بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 899
صفحہ 18 از 45
حدیث نمبر: 3888 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، وَالثَّوْرِيُّ ، إِسْحَاقَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، وَالثَّوْرِيُّ ، عَنْ إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ... مِثْلَ حَدِيثِ أَبِي الضُّحَى.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3888]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 3889 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كَيْفَ بِكَ يَا عَبْدَ اللَّهِ، إِذَا كَانَ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يُضَيِّعُونَ السُّنَّةَ، وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مِيقَاتِهَا؟" قَالَ: كَيْفَ تَأْمُرُنِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" تَسْأَلُنِي ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ، كَيْفَ تَفْعَلُ؟ لَا طَاعَةَ لِمَخْلُوقٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے عبداللہ! اس وقت تمہاری کیا کیفیت ہو گی جب تمہاری حکومت کی باگ دوڑ ایسے لوگوں کے ہاتھ میں آ جائے گی جو سنت کو مٹا دیں گے اور نماز کو اس کے وقت مقررہ سے ہٹا دیں گے؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ مجھے اس وقت کے لئے کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے ابن ام عبد! تم مجھ سے پوچھ رہے ہو کہ کیا کرنا چاہئے؟ یاد رکھو! اللہ کی نافرمانی کرنے والے کی اطاعت نہیں کی جاتی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3889]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، القاسم لم يسمع من جده ، عبدالله بن مسعود.
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، القاسم لم يسمع من جده ، عبدالله بن مسعود.
حدیث نمبر: 3890 مسند احمد
عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، شُعْبَةُ ، الْوَلِيدُ بْنُ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ ، أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ الْعَيْزَارِ بْنِ حُرَيْثٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عَمْرٍو الشَّيْبَانِيَّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَاحِبُ هَذِهِ الدَّارِ وَأَشَارَ إِلَى دَارِ عَبْدِ اللَّهِ وَلَمْ يُسَمِّهِ، قَالَ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ؟ قَالَ:" الصَّلاَةُ عَلَى وَقْتِهَا"، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ"، قَالَ: قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" ثُمَّ الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، قَالَ: فَحَدَّثَنِي بِهِنَّ، وَلَوْ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابوعمرو شیبانی کہتے ہیں کہ ہم سے اس گھر میں رہنے والے نے یہ حدیث بیان کی ہے، یہ کہہ کر انہوں نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف اشارہ کیا اور ادب کی وجہ سے ان کا نام نہیں لیا کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ بارگاہ الٰہی میں سب سے زیادہ پسندیدہ عمل کون سا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنے وقت پر نماز پڑھنا، میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: والدین کے ساتھ حسن سلوک، میں نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ باتیں مجھ سے بیان فرمائیں، اگر میں مزید سوالات کرتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے ان کا جواب بھی مرحمت فرماتے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3890]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 527، م: 85.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 527، م: 85.
حدیث نمبر: 3891 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، أَبَا عُبَيْدَةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ:" سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي"، فَلَمَّا نَزَلَتْ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ، قَالَ:" سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اکثر «سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْلِيْ» پڑھتے تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سورہ نصر نازل ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یوں کہنے لگے: «سُبْحَانَكَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِكَ اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِي إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ» اے اللہ! مجھے بخش دے کیونکہ تو ہی توبہ قبول کرنے والا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3891]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود.
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود.
حدیث نمبر: 3892 مسند احمد
عَفَّانُ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، خَالِدِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْأَسَدِيِّ ، ابْنَ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْأَسَدِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے پیغمبر کو اللہ نے اپنا خلیل بنا لیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3892]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف.
