بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 899
صفحہ 31 از 45
حدیث نمبر: 4149 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، دَاوُدُ ، وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، دَاوُدُ ، الشَّعْبِيِّ ، عَلْقَمَةَ ، لِابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، أَخْبَرَنَا دَاوُدُ ، وَابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا دَاوُدُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، قَالَ: قُلْتُ لِابْنِ مَسْعُودٍ : هَلْ صَحِبَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْجِنِّ مِنْكُمْ أَحَدٌ؟ فَقَالَ: مَا صَحِبَهُ مِنَّا أَحَدٌ، وَلَكِنَّا قَدْ فَقَدْنَاهُ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقُلْنَا: اغْتِيلَ؟ اسْتُطِيرَ؟ مَا فَعَلَ؟ قَالَ: فَبِتْنَا بِشَرِّ لَيْلَةٍ بَاتَ بِهَا قَوْمٌ، فَلَمَّا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ أَوْ قَالَ: فِي السَّحَرِ إِذَا نَحْنُ بِهِ يَجِيءُ مِنْ قِبَلِ حِرَاءَ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَذَكَرُوا الَّذِي كَانُوا فِيهِ، فَقَالَ:" إِنَّهُ أَتَانِي دَاعِي الْجِنِّ، فَأَتَيْتُهُمْ، فَقَرَأْتُ عَلَيْهِمْ"، قَالَ: فَانْطَلَقَ بِنَا، فَأَرَانِي آثَارَهُمْ وَآثَارَ نِيرَانِهِمْ. قَالَ: وَقَالَ الشَّعْبِيُّ: سَأَلُوهُ الزَّادَ، قَالَ ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ: قَالَ عَامِرٌ: فَسَأَلُوهُ لَيْلَتَئِذٍ الزَّادَ، وَكَانُوا مِنْ جِنِّ الْجَزِيرَةِ. (حديث موقوف) (حديث مرفوع) فَقَالَ:" كُلُّ عَظْمٍ ذُكِرَ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ يَقَعُ فِي أَيْدِيكُمْ أَوْفَرَ مَا كَانَ عَلَيْهِ لَحْمًا، وَكُلُّ بَعْرَةٍ، أَوْ رَوْثَةٍ عَلَفٌ لِدَوَابِّكُمْ، فَلَا تَسْتَنْجُوا بِهِمَا، فَإِنَّهُمَا زَادُ إِخْوَانِكُمْ مِنَ الْجِنِّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
علقمہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا لیلۃ الجن کے موقع پر آپ میں سے کوئی صاحب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بھی تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں، ہم میں سے ان کے ساتھ کوئی نہیں تھا، بلکہ ایک مرتبہ رات کو ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گم پایا، ہم فکر مند ہو گئے کہ کہیں کوئی شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دھوکے سے کہیں لے تو نہیں گیا؟ اور ہم پریشان تھے کہ یہ کیا ہو گیا؟ ہم نے وہ ساری رات - جو کسی بھی قوم کے لئے انتہائی پریشان کن ہو سکتی ہے - اسی طرح گذاری، جب صبح کا چہرہ دکھائی دیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ہمیں غار حراء کی جانب سے آتے ہوئے نظر آئے، ہم نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اپنی فکرمندی اور پریشانی کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس جنات میں سے ایک جن دعوت لے کر آیا تھا، میں ان کے پاس چلا گیا اور انہیں قرآن کریم پڑھ کر سنایا، وہ مجھے لے گیا اور اس نے مجھے اپنے آثار اور اپنی آگ کے اثرات دکھائے، (امام شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے توشہ کی درخواست کی تھی)، وہ جزیرہ عرب کے جنات تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ہر وہ ہڈی جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اور وہ تمہارے ہاتھوں میں آ جائے، اس پر جنات کے لئے پہلے سے زیادہ گوشت آ جاتا ہے، اور ہر وہ مینگنی یا لید جو تمہارے جانور کریں، ان سے استنجا نہ کیا کرو کیونکہ یہ تمہارے جن بھائیوں کی خوراک ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4149]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 450.
