بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
مسنَد عبد الله بن مسعود رَضِیَ اللَّه تَعَالَى عَنه
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 899
صفحہ 28 از 45
حدیث نمبر: 4089 مسند احمد
يَحْيَى ، الْمَسْعُودِيِّ ، جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ ، عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ، عَبْدَ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ الْمَسْعُودِيِّ ، حَدَّثَنِي جَامِعُ بْنُ شَدَّادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ يَزِيدَ ، قَالَ: رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ " اسْتَبْطَنَ الْوَادِيَ، فَجَعَلَ الْجَمْرَةَ عَنْ حَاجِبِهِ الْأَيْمَنِ، وَاسْتَقْبَلَ الْبَيْتَ، ثُمَّ رَمَاهَا بِسَبْعِ حَصَيَاتٍ، يُكَبِّرُ دُبُرَ كُلِّ حَصَاةٍ، ثُمّ قَالَ: هَذَا وَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ مَقَامُ الَّذِي أُنْزِلَتْ عَلَيْهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ حج کے موقع پر سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بطن وادی سے جمرہ عقبہ کو سواری ہی کی حالت میں سات کنکریاں ماریں، اور ہر کنکری پر تکبیر کہتے رہے، اس وقت انہوں نے جمرہ عقبہ کو دائیں جانب اور بیت اللہ کی طرف اپنا رخ کر رکھا تھا، پھر فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، وہ ذات بھی یہیں کھڑی ہوئی تھی جس پر سورہ بقرہ نازل ہوئی تھی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4089]
حکم دارالسلام
صحيح دون قوله: واستقبل البيت وهو شاذ كما قال الحافظ فى الفتح: 3/ 582، والصحيح أنه جعل البيت عن يساره كما تقدم برقم: 3941، يحيي القطان سمع من المسعودي قبل الاختلاط، وهو متابع.
الحكم: صحيح دون قوله: واستقبل البيت وهو شاذ كما قال الحافظ فى الفتح: 3/ 582، والصحيح أنه جعل البيت عن يساره كما تقدم برقم: 3941، يحيي القطان سمع من المسعودي قبل الاختلاط، وهو متابع.
حدیث نمبر: 4090 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ووكيع ، الْأَعْمَشُ ، الْأَعْمَشِ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُرَّةَ ، الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَبْدُ اللَّه
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، ووكيع ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، الْمَعْنَى، عَنْ الْأَعْمَشِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُرَّةَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّه " آكِلُ الرِّبَا، وَمُوكِلُهُ، وَشَاهِدَاهُ، وَكَاتِبُهُ، إِذَا عَلِمُوا بِهِ، وَالْوَاشِمَةُ، وَالْمُسْتَوْشِمَةُ لِلْحُسْنِ، وَلَاوِي الصَّدَقَةِ، وَالْمُرْتَدُّ أَعْرَابِيًّا بَعْدَ هِجْرَتِهِ، مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَوْمَ الْقِيَامَةِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ سود کھانے والا اور کھلانے والا، اسے تحریر کرنے والا اور اس کے گواہ جب کہ وہ جانتے بھی ہوں، اور حسن کے لئے جسم گودنے اور گدوانے والی عورتیں، زکوٰۃ چھپانے والے اور ہجرت کے بعد مرتد ہو جانے والے دیہاتی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبانی قیامت کے دن تک کے لئے ملعون قرار دئیے گئے ہیں۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4090]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف الحارث الأعور.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف الحارث الأعور.