حدیث نمبر: 3893 مسند احمد
عَفَّانُ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، أَبَا إِسْحَاقَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، ابْنُ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا إِسْحَاقَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ: حَجَجْنَا مَعَ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي خِلاَفَةِ عُثْمَانَ، قَالَ: فَلَمَّا وَقَفْنَا بِعَرَفَةَ، قَالَ: فَلَمَّا غَابَتْ الشَّمْسُ، قَالَ: ابْنُ مَسْعُودٍ : لَوْ أَنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَفَاضَ الْآنَ، كَانَ قَدْ أَصَابَ، قَالَ: فََلاَ أَدْرِي كَلِمَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ كَانَتْ أَسْرَعَ، أَوْ إِفَاضَةُ عُثْمَانَ، قَالَ: فَأَوْضَعَ النَّاسُ، وَلَمْ يَزِدْ ابْنُ مَسْعُودٍ عَلَى الْعَنَقِ، حَتَّى أَتَيْنَا جَمِيعًا، فَصَلَّى بِنَا ابْنُ مَسْعُودٍ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ دَعَا بِعَشَائِهِ، ثُمَّ تَعَشَّى، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ، ثُمَّ رَقَدَ، حَتَّى إِذَا طَلَعَ أَوَّلُ الْفَجْرِ، قَامَ فَصَلَّى الْغَدَاةَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَهُ: مَا كُنْتَ تُصَلِّي الصَّلَاةَ هَذِهِ السَّاعَةَ؟ قَالَ: وَكَانَ يُسْفِرُ بِالصَّلَاةِ، قَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْيَوْمِ، وَهَذَا الْمَكَانِ، يُصَلِّي هَذِهِ السَّاعَةَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمیں سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کرنے کا شرف حاصل ہوا، جب ہم نے عرفات کے میدان میں وقوف کیا اور سورج غروب ہو گیا تو سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرمانے لگے کہ اگر امیر المومنین اس وقت روانہ ہو جاتے تو بہت اچھا اور صحیح ہوتا، میں نہیں سمجھتا کہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا جملہ پہلے پورا ہوا یا سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی واپسی پہلے شروع ہوئی، لوگوں نے تیز رفتاری سے جانوروں کو دوڑانا شروع کر دیا لیکن سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے اپنی سواری کو صرف تیز چلانے پر اکتفا کیا (دوڑایا نہیں) یہاں تک کہ ہم مزدلفہ پہنچ گئے۔ وہاں پہنچ کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ہمیں مغرب کی نماز پڑھائی، پھر کھانا منگوا کر کھایا اور کھڑے ہو کر نماز عشا ادا کی اور سو گئے، جب طلوع فجر کا ابتدائی وقت ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور منہ اندھیرے ہی فجر کی نماز پڑھ لی، میں نے ان سے پوچھا کہ آپ تو فجر کی نماز اس وقت نہیں پڑھتے؟ (سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ خوب روشن کر کے نماز فجر پڑھتے تھے) انہوں نے فرمایا: جی! میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس دن، اس جگہ میں یہ نماز اسی وقت پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3893]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 1683.
الحكم: حديث صحيح، خ: 1683.
حدیث نمبر: 3894 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، خَالِدٌ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" جَدَبَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السَّمَرَ بَعْدَ الْعِشَاءِ"، قَالَ خَالِدٌ: مَعْنَى جَدَبَ إِلَيْنَا، يَقُولُ: عَابَهُ، ذَمَّهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز عشا کے بعد قصہ گوئی کو ہمارے لئے معیوب قرار دیتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3894]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، خالد الواسطي سمع من عطاء بن السائب بعد الاختلاط.
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف، خالد الواسطي سمع من عطاء بن السائب بعد الاختلاط.
حدیث نمبر: 3895 مسند احمد
عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، شُعْبَةُ ، سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَبَا عُبَيْدَةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، وَبَهْزٌ ، قَالاَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا عُبَيْدَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُوَلَتَيْنِ كَأَنَّهُ عَلَى الرَّضْفِ، قُلْتُ: حَتَّى يَقُومَ؟ قَالَ: حَتَّى يَقُومَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو رکعتوں میں اس طرح بیٹھتے تھے کہ گویا گرم پتھر پر بیٹھے ہوں، میں نے پوچھا: کھڑے ہونے تک؟ فرمایا: ہاں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3895]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود.
الحكم: إسناده ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من ابن مسعود.
حدیث نمبر: 3896 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدُ اللَّهِ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَبُو إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقُولُ:" إِنَّ الْكَذِبَ لَا يَصْلُحُ مِنْهُ جِدٌّ وَلَا هَزْلٌ وَقَالَ عَفَّانُ مَرَّةً: جِدٌّ وَلَا يَعِدُ الرَّجُلُ صَبِيًّا، ثُمَّ لَا يُنْجِزُ لَهُ". قَالَ: وَإِنَّ مُحَمَّدًا قَالَ لَنَا:" لَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا، وَلَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَكْذِبُ حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے تھے کہ سنجیدگی یا مذاق کسی صورت میں بھی جھوٹ بولنا صحیح نہیں ہے، اور کوئی شخص کسی بچے سے ایسا وعدہ نہ کرے جسے وہ پورا نہ کرے، اور ہم سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ انسان مسلسل سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے صدیق لکھ دیا جاتا ہے، اور اسی طرح انسان مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے تو اللہ کے یہاں اسے کذاب لکھ دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3896]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، المرفوع منه أخرجه مسلم: 2606، وأبو يعلى بقسميه الموقوف والمرفوع مطولا: 5363.