الحكم: إسناده صحيح، م: 450.
حدیث نمبر: 4150 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّهُ حَجَّ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَنَّهُ" رَمَى الْجَمْرَةَ بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، قَالَ: وَجَعَلَ الْبَيْتَ عَنْ يَسَارِهِ، وَمِنًي عَنْ يَمِينِهِ، وَقَالَ: هَذَا مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ انہوں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جمرہ عقبہ کو سات کنکریاں ماریں اور بیت اللہ کو اپنے بائیں ہاتھ رکھا اور منیٰ کو دائیں ہاتھ اور فرمایا: یہی وہ جگہ ہے جہاں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4150]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1748، م: 1296.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1748، م: 1296.
حدیث نمبر: 4151 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمِ ، ذَرًّا ، وَائِلِ بْنِ مَهَانَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنِ الْحَكَمِ ، قَالَ: سَمِعْتُ ذَرًّا يُحَدِّثُ، عَنْ وَائِلِ بْنِ مَهَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لِلنِّسَاءِ:" تَصَدَّقْنَ، فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ"، فَقَالَتْ امْرَأَةٌ: لَيْسَتْ مِنْ عِلْيَةِ النِّسَاءِ أَوْ مِنْ أَعْقَلِهِنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فِيمَ؟ أَوْ لِمَ؟ أَوْ بِمَ؟ قَالَ:" إِنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے گروہ نسواں! صدقہ دیا کرو، کیونکہ تم جہنم میں اکثریت ہو۔ ایک عورت - جو اونچی عورتوں میں سے نہ تھی - کھڑی ہو کر کہنے لگی: یا رسول اللہ! اس کی کیا وجہ ہے؟ فرمایا: اس کی وجہ یہ ہے کہ تم لعن طعن بہت کرتی ہو اور اپنے شوہر کی ناشکری و نافرمانی کرتی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4151]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين من أجل وائل بن مهانة.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين من أجل وائل بن مهانة.
حدیث نمبر: 4152 مسند احمد
بَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، الْحَكَمُ ، ذَرٍّ ، وَائِلِ بْنِ مَهَانَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ مَهَانَةَ ، مِنْ تَيْمِ الرِّبَابِ، مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِلنِّسَاءِ" تَصَدَّقْنَ، فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ" فَقَالَتْ امْرَأَةٌ، لَيْسَتْ مِنْ عِلْيَةِ النِّسَاءِ فِيمَ؟ وَبِمَ؟ وَلِمَ؟... فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے گروہ نسواں! صدقہ دیا کرو، کیونکہ تم جہنم میں اکثریت ہو۔ ایک عورت - جو اونچی عورتوں میں سے نہ تھی - کھڑی ہو کر کہنے لگی: یا رسول اللہ! اس کی کیا وجہ ہے؟ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4152]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره.
الحكم: صحيح لغيره.
حدیث نمبر: 4153 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبَا وَائِلٍ ، عَبْدَ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُ: قُلْتُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَقَدْ رَفَعَهُ، قَالَ:" لَا أَحَدَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَلِذَلِكَ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَلَا أَحَدَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْمَدْحُ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَلِذَلِكَ مَدَحَ نَفْسَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ سے زیادہ کوئی شخص غیرت مند نہیں ہو سکتا، اسی لئے اس نے ظاہری اور باطنی فحش کاموں سے منع فرمایا ہے، اور اللہ سے زیادہ تعریف کو پسند کرنے والا بھی کوئی نہیں ہے، اسی لئے اس نے اپنی تعریف خود کی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4153]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4634، م: 2760.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4634، م: 2760.
