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود وهو متابع.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود وهو متابع.
حدیث نمبر: 4116 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، وأبي عُبَيْدَة ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، وأبي عُبَيْدَة ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، خُطْبَةَ الْحَاجَةِ.... فَذَكَرَ نَحْوَ هَذَا الْحَدِيثِ، إِلَّا أَنَّهُ لَمْ يَقُلْ:" إِنَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4116]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه، قد تابعه أبو الأحوص.
الحكم: إسناده صحيح، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه، قد تابعه أبو الأحوص.
حدیث نمبر: 4117 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْمَسْعُودِيُّ ، جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ أَبِي صَخْرَةَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ أَبِي صَخْرَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: لَمَّا أَتَى عَبْدُ اللَّهِ الْجَمْرَةَ جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ اسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ، وَاسْتَقْبَلَ الْكَعْبَةَ، وَجَعَلَ الْجَمْرَةَ عَلَى حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ، ثُمَّ رَمَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ مَعَ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمَّ قَالَ: مِنْ هَاهُنَا، وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، رَمَى الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ حج کے موقع پر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو سواری ہی کی حالت میں سات کنکریاں ماریں، اور ہر کنکری پر تکبیر کہتے رہے، اس وقت انہوں نے جمرہ عقبہ کو دائیں جانب اور بیت اللہ کی طرف اپنا رخ کر رکھا تھا، پھر فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ ذات بھی یہیں کھڑی ہوئی تھی جس پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4117]
حکم دارالسلام
صحيح دون قوله: «واستقبل البيت» ، وهو شاذ الفتح: 3/ 582، والصحيح أنه جعل البيت عن يساره كما تقدم برقم: 3941.
الحكم: صحيح دون قوله: «واستقبل البيت» ، وهو شاذ الفتح: 3/ 582، والصحيح أنه جعل البيت عن يساره كما تقدم برقم: 3941.
حدیث نمبر: 4118 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبِيدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبِيدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اقْرَأْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ"، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَقْرَأُ عَلَيْكَ، وَإِنَّمَا أُنْزِلَ عَلَيْكَ؟ قَالَ:" إِنِّي أَشْتَهِي أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي"، قَالَ: فَافْتَتَحْتُ سُورَةَ النِّسَاءِ، فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ، فَلَمَّا بَلَغْتُ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا سورة النساء آية 41، قَالَ: نَظَرْتُ إِلَيْهِ، وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک دن میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ، میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا میں آپ کو پڑھ کر سناؤں حالانکہ آپ پر تو قرآن نازل ہوا ہے؟ فرمایا: ایسا ہی ہے، لیکن میں چاہتا ہوں کہ اپنے علاوہ کسی اور سے سنوں، چنانچہ میں نے تلاوت شروع کر دی اور جب میں اس آیت پر پہنچا: « ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدًا﴾ » [النساء: 41] وہ کیسا وقت ہو گا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لے کر آئیں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے۔ تو میں نے دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4118]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4582، م: 800.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4582، م: 800.
حدیث نمبر: 4119 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مِسْعَرٍ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ ، الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْيَشْكُرِيِّ ، عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ: اللَّهُمَّ أَمْتِعْنِي بِزَوْجِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَبِأَبِي أَبِي سُفْيَانَ، وَبِأَخِي مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" سَأَلْتِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لِآجَالٍ مَضْرُوبَةٍ، وَأَيَّامٍ مَعْدُودَةٍ، وَأَرْزَاقٍ مَقْسُومَةٍ، لَنْ يُعَجِّلَ شَيْئًا قَبْلَ حِلِّهِ، أَوْ يُؤَخِّرَ شَيْئًا عَنْ حِلِّهِ، وَلَوْ كُنْتِ سَأَلْتِ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ يُعِيذَكِ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ، أَوْ عَذَابٍ فِي الْقَبْرِ، كَانَ خَيْرًا وَأَفْضَلَ". (حديث موقوف) (حديث مرفوع) قَالَ: وَذُكِرَ عِنْدَهُ أَنَّ الْقِرَدَةَ، قَالَ مِسْعَرٌ: أُرَاهُ قَالَ: وَالْخَنَازِيرَ مِمَّا مُسِخَ؟ قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَجْعَلْ لِمَسِيخٍ نَسْلًا، وَلَا عَقِبًا، وَقَدْ كَانَتْ الْقِرَدَةُ أُرَاهُ قَالَ: وَالْخَنَازِيرُ قَبْلَ ذَلِكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ام المومنین سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا یہ دعا کر رہی تھیں کہ اے اللہ! مجھے اپنے شوہر نامدار رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، اپنے والد ابوسفیان اور اپنے بھائی معاویہ سے فائدہ پہنچا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی یہ دعا سن لی اور فرمایا کہ تم نے اللہ سے طے شدہ مدت، گنتی کے چند دن اور تقسیم شدہ رزق کا سوال کیا، ان میں سے کوئی چیز بھی اپنے وقت سے پہلے تمہیں نہیں مل سکتی اور اپنے وقت مقررہ سے مؤخر نہیں ہو سکتی، اگر تم اللہ سے یہ دعا کرتیں کہ وہ تمہیں عذاب جہنم اور عذاب قبر سے محفوظ فرما دے تو یہ زیادہ بہتر اور افضل ہوتا۔ راوی کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے یہ تذکرہ ہوا کہ بندر انسانوں کی مسخ شدہ شکل ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے جس قوم کی شکل کو مسخ کیا اس کی نسل کو کبھی باقی نہیں رکھا، جبکہ بندر اور خنزیر تو پہلے سے چلے آ رہے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4119]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2663.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2663.
