بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 899
صفحہ 20 از 45
حدیث نمبر: 3928 مسند احمد
حُسَيْنٌ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، وَعَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ
حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، وَعَلْقَمَةَ بْنِ قَيْسٍ ... فذكره.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3928]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 534.
الحكم: إسناده صحيح، م: 534.
حدیث نمبر: 3929 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، خُمَيْرِ بْنِ مَالِكٍ ، ابْنُ مَسْعُودٍ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ خُمَيْرِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: أُمِرَ بِالْمَصَاحِفِ أَنْ تُغَيَّرَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ :" مَنْ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَغُلَّ مُصْحَفَهُ فَلْيَغُلَّهُ، فَإِنَّ مَنْ غَلَّ شَيْئًا جَاءَ بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ". قَالَ: ثُمَّ قَالَ:" قَرَأْتُ مِنْ فَمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً"، أَفَأَتْرُكُ مَا أَخَذْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
خمیر بن مالک کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سرکاری حکم جاری ہوا کہ مصاحف قرآنی کو بدل دیا جائے (سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے جمع کردہ مصاحف کے علاوہ کسی اور ترتیب کو باقی نہ رکھا جائے)، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کو پتہ چلا تو فرمایا: تم میں سے جو شخص اپنا نسخہ چھپا سکتا ہو، چھپا لے، کیونکہ جو شخص جو چیز چھپائے گا، قیامت کے دن اس کے ساتھ ہی آئے گا، پھر فرمایا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دہن مبارک سے ستر سورتیں پڑھی ہیں، کیا میں ان چیزوں کو چھوڑ دوں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دہن مبارک سے حاصل کی ہیں؟ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3929]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5000، م: 2462، وهذا إسناد ضعيف، خمير بن مالك انفرد بالرواية عنه أبو إسحاق السبيعي، ولم يوثقه غير ابن حبان.
الحكم: حديث صحيح، خ: 5000، م: 2462، وهذا إسناد ضعيف، خمير بن مالك انفرد بالرواية عنه أبو إسحاق السبيعي، ولم يوثقه غير ابن حبان.
حدیث نمبر: 3930 مسند احمد
أَسْوَدُ ، خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، صِلَةَ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ . ح قَالَ: وَأَخْبَرَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ صِلَةَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: جَاءَ الْعَاقِبُ، وَالسَّيِّدُ صَاحِبَا نَجْرَانَ، قَالَ: وَأَرَادَا أَنْ يُلَاعِنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ: لاَ تُلَاعِنْهُ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ كَانَ نَبِيًّا فَلَعَنَّا، قَالَ خَلَفٌ: فَلَاعَنَّا لَا نُفْلِحُ نَحْنُ وَلَا عَقِبُنَا أَبَدًا، قَالَ: فَأَتَيَاهُ، فَقَالَا: لَا نُلَاعِنُكَ، وَلَكِنَّا نُعْطِيكَ مَا سَأَلْتَ، فَابْعَثْ مَعَنَا رَجُلًا أَمِينًا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لأَبْعَثَنَّ رَجُلًا أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ، حَقَّ أَمِينٍ"، قَالَ: فَاسْتَشْرَفَ لَهَا أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: فَقَالَ:" قُمْ يَا أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ"، قَالَ: فَلَمَّا قَفَّا، قَالَ:" هَذَا أَمِينُ هَذِهِ الأُمَّةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نجران سے ایک مرتبہ عاقب اور سید نامی دو آدمی آئے، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مباہلہ کرنے کے ارادے سے آئے تھے، ان میں سے ایک دوسرے سے کہنے لگا کہ ان سے مباہلہ (اور ملاعنہ) مت کرو، کیونکہ اگر یہ واقعی نبی ہوئے اور انہوں نے ہمارے ساتھ ملاعنہ کر کے ہم پر لعنت بھیج دی تو ہم اور ہماری نسل کبھی کامیاب نہ ہو سکے گی، چنانچہ وہ دونوں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم آپ سے مباہلہ نہیں کرتے، ہم آپ کو وہ دینے کے لئے تیار ہیں جس کا آپ مطالبہ کرتے ہیں، بس آپ ہمارے ساتھ کسی امانت دار آدمی کو بھیج دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے ساتھ ایسے امانت دار آدمی کو بھیجوں گا جو واقعی امین کہلانے کا حق دار ہو گا، یہ سن کر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سر اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے ابوعبیدہ بن الجراح! کھڑے ہو جاؤ، جب وہ دونوں واپس جانے لگے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ اس امت کے امین ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3930]
حکم دارالسلام
إسناده من طريق أسود صحيح.
الحكم: إسناده من طريق أسود صحيح.
حدیث نمبر: 3931 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، إِسْرَائِيلُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، وَأَبُو أَحْمَدَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: إِذَا أَوَى إِلَى فِرَاشِهِ وَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى تَحْتَ خَدِّهِ، قَالَ أَبُو أَحْمَدَ: الْأَيْمَنِ، ثُمَّ قَالَ:" اللَّهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب سونے کے لئے اپنے بستر پر آ کر لیٹتے تو اپنے دائیں ہاتھ کو اپنے رخسار کے نیچے رکھتے اور یہ دعا فرماتے: «اللّٰهُمَّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَجْمَعُ عِبَادَكَ» پروردگار! مجھے اس دن کے عذاب سے بچا جس دن تو اپنے بندوں کو جمع کرے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3931]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف الانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف الانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود.
حدیث نمبر: 3932 مسند احمد
وَكِيعٌ
حَدَّثَنَاه وَكِيعٌ ... بِمَعْنَاهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3932]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود.
حدیث نمبر: 3933 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُسَلِّمُ فِي صَلاَتِهِ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ، حَتَّى يُرَى بَيَاضُ خَدَّيْهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دائیں بائیں اس طرح سلام پھیرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مبارک رخساروں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3933]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لضعف ابن لهيعة.
حدیث نمبر: 3934 مسند احمد
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ الْجُهَنِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ:" يُجْمَعُ خَلْقُ أَحَدِكُمْ فِي بَطْنِ أُمِّهِ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَبْعَثُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ مَلَكًا مِنَ الْمَلَائِكَةِ، فَيَقُولُ: اكْتُبْ عَمَلَهُ وَأَجَلَهُ وَرِزْقَهُ، وَاكْتُبْهُ شَقِيًّا أَوْ سَعِيدًا". ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ عَبْدِ اللَّهِ بِيَدِهِ،" إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ غَيْرُ ذِرَاعٍ، ثُمَّ يُدْرِكُهُ الشَّقَاءُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، فَيَمُوتُ، فَيَدْخُلُ النَّارَ، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسُ عَبْدِ اللَّهِ بِيَدِهِ، إِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ النَّارِ غَيْرُ ذِرَاعٍ، ثُمَّ تُدْرِكُهُ السَّعَادَةُ، فَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَمُوتُ، فَيَدْخُلُ الْجَنَّةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم - جو کہ صادق و مصدوق ہیں - نے ہمیں یہ حدیث سنائی ہے کہ تمہاری خلقت کو شکم مادر میں چالیس دن تک جمع رکھا جاتا ہے، پھر اتنے ہی دن وہ جما ہوا خون ہوتا ہے، پھر اتنے ہی دن وہ گوشت کا لوتھڑا ہوتا ہے، پھر اس کے پاس ایک فرشتے کو بھیجا جاتا ہے اور وہ اس میں روح پھونک دیتا ہے، پھر چار چیزوں کا حکم دیا جاتا ہے، اس کے رزق کا، اس کی موت کا، اس کے اعمال کا اور یہ کہ یہ بدنصیب ہو گا یا خوش نصیب؟ اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں عبداللہ کی جان ہے، تم میں سے ایک شخص اہل جنت کی طرح اعمال کرتا رہتا ہے، جب اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو تقدیر غالب آ جاتی ہے اور وہ اہل جہنم والے اعمال کر کے جہنم میں داخل ہوجاتا ہے، اور ایک شخص جہنمیوں والے اعمال کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اس پر تقدیر غالب آ جاتی ہے اور اس کا خاتمہ جنتیوں والے اعمال پر ہو جاتا ہے اور وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3934]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3208، م: 2643.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3208، م: 2643.