حدیث نمبر: 4154 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَبَا وَائِلٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: إِنِّي قَرَأْتُ الْمُفَصَّلَ كُلَّهُ فِي رَكْعَةٍ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : هَذًّا كَهَذِّ الشِّعْرِ؟ لَقَدْ" عَرَفْتُ النَّظَائِرَ الَّتِي كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرُنُ بَيْنَهُنَّ، قَالَ: فَذَكَرَ عِشْرِينَ سُورَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ، سُورَتَيْنِ، سُورَتَيْنِ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابووائل رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ (بنو بجیلہ کا ایک آدمی) - جس کا نام نہیک بن سنان تھا - سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: میں ایک رکعت میں مفصلات پڑھ لیتا ہوں، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: گھٹیا اشعار کی طرح؟ میں ایسی مثالیں بھی جانتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک رکعت میں دو سورتیں پڑھی ہیں، پھر انہوں نے مفصلات کی بیس رکعتیں ذکر کیں، ہر رکعت میں دو دو سورتیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4154]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 775، م: 822.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 775، م: 822.
حدیث نمبر: 4155 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، قَالَ حَجَّاجٌ فِي حَدِيثِهِ: سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" إِذَا قَعَدَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ، قُلْتُ لِسَعْدٍ: حَتَّى يَقُومَ؟ قَالَ: حَتَّى يَقُومَ". قَالَ حَجَّاجٌ: قَالَ شُعْبَةُ: كَانَ سَعْدٌ يُحَرِّكُ شَفَتَيْهِ بِشَيْءٍ، فَقُلْتُ: حَتَّى يَقُومَ؟ قَالَ: حَتَّى يَقُومَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو رکعتوں میں اس طرح بیٹھتے تھے کہ گویا گرم پتھر پر بیٹھے ہوں، میں نے پوچھا کھڑے ہونے تک؟ فرمایا: ہاں! [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4155]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود.
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود.
حدیث نمبر: 4156 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، شُعْبَةُ ، وَيَزِيدُ ، الْمَسْعُودِيُّ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَحَجَّاجٌ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَيَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ قَالَ حَجَّاجٌ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ قَالَ يَزِيدُ: جَمَعَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ أَرْبَعُونَ، فَكُنْتُ فِي آخِرِ مَنْ أَتَاهُ، قَالَ:" إِنَّكُمْ مَنْصُورُونَ، وَمُصِيبُونَ، وَمَفْتُوحٌ لَكُمْ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ فَلْيَتَّقِ اللَّهَ، وَلْيَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ، وَلْيَنْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ"، قَالَ يَزِيدُ:" وَلْيَصِلْ رَحِمَهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں جمع فرمایا، اس وقت ہم لوگ چالیس افراد تھے، میں ان میں سب سے آخر میں آیا تھا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم لوگ فتح و نصرت حاصل کرنے والے ہو، تم میں سے جو شخص اس زمانے کو پائے، اسے چاہئے کہ اللہ سے ڈرے، اچھی باتوں کا حکم کرے اور بری باتوں سے روکے، اور جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کسی بات کی جھوٹی نسبت کرے گا اسے جہنم میں اپنا ٹھکانا بنا لینا چاہئے۔ یزید کے بقول یہ اضافہ بھی ہے کہ اسے چاہیے کہ صلہ رحمی کرے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4156]
حکم دارالسلام
إسناده حسن، إن صح سماع عبدالرحمن بن عبدالله لهذا الحديث من أبيه، فقد سمع منه شيئا يسيرا.
الحكم: إسناده حسن، إن صح سماع عبدالرحمن بن عبدالله لهذا الحديث من أبيه، فقد سمع منه شيئا يسيرا.
حدیث نمبر: 4157 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، إِسْرَائِيلُ ، سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" نَضَّرَ اللَّهُ امْرَأً سَمِعَ مِنَّا حَدِيثًا فَحَفِظَهُ حَتَّى يُبَلِّغَهُ، فَرُبَّ مُبَلَّغٍ أَحْفَظُ لَهُ مِنْ سَامِعٍ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ اس شخص کو تر و تازہ رکھے جو ہم سے حدیث سن کر اسے یاد کرے، اور اسے آگے پہنچا دے، کیونکہ بہت سے سننے والوں سے زیادہ اسے محفوظ کرنے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جن تک وہ حدیث پہنچائی جاتی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4157]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن إن صح سماع عبد الرحمن بن عبدالله لهذا الحديث من أبيه.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن إن صح سماع عبد الرحمن بن عبدالله لهذا الحديث من أبيه.