حدیث نمبر: 4120 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، الثَّوْرِيُّ ، عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، نَحْوَهُ بِإِسْنَادِهِ، وَلَمْ يَشُكَّ فِي الْخَنَازِيرِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4120]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2663.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2663.
حدیث نمبر: 4121 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَلَا إِنِّي أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خُلَّةٍ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ، إِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: میں ہر دوست کی دوستی سے بیزاری ظاہر کرتا ہوں، اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا، اور تمہارا پیغمبر اللہ تعالیٰ کا خلیل ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4121]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2383.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2383.
حدیث نمبر: 4122 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْمَسْعُودِيِّ ، الْحَكَمِ ، ذَرٍّ ، وَائِلِ بْنِ مَهَانَةَ التَّيْمِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ ، عَنْ الْحَكَمِ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ مَهَانَةَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، تَصَدَّقْنَ، فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ"، فَقَالَتْ امْرَأَةٌ: وَمَا لَنَا أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ؟ قَالَ:" لِأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے گروہ نسواں! صدقہ دیا کرو کیونکہ تم جہنم میں اکثریت ہو۔ ایک عورت کھڑی ہو کر کہنے لگی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اس کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا: اس کی وجہ یہ ہے کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو، اور اپنے شوہر کی ناشکری و نافرمانی کرتی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4122]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين لحال وائل بن مهانة، المسعودي - وهو صدوق- اختلط قبل موته، لكن سماع وكيع منه قبل الاختلاط.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين لحال وائل بن مهانة، المسعودي - وهو صدوق- اختلط قبل موته، لكن سماع وكيع منه قبل الاختلاط.
حدیث نمبر: 4123 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، مَسْرُوقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ نَفْسٍ تُقْتَلُ ظُلْمًا، إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ الْأَوَّلِ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا، ذَلِكَ بِأَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دنیا میں جو بھی ناحق قتل ہوتا ہے، اس کا گناہ حضرت آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے (قابیل) کو بھی ہوتا ہے، کیونکہ قتل کا رواج اسی نے ڈالا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4123]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 6867.
الحكم: إسناده صحيح، م: 6867.
حدیث نمبر: 4124 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، لِابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، المعنى، وهذا لفظ وكيع، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ الْجَزَرِيِّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ ، أَنْ أَبَاهُ مَعْقِلَ بْنَ مُقَرِّنٍ الْمُزَنِيّ قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ : أَسَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" النَّدَمُ تَوْبَةٌ؟"، قَالَ: نَعَمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن معقل کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اپنے والد کے ساتھ حاضر ہوا، میرے والد نے پوچھا: کیا آپ نے خود نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ندامت بھی توبہ ہے؟ فرمایا: ہاں! [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4124]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 4125 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْمَسْعُودِيُّ ، جَابِرٍ ، أَبِي الضُّحَى ، مَسْرُوقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ جَابِرٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ، قَالَ:" بَيْعُ الْمُحَفَّلَاتِ خِلَابَةٌ، وَلَا تَحِلُّ الْخِلَابَةُ لِمُسْلِمٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم - جو صادق و مصدوق ہیں - نے یہ حدیث بیان فرمائی ہے کہ جانور کے تھنوں کو باندھ کر انہیں بھرے ہوئے تھن والا ظاہر کر کے بیچنا دھوکہ ہے، اور کسی مسلمان کے لئے دھوکہ حلال نہیں ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4125]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي، وروي مرفوعا، وموقوفه هو الصحيح كما قال الدارقطني، المسعودي- وهو صدوق- اختلط قبل موته، وسمع منه وكيع قبل الاختلاط.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف جابر الجعفي، وروي مرفوعا، وموقوفه هو الصحيح كما قال الدارقطني، المسعودي- وهو صدوق- اختلط قبل موته، وسمع منه وكيع قبل الاختلاط.
حدیث نمبر: 4126 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، زُبَيْدٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، يُحَدِّثُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4126]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 64.
الحكم: إسناده صحيح، م: 64.
حدیث نمبر: 4127 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَبْدِ اللَّهِ ، مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ وَهْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً، وَفِتَنًا وَأُمُورًا تُنْكِرُونَهَا"، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَاذَا تَأْمُرُ لِمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنَّا؟ قَالَ:" تُؤَدُّونَ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ، وَتَسْأَلُونَ اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عنقریب تم میرے بعد ترجیحات، فتنے اور ناپسندیدہ امور دیکھو گے، ہم نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ہم میں سے جو شخص اس زمانے کو پائے تو کیا کرے؟ فرمایا: اپنے اوپر واجب ہونے والے حقوق ادا کرتے رہو، اور اپنے حقوق کا اللہ سے سوال کرتے رہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4127]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1843.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1843.
حدیث نمبر: 4128 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، شُعْبَةَ ، السُّدِّيِّ ، مُرَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنِ السُّدِّيِّ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: وَإِنْ مِنْكُمْ إِلا وَارِدُهَا سورة مريم آية 71، قَالَ:" يَدْخُلُونَهَا أَوْ يَلِجُونَهَا، ثُمَّ يَصْدُرُونَ مِنْهَا بِأَعْمَالِهِمْ"، قُلْتُ لَهُ: إِسْرَائِيلُ حَدَّثَهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، هُوَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ كَلَامًا هَذَا مَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ تم میں سے ہر شخص جہنم میں وارد ہو گا کا معنی ہے داخل ہو گا، بعد میں اپنے اعمال کے مطابق وہاں سے نکل آئے گا۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا: یہ روایت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے ہے؟ استاذ صاحب نے بتایا: جی ہاں! یہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث ہے، یا اس کے مشابہہ کوئی جملہ فرمایا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4128]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.