الحكم: إسناده صحيح، المرفوع منه أخرجه مسلم: 2606، وأبو يعلى بقسميه الموقوف والمرفوع مطولا: 5363.
حدیث نمبر: 3897 مسند احمد
عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، ذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" لَبَّيْكَ اللَّهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَ شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ، إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس طرح تلبیہ پڑھا کرتے تھے: «لَبَّيْكَ اللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ لَبَّيْكَ لَا شَرِيكَ لَكَ لَبَّيْكَ إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ» ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3897]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبان بن تغلب لا تعلم روايته عن أبى إسحاق السبيعي هل كانت قبل التغير أو بعده ، وقد خالفه شعبة فرواه عن أبى إسحاق موقوفا، وهذا أصح.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، أبان بن تغلب لا تعلم روايته عن أبى إسحاق السبيعي هل كانت قبل التغير أو بعده ، وقد خالفه شعبة فرواه عن أبى إسحاق موقوفا، وهذا أصح.
حدیث نمبر: 3898 مسند احمد
عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، الْأَعْمَشِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، مَسْرُوقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ ، قال عبد الله بن أحمد: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: بَيْنَمَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَرْثٍ، مُتَوَكِّئًا عَلَى عَسِيبٍ، فَقَامَ إِلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ الْيَهُودِ، فَسَأَلُوهُ عَنِ الرُّوحِ؟ فَسَكَتَ، ثُمَّ تَلاَ هَذِهِ الآَيَةَ عَلَيْهِمْ:" وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلا قَلِيلا سورة الإسراء آية 85".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ کے کسی کھیت میں چل رہے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی لاٹھی ٹیکتے جا رہے تھے، چلتے چلتے یہودیوں کی ایک جماعت پر سے گزر ہوا، انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے روح کے متعلق دریافت کیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خاموش ہو گئے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی: « ﴿وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُمْ مِنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا﴾ » [الإسراء: 85] یہ لوگ آپ سے روح کے متعلق سوال کرتے ہیں، آپ فرما دیجئے کہ روح تو میرے رب کا حکم ہے اور تمہیں بہت تھوڑا علم دیا گیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3898]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2794.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2794.
حدیث نمبر: 3899 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، ثَابِتٌ ، أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" آخِرُ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ رَجُلٌ، فَهُوَ يَمْشِي مَرَّةً، وَيَكْبُو مَرَّةً، وَتَسْقَفُهُ النَّارُ مَرَّةً، فَإِذَا جَاوَزَهَا، الْتَفَتَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: تَبَارَكَ الَّذِي أَنْجَانِي مِنْكِ، لَقَدْ أَعْطَانِي اللَّهُ شَيْئًا مَا أَعْطَاهُ أَحَدًا مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ، فَتُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا، فَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، فَيَقُولُ لَهُ اللَّهُ: يَا ابْنَ آدَمَ، فَلَعَلِّي إِذَا أَعْطَيْتُكَهَا سَأَلْتَنِي غَيْرَهَا، فَيَقُولُ: لَا يَا رَبِّ، وَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا، قَالَ: وَرَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَعْذُرُهُ، لَأنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا، وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأُولَى، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، هَذِهِ فَلَأَشْرَبْ مِنْ مَائِهَا، وَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا، لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، فَيَقُولُ: ابْنَ آدَمَ، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ فَيَقُولُ: لَعَلِّي إِنْ أَدْنَيْتُكَ مِنْهَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا؟ فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا، وَرَبُّهُ عَزَّ وَجَلَّ يَعْذُرُهُ، لِأنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، فَيَسْتَظِلُّ بِظِلِّهَا، وَيَشْرَبُ مِنْ مَائِهَا، ثُمَّ تُرْفَعُ لَهُ شَجَرَةٌ عِنْدَ بَابِ الْجَنَّةِ، هِيَ أَحْسَنُ مِنَ الْأُولَيَيْنِ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ، فَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا، وَأَشْرَبَ مِنْ مَائِهَا، لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، أَلَمْ تُعَاهِدْنِي أَنْ لَا تَسْأَلَنِي غَيْرَهَا؟ قَالَ: بَلَى، أَيْ رَبِّ، هَذِهِ لَا أَسْأَلُكَ غَيْرَهَا، فَيَقُولُ: لَعَلِّي إِنْ أَدْنَيْتُكَ مِنْهَا تَسْأَلُنِي غَيْرَهَا، فَيُعَاهِدُهُ أَنْ لَا يَسْأَلَهُ غَيْرَهَا، وَرَبُّهُ يَعْذُرُهُ، لِأَنَّهُ يَرَى مَا لَا صَبْرَ لَهُ عَلَيْهِ، فَيُدْنِيهِ مِنْهَا، فَإِذَا أَدْنَاهُ مِنْهَا، سَمِعَ أَصْوَاتَ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ أَدْخِلْنِيهَا، فَيَقُولُ: يَا ابْنَ آدَمَ، مَا يَصْرِينِي مِنْكَ؟ أَيُرْضِيكَ أَنْ أُعْطِيَكَ الدُّنْيَا، وَمِثْلَهَا مَعَهَا؟ فَيَقُولُ: أَيْ رَبِّ، أَتَسْتَهْزِئُ بِي، وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَضَحِكَ ابْنُ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّا أَضْحَكُ؟ فَقَالُوا: مِمَّ تَضْحَكُ؟ فَقَالَ: هَكَذَا ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَلَا تَسْأَلُونِي مِمَّ أَضْحَكُ؟"، فَقَالُوا: مِمَّ تَضْحَكُ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" مِنْ ضَحِكِ رَبِّي حِينَ قَالَ: أَتَسْتَهْزِئُ مِنِّي وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ؟ فَيَقُولُ: إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ مِنْكَ، وَلَكِنِّي عَلَى مَا أَشَاءُ قَدِيرٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب سے آخر میں جنت میں داخل ہونے والا وہ آدمی ہو گا جو پل صراط پر چلتے ہوئے کبھی اوندھا گر جاتا ہو گا، کبھی چلنے لگتا ہو گا اور کبھی آگ کی لپٹ اسے جھلسا دیتی ہو گی، جب وہ پل صراط کو عبور کر چکے گا تو اس کی طرف پلٹ کر دیکھے گا اور کہے گا کہ بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے مجھے تجھ سے نجات دی، اللہ نے یہ مجھے ایسی نعمت عطا فرمائی ہے جو اولین و آخرین میں سے کسی کو نہیں دی۔ اس کے بعد اس کی نظر ایک درخت پر پڑے گی جو اسی کی وجہ سے وہاں لایا گیا ہو گا، وہ اسے دیکھ کر کہے گا کہ پروردگار! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کا سایہ حاصل کر سکوں اور اس کا پانی پی سکوں، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے: اے میرے بندے! اگر میں نے تجھے اس درخت کے قریب کر دیا تو تو مجھ سے کچھ اور بھی مانگے گا؟ وہ عرض کرے گا: نہیں، پروردگار! اور اللہ سے کسی اور چیز کا سوال نہ کرنے کا وعدہ کرے گا حالانکہ پروردگار کے علم میں یہ بات ہو گی کہ وہ اس سے مزید کچھ اور بھی مانگے گا، کیونکہ اس کے سامنے چیزیں ہی ایسی آئیں گی جن پر صبر نہیں کیا جا سکتا، تاہم اسے اس درخت کے قریب کر دیا جائے گا۔ کچھ دیر بعد اس کی نظر اس سے بھی زیادہ خوبصورت درخت پر پڑے گی اور حسب سابق سوال جواب ہوں گے، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کہ بندے! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ اس کے علاوہ کچھ اور نہیں مانگے گا؟ وہ عرض کرے گا: پروردگار! بس اس مرتبہ اور، اس کے علاوہ کچھ اور نہیں مانگوں گا، تین مرتبہ اس طرح ہونے کے بعد وہ جنت کے دروازے کے قریب پہنچ چکا ہو گا، اور اس کے کانوں میں اہل جنت کی آوازیں پہنچ رہی ہوں گی، وہ عرض کرے گا: پروردگار! جنت، جنت، اللہ تعالی اس سے فرمائیں گے کہ اے بندے! کیا تو نے مجھ سے اس کا وعدہ نہیں کیا تھا کہ اب کچھ اور نہیں مانگے گا؟ وہ عرض کرے گا: پروردگار! مجھے جنت میں داخلہ عطا فرما، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے کہ اے بندے! تجھ سے میرا پیچھا کیا چیز چھڑائے گی؟ کیا تو اس بات پر راضی ہے کہ تجھے جنت میں دنیا اور اس کے برابر مزید دے دیا جائے؟ وہ عرض کرے گا کہ پروردگار! تو رب العزت ہو کر مجھ سے مذاق کرتا ہے؟ اتنا کہہ کر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اتنا ہنسے کہ ان کے دندان ظاہر ہو گئے، پھر کہنے لگے کہ تم مجھ سے ہنسنے کی وجہ کیوں نہیں پوچھتے؟ لوگوں نے کہا کہ آپ خود ہی اپنے ہنسنے کی وجہ بتا دیجئے، انہوں نے فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہنسنے کی وجہ سے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اس موقع پر مسکرائے تھے اور ہم سے فرمایا تھا کہ تم مجھ سے ہنسنے کی وجہ کیوں نہیں پوچھتے؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ خود ہی اپنے مسکرانے کی وجہ بتا دیجئے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: پروردگار کے ہنسنے کی وجہ سے، جب اس نے یہ عرض کیا کہ پروردگار! آپ رب العزت ہو کر مجھ سے مذاق کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ میں تجھ سے مذاق نہیں کر رہا، لیکن میں جو چاہوں، وہ کرنے پر قادر ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3899]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 187.
الحكم: إسناده صحيح، م: 187.
حدیث نمبر: 3900 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہر دھوکہ باز کے لئے قیامت کے دن ایک جھنڈا ہوگا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3900]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3186، م: 1736.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3186، م: 1736.
حدیث نمبر: 3901 مسند احمد
عَفَّانُ ، حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ بَهْدَلَةَ ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: كُنَّا يَوْمَ بَدْرٍ كُلُّ ثَلَاثَةٍ عَلَى بَعِيرٍ، كَانَ أَبُو لُبَابَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، زَمِيلَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: وَكَانَتْ عُقْبَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَا: نَحْنُ نَمْشِي عَنْكَ، فَقَالَ:" مَا أَنْتُمَا بِأَقْوَى مِنِّي، وَلَا أَنَا بِأَغْنَى عَنِ الْأَجْرِ مِنْكُمَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ بدر کے دن ہم تین تین آدمی ایک ایک اونٹ پر سوار تھے، اس طرح سیدنا ابولبابہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھی تھے، جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی باری پیدل چلنے کی آئی تو یہ دونوں حضرات کہنے لگے کہ ہم آپ کی جگہ پیدل چلتے ہیں (آپ سوار رہیں) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم دونوں مجھ سے زیادہ طاقتور نہیں ہو اور نہ ہی میں تم سے ثواب کے معاملے میں مستغنی ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3901]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل عاصم.
الحكم: إسناده حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 3902 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، أَبَا وَائِلٍ ، عَبْدَ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ أَخْبَرَنِي، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، يَقُولُ: قَسَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِسْمَةً، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنَّ هَذِهِ الْقِسْمَةَ مَا يُرَادُ بِهَا وَجْهُ اللَّهِ، عَزَّ وَجَلَّ!! قَالَ: فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَحَدَّثْتُهُ، قَالَ: فَغَضِبَ حَتَّى رَأَيْتُ الْغَضَبَ فِي وَجْهِهِ، فَقَالَ:" يَرْحَمُ اللَّهُ مُوسَى، قَدْ أُوذِيَ بِأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، فَصَبَرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کچھ چیزیں تقسیم فرمائیں، ایک آدمی کہنے لگا کہ یہ تقسیم ایسی ہے جس سے اللہ کی رضا حاصل کرنا مقصود نہیں ہے، میں نے بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ بات ذکر کر دی جس پر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روئے انور کا رنگ سرخ ہو گیا، پھر فرمایا: موسیٰ علیہ السلام پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، انہیں اس سے بھی زیادہ ستایا گیا تھا لیکن انہوں نے صبر ہی کیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3902]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3405.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3405.