حدیث نمبر: 4158 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، شعبة ، عُقْبَةَ بْنَ وَسَّاجٍ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، وَحَجَّاجٌ ، قال: حدثني شعبة ، قال حجاج، قَالَ: سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ وَسَّاجٍ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" فَضْلُ صَلَاةِ الرَّجُلِ فِي الْجَمِيعِ عَلَى صَلَاتِهِ وَحْدَهُ، خَمْسٌ وَعِشْرُونَ دَرَجَةً"، قَالَ حَجَّاجٌ: وَلَمْ يَرْفَعْهُ شُعْبَةُ لِي، وَقَدْ رَفَعَهُ لِغَيْرِي، قَالَ: أَنَا أَهَابُ أَنْ أَرْفَعَهُ، لِأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ قَلَّمَا كَانَ يَرْفَعُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تنہا نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے زیادہ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4158]
حکم دارالسلام
حديث صحيح.
الحكم: حديث صحيح.
حدیث نمبر: 4159 مسند احمد
بَهْزٌ ، هَمَّامٌ ، قَتَادَةُ ، مُوَرِّقٍ ، أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنِيهِ بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ ، أَخْبَرَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ مُوَرِّقٍ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ الْجُشَمِيِّ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ" يُفَضِّلُ صَلَاةَ الْجَمِيعِ عَلَى صَلَاةِ الرَّجُلِ وَحْدَهُ بِخَمْسٍ وَعِشْرِينَ صَلَاةً، كُلُّهَا مِثْلُ صَلَاتِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تنہا نماز پڑھنے پر جماعت کے ساتھ نماز پڑھنے کی فضیلت پچیس درجے زیادہ ہے، اور ان میں سے ہر ایک درجہ اس کی نماز کی طرح ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4159]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4160 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبَا إِسْحَاقَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، أَنَّهُ قَالَ:" إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُلِّمَ فَوَاتِحَ الْخَيْرِ وَجَوَامِعَهُ وَخَوَاتِمَهُ". (حديث موقوف) (حديث مرفوع) فَقَالَ:" إِذَا قَعَدْتُمْ فِي كُلِّ رَكْعَتَيْنِ، فَقُولُوا:" التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ أَحَدُكُمْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ، فَلْيَدْعُ بِهِ رَبَّهُ، عَزَّ وَجَلَّ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَلَا أُنَبِّئُكُمْ مَا الْعَضْهُ؟" قَالَ:" هِيَ النَّمِيمَةُ الْقَالَةُ بَيْنَ النَّاسِ". (حديث مرفوع) (حديث موقوف) وَإِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ الرَّجُلَ يَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ صِدِّيقًا، وَيَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ كَذَّابًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خیر کے جامع، افتتاحی اور اختتامی کلمات عطا فرمائے گئے تھے، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم دو رکعتوں پر بیٹھا کرو تو یوں کہا کرو: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو، میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، اور اس کے بعد جو دعا اسے اچھی لگے وہ مانگے۔ اور ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ «عضه» کیا چیز ہوتی ہے؟ اس سے مراد وہ چغلی ہوتی ہے جو لوگوں کے درمیان نفرت پیدا کر دے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ انسان مسلسل سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے «صديق» لکھ دیا جاتا ہے، اور اسی طرح انسان مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے تو اللہ کے یہاں اسے «كذاب» لکھ دیا جاتا ہے۔ اور ایک موقع پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کیا میں تمہیں یہ نہ بتاؤں کہ '' عضہ " کیا چیز ہوتی ہے؟ اس سے مراد وہ چغلی ہوتی ہے جو لوگوں کے درمیان نفرت پیدا کر دے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ انسان مسلسل سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے صدیق لکھ دیا جاتا ہے اور اسی طرح انسان مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے تو اللہ کے یہاں اسے کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4160]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4161 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" لَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا مِنْ أُمَّتِي أَحَدًا خَلِيلًا، لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر میں کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بناتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4161]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2383.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2383.
حدیث نمبر: 4162 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى، وَالتُّقَى، وَالْعَفَافَ، وَالْغِنَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْهُدَى وَالتُّقَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى» اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقوی، عفت اور غنا (مخلوق کے سامنے عدم احتیاج) کا سوال کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4162]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2821.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2821.
حدیث نمبر: 4163 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ" يَقْرَأُ هَذَا الْحَرْفَ: هَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس آیت کو اس طرح پڑھتے تھے: «‏‏‏‏ ﴿وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ﴾ » ‏‏‏‏ [القمر: 17] ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4163]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4873، م: 823 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4873، م: 823 .
حدیث نمبر: 4164 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَعَفَّانُ ، قَالَا: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ . قَالَ عَفَّانُ: أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الْأَسْوَدِ وَقَالَ مُحَمَّدٌ: عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَسْوَدَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ" قَرَأَ النَّجْمَ، فَسَجَدَ بِهَا، وَسَجَدَ مَنْ كَانَ مَعَهُ"، غَيْرَ أَنَّ شَيْخًا أَخَذَ كَفًّا مِنْ حَصًى، أَوْ تُرَابٍ، فَرَفَعَهُ إِلَى جَبْهَتِهِ، وَقَالَ: يَكْفِينِي هَذَا!! قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سورہ نجم کے آخر میں سجدہ تلاوت کیا اور تمام مسلمانوں نے بھی سجدہ کیا، سوائے قریش کے ایک آدمی کے جس نے ایک مٹھی بھر کر مٹی اٹھائی اور اسے اپنی پیشانی کی طرف بڑھا کر اس پر سجدہ کر لیا، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ بعد میں، میں نے اسے دیکھا کہ وہ کفر کی حالت میں مارا گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4164]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1067، م: 576.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1067، م: 576.
حدیث نمبر: 4165 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: مَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ وَأَنَا أُصَلِّي، فَقَالَ:" سَلْ تُعْطَهْ يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ"، فَقَالَ عُمَرُ: فَابْتَدَرْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ، فَسَبَقَنِي إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ، وَمَا اسْتَبَقْنَا إِلَى خَيْرٍ، إِلَّا سَبَقَنِي إِلَيْهِ أَبُو بَكْرٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نماز پڑھ رہا تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر ہوا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دور ہی سے فرمایا: اے ابن ام عبد! مانگو تمہیں دیا جائے گا، یہ خوشخبری مجھ تک پہنچانے میں حضرات شیخین کے درمیان مسابقت ہوئی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مجھ سے جس معاملے میں بھی مسابقت کی وہ اس میں سبقت لے گئے، بہرحال! انہوں نے بتایا کہ میں اس دعا کو کبھی ترک نہیں کرتا: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَبِيدُ وَقُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْفَدُ وَمُرَافَقَةَ النَّبِيِّ مُحَمَّدٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ جَنَّةِ الْخُلْدِ» اے اللہ! میں آپ سے ایسی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی ختم نہ ہوں، آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک جو کبھی فنا نہ ہو، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جنت الخلد میں رفاقت کا سوال کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4165]
حکم دارالسلام
حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود.
الحكم: حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود.
