بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 899
صفحہ 15 از 45
حدیث نمبر: 3828 مسند احمد
أَبُو الْجَوَّابِ ، عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ" كَانَ يَتَعَوَّذُ مِنَ الشَّيْطَانِ، مِنْ هَمْزِهِ، وَنَفْثِهِ، وَنَفْخِهِ"، قَالَ: وَهَمْزُهُ: الْمُوتَةُ، وَنَفْثُهُ: الشِّعْرُ، وَنَفْخُهُ: الْكِبْرِيَاءُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شیطان کے بھینچنے سے، اس کے تھوک اور اس کی پھونک سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے، راوی کہتے ہیں کہ بھینچنے سے مراد موت ہے، تھوک سے مراد شعر اور پھونک سے مراد تکبر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3828]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين.
حدیث نمبر: 3829 مسند احمد
خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، زُبَيْدٍ ، مُرَّةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا خَلَفُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ مُرَّةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: حَبَسَ الْمُشْرِكُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ الْعَصْرِ حَتَّى اصْفَرَّتْ أَوْ احْمَرَّتْ الشَّمْسُ، فَقَالَ:" شَغَلُونَا عَنْ صَلَاةِ الْوُسْطَى، مَلَأَ اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ أَوْ حَشَا اللَّهُ أَجْوَافَهُمْ وَقُبُورَهُمْ نَارًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ خندق کے دن مشرکین نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نماز عصر پڑھنے کی مہلت نہ دی، حتی کہ سورج غروب ہوگیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ ان کے گھروں اور قبروں کو آگ سے بھر دے کہ انہوں نے ہمیں نماز عصر نہیں پڑھنے دی یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3829]
حکم دارالسلام
صحيح، وإسناده قوي، م: 628 .
الحكم: صحيح، وإسناده قوي، م: 628 .
حدیث نمبر: 3830 مسند احمد
عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ، عَبْدِ اللَّهِ ، مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ، قال عبد الله بنُ أَحمد: وَسَمِعْتُهُ أَنَا مِنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ:" اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الشَّيْطَانِ، مِنْ هَمْزِهِ، وَنَفْثِهِ، وَنَفْخِهِ"، فَهَمْزُهُ: الْمُوتَةُ، وَنَفْثُهُ: الشِّعْرُ، وَنَفْخُهُ: الْكِبْرُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شیطان کے بھینچنے سے، اس کے تھوک اور اس کی پھونک سے اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے، راوی کہتے ہیں کہ بھینچنے سے مراد موت ہے، تھوک سے مراد شعر اور پھونک سے مراد تکبر ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3830]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، محمد سمع من عطاء بعد الاختلاط.
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف، محمد سمع من عطاء بعد الاختلاط.
حدیث نمبر: 3831 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَاصِمٍ ، زِرٍّ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَخْرُجُ قَوْمٌ فِي آخِرِ الزَّمَانِ، سُفَهَاءُ الْأَحْلَامِ، أَحْدَاثٌ أَوْ قَالَ: حُدَثَاءُ الْأَسْنَانِ، يَقُولُونَ مِنْ خَيْرِ قَوْلِ النَّاسِ، يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ بِأَلْسِنَتِهِمْ لَا يَعْدُو تَرَاقِيَهُمْ، يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ، فَمَنْ أَدْرَكَهُمْ، فَلْيَقْتُلْهُمْ، فَإِنَّ فِي قَتْلِهِمْ أَجْرًا عَظِيمًا عِنْدَ اللَّهِ، لِمَنْ قَتَلَهُمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آخر زمانے میں ایک ایسی قوم کا خروج ہو گا جو بیوقوف اور نوعمر ہو گی، یہ لوگ انسانوں میں سے سب سے بہتر انسان (نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کی بات کریں گے اور اپنی زبانوں سے قرآن کریم کی تلاوت کرتے ہوں گے لیکن وہ ان کے حلق سے آگے نہ جاتی ہو گی، یہ لوگ اسلام سے ایسے نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، جو شخص انہیں پائے تو انہیں قتل کر دے کیونکہ ان کے قتل کرنے پر قاتل کے لئے اللہ کے یہاں بڑا ثواب ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3831]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