حدیث نمبر: 3935 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، سَيْفٌ ، مُجَاهِدًا ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ أَبُو مَعْمَرٍ ، ابْنَ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ أَبُو مَعْمَرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ: عَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّشَهُّدَ كَفِّي بَيْنَ كَفَّيْهِ كَمَا يُعَلِّمُنِي السُّورَةَ مِنَ الْقُرْآنِ، قَالَ:" التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ"، وَهُوَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْنَا، فَلَمَّا قُبِضَ، قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کلمات تشہد قرآن کریم کی سورت کی طرح اس حال میں سکھائے ہیں کہ میرا ہاتھ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک میں تھا: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ جب تک نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے درمیان رہے ہم یہی کلمات کہتے رہے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہو گیا تو ہم «السَّلَامُ عَلَى النَّبِيِّ» کہنے لگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3935]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6265، م: 402.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6265، م: 402.
حدیث نمبر: 3936 مسند احمد
أَبُو نُعَيْمٍ ، أَبُو عُمَيْسٍ ، عَلِيَّ بْنَ الْأَقْمَرِ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عُمَيْسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ الْأَقْمَرِ يَذْكُرُ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَلْقَى اللَّهَ غَدًا مُسْلِمًا، فَلْيُحَافِظْ عَلَى هَؤُلَاءِ الصَّلَوَاتِ حَيْثُ يُنَادَى بِهِنَّ، فَإِنَّ اللَّهَ شَرَعَ لِنَبِيِّكُمْ سُنَنَ الْهُدَى، وَإِنَّهُنَّ مِنْ سُنَنِ الْهُدَى، وَلَوْ أَنَّكُمْ صَلَّيْتُمْ فِي بُيُوتِكُمْ كَمَا يُصَلِّي هَذَا الْمُتَخَلِّفُ فِي بَيْتِهِ، لَتَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ، وَلَوْ أَنَّكُمْ تَرَكْتُمْ سُنَّةَ نَبِيِّكُمْ لَضَلَلْتُمْ، وَمَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ فَيُحْسِنُ الطُّهُورَ، ثُمَّ يَعْمِدُ إِلَى مَسْجِدٍ مِنْ هَذِهِ الْمَسَاجِدِ، إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا حَسَنَةً، وَيَرْفَعُ لَهُ بِهَا دَرَجَةً، وَيَحُطُّ عَنْهُ بِهَا سَيِّئَةً، وَلَوْ رَأَيْتُنَا، وَمَا يَتَخَلَّفُ عَنْهَا إِلَّا مُنَافِقٌ مَعْلُومُ النِّفَاقِ، وَلَقَدْ كَانَ الرَّجُلُ يُؤْتَى بِهِ يُهَادَى بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ، حَتَّى يُقَامَ فِي الصَّفِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جس شخص کی یہ خواہش ہو کہ کل قیامت کے دن اللہ سے اس کی ملاقات اسلام کی حالت میں ہو تو اسے ان فرض نمازوں کی پابندی کرنی چاہئے جب بھی ان کی طرف پکارا جائے، کیونکہ یہ سنن ہدی میں سے ہیں اور اللہ نے تمہارے پیغمبر کے لئے سنن ہدی کو مشروع قرار دیا ہے، تم اگر اپنے گھروں میں اس طرح نماز پڑھنے لگے جیسے یہ پیچھے رہ جانے والے اپنے گھروں میں پڑھ لیتے ہیں تو تم اپنے نبی کی سنت کے تارک ہو گے، اور جب تم اپنے نبی کی سنت کو چھوڑو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے، جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح کرے، پھر کسی بھی مسجد کی طرف روانہ ہو جائے، وہ جو قدم بھی اٹھائے گا، اس کا ایک درجہ بلند کیا جائے گا، ایک گناہ معاف کیا جائے گا اور ایک نیکی لکھی جائے گی، اور میں نے دیکھا ہے کہ جماعت کی نماز سے وہی شخص پیچھے رہتا تھا جو منافق ہوتا تھا اور اس کا نفاق سب کے علم میں ہوتا تھا، نیز یہ بھی کہ ایک شخص کو دو آدمیوں کے سہارے پر مسجد میں لایا جاتا اور صف میں کھڑا کر دیا جاتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3936]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 654.
الحكم: إسناده صحيح، م: 654.