حدیث نمبر: 4166 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، وَيَحْيَى ، شُعْبَةَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وَيَحْيَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي قُبَّةٍ نَحْوًا مِنْ أَرْبَعِينَ، قَالَ:" أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا رُبُعَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟"، قَالَ: قُلْنَا: نَعَمْ، قَالَ:" أَتَرْضَوْنَ أَنْ تَكُونُوا ثُلُثَ أَهْلِ الْجَنَّةِ؟" فَقُلْنَا: نَعَمْ، فَقَالَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ تَكُونُوا نِصْفَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَذَاكَ أَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا إِلَّا نَفْسٌ مُسْلِمَةٌ، وَمَا أَنْتُمْ مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ، أَوْ الشَّعْرَةِ السَّوْدَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَحْمَرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ایک خیمے میں چالیس کے قریب افراد بیٹھے ہوئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر خوش اور راضی ہو کہ تم تمام اہل جنت کا ایک چوتھائی حصہ ہو؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں! پھر پوچھا: کیا ایک تہائی حصہ ہونے پر خوش ہو؟ ہم نے پھر اثبات میں جواب دیا، فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جان ہے، مجھے امید ہے کہ تم تمام اہل جنت کا نصف ہو گے، کیونکہ جنت میں صرف وہی شخص داخل ہو سکے گا جو مسلمان ہو، اور شرک کے ساتھ تمہاری نسبت ایسی ہی ہے جیسے سیاہ بیل کی کھال میں سفید بال، یا سرخ بیل کی کھال میں سیاہ بال ہوتے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4166]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6528، م: 221.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6528، م: 221.
حدیث نمبر: 4167 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَمَةَ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَمَةَ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ:" أُوتِيَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَفَاتِيحَ كُلِّ شَيْءٍ غَيْرَ الْخَمْسِ: إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ سورة لقمان آية 34". قَالَ: قُلْتُ لَهُ: أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: نَعَمْ، أَكْثَرَ مِنْ خَمْسِينَ مَرَّةً.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہر چیز کی کنجیاں دے دی گئی ہیں سوائے پانچ چیزوں کے، پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: «‏‏‏‏ ﴿إِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللّٰهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾ » ‏‏‏‏ [لقمان: 34] قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ رحم مادر میں کیا ہے؟ کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائے گا؟ اور کوئی شخص نہیں جانتا کہ وہ کس علاقے میں مرے گا؟ بیشک اللہ بڑا جاننے والا باخبر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4167]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ىحتمل التحسين .
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ىحتمل التحسين .
حدیث نمبر: 4168 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، يَحْيَى بْنَ الْمُجَبِّرِ ، أَبَا مَاجِدٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ ، عَبْدِ اللَّهِ
رقم الحديث: 4027
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ الْمُجَبِّرِ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا مَاجِدٍ يَعْنِي الْحَنَفِيَّ ، قَالَ: كُنْتُ قَاعِدًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: إِنِّي لَأَذْكُرُ أَوَّلَ رَجُلٍ قَطَعَهُ، أُتِيَ بِسَارِقٍ، فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ، وَكَأَنَّمَا أُسِفَّ وَجْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَأَنَّكَ كَرِهْتَ قَطْعَهُ؟ قَالَ:" وَمَا يَمْنَعُنِي، لَا تَكُونُوا عَوْنًا لِلشَّيْطَانِ عَلَى أَخِيكُمْ، إِنَّهُ يَنْبَغِي لِلْإِمَامِ إِذَا انْتَهَى إِلَيْهِ حَدٌّ أَنْ يُقِيمَهُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَفُوٌّ يُحِبُّ الْعَفْوَ: وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ سورة النور آية 22".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوماجد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ مجھے یاد ہے کہ اسلام میں سب سے پہلے ایک آدمی کا ہاتھ کاٹا گیا تھا، جس نے چوری کی تھی، لوگ اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اس نے چوری کی ہے، جس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ مبارک کا رنگ اڑ گیا، کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا ہوا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم لوگ اپنے ساتھی کے متعلق شیطان کے مددگار ثابت ہوئے، جبکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور معافی کو پسند فرماتا ہے، اور کسی حاکم کے لئے یہ جائز نہیں کہ اس کے پاس حد کا کوئی مقدمہ آئے اور وہ اسے نافذ نہ کرے، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی: « ﴿وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ وَاللّٰهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾ » [النور: 22] انہیں معاف کرنا اور درگزر کرنا چاہیے تھا، کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے اور اللہ بڑا بخشنے والا، مہربان ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4168]
حکم دارالسلام
حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف، أبو ماجد الحنفي مجهول، وقال البخاري والنسائي: منكر الحديث.
الحكم: حسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف، أبو ماجد الحنفي مجهول، وقال البخاري والنسائي: منكر الحديث.