حدیث نمبر: 3832 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، زَائِدَةُ ، عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، زِرٍّ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" أَوَّلُ مَنْ أَظْهَرَ إِسْلَامَهُ سَبْعَةٌ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعَمَّارٌ، وَأُمُّهُ سُمَيَّةُ، وَصُهَيْبٌ، وَبِلَالٌ، وَالْمِقْدَادُ، فَأَمَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِعَمِّهِ أَبِي طَالِبٍ، وَأَمَّا أَبُو بَكْرٍ، فَمَنَعَهُ اللَّهُ بِقَوْمِهِ، وَأَمَّا سَائِرُهُمْ فَأَخَذَهُمْ الْمُشْرِكُونَ، فَأَلْبَسُوهُمْ أَدْرَاعَ الْحَدِيدِ، وَصَهَرُوهُمْ فِي الشَّمْسِ، فَمَا مِنْهُمْ إِنْسَانٌ إِلَّا وَقَدْ وَاتَاهُمْ عَلَى مَا أَرَادُوا، إِلَّا بِلَالٌ، فَإِنَّهُ هَانَتْ عَلَيْهِ نَفْسُهُ فِي اللَّهِ، وَهَانَ عَلَى قَوْمِهِ، فَأَعْطَوْهُ الْوِلْدَانَ، وَأَخَذُوا يَطُوفُونَ بِهِ شِعَابَ مَكَّةَ، وَهُوَ يَقُولُ: أَحَدٌ، أَحَدٌ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سب سے پہلے اپنے اسلام کا اظہار کرنے والے سات افراد تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ، سیدنا عمار رضی اللہ عنہ اور ان کی والدہ سیدہ سمیہ رضی اللہ عنہا، سیدنا صہیب، سیدنا بلال اور سیدنا مقداد رضی اللہ عنہم، جن میں سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حفاظت اللہ نے ان کے چچا ابوطالب کے ذریعے کروائی اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ان کی قوم کے ذریعے اور جو باقی بچے انہیں مشرکین نے پکڑ لیا، وہ انہیں لوہے کی زرہیں پہناتے اور دھوپ میں تپنے کے لئے چھوڑ دیتے، ان میں سے سوائے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے کوئی بھی ایسا نہ تھا جو ان کی خواہش کے مطابق نہ چلا ہو، کہ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے تو اپنی ذات کو اللہ کے معاملے میں فنا کر دیا تھا اور انہیں ان کی قوم کی وجہ سے ذلیل کیا جاتا تھا، قریش انہیں بچوں کے حوالے کر دیتے، اور وہ انہیں مکہ مکرمہ کی گلیوں میں لئے پھرتے تھے لیکن سیدنا بلال رضی اللہ عنہ پھر بھی احد، احد کہتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3832]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 3833 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدَ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ تَرْفَعَ الْحِجَابَ، وَأَنْ تَسْتَمِعَ سِوَادِي، حَتَّى أَنْهَاكَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرما رکھا تھا: میری طرف سے تمہیں اس بات کی اجازت ہے کہ میرے گھر کا پردہ اٹھا کر اندر آ جاؤ اور میری راز کی باتوں کو سن لو، تاآنکہ میں خود تمہیں منع کر دوں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3833]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2169.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2169.
حدیث نمبر: 3834 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، سُلَيْمَانُ ، سَمِعْتُهُمْ ، إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، قَالَ: قَالَ سُلَيْمَانُ سَمِعْتُهُمْ يَذْكُرُونَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سُوَيْدٍ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذْنُكَ عَلَيَّ أَنْ تَكْشِفَ السِّتْرَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا رکھا تھا: میری طرف سے تمہیں اس بات کی اجازت ہے کہ میرے گھر کا پردہ اٹھا کر اند آ جاؤ۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3834]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 2169، وهذا إسناد ضعيف لابهام من سمع منه سليمان.
الحكم: حديث صحيح، م: 2169، وهذا إسناد ضعيف لابهام من سمع منه سليمان.