حدیث نمبر: 3937 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ ، سُلَيْمَانُ ، مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" صَلَّيْتُ لَيْلَةً مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْ يَزَلْ قَائِمًا"، حَتَّى هَمَمْتُ بِأَمْرِ سُوءٍ، قُلْنَا وَمَا هَمَمْتَ بِهِ؟! قَالَ: هَمَمْتُ أَنْ أَقْعُدَ، وَأَدَعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ سُلَيْمَانُ : وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ... مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے رات کے وقت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اتنا طویل قیام کیا کہ میں اپنے دل میں برا ارادہ کرنے لگا۔ ان کے شاگرد کہتے ہیں کہ ہم نے پوچھا: آپ نے کیا ارادہ کیا تھا؟ فرمایا کہ میں بیٹھ جاؤں اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھڑا چھوڑ دوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3937]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1135.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1135.
حدیث نمبر: 3938 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيَّ ، مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، الْأَوْدِيِّ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيَّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ الْأَوْدِيِّ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" حُرِّمَ عَلَى النَّارِ كُلُّ هَيِّنٍ لَيِّنٍ سَهْلٍ قَرِيبٍ مِنَ النَّاسِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جہنم کی آگ پر ہر اس شخص کو حرام قرا دے دیا گیا ہے جو باوقار ہو، نرم خو ہو، سہولت پسند طبیعت کا ہو (جھگڑالو نہ ہو) اور لوگوں کے قریب ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3938]
حکم دارالسلام
حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف، عبدالله بن عمرو الأودي لم يرو عنه غير موسى بن عقبة، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان.
الحكم: حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف، عبدالله بن عمرو الأودي لم يرو عنه غير موسى بن عقبة، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان.
حدیث نمبر: 3939 مسند احمد
مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، زُهَيْرٌ ، أَبِي الْحَارِثِ يَحْيَى التَّيْمِيِّ ، أَبِي مَاجِدٍ الْحَنَفِيِّ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ ، أَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ ، عَنْ أَبِي الْحَارِثِ يَحْيَى التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي مَاجِدٍ الْحَنَفِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَأَلْنَا نَبِيَّنَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ السَّيْرِ بِالْجِنَازَةِ؟ فَقَالَ:" السَّيْرُ مَا دُونَ الْخَبَبِ، فَإِنْ يَكُ خَيْرًا، يُعَجَّلْ أَوْ تُعَجَّلْ إِلَيْهِ، وَإِنْ يَكُ سِوَى ذَلِكَ، فَبُعْدًا لأَهْلِ النَّارِ، الْجِنَازَةُ مَتْبُوعَةٌ وَلاَ تَتْبَعُ، لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَقَدَّمَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جنازے کے ساتھ چلنے کے متعلق دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: وہ رفتار جو دوڑنے کے زمرے میں نہ آتی ہو، اگر وہ نیکوکار رہا ہو گا تو اس کے اچھے انجام کی طرف اسے جلد لے جایا جا رہا ہو گا، اور اگر وہ ایسا نہ ہوا تو اہل جہنم کو دور ہی ہو جانا چاہئے، اور جنازہ کو متبوع ہونا چاہئے نہ کہ تابع (جنازے کو آگے اور چلنے والوں کو اس کے پیچھے ہونا چاہئے)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3939]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى ماجد الحنفي.
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى ماجد الحنفي.
حدیث نمبر: 3940 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ابْنِ عَجْلاَنَ ، عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ عَجْلاَنَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِذَا حُدِّثْتُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثًا،" فَظُنُّوا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي هُوَ أَهْيَاهُ وَأَهْدَاهُ وَأَتْقَاهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب تمہارے سامنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی حدیث بیان کی جائے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق وہ گمان کرو جو درستگی، ہدایت اور تقوی پر مبنی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3940]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عون لم يسمع من عم أبيه ابن مسعود.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عون لم يسمع من عم أبيه ابن مسعود.