حدیث نمبر: 3903 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، زُبَيْدٌ ، وَمَنْصُورٌ ، وَسُلَيْمَانُ ، أبا وائل ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: زُبَيْدٌ ، وَمَنْصُورٌ ، وَسُلَيْمَانُ أخبروني، أنهم سمعوا أبا وائل يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوقٌ، وَقِتَالُهُ كُفْرٌ"، قَالَ زُبَيْدٌ: فَقُلْتُ لِأَبِي وَائِلٍ مَرَّتَيْنِ: أَأَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مسلمان کو گالی دینا فسق، اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔ راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابووائل سے پوچھا: کیا آپ نے یہ بات سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے خود سنی ہے؟ انہوں نے فرمایا: جی ہاں! [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3903]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6044، م: 64.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6044، م: 64.
حدیث نمبر: 3904 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، أَبَا الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: أَبُو إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ التُّقَى، وَالْهُدَى، وَالْعَفَافَ، وَالْغِنَى".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دعا کیا کرتے تھے: «اللّٰهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ التُّقَى وَالْهُدَى وَالْعَفَافَ وَالْغِنَى» اے اللہ! میں تجھ سے ہدایت، تقوی، عفت اور غناء (مخلوق کے سامنے عدم احتیاج) کا سوال کرتا ہوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3904]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2721.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2721.
حدیث نمبر: 3905 مسند احمد
عَفَّانُ ، مَسْعُودُ بْنُ سَعْدٍ ، خُصَيْفٌ ، أَبِي عُبَيْدَةَ ، أَبِيهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا مَسْعُودُ بْنُ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَدَقَةِ الْبَقَرِ:" إِذَا بَلَغَ الْبَقَرُ ثَلَاثِينَ، فَفِيهَا تَبِيعٌ مِنَ الْبَقَرِ، جَذَعٌ أَوْ جَذَعَةٌ، حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعِينَ، فَفِيهَا بَقَرَةٌ مُسِنَّةٌ، فَإِذَا كَثُرَتْ الْبَقَرُ، فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ مِنَ الْبَقَرِ، بَقَرَةٌ مُسِنَّةٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک خط میں گائے کی زکوٰۃ کے متعلق تحریر فرمایا تھا کہ گائے کی تعداد جب تیس تک پہنچ جائے تو اس میں ایک سالہ مذکر یا مؤنث گائے بطور زکوٰۃ واجب ہو گی، اور یہ حکم اس وقت تک رہے گا جب تک ان کی تعداد چالیس تک نہ پہنچ جائے، جب یہ تعداد چالیس تک پہنچ جائے تو اس میں دو سالہ گائے واجب ہو گی، اس کے بعد ہر چالیس میں ایک دو سالہ گائے واجب ہو گی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3905]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود، وخصيف سيئ الحفظ.
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، أبو عبيدة لم يسمع من أبيه ابن مسعود، وخصيف سيئ الحفظ.
حدیث نمبر: 3906 مسند احمد
عَفَّانُ ، عَبْدُ الْوَاحِدِ ، سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ ، عَنْ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ ، قَالَ: خَطَبَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، فَقَالَ: لَقَدْ" أَخَذْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضْعًا وَسَبْعِينَ سُورَةً"، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ غُلَامٌ لَهُ ذُؤَابَتَانِ، يَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مبارک منہ سے سن کر ستر سورتیں پڑھی ہیں اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کاتبان وحی میں سے تھے جن کی مینڈھیاں تھیں اور وہ بچوں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3906]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 5000، م: 2462.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 5000، م: 2462.
حدیث نمبر: 3907 مسند احمد
عَفَّانُ ، شُعْبَةُ ، عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ ، عَبْدَ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَيْسَرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّزَّالَ بْنَ سَبْرَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَجُلًا يَقْرَأُ آيَةً عَلَى غَيْرِ مَا أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ، حَتَّى ذَهَبْتُ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ، لَا تَخْتَلِفُوا" أَكْبَرُ عِلْمِي وَإِلََّا فَمِسْعَرٌ حَدَّثَنِي بِهَا" فَإِنَّ مَنْ قَبْلَكُمْ اخْتَلَفُوا فِيهِ، فَهَلَكُوا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک شخص کو قرآن کریم کی کسی آیت کی تلاوت کرتے ہوئے سنا، میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس کی تلاوت دوسری طرح کرتے ہوئے سنا تھا اس لئے میں اسے لے کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ بات عرض کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم دونوں ہی صحیح ہو، تم سے پہلے لوگ اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوئے اس لئے تم اختلاف نہ کرو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3907]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2410.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2410.