حدیث نمبر: 3835 مسند احمد
أَبُو قَطَنٍ ، الْمَسْعُودِيُّ ، الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ ، حَدَّثَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا، فَانْطَلَقَ إِنْسَانٌ إِلَى غَيْضَةٍ، فَأَخْرَجَ مِنْهَا بَيْضَ حُمَرَةٍ، فَجَاءَتْ اَلْحُمَرَةُ تَرِفُّ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرُءُوسِ أَصْحَابِهِ، فَقَالَ:" أَيُّكُمْ فَجَعَ هَذِهِ؟" فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: أَنَا أَصَبْتُ لَهَا بَيْضًا، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ارْدُدْهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن عبداللہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی مقام پر پڑاؤ کیا، اس دوران ایک شخص ایک جھاڑی کی طرف چلا گیا، وہاں اسے لال (ایک پرندہ کا گھونسلہ نظر آیا)، اس نے اس کے انڈے نکال لئے، اتنی دیر میں وہ چڑیا آئی اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے سروں پر منڈلانے اور چلانے لگی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کس نے اسے تنگ کیا ہے؟ وہ شخص کہنے لگا کہ میں اس کے انڈے لے آیا ہوں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: انہیں واپس کر دو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3835]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإرساله، عبدالرحمن تابعي.
الحكم: إسناده ضعيف لإرساله، عبدالرحمن تابعي.
حدیث نمبر: 3836 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْمَسْعُودِيُّ ، الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: نَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَنْزِلًا... فَذَكَرَ مِثْلَهُ، وَقَالَ" رُدَّهُ رَحْمَةً لَهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس کے آخر میں یہ اضافہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ حکم اپنی شفقت کی وجہ سے دیا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3836]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لإرساله، وهو مكرر سابقه.
الحكم: إسناده ضعيف لإرساله، وهو مكرر سابقه.
حدیث نمبر: 3837 مسند احمد
سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَاصِمٌ ، أَبِي وَائِلٍ ، ابْنِ مُعَيْزٍ السَّعْدِيِّ ، عَبْدَ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْهَاشِمِيُّ ، أَنْبَأَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ ابْنِ مُعَيْزٍ السَّعْدِيِّ ، قَالَ: خَرَجْتُ أَسْقِي فَرَسًا لِي فِي السَّحَرِ، فَمَرَرْتُ بِمَسْجِدِ بَنِي حَنِيفَةَ، وَهُمْ يَقُولُونَ: إِنَّ مُسَيْلِمَةَ رَسُولُ اللَّهِ، فَأَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ ، فَأَخْبَرْتُهُ، فَبَعَثَ الشُّرْطَةَ، فَجَاءُوا بِهِمْ، فَاسْتَتَابَهُمْ، فَتَابُوا، فَخَلَّى سَبِيلَهُمْ، وَضَرَبَ عُنُقَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ النَّوَّاحَةِ، فَقَالُوا: آخَذْتَ قَوْمًا فِي أَمْرٍ وَاحِدٍ، فَقَتَلْتَ بَعْضَهُمْ، وَتَرَكْتَ بَعْضَهُمْ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدِمَ عَلَيْهِ هَذَا وَابْنُ أُثَالِ بْنِ حَجَرٍ، فَقَالَ:" أَتَشْهَدَانِ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟" فَقَالَا: نَشْهَدُ أَنَّ مُسَيْلِمَةَ رَسُولُ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" آمَنْتُ بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ، ولَوْ كُنْتُ قَاتِلًا وَفْدًا، لَقَتَلْتُكُمَا"، قال: فَلِذَلِكَ قَتَلْتُهُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابن معیز سعدی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں صبح کے وقت اپنے گھوڑے کو پانی پلانے کے لئے نکلا تو بنو حنیفہ کی مسجد کے پاس سے میرا گزر ہوا، وہ لوگ کہہ رہے تھے کہ مسیلمہ اللہ کا پیغمبر ہے، میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور ان سے یہ بات ذکر کی، انہوں نے سپاہیوں کو بھیج کر انہیں بلوا لیا، ان سے توبہ کروائی، انہوں نے توبہ کر لی، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے ان کا راستہ چھوڑ دیا البتہ عبداللہ بن نواحہ کی گردن اڑا دی، لوگوں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے ایک ہی معاملے میں ایک قوم کو پکڑا اور ان میں سے کچھ کو قتل کر دیا اور کچھ کو چھوڑ دیا، اس کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ یہ اور ابن اثال، مسیلمہ کذاب کی طرف سے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس قاصد بن کر آئے تھے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں سے پوچھا تھا: کیا تم دونوں اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ انہوں نے کہا کہ ہم تو مسیلمہ کے اللہ کے پیغمبر ہونے کی گواہی دیتے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں قاصدوں کو قتل کرتا ہوتا تو میں تم دونوں کی گردن اڑا دیتا، اس وجہ سے میں نے اسے قتل کیا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3837]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن معيز: مجهول.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف، ابن معيز: مجهول.