حدیث نمبر: 3941 مسند احمد
رَوْحٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمُ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ رَوْحٌ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّهُ حَجَّ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ،" فَرَمَى الْجَمْرَةَ الْكُبْرَى بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، وَجَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ، وَمِنًى عَنْ يَمِينِهِ، وَقَالَ: هَذَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں ماریں اور بیت اللہ کو اپنی بائیں طرف رکھا اور منیٰ کو دائیں طرف اور فرمایا: یہی وہ جگہ ہے جہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3941]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1748، م: 1296.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1748، م: 1296.
حدیث نمبر: 3942 مسند احمد
رَوْحٌ ، حَمَّادٌ ، حَمَّادٍ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ حَمَّادٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ " اسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ، وَاعْتَرَضَ الْجِمَارَ اعْتِرَاضًا، وَجَعَلَ الْجَبَلَ فَوْقَ ظَهْرِهِ، ثُمَّ رَمَى، وَقَالَ: هَذَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بطن وادی سے جمرہ عقبہ کی رمی کرتے ہوئے پہاڑ کو اپنی پشت پر رکھا اور رمی کرنے کے بعد فرمایا: یہی وہ جگہ ہے جہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3942]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م:1296 .
الحكم: حديث صحيح، م:1296 .
حدیث نمبر: 3943 مسند احمد
أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، زَائِدَةُ ، عَاصِمٌ ، زِرٍّ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ أَسْوَدُ، فَمَاتَ، فَأُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" انْظُرُوا هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟" قَالُوا: تَرَكَ دِينَارَيْنِ، قَالَ:" كَيَّتَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سیاہ فام غلام آ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مل گیا، کچھ عرصے بعد اس کا انتقال ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: یہ دیکھو کہ اس نے کچھ چھوڑا بھی ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ اس نے ترکہ میں دو دینار چھوڑے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ جہنم کے دو انگارے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3943]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 3944 مسند احمد
أَسْبَاطٌ ، وَابْنُ فُضَيْلٍ ، مُطَرِّفٌ ، أَبِي الْجَهْمِ ، أَبِي الرَّضْرَاضِ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ ، وَابْنُ فُضَيْلٍ ، المعنى قَالَا: حَدَّثَنَا مُطَرِّفٌ ، عَنْ أَبِي الْجَهْمِ ، عَنْ أَبِي الرَّضْرَاضِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: كُنْتُ أُسَلِّمُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ، فَيَرُدُّ عَلَيَّ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ذَاتَ يَوْمٍ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا، فَوَجَدْتُ فِي نَفْسِي، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كُنْتُ أُسَلِّمُ عَلَيْكَ، وَأَنْتَ فِي الصَّلَاةِ، فَتَرُدُّ عَلَيَّ، وَإِنِّي سَلَّمْتُ عَلَيْكَ، فَلَمْ تَرُدَّ عَلَيَّ شَيْئًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ يُحْدِثُ فِي أَمْرِهِ مَا يَشَاءُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دوران نماز سلام کرتا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جواب دے دیتے تھے، لیکن ایک دن میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب نہ دیا، مجھے اس کا بڑا رنج ہوا، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! پہلے تو میں دوران نماز آپ کو سلام کرتا تھا تو آپ جواب دے دیتے تھے؟ فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنے معاملات میں جس طرح چاہتا ہے، نیا حکم بھیج دیتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3944]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن فى المتابعات.