حدیث نمبر: 4091 مسند احمد
يَحْيَى ، الْأَعْمَشِ ، ووكيع ، الْأَعْمَشُ ، زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث قدسي) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، ووكيع ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ الصَّادِقُ الْمَصْدُوقُ، قَالَ:" إِنَّ أَحَدَكُمْ يُجْمَعُ خَلْقُهُ فِي بَطْنِ أُمِّهِ فِي أَرْبَعِينَ يَوْمًا، أَوْ قَالَ: أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، قَالَ وَكِيعٌ: لَيْلَةً، ثُمَّ يَكُونُ عَلَقَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يَكُونُ مُضْغَةً مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ يُرْسِلُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ الْمَلَكَ بِأَرْبَعِ كَلِمَاتٍ: عَمَلُهُ، وَأَجَلُهُ، وَرِزْقُهُ، وَشَقِيٌّ أَوْ سَعِيدٌ، ثُمَّ يُنْفَخُ فِيهِ الرُّوحُ، فَوَالَّذِي لَا إِلَهَ غَيْرُهُ، إِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، فَيَكُونُ مِنْ أَهْلِهَا، وَإِنَّ أَحَدَكُمْ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ أَهْلِ النَّارِ، حَتَّى مَا يَكُونُ بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا إِلَّا ذِرَاعٌ، فَيَسْبِقُ عَلَيْهِ الْكِتَابُ، فَيُخْتَمُ لَهُ بِعَمَلِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَيَكُونُ مِنْ أَهْلِهَا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم - جو کہ صادق و مصدوق ہیں - نے ہمیں یہ حدیث سنائی ہے کہ تمہاری خلقت کو شکم مادر میں چالیس دن تک جمع رکھا جاتا ہے، پھر اتنے ہی دن وہ جما ہوا خون ہوتا ہے، پھر اتنے ہی دن وہ گوشت کا لوتھڑا ہوتا ہے، پھر اس کے پاس ایک فرشتے کو بھیجا جاتا ہے اور وہ اس میں روح پھونک دیتا ہے، پھر چار چیزوں کا حکم دیا جاتا ہے، اس کے رزق کا، اس کی موت کا، اس کے اعمال کا اور یہ کہ یہ بدنصیب ہو گا یا خوش نصیب؟ اس ذات کی قسم! جس کے علاوہ کوئی معبود نہیں، تم میں سے ایک شخص اہل جنت کی طرح اعمال کرتا رہتا ہے، جب اس کے اور جنت کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے تو تقدیر غالب آ جاتی ہے اور وہ اہل جہنم والے اعمال کر کے جہنم میں داخل ہو جاتا ہے، اور ایک شخص جہنمیوں والے اعمال کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اور جہنم کے درمیان صرف ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اس پر تقدیر غالب آ جاتی ہے اور اس کا خاتمہ جنتیوں والے اعمال پر ہو جاتا ہے اور وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4091]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2643.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2643.
حدیث نمبر: 4092 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، سُلَيْمَانُ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، مَسْرُوقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ،، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُقْتَلُ نَفْسٌ ظُلْمًا إِلَّا كَانَ عَلَى ابْنِ آدَمَ كِفْلٌ مِنْ دَمِهَا، ذَاكَ أَنَّهُ أَوَّلُ مَنْ سَنَّ الْقَتْلَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دنیا میں جو بھی ناحق قتل ہوتا ہے، اس کا گناہ حضرت آدم علیہ السلام کے پہلے بیٹے (قابیل) کو بھی ہوتا ہے کیونکہ قتل کا رواج اسی نے ڈالا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4092]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6867.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6867.
حدیث نمبر: 4093 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، الْأَعْمَشِ ، شَقِيقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ شَقِيقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ،، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كَانُوا ثَلَاثَةً، فَلَا يَتَنَاجَى اثْنَانِ دُونَ صَاحِبِهِمَا، فَإِنَّ ذَلِكَ يَحْزُنُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کرنے لگا کرو کیونکہ اس سے تیسرے کو غم ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4093]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2186.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2186.
حدیث نمبر: 4094 مسند احمد
يَحْيَى ، التَّيْمِيِّ ، أَبِي عُثْمَانَ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنِ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ : أَنَّ رَجُلًا أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةً، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُهُ عَنْ كَفَّارَتِهَا،" فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ سورة هود آية 114، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلِي هَذِهِ؟ قَالَ:" لِمَنْ عَمِلَ مِنْ أُمَّتِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نے کسی اجنبی عورت کو بوسہ دے دیا، پھر نادم ہو کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا کفارہ دریافت کرنے کے لئے آیا، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرما دی: « ﴿وَأَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ﴾ » [هود: 114] دن کے دونوں حصوں اور رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو، بےشک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں ہیں۔ اس نے پوچھا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا یہ حکم میرے ساتھ خاص ہے؟ فرمایا: نہیں، بلکہ میری امت کے ہر اس شخص کے لئے یہی حکم ہے جس سے ایسا عمل سرزد ہو جائے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4094]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 526، م: 2763.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 526، م: 2763.
حدیث نمبر: 4095 مسند احمد
يَحْيَى ، شُعْبَةُ ، أَبُو إِسْحَاقَ ، أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنِي أَبُو إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: إِنَّ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدَّثَنَا:" أَنَّ الرَّجُلَ يَكْذِبُ، حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا، وَأَنَّ الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ، حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انسان مسلسل جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے «كذاب» لکھ دیا جاتا ہے، اور انسان مسلسل سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے «صديق» لکھ دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4095]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6094، م: 2607.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6094، م: 2607.
حدیث نمبر: 4096 مسند احمد
يَحْيَى ، التَّيْمِيِّ ، أَبِي عُثْمَانَ ، ابْنِ مَسْعُودٍ
(حديث موقوف) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ " مَنْ اشْتَرَى مُحَفَّلَةً وَرُبَّمَا قَالَ: شَاةً مُحَفَّلَةً فَلْيَرُدَّهَا، وَلْيَرُدَّ مَعَهَا صَاعًا". (حديث موقوف) (حديث مرفوع) " وَنَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ" تَلَقِّي الْبُيُوعِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جو شخص بندھے ہوئے تھنوں والا کوئی جانور خریدے اسے چاہیے کہ وہ اسے واپس کر دے اور اس کے ساتھ ایک صاع گندم بھی دے (تاکہ استعمال شدہ دودھ کے برابر ہو جائے)، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شہر سے باہر نکل کر تاجروں سے پہلے ہی مل لینے سے منع فرمایا ہے۔ اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شہر سے باہر نکل کر تاجروں سے پہلے ہی مل لینے سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4096]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2049، م: 1518.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2049، م: 1518.
حدیث نمبر: 4097 مسند احمد
يَحْيَى ، مُجَالِدٍ ، عَامِرٌ ، مَسْرُوقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ مُجَالِدٍ ، حَدَّثَنَا عَامِرٌ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: مَرَّةً أَوْ مَرَّتَيْنِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا مِنْ حَكَمٍ يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ، إِلَّا حُبِسَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَلَكٌ آخِذٌ بِقَفَاهُ، حَتَّى يَقِفَهُ عَلَى جَهَنَّمَ، ثُمَّ يَرْفَعَ رَأْسَهُ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، فَإِنْ قَالَ: الْخَطَّاء، أَلْقَاهُ فِي جَهَنَّمَ، يَهْوِي أَرْبَعِينَ خَرِيفًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کوئی ثالث - جو لوگوں کے درمیان فیصلہ کرتا ہو - ایسا نہیں ہے جسے قیامت کے دن روکا نہ جائے، ایک فرشتہ اسے گدی سے پکڑے ہوئے ہو گا اور جہنم پر اسے لے جا کر کھڑا کر دے گا، پھر اپنا سر اٹھا کر اللہ تعالیٰ کی طرف دیکھے گا، اگر وہاں سے ارشاد ہوا کہ یہ خطا کار ہے تو وہ فرشتہ اسے جہنم میں پھینک دے گا جہاں وہ چالیس سال تک لڑھکتا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4097]
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لضعف مجالد الهمداني، وروي مرفوعا و موقوفا، والموقوف هو الصحيح.
الحكم: إسناده ضعيف لضعف مجالد الهمداني، وروي مرفوعا و موقوفا، والموقوف هو الصحيح.
حدیث نمبر: 4098 مسند احمد
يَحْيَى ، سُفْيَانَ ، عَاصِمٌ ، زِرٍّ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنِي عَاصِمٌ ، عَنْ زِرٍّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا أَوْ لَا تَنْقَضِي الدُّنْيَا حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي، يُوَاطِئُ اسْمُهُ اسْمِي".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: دن اور رات کا چکر اور زمانہ اس وقت تک ختم نہیں ہو گا، یعنی قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی جب تک عرب میں میرے اہل بیت میں سے ایک ایسے شخص کی حکومت نہ آ جائے جس کا نام میرے نام کے موافق ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4098]
حکم دارالسلام
إسناده حسن من أجل عاصم.
الحكم: إسناده حسن من أجل عاصم.
حدیث نمبر: 4099 مسند احمد
يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، هِشَامٍ ، قَتَادَةُ ، خِلَاسٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، رَجُلٌ ، أَبُو الْجَرَّاحِ
(حديث مرفوع) قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامٍ ، حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ خِلَاسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، قَالَ: أُتِيَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ ، فَسُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً، وَلَمْ يَكُنْ سَمَّى لَهَا صَدَاقًا، فَمَاتَ قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَلَمْ يَقُلْ فِيهَا شَيْئًا، فَرَجَعُوا، ثُمَّ أَتَوْهُ فَسَأَلُوهُ؟ فَقَالَ: سَأَقُولُ فِيهَا بِجَهْدِ رَأْيِي، فَإِنْ أَصَبْتُ، فَاللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ يُوَفِّقُنِي لِذَلِكَ، وَإِنْ أَخْطَأْتُ، فَهُوَ مِنِّي لَهَا صَدَاقُ نِسَائِهَا، وَلَهَا الْمِيرَاثُ، وَعَلَيْهَا الْعِدَّةُ"، فَقَام رَجُلٌ من أَشْجَعَ، فَقَالَ: أَشْهَدُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَضَى بِذَلِكَ، قَالَ: هَلُمَّ مَنْ يَشْهَدُ لَكَ بِذَلِكَ؟ فَشَهِدَ أَبُو الْجَرَّاحِ بِذَلِكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عبداللہ بن عتبہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس کسی نے آ کر یہ مسئلہ پوچھا کہ اگر کوئی شخص کسی عورت سے نکاح کرے، مہر مقرر نہ کیا ہو اور خلوقت صحیحہ ہونے سے پہلے وہ فوت ہو جائے تو کیا حکم ہے؟ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فوری طور پر اس کا کوئی جواب نہ دیا، سائلین واپس چلے گئے، کچھ عرصے کے بعد انہوں نے دوبارہ آ کر ان سے یہی مسئلہ دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں اپنی رائے سے اجتہاد کر کے جس نتیجے تک پہنچا ہوں، وہ آپ کے سامنے بیان کر دیتا ہوں، اگر میرا جواب صحیح ہوا تو اللہ کی توفیق سے ہو گا، اور اگر غلط ہوا تو وہ میری جانب سے ہو گا، فیصلہ یہ ہے کہ اس عورت کو اس جیسی عورتوں کا جو مہر ہو سکتا ہے، وہ دیا جائے گا، اسے میراث بھی ملے گی اور اس پر عدت بھی واجب ہوگی۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ فیصلہ سن کر قبیلہ اشجع کا ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس مسئلہ میں یہی فیصلہ فرمایا ہے، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس پر کوئی گواہ ہو تو پیش کرو؟ چنانچہ سیدنا ابوالجراح رضی اللہ عنہ نے اس کی شہادت دی۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4099]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4100 مسند احمد
عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، هِشَامٌ ، أَبُو سِنَان ، وَالْجَرَّاحُ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عَمْرٍو ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، الْمَعْنَى، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ: فِي بَرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ، فَقَالَ: هَلُمَّ شَاهِدَاكَ عَلَى هَذَا، فَشَهِدَ أَبُو سِنَان ، وَالْجَرَّاحُ ، رَجُلَانِ مِنْ أَشْجَعَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے، البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بروع بنت واشق کے معاملے میں یہی فیصلہ دیا تھا اور اس پر گواہی سیدنا ابوسنان اور سیدنا جراح رضی اللہ عنہما نے دی جو قبیلہ اشجع کے آدمی تھے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4100]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4101 مسند احمد
يَحْيَى ، الْأَعْمَشِ ، شَقِيقٌ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ الْأَعْمَشِ ، حَدَّثَنِي شَقِيقٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: كُنَّا إِذَا جَلَسْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الصَّلَاةِ، قُلْنَا: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ مِنْ عِبَادِهِ، السَّلَامُ عَلَى فُلَانٍ، وَفُلَانٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَقُولُوا: السَّلَامُ عَلَى اللَّهِ، فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ السَّلَامُ، وَلَكِنْ إِذَا جَلَسَ أَحَدُكُمْ، فَلْيَقُلْ: التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ، وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ فَإِنَّكُمْ إِذَا قُلْتُمْ ذَلِكَ، أَصَابَتْ كُلَّ عَبْدٍ صَالِحٍ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، ثُمَّ لِيَتَخَيَّرْ أَحَدُكُمْ مِنَ الدُّعَاءِ أَعْجَبَهُ إِلَيْهِ، فَلْيَدْعُ بِهِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ہم لوگ جب تشہد میں بیٹھتے تھے تو ہم کہتے تھے کہ اللہ کو اس کے بندوں کی طرف سے سلام ہو، جبرئیل کو سلام ہو، میکائیل کو سلام ہو، فلاں اور فلاں کو سلام ہو، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جب ہمیں یہ کہتے ہوئے سنا تو فرمایا کہ اللہ تو خود سراپا سلام ہے، اس لئے جب تم میں سے کوئی شخص تشہد میں بیٹھے تو اسے یوں کہنا چاہئے: «التَّحِيَّاتُ لِلّٰهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ، السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللّٰهِ وَبَرَكَاتُهُ، السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللّٰهِ الصَّالِحِينَ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ» تمام قولی، فعلی اور بدنی عبادتیں اللہ ہی کے لئے ہیں، اے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! آپ پر اللہ کی سلامتی، رحمت اور برکت کا نزول ہو، ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر سلامتی نازل ہو - جب وہ یہ جملہ کہہ لے گا تو یہ آسمان و زمین میں ہر نیک بندے کو شامل ہو جائے گا - میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں، پھر اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4101]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 835.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 835.
حدیث نمبر: 4102 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، المعنى، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَيُّ الذَّنْبِ أَكْبَرُ؟ قَالَ:" أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا، وَهُوَ خَلَقَكَ"، قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ مِنْ أَجْلِ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ"، قَالَ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ:" ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ"، قَالَ: فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَصْدِيقَ ذَلِكَ فِي كِتَابِهِ: وَالَّذِينَ لا يَدْعُونَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ إِلَى قَوْلِهِ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا سورة الفرقان آية 68".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یہ سوال پوچھا کہ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا بالخصوص جبکہ اللہ ہی نے تمہیں پیدا کیا ہے، سائل نے کہا: اس کے بعد کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس ڈر سے اپنی اولاد کو قتل کر دینا کہ وہ تمہارے ساتھ کھانا کھانے لگے گا، سائل نے پوچھا: اس کے بعد؟ فرمایا: اپنے ہمسائے کی بیوی سے بدکاری کرنا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تائید میں یہ آیت نازل فرما دی: «‏‏‏‏ ﴿وَالَّذِينَ لَا يَدْعُونَ مَعَ اللّٰهِ إِلَهًا آخَرَ وَلَا يَقْتُلُونَ النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللّٰهُ إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَا يَزْنُونَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا﴾ » ‏‏‏‏ [الفرقان: 68] اور وہ لوگ جو اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہراتے، اور کسی ایسے شخص کو قتل نہیں کرتے جسے قتل کرنا اللہ نے حرام قرار دیا ہو، سوائے حق کے، اور بدکاری نہیں کرتے، جو شخص یہ کام کرے گا وہ سزا سے دو چار ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4102]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح.
الحكم: إسناده صحيح.
حدیث نمبر: 4103 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وابن نمير ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، سُلَيْمَانَ ، أَبَا وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وابن نمير ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ. ح وحَدَّثَنَا ابْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ يُحَدِّثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنُؤَاخَذُ بِمَا عَمِلْنَا فِي الْجَاهِلِيَّةِ؟ قَالَ: فَقَالَ:" مَنْ أَحْسَنَ فِي الْإِسْلَامِ، لَمْ يُؤَاخَذْ بِمَا عَمِلَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ، وَمَنْ أَسَاءَ فِي الْإِسْلَامِ، أُخِذَ بِالْأَوَّلِ وَالْآخِرِ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کچھ لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! کیا زمانہ جاہلیت کے اعمال پر بھی ہمارا مؤاخذہ ہوگا؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب تم اسلام قبول کر کے اچھے اعمال اختیار کر لو تو زمانہ جاہلیت کے اعمال پر تمہارا کوئی مؤاخذہ نہ ہو گا، لیکن اگر اسلام کی حالت میں برے اعمال کرتے رہے تو پہلے اور پچھلے سب کا مؤاخذہ ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4103]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 120.
الحكم: إسناده صحيح، م: 120.
حدیث نمبر: 4104 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وابن نمير ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي الضُّحَى ، مَسْرُوقٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وابن نمير ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، قَالَ:" بَيْنَا رَجُلٌ يُحَدِّثُ فِي الْمَسْجِدِ الْأَعْظَمِ، قَالَ: إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ نَزَلَ دُخَانٌ مِنَ السَّمَاءِ، فَأَخَذَ بِأَسْمَاعِ الْمُنَافِقِينَ وَأَبْصَارِهِمْ، وَأَخَذَ الْمُؤْمِنِينَ مِنْهُ كَهَيْئَةِ الزُّكَامِ. قَالَ مَسْرُوقٌ: فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهُ، وَكَانَ مُتَّكِئًا، فَاسْتَوَى جَالِسًا، فَأَنْشَأَ يُحَدِّثُ، فَقَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ، مَنْ سُئِلَ مِنْكُمْ عَنْ عِلْمٍ هُوَ عِنْدَهُ، فَلْيَقُلْ بِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ، فَلْيَقُلْ: اللَّهُ أَعْلَمُ، فَإِنَّ مِنَ الْعِلْمِ أَنْ تَقُولَ لِمَا لَا تَعْلَمُ: اللَّهُ أَعْلَمُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلّ قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قُلْ مَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُتَكَلِّفِينَ سورة ص آية 86، إِنَّ قُرَيْشًا لَمَّا غَلَبُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَعْصَوْا عَلَيْهِ، قَالَ:" اللَّهُمَّ أَعِنِّي بِسَبْعٍ كَسَبْعِ يُوسُفَ"، قَالَ: فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ، أَكَلُوا فِيهَا الْعِظَامَ وَالْمَيْتَةَ مِنَ الْجَهْدِ، حَتَّى جَعَلَ أَحَدُهُمْ يَرَى بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَاءِ كَهَيْئَةِ الدُّخَانِ مِنَ الْجُوعِ، فَقَالُوا: رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ سورة الدخان آية 12، قَالَ: فَقِيلَ لَهُ: إِنَّا إِنْ كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَادُوا، فَدَعَا رَبَّهُ، فَكَشَفَ عَنْهُمْ، فَعَادُوا، فَانْتَقَمَ اللَّهُ مِنْهُمْ يَوْمَ بَدْرٍ، فَذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ إِلَى قَوْلِهِ يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ سورة الدخان آية 10 - 16"، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ: فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَلَوْ كَانَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، مَا كَشَفَ عَنْهُمْ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ جامع مسجد میں ایک شخص کہہ رہا تھا کہ قیامت کے دن آسمان سے ایک دھواں اترے گا، منافقین کی آنکھوں اور کانوں کو چھین لے گا اور مسلمانوں کے سانسوں میں داخل ہو کر زکام کی کیفیت پیدا کر دے گا، میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور انہیں یہ بات بتائی، وہ ٹیک لگا کر بیٹھے ہوئے تھے، یہ بات سن کر سیدھے بیٹھ گئے اور فرمایا: لوگو! جو شخص کسی بات کو اچھی طرح جانتا ہو، وہ اسے بیان کر سکتا ہے، اور جسے اچھی طرح کسی بات کا علم نہ ہو، وہ کہہ دے کہ اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے، کیونکہ یہ بھی انسان کی دانائی کی دلیل ہے کہ وہ جس چیز کے متعلق نہیں جانتا، کہہ دے کہ اللہ بہتر جانتا ہے۔ مذکورہ آیت کا نزول اس پس منطر میں ہوا تھا کہ جب قریش نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نافرمانی میں حد سے آگے بڑھ گئے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان پر حضرت یوسف علیہ السلام کے دور جیسا قحط نازل ہونے کی بددعا فرمائی، چنانچہ قریش کو قحط سالی اور مشکلات نے آ گھیرا، یہاں تک کہ وہ ہڈیاں کھانے پر مجبور ہو گئے اور یہ کیفیت ہو گئی کہ جب کوئی شخص آسمان کی طرف دیکھتا ہو تو بھوک کی وجہ سے اسے اپنے اور آسمان کے درمیان دھواں دکھائی دیتا، اس پر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی: «‏‏‏‏ ﴿فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ o يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ » ‏‏‏‏ [الدخان: 10-11] اس دن کا انتظار کیجئے جب آسمان پر ایک واضح دھواں آئے گا جو لوگوں پر چھا جائے گا یہ دردناک عذاب ہے۔ اس کے بعد کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! بنو مضر کے لئے نزول باران کی دعا کیجئے، وہ تو ہلاک ہو رہے ہیں، چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے لئے دعا فرمائی اور یہ آیت نازل ہوئی: «‏‏‏‏ ﴿إِنَّا كَاشِفُو الْعَذَابِ قَلِيلًا﴾ » ‏‏‏‏ [الدخان: 15] ہم ان سے عذاب دور کر رہے ہیں۔ لیکن وہ خوش حالی ملنے کے بعد جب دوبارہ اپنی انہی حرکات میں لوٹ گئے تو یہ آیت نازل ہوئی کہ «‏‏‏‏ ﴿يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ الْكُبْرَى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ﴾ » ‏‏‏‏ [الدخان: 16] جس دن ہم انہیں بڑی مضبوطی سے پکڑ لیں گے، ہم انتقام لینے والے ہیں۔ اور اس سے مراد غزوہ بدر ہے، اگر وہ قیامت کا دن ہوتا تو اللہ تعالیٰ ان سے اس عذاب کو دور نہ فرماتا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4104]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4822، م: 2798.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4822، م: 2798.