حدیث نمبر: 3838 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، إِسْرَائِيلُ ، الْأَعْمَشِ ، شَقِيقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَجِيبُوا الدَّاعِيَ، وَلَا تَرُدُّوا الْهَدِيَّةَ، وَلَا تَضْرِبُوا الْمُسْلِمِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرو، ہدیہ مت لوٹاؤ اور مسلمانوں کو مت مارو۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3838]
حکم دارالسلام
إسناده جيد.
الحكم: إسناده جيد.
حدیث نمبر: 3839 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، إِسْرَائِيلُ ، الْأَعْمَشِ ، إِبْرَاهِيمَ ، عَلْقَمَةَ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ الْمُؤْمِنُ بِطَعَّانٍ، وَلَا بِلَعَّانٍ، وَلَا الْفَاحِشِ الْبَذِيءِ"، وَقَالَ ابْنُ سَابِقٍ مَرَّةً: بِالطَّعَّانِ، وَلَا بِاللَّعَّانِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مؤمن لعن طعن کرنے والا یا فحش گو اور بیہودہ گو نہیں ہوتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3839]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، ولكن هذا الإسناد منكر، لمحمد بن سابق حديثه عن إسرائيل.
الحكم: حديث صحيح، ولكن هذا الإسناد منكر، لمحمد بن سابق حديثه عن إسرائيل.
حدیث نمبر: 3840 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، عِيسَى بْنُ دِينَارٍ ، أَبِي ، عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ ، عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَابِقٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ دِينَارٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ عَمْرَو بْنَ الْحَارِثِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ ، يَقُولُ:" مَا صُمْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ أَكْثَرُ مِمَّا صُمْتُ مَعَهُ ثَلَاثِينَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ماہ رمضان کے تیس روزے جس کثرت کے ساتھ رکھے ہیں، اتنی کثرت کے ساتھ انتیس کبھی نہیں رکھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3840]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة دينار والد عيسي.
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة دينار والد عيسي.
حدیث نمبر: 3841 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، الْأَعْمَشِ ، شَقِيقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبِي مُوسَى
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبِي مُوسَى ، وَهُمَا يَتَحَدَّثَانِ، فَقَالا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" بَيْنَ يَدَيْ السَّاعَةِ أَيَّامٌ يُرْفَعُ فِيهَا الْعِلْمُ، وَيَنْزِلُ فِيهِنَّ الْجَهْلُ، وَيَظْهَرُ فِيهِنَّ الْهَرْجُ"، وَالْهَرْجُ: الْقَتْلُ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ابووائل کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، یہ دونوں حضرات کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قیامت کے قریب جو زمانہ ہو گا اس میں جہالت کا نزول ہو گا، علم اٹھا لیا جائے گا اور اس میں ہرج کی کثرت ہو گی، اور ہرج کا معنی ہے قتل۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3841]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2062، م: 2672 .
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2062، م: 2672 .
حدیث نمبر: 3842 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، زَائِدَةُ ، عَاصِمٌ ، زِرٍّ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَمَّا قُبِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ الْأَنْصَارُ: مِنَّا أَمِيرٌ، وَمِنْكُمْ أَمِيرٌ، فَأَتَاهُمْ عُمَرُ، فَقَالَ: يَا مَعْشَرَ الْأَنْصَارِ، أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ أَبَا بَكْرٍ أَنْ يَؤُمَّ النَّاسَ؟" قَالُوا: بَلَى، قَالَ: فَأَيُّكُمْ تَطِيبُ نَفْسُهُ أَنْ يَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ؟ قَالَتْ الْأَنْصَارُ: نَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ نَتَقَدَّمَ أَبَا بَكْرٍ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال مبارک ہو گیا تو انصار کہنے لگے کہ ایک امیر ہم میں سے ہو گا اور ایک امیر تم میں سے ہو گا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور فرمایا: گروہ انصار! کیا آپ کے علم میں یہ بات نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو لوگوں کی امامت کا حکم خود دیا تھا؟ آپ میں سے کون شخص اپنے دل کی بشاشت کے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھ سکتا ہے؟ اس پر انصار کہنے لگے: اللہ کی پناہ! کہ ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے آگے بڑھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3842]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 3843 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، زَائِدَةُ ، عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، زِرٍّ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَحِقَ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدٌ أَسْوَدُ فَمَاتَ، فَأُوذِنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" انْظُرُوا هَلْ تَرَكَ شَيْئًا؟"، فَقَالُوا: تَرَكَ دِينَارَيْنِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَيَّتَانِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک سیاہ فام غلام آ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مل گیا، کچھ عرصے بعد اس کا انتقال ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بتایا گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: یہ دیکھو کہ اس نے کچھ چھوڑا بھی ہے؟ لوگوں نے بتایا کہ اس نے ترکہ میں دو دینار چھوڑے ہیں، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ جہنم کے دو انگارے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3843]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 3844 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ ، زَائِدَةُ ، عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، شَقِيقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِي النَّجُودِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِنَّ مِنْ شِرَارِ النَّاسِ مَنْ تُدْرِكُهُ السَّاعَةُ وَهُمْ أَحْيَاءٌ، وَمَنْ يَتَّخِذُ الْقُبُورَ مَسَاجِدَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: سب سے بدترین لوگ وہ ہوں گے جو اپنی زندگی میں قیامت کا زمانہ پائیں گے یا وہ جو قبرستان کو سجدہ گاہ بنا لیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3844]
حکم دارالسلام
إسناده حسن.