حدیث نمبر: 3945 مسند احمد
عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، قَتَادَةَ ، عَزْرَةَ ، الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، يَحْيَى بْنِ الجَزَّارِ ، مَسْرُوقٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَزْرَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ الْعُرَنِيِّ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ الجَزَّارِ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ ، فَقَالَتْ: أُنْبِئْتُ أَنَّكَ تَنْهَى عَنِ الْوَاصِلَةِ? قَالَ: نَعَمْ، فَقَالَتْ: أَشَيْءٌ تَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ، أَمْ سَمِعْتَهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟! فَقَالَ: أَجِدُهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ، وَعَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ لَقَدْ تَصَفَّحْتُ مَا بَيْنَ دَفَّتَيْ الْمُصْحَفِ، فَمَا وَجَدْتُ فِيهِ الَّذِي تَقُولُ! قَالَ: فَهَلْ وَجَدْتِ فِيهِ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا سورة الحشر آية 7، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى عَنِ النَّامِصَةِ، وَالْوَاشِرَةِ، وَالْوَاصِلَةِ، وَالْوَاشِمَةِ، إِلَّا مِنْ دَاءٍ"، قَالَتْ الْمَرْأَةُ: فَلَعَلَّهُ فِي بَعْضِ نِسَائِكَ؟ قَالَ لَهَا: ادْخُلِي، فَدَخَلَتْ ثُمَّ خَرَجَتْ، فَقَالَتْ: مَا رَأَيْتُ بَأْسًا، قَالَ: مَا حَفِظْتُ إِذًا وَصِيَّةَ الْعَبْدِ الصَّالِحِ: وَمَا أُرِيدُ أَنْ أُخَالِفَكُمْ إِلَى مَا أَنْهَاكُمْ عَنْهُ سورة هود آية 88.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مسروق کہتے ہیں کہ ایک عورت سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مرتبہ آئی اور کہنے لگی کہ مجھے پتہ چلا ہے، آپ عورتوں کو بالوں کے ساتھ دوسرے بال ملانے سے منع کرتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: ایسا ہی ہے، اس عورت نے پوچھا کہ یہ حکم آپ کو قرآن میں ملتا ہے یا آپ نے اس حوالے سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کوئی فرمان سنا ہے؟ فرمایا: مجھے یہ حکم قرآن میں بھی ملتا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان میں بھی ملتا ہے، وہ عورت کہنے لگی: واللہ! میں تو دو گتوں کے درمیان جو مصحف ہے اسے خوب اچھی طرح کھنگال چکی ہوں، مجھے تو اس میں یہ حکم کہیں نہیں ملا؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا اس میں تمہیں یہ آیت ملی: « ﴿وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا﴾ » [الحشر: 7] اللہ کے پیغمبر تمہیں جو حکم دیں اس پر عمل کرو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ؟ اس نے کہا: جی ہاں! فرمایا: پھر میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان چیزوں سے منع کرتے ہوئے سنا ہے: موچنے سے بالوں کو نوچنے والی، دانتوں کو باریک کرنے والی، دوسرے کے بالوں کو اپنے بالوں کے ساتھ ملانے والی اور جسم گودنے والی سے، ہاں! اگر کوئی بیماری ہو تو دوسری بات ہے۔ وہ عورت کہنے لگی کہ اگر آپ کے گھر کی عورتیں یہ کام کرتی ہوں تو؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جا کر دیکھ لو، وہ عورت ان کے گھر چلی گئی، پھر آ کر کہنے لگی کہ مجھے تو وہاں کوئی قابل اعتراض بات نظر نہیں آئی، انہوں نے فرمایا: اگر ایسا ہو تو میں عبد صالح حضرت شعیب علیہ السلام کی یہ نصیحت یاد نہ رکھتا کہ میں تمہیں جس چیز سے روکتا ہوں، میں خود اس کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا (کہ میں تمہیں ایک کام سے روکوں اور خود وہی کام کرتا رہوں)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3945]
حکم دارالسلام
إسناده قوي، خ: 5948، م: 2125. عبدالوهاب بن عطاء الخفاف: فيه كلام خفيف، وقد عرف بصحبته السعيد بن أبى عروبة، وسمع منه قبل الاختلاط، وكتب كتبه.
الحكم: إسناده قوي، خ: 5948، م: 2125. عبدالوهاب بن عطاء الخفاف: فيه كلام خفيف، وقد عرف بصحبته السعيد بن أبى عروبة، وسمع منه قبل الاختلاط، وكتب كتبه.
حدیث نمبر: 3946 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، عَاصِمٍ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ، لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص جھوٹی قسم کھا کر کسی مسلمان کا مال ہتھیا لے، وہ اللہ سے اس حال میں ملاقات کرے گا کہ اللہ اس سے ناراض ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3946]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 3947 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَبُو بَكْرٍ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ كِبْرٍ، وَلَا يَدْخُلُ النَّارَ رَجُلٌ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: وہ شخص جنت میں داخل نہ ہو گا جس کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی تکبر ہو گا، اور وہ شخص جہنم میں داخل نہ ہو گا جس کے دل میں رائی کے ایک دانے کے برابر بھی ایمان ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3947]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م:91 . 
الحكم: إسناده صحيح، م:91 .