حدیث نمبر: 4105 مسند احمد
وَكِيعٌ ، إِسْرَائِيلَ ، أَبِي إِسْحَاقَ ، الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ الْأَسْوَدِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ مِنْ مُذَّكِرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے «‏‏‏‏ ﴿فَهَلْ مِنْ مُذَّكِرٍ﴾ » ‏‏‏‏ ذال کے ساتھ پڑھا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ لفظ « ﴿فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ﴾ » [القمر: 40] دال کے ساتھ ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4105]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4874.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4874.
حدیث نمبر: 4106 مسند احمد
وَكِيعٌ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي وَائِلٍ، ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا كُنْتُمْ ثَلَاثَةً، فَلَا يَتَنَاجَ اثْنَانِ دُونَ وَاحِدٍ، فَإِنَّ ذَلِكَ يُحْزِنُهُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم تین آدمی ہو تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کرنے لگا کرو کیونکہ اس سے تیسرے کو غم ہو گا۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4106]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6290، م: 2184.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6290، م: 2184.
حدیث نمبر: 4107 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدُ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ" يَحْكِي نَبِيًّا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ ضَرَبَهُ قَوْمُهُ، فَهُوَ يَنْضَحُ الدَّمَ قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: يَمْسَحُ الدَّمَ عَنْ جَبِينِهِ، وَيَقُولُ:" رَبِّ اغْفِرْ لِقَوْمِي، فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آج بھی وہ منظر میری نگاہوں میں محفوظ ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک نبی کے متعلق بیان فرما رہے تھے جنہیں ان کی قوم نے مارا اور وہ اپنے چہرے سے خون پونچھتے جا رہے تھے اور کہتے جا رہے تھے کہ پروردگار! میری قوم کو معاف فرما دے، یہ مجھے جانتے نہیں ہیں۔ (واقعہ طائف کی طرف اشارہ ہے)۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4107]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1792.
الحكم: إسناده صحيح، م: 1792.
حدیث نمبر: 4108 مسند احمد
وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، الْأَعْمَشُ ، أَبِي وَائِلٍ ، عَبْدِ اللَّهِ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، وَأَبُو مُعَاوِيَةَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِيَّاكُمْ وَالْكَذِبَ، فَإِنَّ الْكَذِبَ يَهْدِي إِلَى الْفُجُورِ، وَالْفُجُورَ يَهْدِي إِلَى النَّارِ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَيَكْذِبُ، حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ كَذَّابًا"، وَقَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيْكُمْ بِالصِّدْقِ، فَإِنَّ الصِّدْقَ يَهْدِي إِلَى الْبِرِّ، وَإِنَّ الْبِرَّ يَهْدِي إِلَى الْجَنَّةِ، وَإِنَّهُ يَعْنِي الرَّجُلَ لَيَصْدُقُ وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ، حَتَّى يُكْتَبَ عِنْدَ اللَّهِ صِدِّيقًا". قَالَ أَبُو مُعَاوِيَةَ: وَمَا يَزَالُ الرَّجُلُ يَصْدُقُ، وَيَتَحَرَّى الصِّدْقَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جھوٹ سے اپنے آپ کو بچاؤ، کیونکہ جھوٹ گناہ کا راستہ دکھاتا ہے اور گناہ جہنم کی راہ دکھاتا ہے، اور انسان مسلسل جھوٹ بولتا اور اسی میں غور و فکر کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے «كذاب» لکھ دیا جاتا ہے، اور سچائی کو اپنے اوپر لازم کر لو، کیونکہ سچ نیکی کی راہ دکھاتا ہے اور نیکی جنت کی راہ دکھاتی ہے، اور انسان مسلسل سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ کے یہاں اسے «صديق» لکھ دیا جاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد المكثِرِینَ مِنَ الصَّحَابَةِ/حدیث: 4108]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 2607.
الحكم: إسناده صحيح، م: 2607.