الحكم: إسناده حسن.
حدیث نمبر: 3845 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، رَجُلٌ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَجُلٌ مِنْ هَمْدَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ وَمَا سَمَّاهُ لَنَا، قَالَ: لَمَّا أَرَادَ عَبْدُ اللَّهِ أَنْ يَأْتِيَ الْمَدِينَةَ، جَمَعَ أَصْحَابَهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أَصْبَحَ الْيَوْمَ فِيكُمْ مِنْ أَفْضَلِ مَا أَصْبَحَ فِي أَجْنَادِ الْمُسْلِمِينَ مِنَ الدِّينِ وَالْفِقْهِ وَالْعِلْمِ بِالْقُرْآنِ، إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ أُنْزِلَ عَلَى حُرُوفٍ، وَاللَّهِ إِنْ كَانَ الرَّجُلَانِ لَيَخْتَصِمَانِ أَشَدَّ مَا اخْتَصَمَا فِي شَيْءٍ قَطُّ، فَإِذَا قَالَ الْقَارِئُ: هَذَا أَقْرَأَنِي، قَالَ: أَحْسَنْتَ، وَإِذَا قَالَ الْآخَرُ: قَالَ: كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ، فَأَقْرَأَنَا: إِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَالْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَالْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَالْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَاعْتَبِرُوا ذَاكَ بِقَوْلِ أَحَدِكُمْ لِصَاحِبِهِ: كَذَبَ وَفَجَرَ، وَبِقَوْلِهِ إِذَا صَدَّقَهُ: صَدَقْتَ وَبَرَرْتَ، إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ، لَا يَخْتَلِفُ وَلَا يُسْتَشَنُّ، وَلَا يَتْفَهُ لِكَثْرَةِ الرَّدِّ، فَمَنْ قَرَأَهُ عَلَى حَرْفٍ، فَلَا يَدَعْهُ رَغْبَةً عَنْهُ، وَمَنْ قَرَأَهُ عَلَى شَيْءٍ مِنْ تِلْكَ الْحُرُوفِ، الَّتِي عَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَا يَدَعْهُ رَغْبَةً عَنْهُ، فَإِنَّهُ مَنْ يَجْحَدْ بِآيَةٍ مِنْهُ، يَجْحَدْ بِهِ كُلِّهِ، فَإِنَّمَا هُوَ كَقَوْلِ أَحَدِكُمْ لِصَاحِبِهِ: اعْجَلْ، وَحَيَّ هَلًا، وَاللَّهِ لَوْ أَعْلَمُ رَجُلًا أَعْلَمَ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي لَطَلَبْتُهُ، حَتَّى أَزْدَادَ عِلْمَهُ إِلَى عِلْمِي، إِنَّهُ سَيَكُونُ قَوْمٌ يُمِيتُونَ الصَّلَاةَ، فَصَلُّوا الصَّلَاةَ لِوَقْتِهَا، وَاجْعَلُوا صَلَاتَكُمْ مَعَهُمْ تَطَوُّعًا، وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعَارَضُ بِالْقُرْآنِ فِي كُلِّ رَمَضَانَ، وَإِنِّي عَرَضْتُ فِي الْعَامِ الَّذِي قُبِضَ فِيهِ مَرَّتَيْنِ، فَأَنْبَأَنِي أَنِّي مُحْسِنٌ، وَقَدْ قَرَأْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے ایک شاگرد - جن کا تعلق ہمدان سے ہے - کہتے ہیں کہ جب سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ تشریف آوری کا ارادہ کیا تو اپنے شاگردوں کو جمع کیا اور فرمایا: مجھے امید ہے کہ تمہارے پاس دین، علم قرآن اور فقہ کی جو دولت ہے، وہ عساکر مسلمین میں سے کسی پاس نہیں ہے، یہ قرآن کئی حروف (متعدد قراءتوں پر) نازل ہوا ہے، واللہ! دو آدمی بعض اوقات اس معاملے میں اتنا شدید جھگڑا کرتے تھے جو لوگ کسی معاملے میں کر سکتے ہیں، ایک قاری کہتا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے یوں پڑھایا ہے، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی تحسین فرماتے، اور جب دوسرا یہ کہتا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے کہ تم دونوں ہی درست ہو، اسی طرح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں پڑھایا۔ سچ نیکی کی راہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے، جھوٹ گناہ کا راستہ دکھاتا ہے اور گناہ جہنم کی راہ دکھاتا ہے، تم اسی سے اندازہ لگا لو کہ تم میں سے بھی بعض لوگ اپنے ساتھی کے متعلق کہتے ہیں: کذب و فجر، اس نے جھوٹ بولا اور گناہ کیا، اور سچ بولنے پر کہتے ہو کہ تم نے سچ بولا اور نیکی کا کام کیا۔ یہ قرآن بدلے گا اور نہ پرانا ہو گا، اور نہ کوئی شخص بار بار پڑھنے سے اس سے اکتائے گا، جو شخص اس کی تلاوت کسی ایک قراءت کے مطابق کرتا ہے وہ دوسری قراءتوں کو بےرغبتی کی وجہ سے نہ چھوڑے، کیونکہ جو شخص اس کی کسی آیت کا انکار کرتا ہے گویا وہ پورے قرآن کا انکار کرتا ہے، اور یہ ایسے ہی ہے جیسے تم میں سے کوئی شخص اپنے ساتھی سے کہے کہ جلدی کرو، ادھر آؤ۔ واللہ! اگر میرے علم میں ہوتا کہ کوئی شخص نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہونے والے قرآن کو مجھ سے زیادہ جانتا ہے تو میں اس سے علم حاصل کرتا تاکہ اس کا علم بھی میرے علم میں شامل ہو جائے، عنقریب کچھ ایسے لوگ آئیں گے جو نماز کو مار دیں گے، اس لئے تم وقت پر نماز ادا کیا کرو اور اس کے ساتھ نفلی نماز بھی شامل کیا کرو، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر سال رمضان میں قرآن کریم کا دور کرتے تھے لیکن جس سال نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وصال ہوا میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دو مرتبہ قرآن سنایا تھا اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میری تحسین فرمائی تھی، اور میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دہن مبارک سے سن کر ستر سورتیں یاد کیں تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3845]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة الرجل من همدان.
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة الرجل من همدان.
حدیث نمبر: 3846 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، خُمَيْرِ بْنِ مَالِكٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ خُمَيْرِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ:" قَرَأْتُ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبْعِينَ سُورَةً، وَإِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ لَهُ ذُؤَابَةٌ فِي الْكُتَّابِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مبارک منہ سے سن کر ستر سورتیں پڑھی ہیں، اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کاتبان وحی میں سے تھے جن کی مینڈھیاں تھیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3846]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 5000، م: 2462، وهذا إسناد ضعيف، خمير مجهول.
الحكم: حديث صحيح، خ: 5000، م: 2462، وهذا إسناد ضعيف، خمير مجهول.
حدیث نمبر: 3847 مسند احمد
هَاشِمٌ ، شَيْبَانُ ، عَاصِمٍ ، عَفَّانُ ، حَمَّادٌ ، عَاصِمٌ ، زِرٍّ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا هَاشِمٌ ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ ، عَنْ عَاصِمٍ ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا، فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ جَهَنَّمَ"، قَالَ أَحَدُهُمْ: مِنَ النَّارِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص میری طرف جھوٹی نسبت کر کے کوئی بات بیان کرے اسے چاہئے کہ جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 3847]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن.